یہ ادا تو مصطفی کی ہے!

از:- ہمایوں اقبال ندوی

نائب صدر، جمعیت علماء ارریہ

تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ کچھ چیزیں جو ہم نے کتابوں میں پڑھی ہیں وہ آج چودہ سو سال بعد نگاہوں کے سامنے پھرآگئی ہیں۔ تازہ واقعہ آیوش ملک کے قبول اسلام کااور اس راہ میں پیش آنے والے مصائب ومشکلات کا ہے۔ابھی کچھ دنوں سے غازی آباد کےتین مدرسوں کو سیل کرنے اور پھربلڈوزر کرنے کی خبر گشت کررہی تھی،اچانک اسی بیچ ضلع شاملی سے آیوش ملک کے قبول اسلام نے پورے ملک کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی ہے۔اب اس کی طوفانی انداز میں تحقیق شروع ہوگئی ہےکہ آخر کس مولوی نے اسے مذہب اسلام میں داخل کیا ہے اوراس کاکس مدرسےسےتعلق ہے۔شک کی بنیاد پر اس نو مسلم کی مسلمان بیوی اور اس کے خسر اوربرادر نسبتی سب کو جیل خانے کے اندر ڈال دیا گیا ہےاوران سےپوچھ تاچھ وپوری تفتیش جاری ہے۔ ٹی وی چینل اور میڈیا ہاؤس نے جب مبتلا بہ سے تحقیق کی تو معاملہ کچھ اور ہی نظر آرہا ہے۔نومسلم آیوش ملک نےاپنے دئیے گئے بیان میں دو ٹوک اور واضح انداز میں کہا ہے کہ مذہب اسلام میں دین کے معاملے میں کوئی زور زبردستی کی گنجائش قطعی نہیں ہے۔قرآن میں”لا اکراہ فی الدین” لکھا ہوا ہے۔ میرے ساتھ کسی نے زبردستی نہیں کی ہےاور نہ ہی میری بیوی یا میرے خسر نے میرا برین واش کیا ہے۔ میری شادی ۲۰۲۲ء میں ہوئی ہے اور میں نے اس پہلے ہی اسلام قبول کیا ہے،کسی مولوی سے میں نے اسلام نہیں سیکھا ہے بلکہ یوٹیوب اور انٹرنیٹ پر ۲۰۰۷ءسے ہی اسلام کا مطالعہ کیا ہے۔اور آج الحمد للہ میں ایک مسلمان ہوں۔

انٹر نیٹ کی شکل میں ان کے لئے اب یہ نیا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ مدارس کو بندکرنے سے اسلام کی اشاعت نہیں ہوسکتی ہے۔یہ دین مخالفت میں اور بڑھتا ونکھرتا رہا ہے، اسلامی تاریخ اس بات کی شہادت دیتی ہے۔اس بات کی صحیح ترجمانی شاعر اسلام ڈاکٹر علامہ اقبال علیہ الرحمہ نے اپنے شعر میں یوں کی ہے کہ:
اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے
جتنا کہ دباؤگے اتنا ہی یہ ابھرے گا۔

بھائی آیوش ملک نے اسلام کو قرآن وحدیث کے مطالعے سے ہی حاصل کیا ہے،اور اسلامی تعلیمات کا وافر حصہ انہیں انٹرنیٹ کے ملا ہے۔ایک عالم دین کی طرح ان کی گفتگو ہوتی ہے، سننے والے پر ایک اثر قائم ہوجاتا ہے۔ان کا اعتماد خیرالقرون کے مومنین جیسا ہے،ورنہ اس گئے گزرے زمانے میں اتنا پر اعتماد لہجہ خال خال ہی نظر آتا ہے۔آیوش کی باتیں سنکر یہ محسوس ہوتا ہے کہ انہوں آقائے مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کیا ہے اور اپنے کو ہر قربانی کے لئے تیار کرلیا ہے۔ایک صاحب دل نے یہ بات کہی ہے کہ آج اسلام کی تبلیغ میں کچھ مسلمان ہی رکاوٹ بن گئے ہیں، بہت لوگ اسلام کی سچی تعلیمات کو پڑھ اسلام سے قریب ہوتے ہیں اور جب مسلمانوں کی موجودہ حالت پر نظر کرتے ہیں تو اسلام سے ہی دور ہوجاتے ہیں۔ایک صحافی نے اسی طرح کا ایک سوال بھی کیا کہ کچھ مسلمان گندے رہتے ہیں۔ ان کے محلے میں جائیے تو گندگی پڑی رہتی ہے،دراصل یہ کہ کر ان کو اسلام سے بدظن کرنے کی کوشش بھی کی گئی مگر اس کا ان کی ذات پر کوئی اثر نہیں ہوا وہ اس کہ انہوں نے مذہب اسلام میں "صفائی نصف ایمان ہے” یہ پڑھ رکھا ہے۔

یہ بات ایک حد درست بھی ہے کہ آج بہت سے لوگ گندگی سے بھاگ کر اسلام کی طرف مائل ہوتے ہیں مگر یہاں بھی گوبر دیکھ کر بھاگ جاتے ہیں۔

آیوش ملک کا معاملہ اس سے الگ ہے انہوں نے آج کے مسلمانوں کو دیکھ کر نہیں بلکہ اسلام کی سچی تعلیمات کو پڑھ کر اسلام کو اپنایا ہے، یہ آج کی بات نہیں ہے بلکہ بقول ان کے تقریبا بیس سالوں سے وہ اسلامیات کا مطالعہ کررہے ہیں جس کے نتیجے انہیں ہدایت نصیب ہوئی ہے۔ایک اینکر نے یہ پوچھ لیا کہ آپ کیسا مسلمان ہونا چاہتے ہیں؟ سلمان خان بھی مسلمان ہیں،وہ تو داڑھی نہیں رکھتے ہیں اور آپ کیوں اتنی لمبی رکھ چھوڑے ہیں؟اس کے جواب میں انہوں یہ کہا کہ یہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے، ایک مشت داڑھی رکھنے کا اسلام میں ہر مرد کو حکم دیا گیا ہے، یہی تو مردوعورت میں ایک بڑا فرق ہے۔

کچھ لوگوں نے آیوش ملک کاایموشنل بلیک میل بھی کرنا چاہا، مان کی محبت کا حوالہ دیکر کہا کہ آپ کی ماں اس وقت رورہی ہے،آپ ان کے اکلوتے فرزند ہیں،سمجھئے کہ ان پر کیا گزر رہی گی۔ایک آدمی اپنی ماں کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار رہتا ہے، کیا اپنی ماں کے لیے آپ اپنے پچھلے مذہب میں واپس نہیں آسکتے ہیں؟اس کا جواب انہوں نے یہ دیا کہ میں اپنے ماں باپ کی خدمت کروں گا، اسلام میں ماں کا بڑا مقام ہے،یہاں اولڈیز ہوم کا کوئی کنسییٹ نہیں ہے۔بطور دلیل آپ نظر کریں گے تو دور دور تک یہ آشرم نہیں دکھے گااورمسلم ایریا میں یہ نہیں ملے گا۔یہ والدین کی خدمت کا نتیجہ ہے۔آج آیوش کو یہ دھمکی بھی دی جارہی ہے کہ آپ کو باپ کی جائیداد میں کچھ بھی نہیں ملےگا، اس کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ مجھے کچھ نہیں چاہئے۔میں نےپہلے ہی کہ دیا ہےکہ کل جائیداد بہنوں کو دیدیجیے، میرے لئے اسلام ہی سب سے بڑا سودا ہے۔حضرت صہیب رضی اللہ عنہ جب وہ اپنے دین وایمان کی حفاظت کی خاطر مدینہ ہجرت کر رہے تھے تو مشرکین مکہ نے راستہ روک لیا اور یہ کہا کہ تمہیں ہم ایسے نہیں جانے دیں گے، تم نے مکہ میں رہ کر بہت مال کمایا یے،حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر سارا مال دیدوں تو جانے دوگے، وہ راضی ہو گئے، سب کچھ دیکر جب مدینہ پہونچے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تمہارا سودا نفع بخش رہا اے ابو یحیی!
آیوش ملک نے آج پھر اسی واقعہ کو تازہ کردیا ہے۔ایمان کتنی بڑی دولت ہے اس کی عظمت کا انہیں اسقدر احساس ہے کہ وہ تین بار پہلے الحمد للہ کہتے ہیں اور پھر اس کے بعد یہ کہتے ہیں کہ میں مسلم ہوں۔

اسمیں اس بات کی وضاحت بھی ہے کہ کسی مولوی کی وجہ سے انہیں اسلام نہیں بلکہ محض خدا کی توفیق سے ملا ہے، چنانچہ شکریہ تو خدا ہی کا بنتا ہے، نیز اس بات بھی انہیں یقین کامل ہے کہ ایمان یہ بہت بڑا تحفہ ہے۔یہ انہیں بڑی قربانیوں کے صلے میں ملا ہے۔

وہ کسی مسلمان گھرانے میں پیدا نہیں ہوئے، باوجود اس کو ہدایت ملی، یہ محض توفیق خداوندی ہے،اس کا احساس آیوش ملک کو بدرجہ اتم ہے۔اس موقع پر موصوف نےاپنے قول وعمل کے ذریعے سنت رسول کو بھی زندہ کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا خواجہ ابوطالب سے یہ کہا تھا کہ: اگر میرے ایک ہاتھ میں سورج اور دوسرے ہاتھ میں چاند رکھ دیں تو بھی یہ دین نہیں چھوڑ سکتا، یہ تاریخی جملہ آج کی تاریخ میں آیوش ملک نے بھی اپنی قوم سے کہکر تاریخ رقم کی ہے اور سیرت النبی کے اس سبق کو تازہ کردیا ہے،نیز آن کیمرہ پوری قوم سے یہ کہ رہے ہیں کہ میں نے خدا کو ایک کہا ہے، اسمیں میری خطا کیا ہے؟ یہ ادا بھی تو مصطفی کی ہے۔

آج آیوش کی ذات سے امت مسلمہ ہندیہ کو بڑا حوصلہ ملا ہے اور یہ بھی احساس پیدا ہوا ہے کہ پانچ مرتبہ نماز میں "الحمد للہ” پڑھنے والی اس قوم کی عملی زندگی میں اس کا اثر نہیں ہیں،اسے پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔بھائی آیوش نے اپنی قربانی کے ذریعے نماز کی اہمیت،شعائر اسلام کی عظمت بھی بتلائی ہے۔ وہ کس طرح ایک جمعہ پڑھنے کےلئے چالیس چالیس کلومیٹر کا سفر کرتے ہیں، اور نماز چھت پرچڑھ کر پڑھتے ہیں، آج ہمیں آسانی سے یہ دین مل گیا ہے،خاندان در خاندان مسلمان ہوتے چلے آرہے ہیں، ساری سہولیات مہیا ہیں مگر دین کی عظمت دل میں نہیں ہے،اور یہ نہیں معلوم کہ اسلام کے معنی ہی قربانی ہے۔قرآن کریم کے سورہ عنکبوت کی ابتدائی آیات میں خدا کا یہ واضح اعلان موجود ہے کہ کیا وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ ہم نے ایمان قبول کرلیا آزمائے نہیں جائیں گے؟ایمان والوں کی ہم آزمائش کرتے ہیں تاکہ اس چیز کو معلوم کریں کہ کون اپنے قول میں سچا ہے اور کون جھوٹا ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔