10 دنوں میں تیسری بار پٹرول-ڈیزل مہنگا، عوام پر مزید بوجھ

نئی دہلی، 23 مئی: ملک بھر میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کردیا گیا ہے۔ سرکاری تیل کمپنیوں نے ہفتہ کے روز پٹرول کی قیمت میں 87 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 91 پیسے فی لیٹر تک اضافہ کیا۔ گزشتہ دس دنوں کے دوران ایندھن کی قیمتوں میں یہ تیسرا اضافہ ہے، جس کے بعد پٹرول اور ڈیزل مجموعی طور پر تقریباً پانچ روپے فی لیٹر مہنگے ہوچکے ہیں۔

نئے نرخ نافذ ہونے کے بعد قومی راجدھانی دہلی میں پٹرول کی قیمت 99.51 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 92.49 روپے فی لیٹر ہوگیا ہے۔ ممبئی، کولکاتا اور چنئی سمیت دیگر بڑے شہروں میں بھی ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ درج کیا گیا ہے۔

تیل کمپنیوں کے مطابق عالمی بازار میں خام تیل کی بڑھتی قیمتیں اور مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی اس اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز کے اطراف پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے سبب خام تیل کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے، جس کا اثر عالمی منڈی پر پڑ رہا ہے۔

رپورٹوں کے مطابق سرکاری تیل کمپنیاں گزشتہ کئی ماہ سے نقصان برداشت کررہی تھیں اور اب مرحلہ وار قیمتوں میں اضافہ کرکے اس خسارے کی بھرپائی کی کوشش کی جارہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت فی الحال تیل کمپنیوں کو کسی بڑی سبسڈی دینے کے حق میں نظر نہیں آرہی ہے۔

ادھر اپوزیشن جماعت کانگریس نے پٹرول اور ڈیزل کی مسلسل بڑھتی قیمتوں پر مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ پہلے ہی مہنگائی سے پریشان عوام پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے ذریعے مزید بوجھ ڈالا جارہا ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔