جب رشتے کمزور پڑنے لگیں

خامہ بکف: محمد عادل ارریاوی

_______________

اسلام نے رشتہ داری کو وہ معزز اور بلند مقام عطا فرمایا ہے جو پوری تاریخ انسانیت میں کسی بھی مذہب اور کسی بھی شریعت میں نہیں ملتی دین اسلام نے آپس کی رشتہ داری کو واضح کرتے ہوئے رشتوں کا پاس ولحاظ کرنے کی وصیت کے ساتھ صلہ رحمی کی ترغیب دیتا ہے۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے گھروں میں سکون ہمارے دلوں میں اطمینان اور ہمارے معاشرے میں محبت قائم رہے تو ہمیں اپنے رشتہ داروں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا ہوگا۔ پہل کرنے میں کبھی شرم محسوس نہیں کرنی چاہیے۔ اگر کوئی ناراض ہے تو اسے منانے کی کوشش کی جائے اگر کوئی دور ہو گیا ہے تو اس سے رابطہ کیا جائے کیونکہ رشتوں کو جوڑنا عظمت کی نشانی ہے جبکہ رشتوں کو توڑنا نقصان اور محرومی کا سبب بنتا ہے۔

صلہ رحمی کا مطلب یہ ہے کہ اللہ ربّ العزت نے جن رشتوں کو قائم فرمایا ہے اور جن افراد کے ساتھ ہمارا نسبی اور خونی تعلق ہے ان کے حقوق ادا کیے جائیں اور ان سے حسنِ سلوک رکھا جائے۔ ان رشتوں میں والدین دادا دادی نانا نانی بہن بھائی چچا پھوپھی ماموں خالہ اور دیگر قریبی عزیز شامل ہیں۔ یہ وہ رشتے ہیں جو انسان اپنی مرضی سے نہیں بلکہ اللہ ربّ العزت کی مشیت سے حاصل کرتا ہے اس لیے ان کی قدر و منزلت بھی بہت زیادہ ہے۔

اگر ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیں تو افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بہت سے لوگوں کے اپنے قریبی رشتہ داروں سے تعلقات خراب ہیں۔ بعض اوقات گھر کے بڑے اپنی اولاد کو بھی یہ تلقین کرتے ہیں کہ فلاں چچا ماموں یا خالہ کے گھر نہ جانا اور نہ ہی ان سے کوئی تعلق رکھنا۔ نتیجتاً یہ دوریاں وقت کے ساتھ نفرتوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں اور بعض مواقع پر لوگ اپنے عزیزوں کے جنازوں میں شرکت تک سے گریز کرنے لگتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل اس جاہلی سوچ کی یاد دلاتا ہے جس میں لوگ حق و انصاف کے بجائے صرف آباء و اجداد کی روش پر چلتے تھے۔

حقیقت یہ ہے کہ بعض اوقات رشتہ داریوں میں پیدا ہونے والے اختلافات زندگی کو تلخ بنا دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود رشتوں کو ختم کر دینا کسی مسئلے کا حل نہیں۔

آج یہ المیہ عام ہو چکا ہے کہ لوگ اپنے بھائیوں اور بہنوں سے بے رخی برتتے ہیں جبکہ دوستوں کے ساتھ نہایت خوش اخلاقی سے پیش آتے ہیں۔ کچھ احمق قسم کے لوگ بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ کئی سال سے بھائی کی صورت نہیں دیکھی بہن کے گھر جانا چھوڑ دیا یا سسرالی رشتوں سے مکمل لاتعلقی اختیار کر لی حالانکہ اسلام مسلمانوں کو تین دن سے زیادہ ناراض رہنے کی اجازت نہیں دیتا۔

اپنے قریبی عزیزوں سے برسوں تک بات چیت بند رکھنا نہایت افسوس ناک بات ہے۔ رشتہ داروں کا سب سے بنیادی حق یہ ہے کہ ان سے تعلقات خوشگوار رکھے جائیں ان کے ساتھ میل جول برقرار رکھا جائے اور حتی المقدور ان کے ساتھ بھلائی اور احسان کا معاملہ کیا جائے۔

صلہ رحمی درگزر معافی اور حسنِ اخلاق اسلام کی بنیادی تعلیمات میں شامل ہیں۔

بدقسمتی سے جدید دور میں مادی سوچ نے رشتوں کی اہمیت کو کم کر دیا ہے۔ بہت سے لوگ اپنے آپ کو ترقی یافتہ اور جدید سمجھتے ہوئے غریب رشتہ داروں سے تعلق رکھنے میں عار محسوس کرتے ہیں چاہے وہ ان کا سگا بھائی ہی کیوں نہ ہو۔ دولت آج رشتہ داری کی قدر و قیمت کا معیار بنتی جا رہی ہے۔ جن کے پاس مال و دولت نہیں انہیں نظر انداز کر دیا جاتا ہے جبکہ خوشحال اور مالدار رشتہ داروں سے تعلقات برقرار رکھنا باعثِ فخر سمجھا جاتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ رشتے اخلاص کے بجائے مفادات کی بنیاد پر قائم ہو رہے ہیں۔

اسی وجہ سے خونی رشتوں میں دوریاں اور تلخیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ معمولی معمولی باتوں پر جھگڑے اختلافات اور قطع تعلق عام ہو چکا ہے۔ قریب ترین رشتہ داروں سے بھی بات چیت بند کر دی جاتی ہے۔ رشتوں میں احترام ہمدردی برداشت اور ایک دوسرے کی غلطیوں کو معاف کرنے کا جذبہ کمزور پڑتا جا رہا ہے حالانکہ یہی اوصاف ایک مسلمان کی پہچان ہے۔

اگر یہ صورتِ حال برقرار رہی تو ہمارا معاشرہ مزید انتشار اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی صرف خود جینے کا نام نہیں بلکہ دوسروں کے دلوں میں محبت پیدا کرنے ان کی دعائیں حاصل کرنے اور اپنے اچھے کردار کے ذریعے یاد رکھے جانے کا نام ہے۔ یہی وہ حقیقی کامیابی ہے جو انسان کو دنیا اور آخرت دونوں میں سرخرو کرتی ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے دلوں کو کینہ حسد اور بغض سے پاک کریں محبت ہمدردی اور خیرخواہی کو فروغ دیں اور اپنی آنے والی نسلوں کو بھی صلہ رحمی کی تعلیم دیں تاکہ وہ ایسے معاشرے کی تعمیر کر سکیں جس کی بنیاد اخوت احترام اور باہمی محبت پر قائم ہو۔

اے اللہ ربّ العزت! ہمارے دلوں میں محبت و اخوت پیدا فرما ہمیں اپنے رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنے اور آپسی تعلقات کو مضبوط بنانے کی توفیق عطا فرما۔ آمین یارب العالمین ۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔