یقینا خدا بہترین کارساز ہے

از:- ظفر امام قاسمی

_____________________

میں نے کئی بار اپنے مؤقر احباب اور محترم قارئین کے سامنے یہ بات رکھی ہے کہ میرا تعلق ایک ایسے علاقے سے ہے جسے عام طور پر ”دور اُفتادہ“ سمجھا جاتا ہے، اِس لئے اس علاقے کو وہ سہولیات میسر نہیں جو دیگر علاقوں کو دستیاب ہیں،اِس علاقے کے بہت سارے خود دار اور سفید پوش نہایت کسمپرسی میں جینے پر مجبور ہیں،وہ غیرت کے مارے کسی کے سامنے دست سوال دراز نہیں کرتے اور نہ ہی کوئی ایسی تنظیم ہے جو گھر گھر جاکر ان کی زبوں حالی کا مُداوا کرے،انہی باتوں کے پیشِ نظر راقم الحروف نے زبوں حالوں اور کس مپرس انسانوں کے درد کا مُداوا کرنے کا بیڑا امکانی حد تک اٹھانے کا عزم کیا ہے،مگر بات یہ ہے کہ وسائل کی قلت ہر موڑ پر اپنا منہ کھولے استقبال کرنے کو کھڑی رہتی ہے، کیونکہ کام کی یہ نوعیت اس علاقے کے لئے نئی ہے اس لئے اہلِ علاقے کو سمجھانا الگ کارے دارد کی حیثیت رکھتا ہے،ان سب کے باوجود میں نے اپنے تحریری پیغام اور اپنے مخلص احباب کے تعاون سے گئے سال کم از کم دو لاکھ سے زائد کا کام کیا،اور درمیانِ سال نہ صرف علاقے کے ضرورت مندوں کو رمضانی کٹس تقسیم کرنے کا منصوبہ بنایا تھا بلکہ اس کے لئے جمعہ کی نماز میں اپنے گاؤں کے لوگوں کو اس پر زوردار طریقے سے ترغیب بھی دی تھی کہ رمضان کے موقع پر اس کارِ خیر کا آغاز اپنے گاؤں سے کرنا ہے،تقریبا سبھی لوگوں نے میری ان ”درد مندانہ باتوں“ پر پُرجوش لبیک کہا تھا،مگر ان کا یہ جوش پانی کا بلبلہ ثابت ہوا اور رفتہ رفتہ ٹھنڈے بستے میں چلا گیا،میں چونکہ مدرسے کا مدرس ہوں،رمضان کے موقع پر مدرسے کے لئے اپنے احباب سے چندہ لینا ہوتا ہے انہی سے رمضانی کٹس کا کیسے مطالبہ کرتا؟ سو میں نے بھی دھیان نہ دیا،بس دو چار احباب نے بغیر مطالبہ کے لئے جو تھوڑی بہت رقم میرے پاس بھیجی میں نے اسے بیواؤں میں بانٹ دی۔

پندرہ یا سولہ رمضان کو ایک بیوہ کو ایک ہزار روپے ارسال کئے کہ اس سے اپنے بچوں کے لئے کپڑے وغیرہ لے لینا،اس وقت تو انہوں نے مارے غیرت کے کچھ نہ کہا،چند دنوں کے بعد ان کا جو میسیج موصول ہوا اس نے میرے کلیجے کے ٹکڑے کردئے،ان کے میسیج کا خلاصہ یہ تھا کہ:بھائی ایک ہزار دے کے آپ مطمئن ہوگئے،میں اس سے بچوں کے کپڑے لوں،عید مناؤں یا گھر کا راشن لاؤں،کچھ اور کیجیے تاکہ چاول وغیرہ خرید سکوں“ یہ صرف ایک میسیج نہیں تھا بلکہ ایک دھاردار نشتر تھا جو میری رگِ دل تک اتر گیا،تھوڑی دیر کو مجھے یوں لگا جیسے کسی نے میری آنکھوں کی تھمی ہوئی جھیل میں زور سے کنکری پھینک دی ہو،جس کے دھکے سے میرے آنسؤوں نے پلکوں کی طرف ہلکورے مارنے شروع کردئے،میرے لبوں سے ایک سرد آہ نکل کر فضا میں تحلیل ہوگئی،میں نے فوری طور پر اپنے ایک مخلص دوست اور دائمی کرم فرما جناب قاری دانش صاحب مدظلہ العالی (امام جامع مسجد قطر)کے پاس اس میسیج کو ارسال کیا، انہوں نے اسی وقت ایک ہزار روپے لگا دئے میں نے ایک اور ہزار (جو میرے پاس کسی نے بھیج رکھے تھے اور میں مناسب مصرف کی تلاش میں تھا) ملاکر کل دوہزار ان کے پاس بھیج دئے،واللہ انہیں جو اس وقت خوشی ملی ہوگی اس کا میں تصور بھی نہیں کرسکتا۔

27/رمضان کو میں نے دیکھا کہ ڈھیر سارے رمضانی کٹس حضرت اقدس الحاج قاری مسعود الرحمن صاحب نائب ناظم عمومی دارالعلوم بہادرگنج کے توسط سے مدرسے میں آئے ہیں،جن میں راشن کے تقریبا تمام سامان موجود تھے،راشن کے اُن کٹس کو دیکھ کر میرے خواب کے ویران جزیرے میں تعبیر کا ایک دِیا ٹمٹما اٹھا،مجھے لگا کہ اب میرا وہ خواب جو میں نے امسال اپنی آنکھوں میں سجائے تھے اپنے بل پر نہ ہی دوسرے کے توسط سے ہی ضرور پورا ہوگا،مجھے تو کم از کم ایسے دس کٹسوں کی ضرورت تھی مگر یہ سوچ کر کہ قاری صاحب پر زیادہ بوجھ نہ ہو، میں نے مناسب موقع دیکھ کر ان سے پانچ کٹس کا مطالبہ کردیا، قاری صاحب نے بھی خوش دلی اور فراخ طبعی سے اسے قبول کرلیا،اُدھر درمیان رمضان مجھ سے ایک دست کشاد دوست جناب قاری فوزان صاحب جوریل نے وعدہ کیا تھا کہ میں کچھ کپڑےمستحقین کے لئے خرید دوں گا تم تقسیم کردینا، 28/رمضان کو ان کا فون آیا،میں جب ان سے ملاقات کی غرض سے بازار گیا تو انہوں نے باتوں باتوں ہی میں کہا: میرے بڑے بھائی ایم غازی صاحب علاقے میں کئی دنوں سے رمضانی کٹس تقسیم کر رہے ہیں۔ “کٹس” کا نام سنتے ہی میں نے ان سے کہا کہ مجھے بھی پانچ کٹس کی ضرورت ہے ،اگر دلا دیں تو کرم ہوگا، انہوں نے فورا اپنے بھائی سے بات کی،ان کے بھائی نے ہامی بھرلی،ان کٹس کے اندر بھی راشن کی تقریبا ساری چیزوں کے ساتھ بہترین اور خوش رنگ ساڑیوں کا بھی اضافہ تھا،قاری فوزان نے عید کی مناسبت سے سوئیوں کی کمی دور کی اور کچھ نقد پیسے بھی دئے،میں ان کٹس کو لیکر خوشیوں کے آسمان پر جا پہنچا اور سوچنے لگا کہ یہ حضرات جن قومی اور ملی جذبات کے ساتھ خدمات انجام دے رہے ہیں،اور قوم و ملت کے پس ماندہ اور زبوں حال لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھ رہے ہیں اس سے مجھے امید ہے کہ خدا ان کی مرادوں کو کبھی پست نہیں کرے گا بلکہ انہیں ہر میدان کا کامگار اور بامراد بنائے گا۔

اور یہ بات ہے بھی یقینی کہ جب بندہ اخلاص اور بےلوثی کے ساتھ دردمندوں کے کام آتا ہے،ان کے رِستے ہوئے زخموں پر پھاہا رکھتا ہے تو وہ خدا کے نزدیک تر ہوتا چلا جاتا ہے،خدا کو وہ لوگ بہت پسند ہیں جو دردمندوں کے کام آتے اور ان کی زندگی آسان بنانے میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں،درد مندوں کے لبوں کی ایک مسکان اگر دنیا جہان کی دولت کی بدولت بھی نصیبے میں آجائے تو بھی یہ سستا سودا ہے،خدا ان کی اس عظیم خدمات کو شرف قبولیت عطا کرے اور میرے لئے بھی کوئی مستقل راہ نکالے کہ میں بھی دردمندوں کے زخموں کو ٹکور سکوں۔

میں نے ان کٹس کو ایک آٹو رکشہ میں لدوا کر گھر بھیج دیا اور اگلے دن چاند رات کو جب میں نے انہیں مستحقین تک پہنچانا شروع کیا تو جہاں میرا دل خوشی سے سرشار تھا،پلکیں تشکر کے آنسوؤں سے لبریز تھیں اور میرا ہر بُنِ مُو احسان مندی کے جذبات بوجھل تھا وہیں کہیں دور افقِ تصور پر کوئی یہ راگنی چھیڑ رہا تھا کہ: اگر دل میں کچھ کر جانے کا جذبہ موجود ہو تو خدا ان جذبوں کو مارتا نہیں بلکہ ان کی حصولیابی کے لئے راہیں نکال دیتا ہے،یقینا وہ بہترین کارساز ہے“۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔