از:- عبدالغفارصدیقی
گزشتہ دنوں مولانا عبداللہ سالم چترویدی کی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔ان کو یوپی پولس نے بہار سے گرفتار کیا ہے۔ان پر الزام ہے کہ انھوں نے 2024میں کسی جلسہ عام میں یوپی کے محترم وزیراعلیٰ کی والدہ ماجدہ کی شان میں گستاخانہ کلمات و خیالات کا اظہار کیا تھا۔گرفتاری کے بعد ان کی جو تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر آرہی ہیں وہ بہت کچھ بیان کررہی ہیں۔ایک ویڈیو ان کا اقرار جرم اور معافی نامہ کا بھی ہے۔ان کی گرفتاری پر مختلف رد عمل سامنے آرہے ہیں،کوئی کہہ رہاہے کہ ان کی گرفتاری غیرقانونی ہے اور کوئی اس کو قانونی بتارہا ہے،کسی کے نزدیک ان کا بیان آئین میں درج بنیادی حق ”بولنے کی آزادی“ کے زمرے میں آتا ہے اور ان کا بیان کوئی جرم نہیں،لیکن اسی آئین میں نفرت پھیلانے والے اور کسی کی توہین کرنے والے الفاظ استعمال نہ کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے اور ایسا کرنا جرم قرار دیا گیا ہے۔پولس بیان کے مطابق ان کی گرفتاری آئین کے مطابق ہے تاہم اس کا حتمی فیصلہ عدالت ہی کرے گی البتہ ان کے ساتھ سلوک بھی آئین کے دائرے میں رہ کرہی کیاجانا چاہئے۔
یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ ہم مسلمان ہیں۔ مسلمان ہونے کے ناطے ہم پر کچھ مزید ذمہ داریاں اور پابندیاں عائد ہوتی ہیں۔ ہمارامسلمان ہونا ہمیں بہت سی آزادیوں سے محروم کردیتا ہے۔مثال کے طور پر آئین کے مطابق شراب پینے کی آزادی ہے،لیکن مسلمان کے لیے شراب حرام ہے۔ہماری غلط فہمی یہ ہے کہ ہم خود کو بھی دیگر اقوام کی طرح سمجھ لیتے ہیں جب کہ ہماری ایک حیثیت یہ ہے کہ ہم بھارت کے شہری ہیں اور بھارتی آئین کے پابند ہیں۔ملک کے شہری ہونے کے ناطے ہم دیگر شہریوں کی طرح ہیں۔لیکن ہماری دوسری حیثیت یہ ہے کہ ہم مسلمان ہیں،اس حیثیت میں ہم اپنے مذہبی امور میں اللہ و رسول کی ہدایات کے پابند ہیں۔بھارت میں فی الحال جوطرز حکومت اور آئین ہے اس میں ہر کسی کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی ہے۔اسی آزادی کے سبب مسلمان بھی اپنے مذہب پر عمل کرتے ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ ہم خود ہی اپنے مذہب کو چھوڑ بیٹھیں ہیں۔مثال کے طور پر بھارت کے ہر مسلمان کو نماز پڑھنے کی آزادی ہے لیکن صرف چار فیصد مسلمان ہی نماز پڑھتے ہیں۔روزہ رکھنے والوں کی تعداد اس سے بھی کم ہے۔اسی طرح دیگر مذہبی امور ہیں۔مذہب کے وہ امور جو حکمرانی سے متعلق ہیں ان کی آزادی یہاں کسی مذہب کو حاصل نہیں ہے۔اس لیے کہ یہاں جمہوری طرز حکومت ہے۔
اب آئیے مولانا عبداللہ سالم چترویدی صاحب کے معاملہ پر غور کرتے ہیں۔انھوں نے وزیر اعلیٰ کے لیے ”ماں کا مانس“ لفظ استعمال کیا ہے۔مولانا کا کہنا ہے کہ یہ لفظ انھوں نے گائے کے لیے بولا ہے۔کیوں کہ برادران وطن گائے کو بھی ماں کا درجہ دیتے ہیں۔ہوسکتا ہے ان کی منشاء یہی ہو۔لیکن ان کی وہ ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر ہے جس میں انھوں نے یہ باتیں کہی ہیں۔ ان کا اندازاور لب و لہجہ کسی حد تک تمسخرانہ معلوم ہوتا ہے۔ایسا لگتا ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ کا مذاق اڑارہے ہیں۔ایک عالم دین کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی فرد یا قوم کا مذاق اڑائے اورایک داعی کے لیے تو یہ بالکل بھی مناسب نہیں۔اس بیان کی توقع کسی عالم دین سے نہیں کی جاسکتی۔وہ ملک کی عظیم دانش گاہ دارالعلوم دیوبند کے طالب علم رہے ہیں،انھوں نے قرآن و حدیث کی تعلیم حاصل کی ہے،اسی کے ساتھ ان کو ویدوں کا بھی گیان ہے۔ویدوں کا علم انھوں نے اسی لیے تو حاصل کیا تھا کہ وہ برادران وطن کو اسلام کی حقانیت سے آگاہ کریں گے۔وہ ایک داعی ہیں تو دعوت کے اصول و ہدایات سے واقف ہوں گے۔انھوں نے قرآن مجید میں ضرور پڑھا ہوگا کہ ”لوگوں کو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ اللہ کی طرف بلاؤ“۔(النحل:125)یہ بھی پڑھا ہوگا کہ کوئی قوم کسی قوم کا مذاق نہ اڑائے،ہوسکتا ہے وہ ان سے بہتر ہو“ (الحجرات:11)یہ بھی پڑھا ہوگا کہ ”تم ان کو برانہ کہو جن کو یہ اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہیں۔(الأنعام:108) انھوں نے سیرت کے اوراق میں نبی اکرم ﷺ کاغیر مسلموں کے ساتھ لطف و عنایات اور احترام و اکرام کا رویہ بھی ملاحظہ کیا ہوگا۔وہ آخر کیوں بھول گئے کہ وہ رحمۃ اللعٰلمین کی امت میں ہیں،انھوں نے اپنی داعیانہ حیثیت کیوں فراموش کردی؟
وہ شاید یہ سمجھ بیٹھے کہ جس طرح بعض سیاسی و مذہبی لیڈران نفرت پھیلا کر شہرت و کامیابی حاصل کرتے ہیں،انھیں بھی حاصل ہوجائے گی۔ایک وہی نہیں، کئی اور بھی مسلم لیڈرس ہیں جو اسی خام خیالی میں جی رہے ہیں،کوئی سمجھتا ہے کہ پارلیمنٹ میں بل پھاڑ کر بل کو پاس ہونے سے روک دے گا،کوئی سمجھتا ہے کہ سیاست کے ایوانوں میں اچھے اشعار سنا کر ملک اور قوم کا بھلا کرے گا۔یہ ایک حقیقت ہے کہ ہماری مذہبی اور سیاسی قیادت میں جذباتیت کا عنصر نمایاں ہے اوران کی قابل ذخر تعداد مسلم عوام کو بھی جذباتی بنانے پر کام کررہی ہے۔عوام کا مزاج بھی یہ بنادیا گیا ہے کہ وہ کسی کی سنجیدہ گفتگو سننے کو تیار نہیں،اسے بھی چیخنے،چلانے والے شعلہ بیاں مقرر اچھے لگتے ہیں۔یہ کتنی عجیب بات ہے کہ امن وامان، سنجیدگی و وقارکے دین اور امین و صادق پیمبر کی حامل امت کے علماء کالقب ”شعلہ بیاں“ہے۔معاشرے میں آگ اگلنے والے خطیبوں کی پذیرائی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہماری قیادت خود بھی سنجیدگی اختیار کرے اور عوام کے مزاج کو بھی سنجیدہ بنائے۔
ہندوستانی مسلمانوں کی ایک شکایت یہ ہے کہ فلاں، فلاں مسلمانوں کے خلاف آگ اگلتے ہیں،مگر حکومت ان کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھاتی۔کوئی سرعام مارنے،قتل کرنے کی بات کرتا ہے،کوئی نبی اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کرتا ہے اور قانون اس کا کچھ نہیں بگاڑسکتا، اس لیے کہ اس کا تعلق حکمراں جماعت یا حکمراں طبقے سے ہے۔یہ شکایت کسی حد تک بجا ہے لیکن پوری طرح درست نہیں ہے،اسی ملک میں نہ معلوم کتنی ایف آئی آر ایسے لوگوں پر درج ہوئی ہیں اور ان پر مقدمات چل رہے ہیں جنھوں نے نفرت انگیزبھاشن دیے ہیں۔یہ صرف بھارت کا مسئلہ نہیں ہے کہ اقلیتوں کواکثریت سے شکایات ہیں بلکہ دنیابھر میں ایسا ہی ہوتاہے۔عدالتیں بھلے ہی نہ کریں لیکن پولس یہ بھید بھاؤ کرتی ہے۔دنیا بھر کی اقلیتوں کو یہ شکایت ہے کہ ان کے ساتھ دوہرا رویہ اختیار کیا جاتاہے۔حالانکہ ایسا ہونانہیں چاہئے۔صرف قوموں کے ساتھ ہی نہیں بلکہ عالمی اداروں میں کمزور ممالک کے ساتھ بھی یہی رویہ اختیار کیاجاتا ہے۔اقوام متحدہ میں ظالم اسرائیل کے خلاف پیش کی جانے والی قرارداد کو کون ویٹو کرتا ہے؟سب جانتے ہیں۔کون نہیں جانتا کہ کل عراق اورافغانستان کو بلا وجہ تباہ کیا گیا اورآج ایران کو تباہ کیا جارہا ہے۔ہماری کھلی آنکھوں نے دیکھا کہ وینزویویلا کے صدر کو کس طرح ان کے صدارتی محل سے اغواکرلیا گیا؟کمزوروں پر طاقت ور کے مظالم کل بھی تھے اور آج بھی ہیں؟کمزوروں کی بھلائی اسی میں ہے کہ وہ قانون کی پاسداری کریں اور اپنی طرف سے کوئی قدم ایسا نہ اٹھائیں جو فتنے و فساد کو دعوت دیتا ہو۔مولانا سالم ہوں یا کوئی اور مسلمان لیڈر یا عام مسلمان کسی کو بھی یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ اپنی زبان سے یا قلم سے کوئی ایسی بات کہیں یا لکھیں جو آئین کے مطابق بھی جرم ہو اور شریعت کے مطابق بھی۔
بھارتی مسلمانوں کی ایک حیثیت یہ بھی ہے کہ وہ یہاں پر سابق حکمرانوں کے دین سے تعلق رکھتے ہیں۔میری مراد مسلم سلطنت ہے۔ایک طویل عرصہ تک ملک پر مسلمان بادشاہوں نے راج کیا ہے۔حالانکہ موجودہ مسلمانوں کا ان سے کوئی نسلی تعلق نہیں ہے،نہ ہی ان بادشاہوں نے مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات کیے تھے،وہ بادشاہ تھے اور ان کی نظر میں باقی عوام رعایا تھی،چاہے اس کا مذہب کوئی بھی ہو۔جسے وہ اپنی بادشاہت کے لیے خطرہ سمجھتے تھے اسے قتل کرادیتے تھے چاہے وہ ان کا بھائی یا باپ ہی کیوں نہ ہو۔مگر ہم مذہب ہونے کے ناطے ہمارے وطنی بھائیوں کی اکثریت ان سے بھی بغض و عناد کا رشتہ رکھتی ہے۔جب کہ حکمراں قوم اپنی قوم کے لیے کسی حد تک عصبیت کا جذبہ رکھتی ہے۔ایسا ہم سماج میں دیکھتے ہیں،برادری کے لوگ اپنی برادری کے مجرم فرد کی بھی طرف داری کرتے نظر آتے ہیں ۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ بھارتی مسلمانوں کو اپنی حیثیت اور مقام کو پہچاننا چاہئے۔وہ مسلمان بھی ہیں اور ہندوستانی شہری بھی۔ وہ آئین کے بھی پابند ہیں اور شریعت کے بھی۔ان کو ایک اچھا شہری بھی بن کر رہنا ہے اور ایک اچھا مسلمان بھی۔انھیں اپنی زبان و قلم کا اس طرح استعمال کرنا ہے کہ نہ آئین کے مجرم ہوں اور نہ شریعت کے گناہ گار۔انھیں اپنے عمل سے اسلام کا داعی بن کر رہنا ہے۔انھیں گالیاں کھاکر بھی دعائیں دینا ہیں،انھیں ظلم سہہ کر بھی کرم کرنا ہے۔البتہ وہ اپنی ذات یا اپنے دین کے لیے قانونی کارروائی کرسکتے ہیں۔وہ متحد ہوکر اپنے جمہوری حقوق کی حفاظت کرسکتے ہیں،وہ آئین میں درج احتجاج کے طریقوں کو چاہیں تو اپنا سکتے ہیں،مگر میری رائے میں اک داعی قوم کے لیے احتجاج کا طریقہ زیادہ کارگر نہیں ہے۔
سب سے ضروری بات یہ ہے کہ مسلمان خود کی اصلاح کریں۔اپنے اخلاق سنواریں،جھوٹ بولنا،ملاوٹ کرنا،دھوکا دینا،فضول خرچی کرنا بند کریں۔اپنی صحت کا خیال رکھیں،شراب نوشی،جوا،سٹا،نشہ خوری ترک کریں۔اپنے دین پر اس حد تک ضرورعمل کریں جس حد تک انھیں آزادی ہے، شادی بیاہ میں سادگی اپنائیں، خواتین کو وہ حقوق دیں جو انھیں اللہ و رسول نے دیے ہیں،کوئی حکومت آپ کو نہیں روکے گی۔وقت اور حالات کو سمجھیں۔اپنی زبان پر قابو رکھیں ورنہ یہ زبان آپ کی دنیا بھی جہنم بنا سکتی ہے۔نبی اکرم ؐ نے ہمیں تعلیم دی ہے کہ ”مسلمان وہ ہے جس کی زبان سے دوسرے لوگ محفوظ رہیں۔“(صحیح مسلم)