از: عماد عاقب مظفر پوری
حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی (ولادت: 1954ء) کی وفات آج بتاریخ 13/ محرم الحرام 1448 مطابق 29/ جون 2026 کو فجر سے قبل ہوئی ہے ،
فجر کی نماز کے بعد جیسے ہی فیس بک پر نظر پڑی تو علی گڑھ میں مقیم ایک ممتاز ندوی مولانا طارق ایوبی ندوی کی پوسٹ پر نظر پڑی جس میں حضرت کی وفات کی خبر دی گئی تھی ۔ اس کے بعد کئی واٹس ایپ گروپ پر ان کی وفات کی خبر نظر آئی ، اور یہ یقین ہوگیا کہ حضرت اس دنیائے فانی سے چلے گئے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کی لغزشوں کو معاف فرمائے ، انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور ان کی آل و اولاد اور متعلقین و تلامذہ کو صبر جمیل عطا فرمائے اور امت کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے آمین ثم آمین
*حضرت مولانا سلمان ندوی کی رح خصوصیات*
حضرت مولانا سلمان ندوی عرب و عجم کے مشہور عالم اور خطیب تھے ۔ ان کی بعض آراء سے اختلاف کیا جاسکتا ہے ، مگر ان کی قابلیت و علمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ،
بابری مسجد کے مسئلے پر جب انہوں نے شری شری سے ملاقات کی تھی ، تو میں نے ان کے خلاف ایک نظم لکھی تھی ، مگر ان کی پہاڑ جیسی شخصیت کا خیال کرتے ہوئے اور امت میں اختلاف بڑھ جانے کے ڈر سے اس نظم کو وائرل نہیں کیا تھا ،
ناصبیت،غالی رافضیت،جمودوتعطل،تجددپسندی ،عالم اسلام میں منافقت اور صہیونیت وصلیبیت پرستی کے خلاف آپ کی قلمی وزبانی جدوجہد مشہور ہے، دار العلوم ندوۃ العلماء میں حدیث کے استاذ اور عمید کلیۃ الدعوۃ والاعلام کی حیثیت سے برسوں خدمت انجام دی، فی الحال جامعۃ الامام أحمد بن عرفان الشھید،ملیح آباد،احمد آباد کٹولی، لکھنؤ کے ناظم، جمعیۃ شباب الاسلام کے صدر اور بھارت کے متعدد مدارس کے سرپرست تھے ۔ اس کے علاوہ وہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن رہے اور ابھی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کورٹ، عالمی رابطہ ادب اسلامی، اسلامی فقہ اکیڈمی اور دیگر کئی تنظیموں اور اداروں کے رکن تھے ۔ بھارت کے مشہور خطیب اور داعی تھے ۔ حدیث اور علوم الحدیث اور شاہ ولی اللہ دہلوی کے علوم سے خصوصی اشتغال تھا ۔
تصوف و سلوک میں لاہور کے شاہ نفیس الحسینی اور سید محمد رابع حسنی ندوی کے مجاز بیعت ہیں۔ مولانا کی اسانید حدیث پر مولانا محمد اکرم ندوی نے ایک کتاب العقد اللجيني في أسانيد المحدث الشريف سلمان الحسيني لکھی ہے جو دار الغرب الإسلامي- بيروت سے 2004ء میں شائع ہوئی ہے ہوئی۔
حالات زندگی
مولانا سید سلمان حسینی ندوی رح بن مولانا سید محمد طاہر حسینی کی ولادت 1954ء میں ہوئی۔ اپ منصور پور، مظفرنگر کے سادات بارہہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ مولانا ڈاکٹر سید عبد العلی حسنی قاسمی رح (برادر اکبر مولانا سید ابو الحسن علی ندوی) کے نواسے ہیں۔ 1976ء میں دار العلوم ندوۃ العلماء سے حدیث میں فضیلت کے بعد ریاض کے جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ سے 1980ء میں ایم اے کیا، ایم اے کا علمی مقالہ عبد الفتاح ابو غدہ کے زیر نگرانی پورا کیا۔ سید سلمان حسینی علم و فضل اور زور خطابت میں شہرت رکھتے ہیں۔ پہلے بھارت کے شہروں اور دیہاتوں کے خوب دعوتی دورے کیے اور دنیا کے ملکوں میں دعوتی دورے بھی کیے ہیں۔ لاہور کے بزرگ شاہ نفیس الحسینی سے اصلاح و تربیت کا تعلق تھا اور ان سے مجاز بیعت و ارشاد تھے ۔ ساتھ ہی مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی کے بھی خلیفۂ مجاز تھے ۔ نیز سوریہ کے نقشبندی شیخ سراج الدین کے بھی مجاز بیعت و ارشاد تھے۔
مولانا سلمان ندوی رح کی اسانید حدیث پر ان کے ایک شاگرد مولانا محمد اکرم ندوی نے ایک کتاب العقد اللجيني في أسانيد المحدث الشريف سلمان الحسيني لکھی ہے جو دار الغرب الإسلامي- بيروت سے 2004ء میں شائع ہوئی۔ مولانا سلمان حسینی چند چیزوں کی وجہ سے حلقہ اکابر میں کافی شہرت رکھتے ہیں آپ ہی وہ شخصیت ہیں جنھوں نے اصلاح نصاب کے موضوع کو تجدید پسند علما کے درمیان اپنی نگارشات وتقاریر کے ذریعے تحریکی موضوع بناتے ہوئے یہ واضح کر دیا کہ عصر حاضر میں درس نظامی امت مسلمہ کو ایسے افراد مہیا نہیں کرسکتا جو کماحقہ اس کی علمی ،فکری و سیاسی قیادت کرسکیں بلکہ اب ہمیں ایسا وحدانی نظام تعلیم رائج کرنا ہوگا جو صفہ نبوی کے نظام کے موافق ہو اور ثنویت سے پاک ہو ،ورنہ امت کو عروج نصیب نہیں ہوگا – مولانا ہندوستان کے پہلے ایسے عالم ہیں جنھوں نے سعودی عرب کی اسلامی فکر کے خلاف پالیسیوں اور اس کے مغربی فکر کو اپنانے پر کهل کر تنقید کی اور اسلامی قضیوں کے تئیں اس کی سرد مہری ومنافقت کو واشگاف کیا – مولانا ہی وہ شخصیت ہیں جنھوں نے بابری مسجد -رام مندر کے سلسلے میں باہمی مصالحت کرنے کی پیہم کوشش کی لیکن ہندوستانی اکابر علما نے ان کے نظریہ مصالحت کو قبول نہیں کیا –
تصنیفات
آپ کی تصانیف بہت ہیں جن میں چند کے نام یہ ہیں
اردو تصانیف
- اصلاح معاشرہ کے لیے ہم کیا کریں؟
- امام بخاری اور ان کی ا لجامع الصحیح (ا یک مختصر اور جامع تعارف)
- آزادئ ہند حقیقت یا سراب؟
- تقلید و اجتہاد (حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کے افکار و نظریات کی روشنی میں)
- حدیث نبوی کے چند اسباق
- خطبات بنگلور
- خطبات سیرت
- دعوت عمل پیہم
- دینی مدارس کا نظام تعلیم، خوب تر سے خوب تر کی تلاش
- سفرنامہ ایک طالب علم کا
- عصری تعلیم گاہوں میں مسلم طلبہ کے مسائل اور ان کا حل
- فارغین مدارس کے ذریعہ اسلامی تمدن کی بازیافت
- ماہ رمضان اور پیام قرآن
- محدثین کے ہاں فقہ اور فقہا کی اہمیت – مطبوعہ کراچی۔
مسلمان کیا کریں؟
- ہمارا نصاب تعلیم کیاہو؟
- ہندوستان میں امارت شرعیہ
- یہودی خباثتیں (عبد اللہ التل کی کتاب خطر اليهودية العالمية على الإسلام والمسيحية کی اردو ترجمانی)
- آخری وحی اردو کے جدید قالب میں
عربی تصانیف
- الأمانة في ضوء القرآن
- مشعال المصابيح شرح مشكاة المصابيح للتبريزي
- لمحة عن الجرح والتعديل
- الإمام ولي الله الدهلوي وآراؤه في التشريع الإسلامي
- والتعريف الوجيز بكتب الحديث
- المدخل إلى دراسة جامع الترمذي
- تعريب: الجزء الثالث والرابع من سلسلة "رجال الفكر والدعوة في الإسلا م” للشيخ أبي الحسن الندوي
- تعريب: الجزء الأول والثاني لـ "في مسيرة الحياة” للشيخ أبي الحسن الندوي