کمال مولیٰ مسجد، کاکروچ اور عدلیہ!

از:۔ شکیل رشید ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز

ایودھیا کی بابری مسجد کے بعد دھار کی کمال مولیٰ مسجد بھی فسطائی ذہنیت کی بھینٹ چڑھ گئی، اور اُس میں باقاعدہ پوجا پاٹ شروع کردی گئی ! آنے والے دِنوں میں نہ جانے، کتنی اور مسجدوں کا تقدس بھگوائیوں کے ہاتھوں پامال ہوگا ۔ بنارس کی گیان واپی مسجد اور متھرا کی شاہی عید گاہ مسجد سمیت کئی مسجدوں کے مقدمات عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں ، اور عدلیہ کے رویے اور کردار کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا کہ ’ انصاف کے نام پر ناانصافی کا کھیل آئندہبھی کھیلا جا سکتا ہے ‘، غلط نہیں ہوگا ۔ ویسے بھی ایک ایسی عدلیہ سے، جس کا چیف اس ملک کے نوجوانوں کو ’ کاکروچ ‘ یعنی ’ جھینگر ‘ اور طفیلی (parasite )سمجھے، امید بھی کیا کی جا سکتی ہے ! جی!جس دِن دھار کی کمال مولیٰ مسجد کو، مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے جج صاحبان، مندر قرار دے کر، اس ملک کے مسلمانوں کے دلوں کو زخمی کر رہے تھے، اُسی دن اِس ملک کی سب سے بڑی عدالت یعنی سپریم کورٹ میں، ملک کے چیف جسٹس سوریہ کانت، ایک ایڈوکیٹ کی اِس درخواست پر کہ اُسے سنیئر ایڈوکیٹ مانا جائے، شنوائی کرتے ہوئے ملک کے اکثر بے روزگار نوجوانوں کو ’ کاکروچ ‘ اور ’ طفیلی ‘ قرار دے رہے تھے ۔ اِتنا ہی نہیں، اپنے بیان میں انہوں نے میڈیا، سوشل میڈیا، اِکٹوسٹ اور آر ٹی آئی اِکٹوسٹوں وغیرہ کے بھی ’لتّے ‘لے لیے کہ بے روزگار نوجوان یہی سب بَن کر ہر ایک سے، اور سرکاری اداروں سے سخت سوالات دریافت کرنے لگتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:

یہ زبان کسی بھی جمہوری ملک کے چیف جسٹس کی نہیں ہو سکتی، ہاں یہ زبان اِس ملک کے بھاجپائیوں اور بھگوائیوں اور خاکی نیکر پوشوں کی ہو سکتی ہے، بلکہ اُن کی یہی زبان ہے، کہ وہ نہیں چاہتے کہ حکمرانوں سے کسی طرح کا سوال کیا جائے ۔ جب ملک کا چیف جسٹس یہی زبان بولنے لگے، تو انصاف کی امید دَم توڑ دیتی ہے ۔ کمال مولیٰ مسجد کی، ایک مسجد کے طور پر اسی قدر مستند تاریخ موجود ہے، جِس قدر مستند تاریخ بابری مسجد کی موجود تھی، لیکن یہ مانتے ہوئے بھی کہ بابری مسجد کسی مندر کو توڑ کر نہیں بنائی گئی تھی، اُس وقت کے ملک کے چیف جسٹس گوگوئی نے اُسے رام مندر کی تعمیر کے لیے ہندوؤں کو سونپ دیا تھا، اور مودی حکومت نے وہاں رام مندر بنوا کر اس کا خوب سیاسی فائدہ اٹھایا، یہی کام مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے بھی کیا ہے ۔ تاریخی حقائق نظرانداز کیے گیے اور ایک تاریخی مسجد کو مندر قرار دے کر حکومتِ وقت کے ایجنڈے کو آگے بڑھا دیا گیا ۔ سچ تو یہی ہے کہ اِن دِنوں عدلیہ میں ایسے جج صاحبان کی اکثریت ہے، جو سنگھ کی زبان بولتے نظر آ رہے ہیں، اس کی مثالیں سامنے آئی ہیں، اور مزید مثالیں سامنے آ رہی ہیں ۔ خیر، کمال مولیٰ مسجد معاملہ میں کسی مسلم لیڈر یا مسلم جماعت کا کوئی قصور نہیں ہے، مسلمانوں کے تاریخی آثار، اُن کی مسجدیں، مقبرے، درگاہیں، قبرستان، یادگاریں فرقہ پرستوں کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹک رہی ہیں، اسی لیے وہ نشانہ پر ہیں ۔ نہ ہمت ہارنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی مشتعل ہونے کی، بلکہ عزم کے ساتھ انصاف کے لیے جدوجہد کرنے کی، اور ہر میدان میں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے ۔ تعلیمی میدان کے ساتھ سیاسی میدان میں بھی ۔ یہ سمجھنے کی بھی ضرورت ہے کہ نہ ہم ’ کاکروچ ‘ ہیں اور نہ ہی ’ طفیلی ‘ ہم اِس ملک کے باشندے ہیں، اور کبھی بھی اپنے حق کو چھوڑ نہیں سکتے ۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔