حسنِ اخلاق ایمان کی جان اور زندگی کی پہچان

از:- محمد عادل ارریاوی

________________________

تمام شریعت کا ما حصل اصلاح ہی ہے جس سے آج کل ہم لوگوں کو محض غفلت ہے۔ اول تو مطلق متنبہ ہی نہیں اور اگر کسی کو دین کا شوق بھی ہوا اور کچھ تنبہ بھی ہوا تو بس اتنا کہ مسئلہ مسائل کی کتابیں پڑھ لیں گو عمل نہ ہو۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی حالت یہ نہ تھی کہ وہ جتنا علم حاصل کرتے تھے اس سے زیادہ عمل کا خیال رکھتے۔ اور ہم لوگوں میں سے اگر کوئی عمل بھی کرتا ہے تو بڑی دوڑ یہ ہے اور تقویٰ کی انتہا بس یہی ہے کہ نماز پڑھ لی اور روزہ رکھ لیا۔ اور اگر بڑے صاحب کمال بنے تو فرضوں کے علاوہ نفلیں بھی ادا کرنے لگے۔ اور ایسی بہت سی باتیں جو نماز روزہ ہی کی طرح ضروری ہیں بلکہ بعض وجوہ سے ان سے زیادہ اہتمام کے قابل ہیں ان کا کبھی خیال بھی نہیں آتا، اور وہ درست اخلاق ہے۔ یہاں تک نوبت ہوگئی ہے کہ اگر کسی کو اخلاق کے متعلق کچھ کہا جاتا ہے تو کہتے ہیں کنز الدقائق ہم نے پڑھی اور قدوری بھی پڑھی ہے اس میں تو یہ کہیں نہیں لکھا۔

خوب یاد رکھئے گا کہ کنز الدقائق اور قدوری پر علم ختم نہیں وہ بھی دین کی کتابیں ہیں اور جو ان دونوں کی اصل اور ماخذ ہے یعنی کتاب وسنت ان میں سب کچھ موجود ہے مگر رواج کچھ ایسا غلط پڑا ہے کہ دین کو نماز روزہ میں منحصر مان لیا گیا ہے۔ حدیثوں میں آپ سب کچھ پڑھتے ہیں۔ مگر عادت کے موافق سوائے چند مسائل روزہ نماز کے اور کسی بات پر نظر نہیں پڑتی۔

بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اخلاق ہی وہ بنیاد ہے جس پر تمام عبادات کی روح قائم ہے۔ اگر نماز انسان کو جھوٹ، خیانت، بددیانتی اور تکبر سے نہ روکے تو وہ نماز اپنی اصل روح سے خالی ہے۔ اگر روزہ انسان میں صبر، تحمل اور دوسروں کے لیے ہمدردی پیدا نہ کرے تو وہ محض بھوک اور پیاس کا نام رہ جاتا ہے۔

نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بھی بعثت کا مقصد یہی بیان فرمایا کہ میں اچھے اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ حسنِ اخلاق دین کا ایک اضافی حصہ نہیں بلکہ اس کا جوہر اور اصل ہے۔
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ظاہر کے ساتھ ساتھ اپنے باطن کی بھی اصلاح کریں، اپنے دلوں کو کینہ، حسد، بغض اور ریا سے پاک کریں، اور سچائی، امانت، عاجزی اور حسنِ سلوک کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ یہی وہ چیز ہے جو انسان کو اللہ ربّ العزت کے قریب کرتی ہے اور معاشرے میں حقیقی اصلاح کا سبب بنتی ہے۔
اللہ ربّ العزت ہمیں دین کی صحیح سمجھ عطافرماۓ ہمارے بہترین اخلاق والے بنائے آمین یارب العالمین

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔