از:- مفتی ہمایوں اقبال ندوی
نائب صدر، جمعیت علماء ارریہ
علماء دین کی کیا ذمہ داریاں ہیں؟ اس عنوان پر مواد کی کمی نہیں ہے۔یہ سدا بہار موضوع ہے،اس پر خوب تحریں لکھی جاتی ہیں اور تقاریر ہوتی ہیں۔پڑھنے اور سننے کے بعد محسوس یہ ہوتا ہے کہ یہ باتیں پہلے بھی ہمیں سننے کو ملی ہیں اور رسمی انداز میں کہی جارہی ہیں۔اسی لئے علماء اس پر عموما کان نہیں دھرتے ہیں اور کما حقہ متوجہ نہیں ہوپاتے ہیں۔مگر آج ہم نے مدرسہ اسلامیہ یتیم خانہ ارریہ کی سرزمین پر پہلی بار یہ سماں دیکھا ہےکہ فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کا اسی عنوان پر خطاب ہورہا ہے، سامنےہزاروں علماء کرام کی موجود ہیں ،سبھی پرسکون و ہمہ تن گوش ہیں۔کہیں سے چیں کی آواز بھی نہیں آرہی ہے،ایک طرف سمندر کا سکوت ہےاور دوسری طرف سےعلم کا دریا بہہ رہا ہے۔سننے والوں پر کیف طاری ہے،حضرت کی ہربات قیمتی اور نئی معلوم ہوتی ہے۔قرآن وحدیث کی وہی پرانی باتیں ہیں،مگر حضرت کاطرز استدلال بالکل اچھوتا، نیااور البیلا ہے۔انداز فقیہانہ مجتہدانہ اور ادیبانہ ہے۔یہ باتیں حالات حاضرہ کے عین موافق اور اس کے تقاضے کے عین مطابق ہیں۔
ائمہ مساجد سے روبرو ہوتے ہوئے حضرت یہ فرمارہے ہیں کہ: حدیث شریف میں یہ لکھا ہوا ہے "الإمام ضامن ” ہم نے اس حدیث سے یہ سمجھا کہ امام مقتدی کی نماز کا محض ضامن ہے۔یہ سمجھ بہت ہی محدود ہے۔ہمیں آج اس حدیث کو وسعت کے ساتھ سوچنایے۔امام صرف نماز ہی نہیں بلکہ مقتدی کی پوری زندگی کا ضامن ہے۔ آج امام صاحب کا رویہ نماز میں بھی حق بجانب نہیں ہے۔ جلدی جلدی نماز پڑھاتے ہیں اور مسجد سے اس تیزی کے ساتھ نکلتے ہیں کہ کوئی مقتدی تلاش کرے بھی تو وہ اس کی پکڑ میں نہ آسکیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نووارد صحابی سےاپنی حیات میں یہ فرمایا کہ:”نماز پڑھوتم نے حقیقت میں نماز نہیں پڑھی ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار اس شخص کو یہی کہ کر نماز پڑھنے کی تلقین فرمائی۔اس طرح ہم اگر حساب لگائیں تو بارہ رکعتیں نماز کی انہوں نے پڑھ لی اورآپ نےاتنی دیر صبر کیا۔پھربعد میں نماز کا طریقہ اور تعديل ارکان کی انہیں تعلیم فرمائی۔آج ہم ائمہ لوگ مشغولیت کا بہانہ بناتے ہیں۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اللہ کے آخری رسول محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی زیادہ ہم مشغول ہیں؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح وسمجھوتہ کے لئے اپنی نمازیں مؤخر فرمائی ہیں، اس کے ذریعہ یہ تعلیم دی گئی کہ یہ ایک اہم کام ہے اور یہ علماء کی ذمہ داری ہے۔اپنے ملک کا مشہور زمانہ شاہ بانو کیس کے فیصلہ دینے والے جج نے میرےایک قریبی عزیز سے کہا تھا کہ جب اپنے مقدمات کو ہمارے کورٹ میں لائیں گے تو فیصلہ ہماراہی رہے گا۔علماء کرام کی ذمہ داری صرف مدرسہ میں پڑھانا اور چار رکعتوں کی امامت کرنا نہیں ہے،بلکہ مسلمانوں کے آپسی مسائل کو حل کرنابھی ہے۔اگر ایسا نہیں کرتے ہیں تو خطرہ اس بات کا ہے کہ ہمارا دین بھی جائے گا اور دنیا بھی چلی جائے گی۔ہم اپنے معاملات کو عدالتوں میں نہیں بلکہ اللہ کے گھر میں بیٹھ کر حل کرائیں۔
علماء کرام کی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ قوم وملت کی معیشت پر بھی توجہ دیں اور ان کی رہنمائی کریں۔سیمانچل کا یہ علاقہ اور یہاں کی معیشت کا بڑا انحصار زرعی زمین ہے۔لہذا اس کو بیچنے نہ دیں۔مدینہ کے انصار کی غربت کا یہ حال تھا کہ یہود ان کی عورتوں اور بچوں کو رہن رکھ لیا کرتے۔جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ گئے تو تصویر بدل گئی۔اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ امت کے لئے معاشی فکر کرنا یہ بھی علماء کی ذمہ داری ہے۔
سب سے زیادہ احادیث کتاب البیوع میں ملتی ہیں۔
آج تجارت کے میدان میں بڑی بڑی کمپنیوں بالخصوص اڈانی اور امبانی گروپ کی طرف سے استحصال کیا جارہا ہے،اس کے نتیجے ملک کی نوے فیصد دولت ملک کے دس فیصد لوگوں کے پاس ہے۔یہ لوگ ذخیرہ اندوزی کرکے نرخ کو بڑھاتے ہیں اور اس راستے سے اپنی دولت میں اضافہ کرتے ہیں۔اسلامی شریعت میں یہ جائز نہیں ہے،عہد رسالت میں آج کی طرح بازار نہیں تھے، بلکہ تجارتی قافلے چلاکرتے تھے، کچھ لوگ آبادی سے نکل کر ان قافلوں سے سارا سامان کم قیمت پر خرید لیا کرتے اور اس کا فائدہ خود حاصل کرتے۔اسلام نے اس سے بھی منع کیا ہے۔
لہذا ہمارا کام صرف نکاح پڑھانا نہیں ہے،بلکہ امت کی مکمل رہنمائی یہ علماء کا کام ہے۔نکاح بھی پڑھائیں تو اس سے پہلے نکاح کے مسائل سے لوگوں کو روشناس کرائیں۔میں ملیشیا گیا تھا وہاں نکاح سے پہلے اس عنوان پر تین دن تک ورکشاپ کااھتمام کیا جاتا ہے، اس کے بعد نکاح ہوتا ہے۔ہم واقعات کے پیش آنے کا انتظار نہ کریں،بلکہ واقعات کے پیش آنے سے پہلے ایسا حل نکالیں کہ یہ منحوس واقعات ہی پیش نہ آئیں۔ہمارا سب سے بڑا مرکز یہ مدارس ہیں۔اپنی کمیوں پر بھی ہمیں توجہ دینے کی ضرورت ہے۔عموما طلبہ کی مدارس میں سزا کی جاتی ہے۔طلبہ کی سرزنش نہ شرعی طور پر جائز ہے اور نہ سماجی طور پر اس کی گنجائش ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی لاٹھی نہیں چلائی۔ تعلیم محبت وشوق سے دینے کی چیز ہے۔
حضرت فقیہ العصر نے اپنے خطاب کے اخیر میں پھر علماء کرام کو ان کی فضیلت حدیث شریف کی زبان میں فرمائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ستارے کی مثال اپنے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے لیےدی ہے بعینہ وہی بات علماء کرام کی شان میں ارشاد فرمائی ہے کہ علماء ستارے کی مانند ہیں۔آج ہمیں ستارہ بن کر رہنا چاہیے۔جس طرح لوگ تاروں کو دیکھ کر سمت معلوم کرتے ہیں اور راستہ پاتے ہیں، اگر وہ چھپ جائے تو راستہ بھٹک جائیں گے۔حدیث شریف میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے;”من لم يهتم بامرالمسلمين فليس منا”جو مسلمانوں کی فکر نہ کرے وہ ہم سے نہیں ہے۔لہذا درحقیقت سب کی فکر کرنا اور امت کی مکمل رہنمائی کرنا یہ علماء کی ذمہ داری ہے۔