راہل گاندھی کا الزام — انتخابات ختم ہوتے ہی عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈال دیا گیا
نئی دہلی (سیل رواں):
ملک میں کمرشیل ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں 993 روپے کے غیر معمولی اضافے کے بعد سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس فیصلے پر مرکزی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے عوام مخالف قرار دیا ہے۔
کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی نے قیمتوں میں اضافے کو "انتخابی بل” سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے جان بوجھ کر انتخابات کے اختتام تک قیمتیں روک کر رکھیں اور جیسے ہی ووٹنگ مکمل ہوئی، عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈال دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہی جھٹکے میں 993 روپے کا اضافہ غیر معمولی ہے اور اس سے پہلے ہی گزشتہ چند مہینوں میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔
راہل گاندھی کے مطابق اس فیصلے کا براہ راست اثر چھوٹے کاروباروں پر پڑے گا، جن میں چائے کی دکانیں، ڈھابے، ہوٹل، بیکریاں اور مٹھائی کی دکانیں شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آخرکار اس اضافے کا بوجھ عام آدمی تک پہنچے گا اور روزمرہ زندگی مزید مہنگی ہو جائے گی۔
اپوزیشن کے دیگر رہنماؤں نے بھی حکومت کو ہدف تنقید بنایا۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری کے،سی وینوگوپال نے کہا کہ انتخابات کے فوراً بعد قیمتوں میں اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت عوامی مفاد سے زیادہ سیاسی فائدے کو ترجیح دیتی ہے۔ سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے طنزیہ انداز میں کہا کہ گیس مہنگی ہوگی تو روٹی بھی مہنگی ہو جائے گی۔
اپوزیشن جماعتوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ مغربی بنگال سمیت مختلف ریاستوں میں ووٹنگ کے فوراً بعد قیمتوں میں اضافہ کیوں کیا گیا، جبکہ حکومت کا موقف ہے کہ عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث یہ فیصلہ ناگزیر تھا۔
سیاسی و معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اضافے کے اثرات نہ صرف کاروباری سرگرمیوں بلکہ گھریلو بجٹ پر بھی مرتب ہوں گے، اور اگر ایندھن کی دیگر قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا تو مہنگائی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔