معاصر علماء کے لئے بھاری بھرکم القاب

تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل)

کل ہماری بزم علم وکتاب کے ایک معزز ممبر نے اپنے سلسلہ مضامین میں شیخ الحدیث مولانا محمد یونس جونپوری رحمۃ اللہ علیہ کا تذکرہ کیا تھا، جس میں آپ کی شان میں جو القاب استعمال کئے تھے، اس پر دوسرے کئی اہل علم نے دوسرے اسلاف کی کسر شان محسوس کی اور اس پر ناقدانہ تبصرے کئے، جس کے بعد موصوف نےاپنی تائید میں ڈاکٹر محمد اکرم ندوی کا حوالہ پیش کردیا، اور پھر بحث کا رخ ڈاکٹر صاحب کی طرف پھر گیا۔

ہمارے خیال میں اپنے سے بڑے کسی اہل علم کی رائے سے متاثر ہونا کوئی معیوب بات نہیں، یہ ایک فطری عمل ہے، لیکن جب کسی کی رائے کو قبول کرکے اسے پیش کرنے کی بات ہو تو تحقیق کی سان پر اسے جانچ پرکھ کر قبول کریں، کسی کی شہرت ومقبولیت سے متاثر ہوکر رائے قبول کرنے کے بجائے آپ کو اس کی دلیل سے مطمئن ہو کر بات پیش کرنی چاہئے ، اور جب کوئی اعتراض ہو توپھر اپنی بات کو دوسرے کی طرف منسوب کرکے پلا جھاڑنے کے بجائے، واضح انداز سے اپنا موقف پیش کرنا چاہئے۔ بات آپ نے پیش کی اور پھر ایک غیر حاضر شخص کو تنقید کا نشانہ بنایا جائے، اور بحث کو اس کی جانب موڑدیا جائے، تواسے سنجیدہ علمی بحث سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔

رہی بات ڈاکٹر محمد اکرم ندوی صاحب کی تو وہ ایک پڑھے لکھے انسان ہیں، سات کنؤوں کا پانی انہوں نے پیا ہے، انہوں نے دنیا دیکھی ہےاور کئی بر اعظموں کے علماء و فضلاء سے فیض اٹھایا ہے۔ ان کا ایک علمی وتحقیقی پس منظر اور مقام ہے۔

ان کی جو تحریریں اور کتابیں گذشتہ چند سالوں سے منظر عام پر آرہی ہیں، انہیں دیکھ ہمیں ذاتی طور پر احساس ہورہا ہے کہ وہ پڑھنے سے زیادہ لکھنے پر توجہ لگے ہیں۔ اس روئیے سے ایک صاحب قلم اپنی علمی وتحقیقی شناخت بنانے میں کامیاب نہیں ہوپاتا۔
اس کی ایک مثال ہمارے سامنے مولانا سید رئیس احمد جعفری ندوی مرحوم کی ہے، انہوں نے کتنا کچھ نہیں لکھا ، اور کن کن کتابوں کا ترجمہ نہیں کیا، لیکن انہوں نے اپنے کام میں معیار اور انتخاب کا خیال نہیں رکھا ، علم وادب کی ہرکھیتی کو جوتا۔ نتیجہ آج اتنے بڑے ادیب مورخ ومترجم کا علمی دنیا میں کوئی مقام متعین نہ ہوسکا ہے ۔ حالانکہ ان کے مقابلے میں مولانا ظفر علی خان نے اردو میں صرف جان ولیم ڈریپر کی ایک کتاب کاترجمہ معرکۃ علم وسائنس کے نام سے پیش کیا ہے، جو ایک صدی سے آنے والے مترجمین کے لئے ایک معیار بن گئی ہے۔

ڈاکٹر صاحب کی تصانیف دیکھ کر ہمار ا تاثر یہ ہے کہ:
۔ اپنی کتابوں کو رطب ویابس کا مجموعہ بنادیاہے،اپنے موضوع پر کتابیں تو بڑی ضخیم ترتیب دی ہیں، لیکن یہ ماننا مشکل ہے کہ انہوں نے ان میں اپنے موضوع کا کتنا حق ادا کیا ہے۔ اس کی مثال میں الوفاء في أسماء النساء اور تاریخ ندوۃ العلماء کو شامل کیا جاسکتا ہے۔ ایسا نہیں کہ ان کی سبھی کتابیں غیر معیاری ہیں، پہلے لکھی گئی کتابیں اور تراجم کافی معیاری بھی ہیں مفید بھی، لیکن ان آخری کتابوں نے ان معیاری کتابوں کی روشنی کو گہنا دیا ہے، اور سوشل میڈیا پر پھیلنے والے ان کے مضامین نے اس رنگ کو اور دھندلا کردیا ہے۔
۔ ڈاکٹر صاحب نے گذشتہ دنوں برصغیر میں حدیث کی اسانید اور اجازات کی خوب پبلسٹی کی ہے، اور ان کے دیکھا دیکھی چند اور اہل علم نے بھی اس کو بہت زیادہ اہمیت دینی شروع کی ہے، اس ضمن میں ڈاکٹر صاحب نے بعض ایسی شخصیات کو بڑے بڑے القاب دے کر ان کی اجازات واسانید پر مستقل کتابیں ترتیب دی ہیں ، جن میں سے بعض شخصیات کو دو تین عشروں سے زیادہ عرصے سے ہم قریب سے جانتے ہیں، اور ہمارا خیال ہے کہ جس طرح انہیں بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے، اس کے وہ حقدار نہیں ہیں۔

مشائخ سے کتب حدیث کا مکمل درس لئے بغیر اجازت حدیث کے سلسلے میں ہماری رائے ہے کہ یہ برکت کے لئے ہوسکتی ہے، بزرگوں سے نسبت بھی اچھی بات ہے، لیکن صرف چند منٹ کی مجالس سےاپنی نسبتوں کا ڈھنڈورا پیٹنا یہ احساس کمتری کی علامت ہے، یہ مخصوص حلقوں میں مقبولیت بڑھانے کا باعث تو بن سکتی ہے۔ لیکن ان کی علمی اہمیت اتنی نہیں جتنی بڑھا چڑھا کرپیش کی جارہی ہے۔

جہاں تک ہمارا محدود علم ہے حافظ ذھبیؒ اور حافظ ابن حجرؒ کے دور کے بعد اس درجہ کے محدث محقق وحافظ حدیث دوبارہ پیدا نہیں ہوئے۔ اس دور کے بعد جنہوں نے بھی علم حدیث کی جیسی بھی خدمت کی ہے وہ ہمارے لئے قابل صد احترام ہے، انصاف کا تقاضا ہے کہ ان کے مقام کا حق ادا کرتے ہوئے، ان کے مناسب الفاظ و القاب استعمال کئے جائیں، لیکن ایسے القاب سے احتراز کیا جائے، جن سے اسلاف کا درجہ ومقام کم ہوتا ہوا محسوس ہو۔ موازنہ علمی وموضوعاتی ہو، صرف عقیدت و جذبے پر منحصر نہ ہو۔

کئی احباب نے اپنی بحثوں میں ڈاکٹر محمد اکرم ندوی کی القاب میں بے احتیاطی پر اعتراض کیا ہے، اس سلسلے میں ہمیں اپنے دامن پر بھی کبھی نگاہ ڈالنی چاہئے۔

احباب جانتے ہیں کہ اس ناچیز کو ایک ایسے زمانے میں خلیجی ممالک میں رہنے کو موقعہ ملا تھا، جو حدیث وتفسیر کے مخطوطات کے منظر عام پر آنے کے لحاظ سے ایک سنہرا دور تھا۔ مسلسل اطلاعات ملتی رہتی تھیں کہ فلان حدیث، تفسیر تاریخ وفقہ کی کتاب کا نادر مخطوطہ مل گیا، تو ایسے مواقع بھی آئے کہ ہم اپنے بعض بزرگوں کو کبھی اس کی اطلاع دیتے تو یہ بزرگ آئندہ مجلس و بیان میں ہمارے ہی سامنے کہتے سنائی دیتے کہ اپنے فلان بزرگ یا عالم فرمایا کرتے تھے کہ انہوں نے فلان مخطوطے کو دیکھا ہے، اور ہماری زبان سے لی ہوئی وہ معلومات وہ اپنے ان بزرگ کی طرف منسوب کرکے نقل کرتے۔ ان واقعات کے ہمارے حضرت مفتی شاہ جہاں صاحب بھی شاہد ہیں۔

یہ بات بھولنی نہیں چاہئے کہ فیض الباری حضرت علامہ کشمیریؒ کی شہرت کا خاص باعث رہی ہے، اور شاید اس میں دو رائے نہ ہو کہ حضرت کشمیری نے اپنے دو سالہ درس بخاری کی تیاری پر شاید اتنی محنت نہیں کی ہوگی، جتنی محنت آپ کے شاگرد رشید مولانا محمد بدر عالم میرٹھی ؒ نے اس کی نقل ، تسوید اور تبییض میں سالہاسال کی ہے، اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ حضرت کشمیری ؒکے علوم کو سمجھنے والے اب کتنے رہ گئے ہیں، اور کتنے لوگ فیض الباری کھولتے یا اسے سمجھتے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں؟مولانا مفتی شاہجہاں صاحب کو ہم جب دیکھتے ہیں، تو ان کے علاوہ علامہ کشمیری کے علوم کو سمجھنے والا کوئی اور نظر نہیں آتا، تو کیا ہم علامہ کشمیری ؒ کی طرف منسوب القاب کو شعور کے بجائے عقیدت کا نتیجہ سمجھیں؟َ

یہاں ہمیں مولانا سید صبغۃ اللہ بختیاری رحمۃ اللہ علیہ یاد آتے ہیں، ایک مرتبہ ہم نے ان سے علامہ کشمیری ؒ کی عبقریت اورحافظے کا تذکرہ کیا تو کہنے لگے کہ ہمارے حضرت مدنی ؒ بھی کچھ کم نہیں تھے، لیکن ان کے علمی آثار کی حفاظت پر توجہ نہیں دی گئی، یہ بات سن کر بار بار یہ گمان ہوتاہے کہ قدرت کی حکمت تھی کہ علامہ کشمیریؒ دیوبند سے نکلیں، اور دابھیل میں انہیں انکے علوم کو حیطہ تحریر میں لانے والے اور اس کے لئے اپنا سب کچھ نچھاور کرنے والے شاگرد ملیں۔ اللہ تعالی ان سب کی خدمات جلیلہ کو قبول کرے۔
رہی بات حضرت مدنی ؒ کی تو ہمارا ذاتی خیال ہے کہ اپنے معاصرین میں آپ کی عربی زبان سب سے ممتاز رہی ہوگی، کیونکہ آپ نے دس سال تک مدینہ منورہ میں عربوں میں تدریس کی خدمت انجام دی ہے، اور آپ کے فیض یافتگان میں علامہ محمد البشیر الابراہیمی ؒ جیسی عظیم شخصیات رہی ہیں۔ اس زمانے میں ایسا خالص عربی ماحول کسے ملا ہوگا؟۔ اب شاید ہماری بات آپ کے عقیدت مندوں پر سخت گذرے کہ انہوں نے آپ کی ذاتی زندگی ، عبادت ، للہیت، مہمانداری، جدوجہد آزادی میں قید وبند اور قربانی جیسی چیزوں کو یاد رکھ کر اجاگر کیا، لیکن آپ کی علمی زندگی کو محفوظ کرنے اور اسے یاد رکھنے پر کماحقہ توجہ نہیں دی، انسان کی ذاتی زندگی کو یاد رکھنے سے عقیدت باقی رہتی ہے، علمی زندگی کا نمونہ محفوظ کرکے اسے پیش کرنے سے ذاتی زندگی کا رنگ چوکھا ہوجاتا ہے۔ اور باقی رہنے والا قیامت تک فیض پہنچانے والا حقیقی رنگ یہی ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔