ایثارِ نفس: انسانی عظمت کا درخشاں عنوان

از:- محمد قمر الزماں ندوی

مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ

ایثار نفس ایک اعلیٰ انسانی صفت ہے، یہ انسانی عظمت کا ایک درخشاں عنوان ہے، ایثار نفس کا مطلب ہے اپنی ضرورت پر دوسرے کی ضرورت کو ترجیح دینا،اپنے حق میں کمی کرکے دوسرے کا حق پورا کر دینا، یہ صفت ایک فرد کے لئے اعلیٰ انسانیت کا مظاہرہ ہے، اور سماجی اعتبار سے وہ سماج کی مجموعی ترقی کا ضامن ہے۔ یہی وہ عالی حوصلگی ہے ،جو کسی گروہ اور طبقہ کو تاریخ ساز گروہ اور مثالی طبقہ بناتی ہے ۔
قرآن مجید کی سورہ حشر میں اعلیٰ انسانوں کی جو صفات بتائی گئی ہیں ۔ان اعلیٰ صفات میں سے ایک صفت ایثار نفس بھی ہے ۔اس سلسلہ میں قرآن مجید کی آیت ہے ،، ویوثرون علی انفسھم ولو کان بھم خصاصة ،، یعنی اور وہ دوسروں کو اپنے اوپر مقدم رکھتے ہیں ۔

اگر چہ یہ آیت انصار مدینہ کے حوالے سے نازل ہوئی تھی ،مگر اس کا حکم عام ہے ۔

آج کی مجلس میں ہم ،،ایثار نفس،، کے تعلق سے کچھ وضاحت کریں گے اور سماج میں اس کی ضرورت کے تعلق سے خامہ فرسائی کریں گے ۔

دوستو !

انسانی اوصاف میں بعض صفات ایسی ہیں، جو فرد کو محض ایک انسان نہیں بلکہ ایک مثالی انسان بناتی ہیں۔ انہیں اعلیٰ اور پاکیزہ صفات میں ایک نمایاں صفت ایثارِ نفس ہے۔ ایثار کا مفہوم محض کسی کو کچھ دے دینا نہیں بلکہ اپنی ضرورت کو پسِ پشت ڈال کر دوسرے کی ضرورت کو ترجیح دینا ہے۔ یہی وہ وصف ہے جو انسان کو خود غرضی اور مفاد پرستی کی تنگ حدود سے نکال کر وسیع انسانی ہمدردی کے دائرے میں داخل کرتا ہے۔

قرآن مجید میں اس صفت کی عظمت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:
"ویوثرون علی انفسھم ولو کان بھم خصاصۃ”
یعنی وہ دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں، اگر چہ وہ خود تنگ دستی کا شکار ہوں۔

یہ آیت ایثار کے اس بلند معیار کو واضح کرتی ہے، جہاں انسان اپنی ذاتی ضرورت کے باوجود دوسروں کی ضرورت کو مقدم رکھتا ہے۔ درحقیقت یہی وہ روح ہے، جو انسانی معاشرے کو باہم جوڑتی اور اسے استحکام بخشتی ہے۔

ایثارِ نفس کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنے حق میں کمی کرکے دوسرے کے حق کو پورا کرے۔ یہ ایک ایسا اخلاقی رویہ ہے جو نہ صرف فرد کی شخصیت کو نکھارتا ہے ،بلکہ معاشرے کی مجموعی ترقی میں بھی بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ ایک ایسا فرد جو ایثار کو اپناتا ہے، وہ دوسروں کے دکھ درد کو اپنا سمجھتا ہے، ان کی ضرورتوں کا احساس کرتا ہے اور اپنی استطاعت کے مطابق ان کی مدد کرتا ہے۔ یہی جذبہ انسان کو اعلیٰ انسانیت کے درجے پر فائز کرتا ہے۔

سماجی نقطۂ نظر سے ایثارِ نفس ایک نہایت اہم صفت ہے۔ یہ وہ بنیاد ہے جس پر ایک مضبوط، خوشحال اور متوازن معاشرہ قائم ہوتا ہے۔ جس معاشرے کے افراد میں ایثار کا جذبہ پایا جائے، وہاں خود غرضی، حسد، کینہ اور بخل جیسی برائیاں پنپ نہیں سکتیں۔ ایسے لوگ نہ صرف دوسروں کی مدد کرتے ہیں، بلکہ ان کی کامیابی پر خوش بھی ہوتے ہیں۔ وہ اپنی جگہ دوسروں کو دیتے ہیں، اپنی سہولت قربان کرکے دوسروں کو راحت پہنچاتے ہیں اور دوسروں کی خوبیوں کو سراہ کر انہیں آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

ایسے معاشرے میں اجتماعی ترقی کا عمل تیزی سے آگے بڑھتا ہے۔ جب افراد ایک دوسرے کے لئے قربانی دینے کے لیے تیار ہوں ،تو وہ معاشرہ محض افراد کا مجموعہ نہیں رہتا بلکہ ایک مضبوط خاندان کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اس میں رہنے والے افراد ایک دوسرے کے ساتھ بھائی بہن کی طرح محبت اور خلوص سے پیش آتے ہیں۔ ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے لئے خیر خواہی اور ہمدردی ہوتی ہے، جو کسی بھی مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔

ایثارِ نفس بظاہر ایک قربانی معلوم ہوتی ہے، لیکن درحقیقت اسی میں انسان کے ذاتی فائدے کا راز بھی پوشیدہ ہوتا ہے۔ جو شخص ایثار کرتا ہے، وہ لوگوں کے دل جیت لیتا ہے۔ اور جب دل جیت لئے جائیں، تو دنیا کی کوئی بھی کامیابی اس کے مقابلے میں اہم نہیں رہتی۔ لوگوں کے دلوں میں جگہ بنانا سب سے بڑی کامیابی ہے، اور یہ کامیابی ایثار کے ذریعے ہی حاصل ہوتی ہے۔

تاریخ شاہد ہے کہ وہی اقوام ترقی کی بلندیوں کو چھوتی ہیں جن کے افراد میں ایثار اور قربانی کا جذبہ پایا جاتا ہے۔ ایسی اقوام مشکلات کا مقابلہ متحد ہو کر کرتی ہیں اور ایک دوسرے کا سہارا بنتی ہیں۔ اس کے برعکس وہ معاشرہ، جہاں ہر فرد صرف اپنی ذات تک محدود ہو، وہاں انتشار، بے چینی اور زوال جنم لیتا ہے۔
آج کے دور میں جب مادہ پرستی اور خود غرضی نے انسانی اقدار کو متاثر کیا ہے، ایثارِ نفس کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس صفت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ اپنے گھروں، تعلیمی اداروں اور معاشرتی حلقوں میں ایثار کے جذبے کو فروغ دیں تاکہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل پا سکے جو محبت، ہمدردی اور باہمی تعاون کا آئینہ دار ہو۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایثارِ نفس محض ایک اخلاقی صفت نہیں، بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی ہے۔ یہ انسان کو بلندیوں کی طرف لے جاتا ہے، معاشرہ کو ترقی دیتا ہے اور دنیا کو ایک بہتر جگہ بنانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اگر ہم حقیقی معنوں میں کامیاب اور باوقار زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو ہمیں ایثار کے اس سنہری اصول کو اپنانا ہوگا، کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو دلوں کو جوڑتا اور انسانیت کو زندہ رکھتا ہے۔

انسانیت کی مجموعی ترقی کے لئے سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ یہی صفت ہے ، جس سماج میں یہ مزاج ہو کہ وہ اپنے کو بھلا کر دوسرے کی مدد کریں ،وہ دوسرے کی خوبی کا اعتراف کرکے اس کو آگے بڑھائیں تو ایسے سماج میں مجموعی ترقی کا عمل کامیابی کے ساتھ جاری رہتا ہے ۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔