ملتِ اسلامیہ پر چہار جانب سے یلغار، مسلسل تنگ ہوتے عرصۂ حیات اور بورڈ کے مؤثر و بیدار عوامی لائحہ عمل کے لئے ہنگامی گزارش

منجانب:

عبیداللہ خان اعظمی

نائب صدر، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

بنام صدر، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

موضوع: ملتِ اسلامیہ پر چہار جانب سے یلغار، مسلسل تنگ ہوتے عرصۂ حیات اور بورڈ کے مؤثر و بیدار عوامی لائحہ عمل کے لئے ہنگامی گزارش

محترم و مکرم صدر صاحب!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،

امید ہے مزاجِ گرامی بخیر و عافیت ہوں گے۔
یہ خط میں ایک ایسے وقت میں تحریر کر رہا ہوں جب ملتِ اسلامیہ ہند تاریخ کے سب سے نازک، صبر آزما اور تشویشناک دور سے گزر رہی ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا قیام جن کٹھن حالات میں عمل میں آیا تھا، آج کے حالات اس سے کہیں زیادہ سنگین اور بھیانک شکل اختیار کر چکے ہیں۔ بحیثیت نائب صدر، میں انتہائی دردمندی، لیکن ایک واضح اور دوٹوک احساس کے ساتھ یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اب مصلحت پسندی، روایتی بیانات اور محض کاغذی کارروائیوں کا وقت پوری طرح ختم ہو چکا ہے۔

محترم صدر صاحب! آج مسلمانوں پر جو حالات مسلط کیے جا رہے ہیں، وہ کوئی وقتی لہر یا متفرق واقعات نہیں ہیں، بلکہ یہ ایک انتہائی منظم، گہری اور ریاستی سرپرستی میں چلنے والی سازش ہے، جس کا واحد مقصد مسلمانوں کو نفسیاتی، سماجی اور مذہبی طور پر اس قدر کچل دینا ہے کہ وہ اپنے ایمانی تشخص سے ہی دستبردار ہو جائیں:

  • ایک طرف ‘ماب لنچنگ’ کے درندانہ واقعات کے ذریعے مسلمانوں کے خون کو ارزاں کر کے ان میں مستقل خوف و ہراس بٹھایا جا رہا ہے۔
  • دوسری جانب اتراکھنڈ میں یکساں سول کوڈ (UCC) کا نفاذ اور پورے ملک میں اس کی تیاریاں ہماری شریعتِ مطہرہ پر سیدھا اور ننگا حملہ ہیں۔

بنگال جیسی ریاستوں کے تعلیمی اداروں میں مسلم معصوم بچوں پر ‘وندے ماترم’ پڑھنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ نوبت یہاں تک آ گئی ہے کہ بچے اسکول چھوڑ رہے ہیں۔ یہ ہماری نسلوں کے بنیادی ‘عقیدۂ توحید’ پر کاری ضرب ہے جسے ہم کسی صورت برداشت نہیں کر سکتے۔
اسی طرح قانونی سقم اور نام نہاد سروے کی آڑ لے کر، دھار کی کمال مولا مسجد اور دیگر تاریخی مساجد و اوقاف پر شب خون مارا جا رہا ہے۔

ان تمام منظم یلغاروں نے ملت میں ایک بے پناہ بے چینی، اضطراب اور شدید عدم تحفظ کا احساس پیدا کر دیا ہے۔ قوم مایوس ہو رہی ہے اور بجا طور پر اپنی سب سے بڑی نمائندہ قیادت، یعنی مسلم پرسنل لا بورڈ کی طرف دیکھ رہی ہے۔

یہ امر باعثِ اطمینان ہے اور قوم اس کی قدر بھی کرتی ہے کہ بورڈ ان معاملات میں پوری مستعدی سے عدالتی اور قانونی جنگ لڑ رہا ہے۔ لیکن ہمیں یہ تلخ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ فسطائیت کے اس طوفان کو صرف بند کمروں کی قانونی چارہ جوئی سے نہیں روکا جا سکتا۔ موجودہ حالات میں جبکہ نظام کے کئی ستون دباؤ کا شکار نظر آتے ہیں، محض عدالتوں پر بھروسہ کر کے بیٹھ جانا ایک مجرمانہ غفلت ہوگی۔

تاریخ شاہد ہے کہ جب شریعت اور ملّی وجود پر حملے ہو رہے ہوں تو "عوامی عدالت” میں جانا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ عوامی سطح پر اٹھنے والی منظم آوازوں، جمہوری احتجاج اور سڑکوں پر نظر آنے والے اتحاد کا اثر براہِ راست حکومتوں پر پڑتا ہے اور یہی عوامی دباؤ بسا اوقات عدالتی اور سماجی رویوں کو بھی انصاف کی راہ پر لانے کا سبب بنتا ہے۔ قوم کو اس وقت طفلِ تسلیوں کی نہیں، بلکہ ایک ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو میدانِ عمل میں ان کے شانہ بشانہ کھڑی نظر آئے۔ اگر ہم نے اب بھی دفاعی خول نہ توڑا، تو ڈر ہے کہ مسلمان ڈر اور بزدلی کا شکار ہو کر ان باطل طاقتوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دے گا اور قیادت پر سے اس کا تاریخی اعتماد ہمیشہ کے لیے اٹھ جائے گا۔

لہٰذا، وقت کی نزاکت اور حالات کی سنگینی کے پیشِ نظر، میں آپ سے اور بورڈ کی پوری قیادت سے یہ پرزور اور ہنگامی مطالبہ کرتا ہوں:

ہنگامی مجلسِ عاملہ کا انعقاد: بلا تاخیر بورڈ کی ایک ہنگامی میٹنگ طلب کی جائے، جس میں تمام روایتی ایجنڈوں کو مؤخر کر کے صرف اور صرف ان مسلم کش مہمات کے خلاف ایک متفقہ، جرات مندانہ اور جارحانہ (Proactive) حکمتِ عملی طے کی جائے۔

عظیم الشان ملک گیر عوامی اجلاس: ملک کے طول و عرض، بالخصوص اہم شہروں میں بڑے اور عظیم الشان عوامی اجلاس طلب کیے جائیں۔ اس سے نہ صرف سہمے ہوئے مسلمانوں کے حوصلے بلند ہوں گے اور ان کی صفوں میں اتحاد پیدا ہوگا، بلکہ اربابِ اقتدار تک بھی یہ واشگاف پیغام جائے گا کہ چھیڑ چھاڑ کی صورت میں ملتِ اسلامیہ خاموش تماشائی نہیں بنے گی۔

منظم جمہوری لائحہ عمل کی تشکیل: قانونی جنگ کے ساتھ ساتھ فوری طور پر ایک ایسا جمہوری اور عوامی لائحہ عمل تیار کیا جائے جس سے حکومت کو یہ باور کرایا جا سکے کہ ہندوستان کا مسلمان ملک کی تعمیر کے لیے ہر قربانی دے سکتا ہے، لیکن اپنے ایمان، عقیدۂ توحید اور شریعت پر کوئی آنچ ہرگز برداشت نہیں کر سکتا۔

یہ وقت مصلحتوں کا نہیں، بلکہ جرات، استقامت اور مجاہدانہ اقدام کا ہے۔ مجھے قوی امید ہے کہ آپ میری ان معروضات کی تپش کو محسوس فرمائیں گے اور بورڈ کی ساکھ اور قوم کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے فوری طور پر موثر اور بیدار فیصلوں کا اعلان فرمائیں گے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔