از:- مفتی ہمایوں اقبال ندوی
نائب صدر، جمعیت علماء ارریہ
حضرت حسین رضی اللہ عنہ ۳/ذی الحج ۶۰ھ مکہ سے مع اہل خانہ کوفہ کے لئے روانہ ہوئے۔یہ خبر ملتے ہی عبید اللہ بن زیاد نےعمرو بن سعد بن ابی وقاص کو چار ہزار فوج دیکر یہ حکم دیا کہ تمام راستوں کی نگرانی رکھواور انہیں دیکھتے ہی گرفتار کرکے میرے پاس لاؤ۔نیز حر بن یزید تمیمی کو بھی ایک ہزار کی فوج دیکر گشت پر مامور کیا، یہاں سے آزمائش وامتحان کا سلسلہ شروع ہوگیا، پہلے حر کی فوج سامنے آئی اور آپ سے یہ کہا کہ عبید اللہ بن زیاد کا حکم یہ ہے کہ آپ کو ہم حراست میں لے لیں۔چنانچہ اس کی فوج آپ کے پیچھے پیچھے چلتی رہی یہاں تک آپ میدان کربلا پہونچ گئے، آپ نے معلوم کیا کہ یہ جگہ کونسی ہے؟لوگوں نے بتلایا کہ کربلا، آپ بے نے یہ کلمہ پڑھا، اللهم اني اعوذ بك من الكرب والبلاء، اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں کرب وبلا سے۔آزمائش کا سلسلہ یہاں سے سخت ہوتا چلا گیا، ۲/محرم الحرام ۶۱ھ کو آپ کربلا پہونچے، پیچھے حر کی فوج تھی، پھر دوسرے دن ہی عمر بن سعد چار ہزار کی جمعیت لیکر آپ کو اپنے گھیرے میں لے لیا اور یہ کہنے لگا کہ ہم لوگ آپ کی گرفتاری پر مامور ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نےتین باتیں پیش کیں، مگر ابن زیاد نے انہیں مسترد کرتے ہوئے یہ کہا کہ پہلے میرے ہاتھ پر یزید کی بیعت کریں، پھرآپ کی کوئی بات سنی جاسکتی ہے۔اس بات پر آپ نے یہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا:”اس سے تو مرجانا بہتر ہےکہ میں ابن زیادکےہاتھ پربیعت کروں”۔
ادھر ابن زیاد بار بار کوفہ سے کربلا اپنے لوگوں کو روانہ کرتا رہا اور یہ کہتا رہا کہ حسین بن علی کو گرفتار کر کے میرے پاس لاؤ یا گرفتار نہیں کرسکتے ہو تو انکا سر کاٹ لاؤ۔نویں محرم جمعرات کے دن ابن زیاد نے پانی بند کرنے کا حکم دیا کہ ہوسکتا ہے کہ پیاس کی شدت میں بیعت کے لئے آمادہ ہوجائیں، پھر دسویں محرم الحرام کو یزیدی فوج آپ کے جان کے درپے ہوگئی، اس بھوک اور پیاس کے عالم میں باری باری ایک ایک آدمی آپ کی نگاہوں کے سامنے لڑتے رہے اورآپ اپنے خاندان کی اس جانی نقصان کو دیکھتے رہے مگر اپنے موقف پر ڈٹے ریے، یہاں تک سبھی شہید ہوگئے اور پھر آپ بھی لڑتے ہوئے شہید ہوگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔
اس طرح یہ میدان کربلا حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا قیامت تک کے لئے گواہ بنااور دنیا کے لئے قرآنی آیات کی عملی تفسیر کا ذریعہ بھی بن گیا۔قرآن کریم میں ایک شہید کے بارے میں یہ ارشاد ہے:اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے جائیں انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تم ان کی زندگی کا شعور نہیں رکھتے،(سورہ بقرہ )
آج بڑے بے شعور لوگ بھی اس بات کا معترف نظر آتے ہیں کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت سے یہ ریگستانی ومردہ زمین بھی ہمیشہ کےلئے زندہ ہوگئی ہے، یہ شہید کی زندگی کی ایک بڑی دلیل بھی یے۔برادران وطن اور غیر مسلم حضرات بھی اپنی نظم ونثر میں زندگی پیدا کرنے کے لئے میدان کربلا اور شہادت حسین رضی اللہ عنہ کا حوالہ دیتے ہیں اور اس کاسہارا لیتے ہیں۔
آج ہمیں اس عظیم شہادت و قربانی کو قرآنی حوالہ سے بھی سمجھنے کی ضرورت ہے ۔سورہ بقرہ میں جہاں شہید کی زندگی کے حوالہ سے یہ بات کہی گئی ہے وہیں آگے آیات میں یہ ارشاد خداوندی ہے کہ ہم ضرور خوف وبھوک اور جان ومال میں نقصان کے ذریعے تمہاری آزمائیں گے، اور صبر کرنے والوں کو آپ خوشخبری سنادیجئے۔خوف سے کیا مراد یے؟مفسرین کرام کہتے ہیں کہ دشمن کا خوف یے،حالات کی بے یقینی ہے اور مستقبل کی فکر ہے۔حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو بھی جو اپنے خاندان کے چند افراد کے ساتھ کوفہ بلانے پر جارہے تھے انہیں ہزاروں کی فوج نے گھیر لیا،اور آپ کو خوف دلایا کہ بیعت کرلیں ورنہ مرنے کے لئے تیار ہوجائیں، بھوک اور پیاس کا بھی آپ کو سامنا ہوا، گودی کے بچے بھوک وپیاس سے بلبلا رہے تھے، یہ آپ کے لئے بڑی آزمائش تھی اور بڑا امتحان تھا۔بفضل خدا وندی آپ کو استقامت نصیب ہوئی، ان حالات میں بھی آپ ظالم کے خلاف سینہ سپر رہے، صبر واستقامت کے پہاڑ بن گئے، دنیاوی مفاد کو آخرت کہ کامیابی پر قربان کردیا، اپنے اس عمل سے آپ نے یہ پیغام دیا کہ زندگی درحقیقت شہادت کا نام ہے۔اور جسے زندہ رہنا ہے اس کے لئے ان چیزوں کے خوف سے نکلنا ازحد ضروری ہے۔یزیدی قوت ہر زمانے میں ہوتی ہے مگر حسینی عزیمت جب اس کے مقابلے پر آتی ہے تو شکست سے دوچار ہوجاتی ہے۔ہرزمانے میں اقتدار پسند لوگ انہیں باتوں سے لوگوں کو ڈراتے ہیں اور آج بھی اس کا کھلی آنکھوں ہم مشاہدہ کررہے ہیں کہ ایک مظلوم شخص پر ایک بڑی بھیڑ حملہ کررہی ہے۔دراصل یہ یزیدی فوج کی نقل ہے۔حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے اپنی شہادت کے ذریعہ انہیں یہ پیغام دیا ہے کہ
قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد