از:- محمد رضی احمد مصباحی
ملک میں جب سے آر ایس ایس کی سرکار آئ ہے پری پلان مسلم بچیوں کو بھگوا لو ٹریپ میں پھنسا کر ان کا قتل کیا جارہا ہے یا ان کی خلوت فعلی کی ویڈیو بناکر پوری امت مسلمہ کو ذہنی طور پر حراساں کیا جارہا ہے ۔ اس کا واحد مقصد ہے قوم مسلم کو دلت اور نچلے سماج کی طرح بے غیرت کرنا ۔ چھ سال سے لگاتار یہ کام تحریک کی شکل میں ہورہا ہے ۔ ایک سروے کے مطابق اب تک سات سے آٹھ لاکھ مسلم بچیاں اپنا گھر بار ، رشتہ دار اور دین چھوڑ کر بھاگ چکی ہیں ۔ ان میں سے زیادہ تر کا بریک اپ ہوچکا ہے اور بہت سی قتل بھی ہوچکی ہیں ۔ اس کے ساتھ ایک بہت بڑی سچائ یہ بھی ہے کہ ستر فیصد مسلم ماں باپ اس طرح کی سازش سے بے خبر ہیں ۔ ان کو ابھی تک ایسی کسی گھناؤنی سازش کا علم ہی نہیں ہے ۔ جس طرح پری پلان یہ سب ہورہا ہے اس کے مقابلے میں ہمارے یہاں سے جیسی کوشش ہونی چاہیے تھی ابھی تک نہیں ہوئ ہے ۔ سوشل میڈیا پر نچلی سطح کے علماء لکھ رہے ہیں اور بول رہے ہیں ۔ جن کے بولنے کا اور لکھنے کا مسلم معاشرے پر گہرا اثر ہوتا ہے وہ لوگ ابھی تک اپنے حجروں میں اپنی مصروفیات میں مگن ہیں ۔ جو کچھ لکھا جارہا ہے اور جس زبان میں لکھا جارہا ہے اس زبان سے بھی نوے فیصد مسلمان ناواقف ہیں ۔ چھ سال میں جس طرح ہنگامہ خیز طریقے سے ہر مسلک کے اکابرین کو اس کی طرف توجہ دینا چاہیے تھا ، یہ موضوع بالکل بھی لائق التفات نہیں سمجھا گیا ۔ خدا کی بارگاہ میں اکابرین کا یہ بہت بڑا جرم ہوگا ۔ کاش آج بھی یہ کچھ کرنے پر آمادہ ہو جائیں تو لاکھوں بچیاں بچائ جاسکتی ہیں ۔۔ آپ کو بڑی حیرت ہوگی کہ مسجد کے ٹرسٹی اور مکاتب کے ذمہ داران تک کوواقعات کی سنگینی کا علم نہیں ہے ۔ سب کے سب احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں
بھگوا دہشت گردوں کی کارکردگی سے سبھی لوگ واقف ہیں ، ان کی کئی تنظیمیں اس حوالے سے کام کررہی ہیں ۔ لڑکے تیار کرنا لڑکوں کو فنڈ دینا ، جگہ دینا اور ضرورت پوری کرنا جیسے مسائل کو متحد ہوکر کنٹرول کیا جاتا ہے ۔ ایک طرف تربیتی مراکز ہیں تو دوسری طرف بے ترتیب معاشرے میں جوان ہورہی بچیاں ہیں ۔ اس بڑے فتنے یا بڑی سازش کی روک تھام کے لیے سب سے پہلے بنیادی چیزوں کی طرف توجہ دینی چاہیے ۔ ایک بات اور بتادوں کہ پنچانوے فیصد مسلم بچیاں حنفی مسلک سے تعلق رکھنے والی ہیں ۔ شوافع کے یہاں یہ کیسیز کم ہیں اور دیگر مکتب فکر بھی اس معاملے میں بہت پیچھے ہیں ۔
مساجد اور مکاتب بنیادی کردار ادا کرسکتے ہیں ۔
سب سے پہلی چیز ہے بچیوں کی دینی تعلیم و تربیت ۔ ہر گاؤں ، محلے میں مکاتب ہیں اور مساجد میں بھی مکاتب کا انتظام ہے ۔ بچے پڑھنے بھی آتے ہیں لیکن ایک گھنٹے کے لیے یا اس سے بھی کم وقت کے لیے ۔ معاشرہ اس قدر برباد ہوچکا ہے کہ بچے مکاتب اور مساجد کا ماحول بھی پراگندہ کیے رہتے ہیں ۔ پہلے مکتب میں بچے اساتذہ سے ڈرتے تھے اب اساتذہ بچوں سے ڈرتے ہیں ۔۔اس طرح کے موضوعات پر ابھی تک شاید وباید ہی کچھ مکاتب میں کھل کر بات چیت کی گئی ہوگی ۔ مکتب میں پڑھانے والے اساتذہ ڈرتے ہیں کہ اگر اس طرح کے موضوعات پر بات چیت کی اور بچے نے گھر میں نمک مرچ لگاکر کر کچھ الٹا سیدھا بتادیا تو بات کا بتنگڑ بن جائے گا اور والدین سے کمیٹی تک بات پہونچے گی اور پھر کمیٹی والے چھٹی کردیں گے ۔ یا پھر کمیٹی اور انتظامیہ ، کیا پڑھانا ہے اور کیسے پڑھانا ہے ؟ کا اساتذہ کو پابند کرچکی ۔ خود سوچیے ایک گھنٹے میں قرآن پڑھانا ، اسلامیات یعنی نماز روزہ کے مسائل بتانا اور دعا یاد کرانا رہتا ہے ۔ بچوں کی ذہنی تربیت کون کرتا ہے ۔ نہ بچوں کو ماں باپ یہ بتاکر بھیجتے ہیں کہ اپنے اساتذہ کی بات غور سے سننا ، دل لگا کر پڑھائ کرنا اور اساتذہ کی عزت کرنا وغیرہ وغیرہ نہ بچوں کو ان سب سے کوئ مطلب ہوتا ہے ۔ مکتب پہونچ کر بھی اپنے شغل میں لگ جاتے ہیں ۔ مکتب آنا بھی ایک رسم ہے اسے نبھایا جاتا ہے ۔ بہت سے ماں باپ تو یہ انتظار کیے بیٹھے رہتے ہیں کہ اساتذہ کی کوئ شکایت ملے کہ وہ کمیٹی پر دباؤ بنائیں اور استاذ تبدیل کرائیں ۔۔ مسجد اور مدرسہ مسلمانوں کی سرد سیاست کا سب سے بہترین اڈہ ہے ۔
مکاتب میں بچیوں کی الگ تعلیم کا انتظام ہو ، پڑھانے والی معلمہ ہوں تو زیادہ بہتر ہے تاکہ وہ ان مسائل پر کھل کرعورت کے نظریے سے بچیوں کو سمجھا سکیں ۔ یا اگر مرد اساتذہ ہی ہوں تو وہ ذی علم ، ذی فہم اور تجربہ کار ہوں ۔ مکاتب کے ذمہ داران کو اس سازش کی سنگینی سے آگاہ کیا جائے ۔ مسلم معاشرے میں ماؤں کو اس بات سے آگاہ کیا جائے کہ وہ اپنی بچیوں کی تربیت خود بھی کریں ۔ آج کل مسلم مائیں زیادہ تر وقت ٹی وی سیریل اور موبائل میں صرف کرتی ہیں انہیں سمجھایا جائے کہ گھر کا ماحول ٹی وی زدہ ہونے سے آپ کا دنیاوی نقصان بھی ہوتا ہے اور اخروی نقصان تو ہوتا ہی ہے ۔
مساجد میں موجود ائمہ ان موضوعات پر تابڑ توڑ گفتگو کرنے کے بجائے سنجیدہ گفتگو کریں ۔ ایمان ، آخرت ، عذاب قبر ، عذاب آخرت ، ماں باپ کی ذمہ داری ، عصری تعلیم اور دینی تعلیم کی اہمیت کے ساتھ دینی تربیت کی ضرورت پر گفتگو کریں ۔۔
ملک بھر کے بڑے ادارے جن سے عام مسلمان وابستہ ہیں وہ مسلمانوں کے نام اپیل جاری کریں اور مسائل کی سنگینی کی طرف مسلمانوں کو متوجہ کریں ۔ ہر مسلک کے متحرک علماء انفرادی طور پر یا اجتماعی طور پر پورے ہندوستان کی مساجد کے صدر سیکریٹری اور ائمہ سے کمشنری کی حدتک ملاقات کریں ۔ یعنی ہر کمشنری میں کم سے کم ایک ایک نشست رکھیں جس میں علماء اور مساجد کی کمیٹی کے صدر سیکریٹری کو مدعو کریں ۔ یہ بھی پاپڑ بیلنے جیسا مشکل کام ہے کہ ہندوستانی مساجد کے صدر سیکریٹری فرعون سے کم نہیں ہیں ۔ ان کو اکٹھا کرکے کوئ بات منوالینا بنی اسرائیل کو میدان تیہ سے نکالنے کے مترادف ہے ۔ ہر علاقے کی انجمن کے ذمہ داران کو اس کی طرف متوجہ کریں ۔ ساؤتھ میں کثرت سے مسلم اسکولز اور کالجز ہیں ان کے ذمہ داران سے رابطہ کرکے انہیں اپنا تعلیمی اور اخلاقی معیار بلند کرنے کی بات کہیں ۔۔مولانا توقیر رضا بریلوی ، مولانا سجاد نعمانی ، مولانا عبید اللہ خان اعظمی ، مولانا سلمان حسنی ندوی اور مسلم پرسنل بورڈ کے ذمہ داران کو ایک طوفانی دورہ پورے ملک کا کرنا ضروری ہے ۔ یہ علماء اللہ کی امانت ہیں تو یہ امت بھی علماء کے لیے اللہ کی امانت ہے ۔ اگر آج آپ لوگوں نے کوئ توجہ نہیں دی تو کل قیامت میں آپ لوگ اس ذمہ داری کی جواب دہی بچ نہیں پائیں گے ۔
اینٹی بھگوا لو ٹریپ کاؤنسلینگ سینٹر ۔
مسلم معاشرے میں جگہ جگہ بھگوا لو ٹریپ کی شکار لڑکیوں کو ظالموں کے چنگل سے بچانے کے لیے کاؤنسلنگ سینٹر کھولے جائیں جہاں دین ، مذہب اور قوم کا درد رکھنے والی معمر خواتین اور علاقے کے سنجیدہ ، ذی علم بزرگ علماء کی خدمات حاصل کرکے ایسی بچیوں کی برین واشنگ کی جائے ۔
عالمہ بچیوں کا کردار ۔
جو مدارس بچیوں کے لیے عالمات کا کورس کراتے ہیں وہ اپنی تعلیم کو مضبوط کریں اور تربیت پر بھی خصوصی توجہ دیں ۔۔اردو کی چند کتابیں ہی پڑھاتے ہوں تو پڑھائیں لیکن جب بچیاں فارعہ بن کر آئیں تو وہ رضاکارانہ مسلم ہوں ۔ یعنی اسلام ان کی رگ رگ میں بس جائے ۔ ایسی عالمات ان سلگتے مسائل پر گفتگو کریں اور ویڈیوز کی شکل میں ایسی گفتگو مسلم معاشرے میں عام کی جائے ۔
اپنے علاقے پر پینی نظر رکھیں ۔
بھگوا لو کی سازش شہر اور قصبے سے نکل کر گاؤں دیہات میں داخل ہوچکی ہے اور اب گاؤں کی بچیاں زیادہ اس فتنے کا شکار ہونے لگی ہیں ۔۔ اس لیے ہر شخص کی ذمہ داری ہے کہ اپنے اپنے بچوں پر کڑی نظر رکھیں ۔ ساتھ ہی آس پڑوس کے بچے بچیوں پر بھی نظر رکھیں ۔ ویب سائٹ چیک کرتے رہیں اگر وہاں آپ کے علاقے کی کوئ بچی نظر آئے تو ثبوت کے ساتھ بچی سے اور بچی کے ماں باپ سے ملاقات کریں ۔ ان کو سمجھا ئیں کہ اگر بچی کے غلط قدم اٹھانے کی وجہ سے ایک دفعہ بدنامی ہوگئی تو دنیا وآخرت میں کبھی سرخرو نہیں ہوپاؤگے۔