کیا سرکار امتحانات کو نقائص سے پاک بنانے کا منصوبہ تیار کرے گی؟
تحریر: سید سرفراز احمد
کسی بھی ملک کا اصل سرمایہ نوجوان نسل ہوتی ہیں۔ دنیا کا ہر ملک یہی چاہتا ہے کہ اس ملک کی نسل تعلیم یافتہ ہو، پڑھ لکھ کر قابل بنے، ملک کے عوام کی خدمت کرے، یا ملک کی ترقی میں اپنے حصہ کی شمع روشن کریں۔ یہ خواب نہ صرف کسی ایک طالب علم کا ہوتا ہے بلکہ اس خواب دیکھنے والوں میں سب سے اہم شمار والدین کا ہوتا ہے جو اپنی اولاد کو پال پوس کر بڑا کرنے کرتے ہیں۔ اس امید کہ ساتھ کہ ہماری اولاد پڑھ لکھ کر ڈاکٹر انجنئیر وغیرہ وغیرہ بنے۔بچوں کی بھی یہی چاہ ہوتی ہے کہ وہ کسی بھی حال میں محنت مشقت کرتے ہوۓ والدین کی ان امیدوں کو پورا کیا جاسکے۔ کیوں کہ یہ خواب اچانک سجاۓ نہیں جاتے بلکہ اس خواب کو پورا کرنے کے لیئے زندگی کی جوانی کھپانی پڑتی ہے۔ والدین کی محنت کا اصل سرمایہ اس میں لگانا پڑتا ہے۔ جو خود اپنی خواہشات کو دبا کر اپنی اولاد کی تعلیم پر خرچ کرتے ہیں۔ اس باپ سے پوچھیئے جو اپنی اولاد کو تعلیم کی خاطر کیا کیا قربانیاں دیتا ہے۔جو خود اپنی خواہشات کو دباتا ہے۔ کفایت شعاری کی زندگی گذارتا ہے تب جاکر اپنی اولاد کو تعلیم سے آراستہ کرتا ہے۔ اگر ایسے والدین کی کانوں میں یہ آواز پڑجاۓ کہ آپ کے بچے نے ڈاکٹری کورس کا جو انٹرنس لکھا تھا جس کی نشست یقینی طور پر محفوظ ہوچکی ہے۔اس خوشی کی انتہا ان والدین کے علاوہ کوئی اور سمجھ نہیں سکتا۔ اگر پھر چند دن بعد یہ کہہ دیا جاۓ کہ ڈاکٹری کورس کا وہ انٹرنس جس میں آپ کا لڑکا کامیاب ہوچکا تھا اس کا پیپر لیک ہونے کی وجہ سے وہ امتحان رد ہوچکا ہے اور آپ کے لڑکے کو دوبارہ امتحان لکھنا پڑے گا تو اس وقت ان والدین پر کیا گذر رہی ہوگی یا ان کے دل درد کی سسکیوں سے کتنے بھاری ہوچکے ہوں گے یہ ایر کنڈیشن میں بیٹھے سیاست داں کیا ہی جان سکتے۔
نیٹ یو جی 2026 کے پرچہ افشاء معاملہ نے پورے ملک میں کہرام مچا رکھا ہے۔ اس پیپر لیک معاملہ نے ہمارے ملک میں ہونے والے مسابقتی امتحانات کی شفافیت پر سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔ یہ امتحان کوئی معمولی امتحان ہرگز بھی نہیں تھا بلکہ اس امتحان میں کامیاب ہونے والے طلبہ ملک کے عظیم شعبہ طب سے وابستہ ہوتے ہیں۔ جس کا سوال طلبہ کی زندگیوں سے جڑا ہوا ہوتا ہے۔ اگر نیٹ کا پیپر لیک ہوتا ہے اور اس کا پردہ بے نقاب نہیں ہوتا تو سوچیئے کتنے ڈاکٹرس ایسے بن جاتے جو مستقبل میں کتنے انسانی جانوں کو خطرہ پہنچانے کا سبب بنتے۔ 22 لاکھ سے زائد طلبہ نے اس نیٹ انٹرنس کو لکھا لیکن تعلیمی نظام کی خرابی اور چند لوگوں کی بے ضابطگیوں کی وجہ سے وہ بھی چند طلبہ کے لیئے لاکھوں طلبہ کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔کیوں کہ کالجس میں نیٹ کی تیاری ایک سال پہلے سے کرائی جاتی ہے تاکہ طلبہ کی صحت پر اس کا کوئی منفی اثر نہ پڑے۔ طلبہ اس دوران بے شمار قربانیاں دیتے ہوۓ اپنے اہم مقصد پر توجہ دیتے ہیں۔اور بالآخر جب امتحان لکھ دیتے ہیں تو اس امید کے ساتھ کہ ہم کو ہماری محنت کا پھل ملے گا۔ لیکن پیپر لیک نے تو ان طلبہ کی ساری محنتوں پر پانی پھیر دیا۔
جن طلبہ میں امید اور حوصلہ چٹان کی طرح موجود تھا لیکن اس پیپر لیک معاملہ کے بعد سے ان کے حوصلے بھی پست ہو رہے ہیں۔ کہیں سے خودکشی کے واقعات سامنے آرہے ہیں۔ کہیں کہیں طلبہ بلک بلک کر رو رہے ہیں۔ یہ وہ طلبہ ہیں جنھوں نے اپنے شب و روز کو کتابوں کے حوالے کردیا تھا۔ جن کی محنت مشقت ایک پل میں ملیا میٹ ہوگئی۔ کیا پرچہ افشاء کرنے والے بد عنوان پروفیسرس نے ایک پل کے لیئے یہ نہیں سوچا کہ ہم محنتی طلبہ کا حق چھین رہے ہیں؟ کیا نئے ہونے والے نیٹ میں یہی طلبہ اتنے ہی پر عزم طریقے سے امتحان لکھ سکیں گے جیسے وہ پہلے لکھ چکے تھے؟ کیا ان طلبہ کو یہ خدشہ نہیں لگا رہے گا کہ کہیں یہ نیٹ کا بھی پیپر لیک نہ ہوجاۓ؟ کیوں کہ نیٹ پیپر لیک کا معاملہ کوئی نیا نہیں ہے۔ ماضی میں بھی اس طرح ییپر لیک معاملوں کا انکشاف ہوا ہے۔ بلکہ یہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ نظام کی خرابی کے بعد ہی ایسے واقعات پیش آتے ہیں۔ لیکن اصل بات یہ بھی ہے کہ نظام کو چلانے والے اس پرچہ افشاء کے سب سے بڑے مجرم کہلائیں گے کیوں کہ اس پرچہ افشاء نے یہ ثابت کردیا کہ سرکار تعلیمی نظام کو سنبھالنے میں بری طرح کمزور واقع ہوئی ہے۔ورنہ ایسے معاملات بار بار ہرگز رونما نہیں ہوتے۔
یہ بھی پڑھیں:
-
ہندوستانی مسلمان اورمناسب حکمت عملی کی ضرورت!
-
خواتین اسلام کےلئے عملی اقدام !
-
کمال مولیٰ مسجد، کاکروچ اور عدلیہ!
جیسے ہی سی بی آئی جانچ کا آغاز ہوا ہے ایک ایک پردے بے نقاب ہورہے ہیں۔ سی بی آئی نے ابھی تک ذیادہ تر ایسے ہی افراد کو اس بدعنوانی میں ملوث بتایا ہے جو جو بحثیت پروفیسرس سوالیہ پرچہ تیار کرتے ہیں۔ بلکہ سی بی آئی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ یہ پروفیسرس نیٹ کی تیاری کے بڑے مراکز چلاتے ہیں اور لاکھوں روپیہ بٹورتے ہیں حیرت انگیز بات یہ بھی کہ جو سوالیہ پرچہ تیار کرتے ہیں وہی سوالات کی طلبہ کو پریکٹیس کراتے تھے۔زرائع سے یہ بات بھی نکل کر آرہی ہے کہ ایک بی جے پی لیڈر دنیش بیوال نے اپنے لڑکے کے لیئے نیٹ کا سوالی پرچہ دس لاکھ میں خریدا تھا۔ اور پھر اس پرچے کو وہ دوسروں کو بھی فروخت کیا۔لیکن پھر بھی اس کے لڑکے نے 107 نشانات ہی حاصل کیئے۔ زرا غور کیجئے نیٹ جیسے امتحان کی کیا حالت بنا رکھی ہے۔ اگر یہ 107 نشانات حاصل کرنے والا طالب علم کامیاب ہوجاتا اور پیپر لیک کا مسئلہ نہیں اٹھتا تو اندازہ لگائیں وہ مستقبل میں کس طرح کا ڈاکٹر بنتا؟۔تحقیقات میں اس لیڈر کے مزید انکشافات سامنے آرہے ہیں کہ گزشتہ سال 2025 میں اس کے خاندان سے پانچ طلبہ نے نیٹ میں کامیابی حاصل کی تھی۔ جب کہ انٹر میڈیٹ کے نتائج اوسطاً درجہ کے ہیں۔ ابھی تحقیقات کا عمل جاری ہے دیکھنا ہے اور کیا کیا انکشافات سامنے آتے ہیں۔یقینی طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ سی بی آئی تحقیقات اگر غیر جانب دار طریقے سے ہوگی تو اس کے تار چونکا دینے والے ثابت ہوسکتے ہیں۔ کیوں کہ یہ ایک منظم جال بچھایا گیا۔ اور اس جال کے بچھانے کو ایک مثال کے ذریعہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ بھارت میں تعلیمی اداروں کی اکثریت سیاست دانوں کی ہی ہوتی ہے۔ اور بدعنوانی میں ملوث بھی وہی ہوتے ہیں جن کے پاس دولت کے انبار لگے ہوتے ہیں۔ لہذا سی بی آئی تحقیقات پوری شفافیت کے ساتھ ہونی چاہیئے تاکہ ملک کی عوام کے سامنے دودھ کا دودھ پانی کا پانی سامنے آجاۓ۔
نیٹ پرچے کے افشاء کے بعد نہ ہی اس کی زمہ داری مرکزی وزیر تعلیم قبول کررہے ہیں اور نہ سرکار میں بیٹھے کسی بھی مرکزی وزیر نے کچھ کہا ہے۔ اور ہمارے وزیر اعظم کے تو لب ایسے سلے ہوۓ ہیں جیسے انھیں اس پرچے کے افشاء کا کوئی افسوس ہی نہیں ہے۔ بلکہ وہ تو اپنے آپ وشوگروہ بنانے کے لیئے پانچ ممالک کے دورے پر نکل چکے ہیں۔مرکزی وزیر تعلیم نے صرف اتنا کہا ہے کہ آئندہ نیٹ یو جی آن لائن ہوگا۔ چلیئے مان لیتے ہیں عوام کے دباؤ کو کم کرنے کے لیئے آپ کو کچھ تو کہنا پڑتا ہے۔ لیکن کیا سرکار اس بات کی گیارنٹی لے گی کہ آن لائن امتحان میں کسی بھی طرح کی بدعنوانی کا انکشاف ہوتا ہے تو سرکار اس کی زمہ دار ہوگی؟ سوال یہ نہیں ہے کہ نیٹ امتحان آن لائن ہوگا یا آف لائن سوال یہ ہے کہ کیا نیٹ امتحان آن لائن ہونے سے پرچے کا افشاء نہیں ہوگا؟ اصل بات تو یہی ہے کہ پرچہ بنانے والے پروفیسرس ہی پرچے کا افشاء کرتے ہیں تو اس سے کچھ فرق نہیں پڑے گا کہ نیٹ آن لائن ہو یا آف لائن۔ اصل چیز جو ہونی چاہیئے سرکار نقائص سے پاک امتحانات کی منصوبہ بندی کریں تب ہی اس جرم کو روکا جاسکتا ہے۔
سرکار کو چاہیئے کہ وہ ایک ایسا قانون بنائیں کہ کوئی بھی پرچے کا افشاء کرنے سے پہلے سو بار سوچنے پر مجبور ہوجاۓ۔ ویسے ہماری موجودہ سرکار نئے نئے قانون لانے میں بہت ماہر ہیں۔ پھر وہ ایسا کوئی قانون لانے سے کیوں گریز کر رہی ہے؟ جب کہ پیپر لیک کا معاملہ طلبہ کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ کیا سرکار طلبہ کے مستقبل کو تاریکی میں جانے سے روکنا نہیں چاہتی؟ کیا سرکار محنت و مشقت کرنے والے طلبہ سے انصاف کرنا نہیں چاہتی؟واقعی اگر سرکار کو طلبہ کی فکر ہے تو وہ فوری اپنی اس ناکامی کو قبول کریں اور آئندہ کا ٹھوس لائحہ عمل تیار کریں۔تاکہ جن طلبہ میں مایوسی چھائی ہوئی ہے وہ دور ہوسکے۔ بہتر ہے کہ ہمارے وزیراعظم اس بار من کی بات ان مایوس طلبہ سے کریں تاکہ وہ اندھیرے سے روشنی کی طرف آسکیں۔ مایوسی سے نکل کر حوصلوں کی طرف آسکیں۔ لیکن شائد ہمارے وزیر اعظم کے پاس اتنا وقت ہی نہیں کہ وہ ملک کے مستقبل اور سرمایہ کو اپنا وقت دے سکیں۔اور موجودہ سرکار کو یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ وہ ان طلبہ کو انصاف تب ہی دلا سکتے ہیں جب تک اس پیپر لیک معاملہ میں ملوث ملزمین کو سخت سزا نہیں دلواتے۔
قومی سطح کے امتحانات دراصل اس ملک کے تعلیمی نظام کی اصل حالت کو پیش کرتے ہیں۔ نیٹ پیپر لیک کے بعد اس ملک کی عوام کو اتنا تو اندازہ مل گیا ہوگا کہ اس ملک کا موجودہ تعلیمی نظام کس معیار پر پہنچ چکا ہے۔ بہتر ہے سرکار اس تعلیمی نظام کو منظم اور شفاف بنانے کے لیئے پوری توانائی صرف کرے۔ یہی وہ واحد نظام ہے جس سے ملک ترقیوں کی راہوں پر گامزن ہوسکتا ہے۔گزشتہ بارہ سالوں میں سینکڑوں مرتبہ پیپر لیک کے واقعات رونما ہوچکے ہیں۔ لیکن ابھی تک سرکار کی جانب سے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیئے گئے۔ سوچیئے جو سرکار اپنی سیاسی ساکھ کو موثر بنانے کے لیئے کسی بھی حد تک جانے کے لیئے تیار ہے۔ پھر وہی سرکار تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے لیئے کسی بھی حد تک کیوں نہیں جاتی؟ صرف امتحان گاہ میں طلبہ کے ساتھ سختی کرنے سے امتحانات شفاف نہیں بن جاتے بلکہ شفافیت کے نام پر غیر شفاف کاموں کو انجام دینے والوں پر بھی کڑی نظر رکھنی ہوتی ہے۔ تب جاکر تعلیمی نظام معیاری بن سکتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ سرکار صرف آن لائن امتحان ہر اکتفا کرتے ہوۓ اپنا پلہ جھاڑنا چاہتی ہے۔ یا پھر امتحانات کو نقائص سے پاک بنانے کی منصوبہ بندی کرتی ہے یا نہیں۔
نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل ابھشیک سنگھ نے پارلیمانی کمیٹی کے سامنے دعویٰ کیا ہے کہ نیٹ امتحان کا پرچہ ان کے سسٹم سے لیک نہیں ہوا۔ تب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر نیٹ کا پیپر کس نے لیک کیا ہے؟ صرف اتنا کہہ کہ پلہ نہیں جھاڑا جاسکتا کہ سسٹم سے پیپر لیک نہیں ہوا ہے۔ بلکہ زمہ داری کو قبول کرنا پڑتا ہے۔ زرائع کے مطابق این ٹی اے چیف اور ڈائریکٹر جنرل نے کمیٹی کو بتایا کہ جب تک مرکزی تفتیشی بیورو اپنی جانچ مکمل کر کے اسے لیک قرار نہیں دیتا، وہ اسے لیک نہیں مانیں گے۔ حالاں کہ تفتیشی ایجنسی سی بی آئی نے ابھی تک جو انکشافات کیئے ہیں وہ پیپر لیک سے ہی جڑے معاملات ہیں۔ پھر این ٹی اے اور کونسا جواز ڈھونڈنا چاہتی ہے؟ اجلاس کے دوران پارلیمانی کمیٹی نے اس موقف پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ اگر پرچہ سسٹم سے لیک نہیں ہوا تو باہر کیسے پہنچا؟ اور پھر امتحان منسوخ کرنے کی نوبت کیوں آئی؟ لیکن این ٹی اے نے ان سوالات کا کوئی مثبت جواب نہیں دیا۔بہر حال دیکھنا یہ ہے کہ سی بی آئی مزید کون کونسے انکشافات کرتی ہے۔ اور پھر سرکار ایسے امتحانات کو نقائص سے پاک بنانے کے کس طرح کے اقدامات کرتی ہے۔