از:- محمد عَلَمُ اللہ، لندن
ہمارے ایڈیٹر نے کہا تھا کہ کمال مولا مسجد پر فیصلہ آنے والا ہے، خبر پر نظر رکھنا۔ صبح سے ہی نظریں گڑی ہوئی تھیں۔ مگر جب مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کا فیصلہ میرے سامنے آیا تو یوں لگا جیسے کسی نے تاریخ کے سینے میں دفن ایک اور زخم کو پھر سے نوچ لیا ہو۔ عدالت نے دھار ضلع کے تاریخی بھوج شالہ کمال مولا مسجد کمپلیکس کو دیوی سرسوتی (واگدیوی) کا مندر قرار دے کر صدیوں سے مسلمانوں کی نماز، اذان اور عبادت کی جگہ رہی اس مسجد کو مندر کا درجہ دے دیا۔ 2003 کے آثارِ قدیمہ سروے آف انڈیا (ASI) کے اس حکم کو بھی منسوخ کر دیا گیا جس کے تحت جمعہ کے دن مسلمانوں کو نماز کی اجازت دی گئی تھی۔
عدالت کی سطریں آنکھوں کے سامنے تھیں، مگر آنکھیں ان لفظوں کو پڑھنے کے بجائے مسلسل بھیگتی جا رہی تھیں۔ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا لکھوں۔ کاپی ایڈیٹر کو بس اتنا کہہ پایا: "میں نہیں لکھ سکوں گا… ایجنسی کی خبر چلا لیں۔” میں دیر تک کرسی پر یونہی بیٹھا سوچتا رہا کہ کیا لکھوں، کچھ سمجھ ہی نہیں آریا تھا حالانکہ میں نے اپنی زندگی میں بے شمار حادثات پر لکھا، ظلم کے خلاف قلم اٹھایا، ناانصافیوں کے نوحے تحریر کیے، ٹوٹتے معاشروں پر اداریے رقم کیے، مگر آج یوں لگا جیسے لفظ بھی انسان کو تنہا چھوڑ دیتے ہیں۔ قلم ہاتھ میں تھا مگر اس کی روشنائی جیسے خشک ہو چکی ہو۔ انگلیاں حرکت کرنا بھول گئیں تھیں۔ میں سوچتا رہا کہ آخر کیا لکھوں؟ کیا یہ صرف ایک عمارت کا معاملہ ہے؟ کمال مولا مسجد صدیوں سے مسلمانوں کی عقیدت اور عبادت کی جگہ رہی ہے۔ وہاں اذانیں گونجتی تھیں، سجدے ہوتے تھے، دعائیں مانگی جاتی تھیں۔ آج اسے مندر قرار دے کر صدیوں کی مسلم عبادت، تاریخ اور عقیدت کو ایک فیصلے میں نظر انداز کر دیا گیا ہے۔
تاریخ کا مطالعہ کرنے والے جانتے ہیں کہ عبادت گاہیں صرف اینٹ اور پتھر کا نام نہیں ہوتیں۔ وہ قوموں کی روح ہوتی ہیں، ان کی تہذیب، ان کی شناخت اور ان کے وجود کی علامت ہوتی ہیں۔ جب کسی عبادت گاہ کے تقدس پر ضرب پڑتی ہے تو دراصل ایک پوری تاریخ سسک اٹھتی ہے۔ آج کمال مولا مسجد کا نام سنتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی بوڑھی ماں کے سر سے چادر کھینچ لی گئی ہو اور اس کے بیٹے خاموش کھڑے دیکھتے رہ گئے ہوں۔ جو لوگ آج اس فیصلے پر جشن منا رہے ہیں، شاید انہیں اندازہ نہیں کہ ان کی خوشی کے شور میں کتنے دل خاموشی سے دفن ہو رہے ہیں، کتنے نوجوان اپنے مستقبل سے مایوس ہو کر آسمان کو خالی نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں۔ یہ ایک ایسی چوٹ ہے جو نسلوں تک محسوس کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:
-
شہید گنج سے کمال مولا- بھوج شالہ تک: ایک مقدمے میں قانون غالب، دوسرے میں عقیدہ
-
کمال مولیٰ مسجد، کاکروچ اور عدلیہ!
-
ہندوستان: بنگال کی روایتی سیاست کا انہدام اور مسلمانوں کو سیاسی اعتکاف کا مشورہ
-
بھوج شالہ سرسوتی مندر قرار، نماز سے متعلق اے ایس آئی سرکلر منسوخ
آج امت کی بے بسی اپنے عروج پر دکھائی دیتی ہے۔ ہم تعداد میں شاید بہت ہیں، مگر حوصلوں میں بکھر چکے ہیں۔ ہمارے دل ایک دوسرے سے دور ہو چکے ہیں، ہماری آوازوں سے وہ یقین اٹھ چکا ہے جو کبھی ظلم کے ایوانوں کو لرزا دیتا تھا۔ سب سے زیادہ خوفناک بات یہ ہے کہ ہم صرف ہار نہیں رہے، بلکہ آہستہ آہستہ اس ہار کے عادی بھی ہوتے جا رہے ہیں۔ لیکن تاریخ کا ایک اٹل اصول ہے جسے وقت کبھی نہیں بدل سکا۔ ظلم وقتی طور پر طاقتور دکھائی دے سکتا ہے، مگر وہ ہمیشہ قائم نہیں رہتا۔ ظلم کی شاخ کبھی پھلتی نہیں اور نہ ہی کاغذ کی ناؤ زیادہ دیر چلتی نہیں۔ دنیا نے بڑے بڑے فرعون دیکھے، نمرود دیکھے، جابر بادشاہ دیکھے، وہ سلطنتیں بھی دیکھیں جن کے درباروں میں سورج طلوع ہوتا تھا اور جن کے حکم پر سمندر راستہ بدل لیتے تھے، مگر وقت کی ایک ہی موج نے انہیں تاریخ کے اندھیروں میں دفن کر دیا۔ آج ان کے محلات کھنڈرات ہیں، ان کے تخت مٹی ہیں، ان کے نام عبرت کی مثال ہیں۔ طاقت ہمیشہ کے لیے کسی کے پاس نہیں رہتی، فیصلے ہمیشہ آخری نہیں ہوتے، اور تاریخ ہمیشہ ایک ہی رخ پر نہیں چلتی۔
بے شک یہ فیصلہ ہمارے دلوں کے لیے مایوسی کا سبب ہے، ہماری روحوں پر بوجھ ہے، ہمارے ایمان کا امتحان ہے، مگر امید کی شمع بجھتی نہیں۔ رات کتنی ہی لمبی کیوں نہ ہو، صبح کا سورج اس کے سینے کو چیر کر نکل ہی آتا ہے۔ آزمائشیں کتنی ہی سخت کیوں نہ ہوں، وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا۔ شاید آج ہماری آنکھیں اشکبار ہیں، شاید آج ہمارے دل زخمی ہیں، مگر ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب یہی زخمی دل صبر کی طاقت سے دوبارہ کھڑے ہوں گے، جب اذانیں پھر اسی وقار سے گونجیں گی، جب انصاف حقیقت بن کر سامنے آئے گا۔
قومیں صرف فتوحات سے زندہ نہیں رہتیں، بعض اوقات ان کے زخم ہی ان کی بقا کی وجہ بنتے ہیں۔ شاید یہ وقت ہمیں جگانے آیا ہے، ہمیں ہماری کمزوریوں کا احساس دلانے آیا ہے، ہمیں یہ بتانے آیا ہے کہ اگر ہم نے اپنے اندر اتحاد، علم، کردار اور یقین کی روشنی پیدا نہ کی تو تاریخ ہمیں اسی طرح آزماتی رہے گی۔ آج ضرورت صرف رونے کی نہیں، جاگنے کی بھی ہے۔ اپنے بچوں کے اندر شعور پیدا کرنے کی ہے، اپنی نسلوں کو یہ بتانے کی ہے کہ قومیں صرف نعروں سے نہیں، قربانیوں، صبر اور کردار سے زندہ رہتی ہیں۔
اے ربِ کعبہ! ہماری آنکھوں کے آنسو قبول فرما، ہمارے دلوں کے زخموں پر اپنی رحمت رکھ، اور ہمیں وہ حوصلہ عطا فرما کہ ہم مایوسی کے اندھیروں میں بھی امید کا چراغ روشن رکھ سکیں۔ کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ وقت بدلتا ہے، حالات بدلتے ہیں، اور ایک دن تاریخ بھی بدلتی ہے… اور جب تاریخ بدلتی ہے تو ظالموں کے محلات نہیں بچتے، صرف مظلوموں کی آہیں باقی رہ جاتی ہیں، تو مولا اب تو ہماری سن لے۔