کیا یہ تہذیبی ارتداد کا پیش خیمہ ہے

از:- سرفراز بزمی راجستھان

ایک طرف جہاں اتراکھنڈ سے راجستھان تک مساجد مدارس اور مزارات کو زمین دوز کرنے کی مہم جاری ہے جس میں صرف راجستھان میں ایک درجن سے زیادہ مسجدیں مزارات اور مکاتب کو منہدم کردیا گیا ہے اور یہ سلسلہ نہ صرف جاری ہے بلکہ صرف سرحدی اضلاع میں تین سو سے زیادہ املاک کو نشان زد کر دیا گیا ہے دوسری طرف مساجد مدارس اور خود ساختہ مسلم شناخت والی تنظیموں جیسے مسلم راشٹریہ منچ یا پسماندہ مسلم محاذ کی جانب سے بڑے اہتمام کے ساتھ یوگ دوس پر عملاً یوگ کرتے ہوئے تصویریں نشر کرنا ناقابل فہم ہے۔

مذکورہ بالا دونوں تنظیموں کے بارے میں تو عام مسلمانوں کو کوئی غلط فہمی نہیں ہے کہ یہ سنگھ پریوار کے زیر سایہ سرگرم عمل ہیں مگر مدارس اسلامیہ اور دیگر دینی شناخت رکھنے والی اجتماعیتوں کی جانب سے یوگ کے اہتمام پر تشویش ہونا لازمی ہے
21جون عالمی یوگا ڈے ہے۔

اس کا تاریخی پس منظر کیا ہے یہ تو نہیں معلوم مگر یہ معلوم ہے کہ ہندوستان کے مطالبے پر یو این او نے اسے عالمی یوگ دوس کے طور تسلیم کیا ہے ۔
یوگا کیا ہے کیا یہ صرف جسمانی ورزش ہے یا کسی خاص مذہب کے خاص طبقے (یوگیوں) کا طریقہء عبادت ہے کیا اس میں بولے جانے والے منتر اور شلوک (مذہبی جملے یا اشعار) کسی دوسرے مذاہب بالخصوص توحیدی مذاہب کے عقائد کو مجروح کرتے ہیں کیا یہ صرف ثقافت کا مظہر ہے اس کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ وہ سوالات ہیں جو عموماً اس موقعے پر اکثر اٹھا ئے جاتے ہیں۔
حالانکہ اس بار اس خاص دن کا وہ اہتمام نہیں کیا گیا جو پہلے ہوا کرتا تھا حکومتی سطح پر ملک کے وزیر اعظم انتہائی اہتمام کے ساتھ یوگا کرتے ہوئے فوٹو جاری کرتے تھے ممکن ہے ابھی اقتدار میں بیٹھے لوگوں کو اس سے زیادہ مفید مطلب کوئی اور کام مل گیا ہو
میں ان تمام سوالات سے الگ ایک سوال آپ سے کرنا چاہتا ہوں کہ جب بھی اس طرح کے پروگرامس کا اعلان کیا جاتاہے اس میں اہل مدارس علماء وائمہ کا جوش و جذبہ سب سے نمایاں کیوں نظرآتاہے۔ جبکہ ہمارے مدارس کی تاریخ رہی ہے کہ وہ ہمیشہ ان سیاسی حکم ناموں سے لا تعلق اپنے طلباء کی تعلیم و تدریس میں منھمک رہتے ہیں۔

کچھ سالوں سے دیکھنے میں آرہا ہے کہ مدارس کا جذبہء حب الوطنی قومی تہواروں کے ساتھ ساتھ ایسے مواقع پر بھی غیر ضروری طور سے چھلکتا ہوا۔ محسوس ہوتا ہے جب کہ یوگ حکومتی سطح پر بھی ابھی اختیاری ہے جبری نہیں بقول شاعر:

دن میں بھٹک رہےہیں جومنزل کی راہ سے
یہ لوگ کیا کریں گے اگر رات ہوگئ

شام تک مختلف مدارس کے اصحاب جبہ و دستار یوگ کی مختلف کریاوں(اعمال) میں کھڑے بیٹھے لیٹے یا نیم رکوع و سجدے کی حالت میں اپنی تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کرینگے یوگ میں مختلف کیفیات آسن کہلاتی ہیں سوریہ نمسکار (سورج کو سلام) نٹراج آسن (وہ کیفیت جس میں ناچ گانے کا دیوتا نٹراج کھڑا ہواہے ) تک میں بڑے بڑے باریش عالمانہ لباس میں نظر آتے ہیں ۔

یہ سب کیوں ہوتا ہے اس کے پیچھے کے اسباب کیا ہیں
کیا واقعی ہمارے اہل مدارس میں یوگ سے دلچسپی یا اس کی افادیت کا احساس اچانک پیدا ہوگیا ہے جو ان سے یہ کام کروا رہا ہے یا اس کے پیچھے کچھ اور عوامل کار فرما ہیں۔

کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ حکومتی اداروں کی نظر میں اپنی شبیہ درست کرنے کی کوشش ہو یا اپنی آمدنی کے غیر اعلان شدہ ذرائع پر حکومتی اداروں کی نظر نہ پڑے اس کی پیش بندی ہو ۔

یا خدا نخواستہ خوف کی نفسیات نے نیم مشرکانہ زندگی پر آمادگی کے لئے راضی کرلیا ہو یا اپنے ادارے کے لئے چند منفعتوں کا حصول مداہنت پر آمادہ کر رہا ہو یا اس رخصت سے استفادہ فرمایا جارہا ہو جس میں وقلبہ مطمئن بالایمان کی شرط پر ناجائز کے جواز کی صورت نکل سکتی ہو اور بھی کئ اندیشے ذہن میں آتے ہیں مگر جو بھی ہو یہ صورتحال اطمینان بخش نہیں کہی جاسکتی، نماز کی صفوں میں سب سے آگے مصلے پر رکوع و سجود کرنے والے کسی اسکول کے پلیٹ فارم پر تقریباً نیم رکوع اور سجدے کی حالت میں نظر آئیں تو تکلیف ہونا فطری ہے۔

کیا ہمارے اصحاب حل وعقد علماء اس طرف توجہ فرمائیں گے کہ مسلمانوں کی زکوٰۃ و خیرات سے چلنے والے مدارس کے ذمہ داروں کو باور کرایا جائے کہ یہ تہذیبی ارتداد کی جانب پہلا قدم ثابت ہوسکتا ہے۔ کیونکہ
چوں کفر از کعبہ برخیزد کجا ماند مسلمانی
انھیں بتایا جائے کہ اصحاب منبر و محراب کا یہ رویہ عامۃ المسلمین میں ارتداد کے چور دروازوں کی راہیں ہموار کرنے کی طرف ایک قدم ہے ۔
لھذا اس روگ کے تدارک کے لئے سنجیدہ کوشش کیجائے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔