اسلام آباد: ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے جاری تنازع کے حل کے لیے اعتماد کی فضا قائم کرنا ناگزیر ہے۔
وزیراعظم آفس کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ایک گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی گفتگو میں خطے کی کشیدہ صورتحال اور جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایرانی صدر نے اس موقع پر پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو سراہا، جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے ایران کو امریکہ اور خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کے حالیہ سفارتی رابطوں سے آگاہ کیا۔
چار ملکی اجلاس کی تیاری
پاکستانی حکومت کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی جنگ پر غور کے لیے پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ جلد اسلام آباد میں اہم اجلاس کریں گے۔
ذرائع کے مطابق نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ان ممالک کے وزرائے خارجہ کو مدعو کیا ہے، اور یہ اجلاس اتوار اور پیر کو منعقد ہونے کا امکان ہے۔
ایران کا ردعمل اور پس منظر
رپورٹس کے مطابق ایران نے امریکہ کی جانب سے پیش کردہ 15 نکاتی امن منصوبے پر اپنا ردعمل بھی اسلام آباد کے ذریعے پہنچایا ہے، اگرچہ تہران باضابطہ مذاکرات کا اعتراف نہیں کر رہا۔
یہ سفارتی سرگرمیاں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ شدت اختیار کر چکی ہے اور مختلف ممالک اس بحران کے حل کے لیے متحرک ہو گئے ہیں۔