بقاءِ انفع کا بے لاگ قانون: ایک فطری اصول، ایک ابدی سچائی

از:- محمد قمر الزماں ندوی

مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ

انسانی تاریخ کے طویل سفر میں کچھ اصول ایسے ہیں، جو زمان و مکان کی قید سے آزاد رہتے ہیں۔ یہ اصول نہ صرف فرد کی زندگی بلکہ اقوام اور ملل کے عروج و زوال کا فیصلہ بھی کرتے ہیں۔ انہی میں سے ایک بنیادی اور آفاقی اصول و قانون “بقاءِ انفع” کا ہے، جسے قرآن مجید نے نہایت بلیغ اور جامع انداز میں سورۂ رعد کی آیت 17 میں بیان فرمایا:
“فَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْهَبُ جُفَاءً ۖ وَاَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْكُثُ فِی الْاَرْضِ” یعنی جو جھاگ ہے وہ بہہ جاتا ہے، اور جو چیز انسانوں کے لیے نفع بخش ہو، وہی زمین میں باقی رہتی ہے۔
یہ آیت دراصل زندگی کے ایک ہمہ گیر قانون کی وضاحت کرتی ہے: بقاء اسی کی ہے جو نفع بخش ہو۔ یہی اصول افراد، جماعتوں، تحریکوں اور تہذیبوں کی کامیابی کا حقیقی راز ہے۔

آج کے دور میں، جب ہر طرف بے جا منافست، مسابقت، شور اور وقتی چمک دمک کا غلبہ ہے، یہ قرآنی اصول ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پائیداری کا معیار شہرت، طاقت یا وسائل نہیں بلکہ افادیت ہے۔ جو شخص یا ادارہ انسانیت کے لیے کچھ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، وہی دراصل تاریخ کے صفحات میں اپنی جگہ بناتا ہے۔ اس کے برعکس جو محض نمائشی، کھوکھلا یا خود غرض ہو، وہ جھاگ کی مانند وقتی ابھار کے بعد مٹ جاتا ہے۔
یہ حقیقت بھی قابل غور ہے کہ بقاءِ انفع کا یہ قانون کسی خاص طبقے یا قوم تک محدود نہیں۔ یہ ایک غیر جانب دار فطری اصول ہے۔ اگر کسی فرد یا جماعت کے پاس انسانیت کے لیے کوئی مفید سرمایہ، کوئی مثبت کردار اور کوئی حقیقی خدمت موجود ہے، تو اسے مایوسی کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس کی یہی صلاحیت راستے کی رکاوٹیں دور کرے گی، ناممکن کو ممکن بنائے گی اور اسے وہ مقام دلائے گی جس کا کبھی تصور بھی مشکل لگتا تھا۔

اس کے برعکس، جو افراد یا گروہ اپنی اصل جوہر سے خالی ہوں، جن کے پاس دینے کے لیے کچھ نہ ہو ، صرف لینے کے لئے ہو، جو اخلاص، للہیت اور خدمت کے جذبے سے محروم ہوں، ان کے لیے دنیا کے پاس بھی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ وہ چاہے کتنی ہی شکایات کریں، حالات کو موردِ الزام ٹھہرائیں یا مخالفین کی سازشوں کا رونا روئیں، حقیقت یہی ہے کہ ان کی ناکامی کا سبب ان کی اپنی کمزوری ہے۔ دنیا ہمیشہ اسی کو جگہ دیتی ہے جو دنیا کو کچھ دیتا ہے۔

تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات

یہاں یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ مخالفت، مشکلات اور ناسازگار حالات دراصل کامیابی کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہوتے، بلکہ اکثر یہ انہی لوگوں کے لیے بہانہ بن جاتے ہیں جن کے اندر خود اعتمادی اور صلاحیت کی کمی ہوتی ہے۔ جو لوگ اپنے مقصد پر یقین رکھتے ہیں اور دوسروں کے لیے نفع بخش ہوتے ہیں، وہ مخالفت کے طوفانوں میں بھی اپنی جگہ بنا لیتے ہیں۔

قرآن مجید کا یہ اعلان کہ “محسنین کا اجر ضائع نہیں ہوتا” اس اصول کی مزید توثیق کرتا ہے۔ نیکی، خدمت اور احسان کبھی رائیگاں نہیں جاتے۔ ان کا اثر دیرپا ہوتا ہے، چاہے وہ فوری طور پر نظر نہ بھی آئے۔ یہی اثر بالآخر بقاء اور دوام کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔

آج کی دنیا میں، جہاں ہر طرف تبدیلی کی تیز رفتار لہر ہے، مدارس و جامعات ،اداروں، تحریکوں اور افراد کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے وجود کا جائزہ اسی اصول کی روشنی میں لیں۔ کامیابی کا معیار یہ نہیں کہ ہم کتنے نمایاں ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم کتنے مفید ہیں۔ ہمیں خود سے یہ سوال کرنا ہوگا کہ ہم انسانیت کو کیا دے رہے ہیں؟ ہماری موجودگی سے دوسروں کو کیا فائدہ پہنچ رہا ہے؟ ۔

اگر ہم واقعی بقاء چاہتے ہیں، تو ہمیں “خیر الناس من ینفع الناس” کے عملی مصداق بننا ہوگا۔ یعنی بہترین انسان وہ ہے جو دوسروں کے لیے سب سے زیادہ نفع بخش ہو۔ یہی وہ معیار ہے جو فرد کو بھی بلندی دیتا ہے اور قوموں کو بھی عروج بخشتا ہے۔

مختصراً، بقاءِ انفع کا قانون محض ایک نظریہ نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ زندگی کی دوڑ میں وہی آگے بڑھتا ہے، جو دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرتا ہے، جو انسانیت کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے۔ وقتی چمک دمک اور کھوکھلے دعوے جھاگ کی طرح مٹ جاتے ہیں، مگر حقیقی خدمت اور نفع بخشی زمین میں جڑ پکڑ لیتی ہے اور تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔
یہی وہ پیغام ہے جسے سمجھنا اور اپنانا آج کے انسان کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔