از:- محمد قمر الزماں ندوی
دگھی گڈا (جھارکھنڈ)
اللہ تعالیٰ نے نوعِ انسانی کی بقا، خاندان کے استحکام اور انسانی تمدن کی تشکیل کے لیے نکاح کا پاکیزہ نظام عطا فرمایا، اور میاں بیوی کے باہمی تعلق کو نسلِ انسانی کی افزائش کا فطری اور مشروع ذریعہ قرار دیا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَاللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا وَجَعَلَ لَكُمْ مِّنْ أَزْوَاجِكُمْ بَنِينَ وَحَفَدَةً﴾۔
اسلام نے اولاد کو اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت، آنکھوں کی ٹھنڈک اور نسل و نسب کے تسلسل کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اولاد سے محرومی ایک فطری آزمائش اور امتحان ہے، اور اس سے نجات کے لیے جائز ذرائع اختیار کرنا شریعت کی نظر میں ممنوع نہیں، بلکہ علاج و تدبیر اختیار کرنا خود سنتِ نبوی ﷺ سے ثابت ہے، بشرطیکہ اس میں کوئی شرعی قباحت و ممانعت شامل نہ ہو۔
دورِ حاضر میں طبّی سائنس نے بانجھ پن (Infertility) کے علاج کے لیے متعدد جدید طریقے متعارف کرائے ہیں، جن میں ٹیسٹ ٹیوب بے بی (In Vitro Fertilization: IVF) ایک نمایاں طریقہ ہے۔ اس میں مرد کے نطفہ اور عورت کے بیضہ کو جسم سے باہر مخصوص طبی ماحول میں ملا کر بار آور کیا جاتا ہے، پھر بننے والے جنین (Embryo) کو رحمِ مادر میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ اگرچہ عوام میں اسے "ٹیسٹ ٹیوب بے بی” کہا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ بچہ نہ ٹیسٹ ٹیوب میں پرورش پاتا ہے اور نہ وہاں پیدا ہوتا ہے، بلکہ صرف ابتدائی بارآوری (Fertilization) لیبارٹری میں انجام دی جاتی ہے، اس کے بعد حمل اور ولادت کا پورا مرحلہ عام حمل ہی کی طرح رحمِ مادر میں ہوتا ہے۔
یہ جدید طبی ایجاد جہاں ہزاروں بے اولاد خاندانوں کے لیے امید کی کرن ثابت ہوئی ہے، وہیں اس نے شریعتِ اسلامی کے سامنے کئی اہم فقہی اور اخلاقی سوالات بھی کھڑے کیے ہیں۔ ان میں سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا مصنوعی بارآوری (Artificial Fertilization) مطلقاً جائز ہے یا ناجائز؟ اگر جائز ہے تو اس کی حدود و قیود کیا ہیں؟ نسب، وراثت، محرمیت، عفت و عصمت، اور اختلاطِ انساب جیسے اہم شرعی مقاصد کی حفاظت کس طرح ممکن ہوگی؟
فقہائے اسلام اور معاصر فقہی اداروں، خصوصاً اسلامی فقہ اکیڈمیوں نے اس مسئلہ کا نہایت گہرے غور و فکر کے بعد یہ اصول متعین کیا ہے کہ اس باب میں اصل بنیاد حفظِ نسب (نسب کی حفاظت) اور اختلاطِ انساب سے مکمل اجتناب ہے۔ لہٰذا ہر وہ صورت جس میں زوجین ہی کے نطفہ اور بیضہ استعمال ہوں، نکاح برقرار ہو، اور تمام مراحل شرعی حدود، پردہ اور امانت داری کے ساتھ انجام دیے جائیں، وہ اصولی طور پر جائز قرار دی گئی ہے، اگرچہ ضرورت کے بقدر اس پر اکتفا کیا جائے گا۔
اس کے برعکس وہ تمام صورتیں ناجائز اور حرام ہیں جن میں کسی اجنبی مرد کا نطفہ، کسی اجنبی عورت کا بیضہ، یا کسی دوسری عورت کا رحم (Surrogate Mother) استعمال کیا جائے، یا کسی مرحلہ پر نسب کے اختلاط کا اندیشہ پیدا ہو۔ اسی طرح میاں بیوی کے درمیان نکاح ختم ہو جانے یا کسی ایک کی وفات کے بعد محفوظ نطفہ یا جنین سے حمل قرار دلانا بھی فقہی اعتبار سے محلِ اشکال بلکہ جمہور معاصر فقہاء کے نزدیک ناجائز ہے؛ کیونکہ اس سے نسب، زوجیت اور وراثت سے متعلق متعدد پیچیدہ مسائل جنم لیتے ہیں۔
اس بنا پر ٹیسٹ ٹیوب بے بی کا حکم ایک نہیں، بلکہ اس کی مختلف صورتوں کے اعتبار سے مختلف ہے۔ اگر نطفہ شوہر کا، بیضہ بیوی کا ہو، رحم بھی اسی بیوی کا ہو، اور عمل حالتِ نکاح میں انجام دیا جائے تو یہ صورت اصولاً جائز ہے، اگرچہ اس کے لیے بھی متعدد شرعی شرائط کی رعایت ضروری ہے۔ لیکن اگر ان اجزاء میں کسی ایک کا تعلق بھی کسی اجنبی مرد یا عورت سے ہو، یا رحم کسی دوسری عورت کا ہو، تو ایسی تمام صورتیں شریعت کی رو سے ناجائز ہیں؛ کیونکہ ان سے نسب کے اختلاط، خاندانی نظام کی خرابی اور انسانی عزت و حرمت کے مجروح ہونے کا قوی اندیشہ پیدا ہوتا ہے۔
زیرِ نظر تحریر میں انہی تمام صورتوں کا قرآن و سنت، فقہی اصول، ائمہ و فقہاء کی تصریحات، اور معاصر فقہی اداروں خصوصاً اسلامی فقہ اکیڈمی کے فیصلوں کی روشنی میں تحقیقی جائزہ پیش کیا جائے گا، تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ اسلامی شریعت جدید طبی ترقی کی مخالف نہیں، بلکہ اس کی تائید کرتی ہے، بشرطیکہ وہ انسانی وقار، عفت، نسب کی حفاظت اور شریعت کے مقاصدِ عالیہ کے مطابق ہو۔ اسی اعتدال پسند اور اصولی نقطۂ نظر کی روشنی میں ٹیسٹ ٹیوب بے بی کی جائز اور ناجائز تمام صورتوں کا اجمالی شرعی حکم آئندہ صفحات میں بیان کیا جا رہا ہے ۔
ہمارے فاضل دوست مفتی محمد زبیر ندوی دار الافتاء و القضاء بہرائچ ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں، پہلے اس کو ملاحظہ فرمائیں ۔
ٹسٹ ٹیوب بے بی Test Tube Bab کا حکم
سوال: ٹیسٹ ٹیوب بے بی کا حکم شرعی کیا ہے؟ اگر یہ عمل میاں بیوی ملکر خود انجام دیں کسی اجنبی مرد یا عورت کی مدد لیں اور نہ مادہ ہی کسی کا لیں تو کیا اس کی گنجائش ہے؟ (مفتی زکریا، گوا)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب و باللہ التوفیق
ٹسٹ ٹیوب بے بی کے مختلف طریقے ہیں جن میں سے اس وقت تین صورتیں زیادہ مروج ہیں:
- ( الف) اجنبی مرداور اجنبی عورت کے مادہ تولید کی تلقیح ( یعنی مرد کی منی کے کرم اور بیضۃ انثی کی مصنوعی تخم ریزی کے اختلاط ) سے تیار شدہ ٹیسٹ ٹیوب بے بی ۔
- (ب) میاں بیوی کے مادہ تولیدی کی بیرونی طور پر تلقیح واختلاط سے تیار شدہ ٹیسٹ ٹیوب بے بی کو رحم مستعار ( یعنی کسی دوسری عورت کے رحم) میں داخل کرکے اس میں بقیہ افزائش کے بعد تولید ۔
- (ج) شوہر کے مادہ تولید کی تلقیح خود اسی کی بیوی کے رحم میں یامیاں بیوی کے مادہ تولید کے اختلاط سے تیار شدہ ٹیسٹ ٹیوب بے بی کو اسی بیوی کے رحم میں داخل کرکے اس میں بقیہ افزائش کے بعد تولید ۔ جس کو میڈیکل کی اصطلاح میں غالباً ( IVF ) ( IUI ) کہاجاتاہے ۔
ان تین صورتوں میں سے پہلی اور دوسری صورت اختیار کرنا تو جائز نہیں البتہ تیسری صورت اس وقت اختیار کرنے کی گنجائش ہے جبکہ کسی کے ہاں فطری طریقہ سےا ولاد پیدا نہ ہو رہی ہو،ا ور اس مقصد کے لیے عام طریقہ علاج سے بھی کوئی فائدہ حاصل نہ ہوا ہو تو ایسی صورت میں بدرجہ مجبوری تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے ” ٹیسٹ ٹیوب بے بی ” کے؛ بشرطیکہ اس عمل میں درج ذیل شرعی محظورات سے بچنے کا اہتمام کیاجائے :
- 1۔ ہر مرحلے ستر وحجاب کا پورا پورا اہتمام کیاگیا ہو، مثلا بیوی سے مادہ تولید لینے اور تلقیح کے بعد دوبارہ رحم میں ڈالنے کا کام لیڈی ڈاکٹر سے لیاجائے ۔
- 2۔ مرد سے مادہ تولید کا حصول اگر بذریعہ انجکشن ممکن ہو تو، مرد ڈاکٹر بذریعہ انجکشن اسے حاصل کرے، اور اگر انجکشن سے حصول ممکن نہ ہو، مشت زنی کے بجائے اپنی بیوی سے عزل کے ذریعہ حاصل کیاجائے ۔
- 3۔ ہر ممکن وضروری تدابیر اختیار کی جائیں جس سے مادہ منویہ کی تبدیلی یا اختلاط نسب کا اندیشہ نہ ہو اس کی پوری تفصیل جدید فقہی مسائل جلد پنجم میں دیکھی جاسکتی ہے(١)۔
دلائل و مصادر:
قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ ۗإِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ (30 )
عن رویفع بن ثابت الانصاری قال : قال رسول اللہ ﷺ یوم حنین : لایحل لامری یؤمن باللہ والیوم الآخر ان یسقی ماء زرع غیرہ (مشكاة المصابيح کتاب النکاح ، باب الاستبراء ،ا لفصل الثانی )
ولا یجوز لھا أن تنظر ما بین سرتھا إلی الرکبة إلا عند الضرورة، بأن کانت قابلة فلا بأس لھا أن تنظر إلی الفرج عند الولادة، وکذا لا بأس أن تنظر إلیہ لمعرفة البکارة في امرأة العنین، والجاریة المشتراة علی شرط البکارة إذا اختصما، وکذا إذا کان بھا جرح أو قرح في موضع لا یحل للرجال النظر إلیہ فلا بأس أن تداویھا، إذا علمت المداومة، فإن تعلم تتعلم ثم تداویھا، فإن توجد امرأة تعلم المداومة ولا امرأة تتعلم وخیف علیھا الھلاک أو بلاء أو وجع لا تحملہ یداویھا الرجل، لکن لا یکشف منھا إلا موضع الجرح ویغض بصرہ مااستطاع (بدائع الصنائع في ترتیب الشرائع،۲:۴۹۹،ط: مکتبة زکریا،دیوبند)
ذکر شمس الأیمة الحلواني رحمہ اللہ تعالی في شرح کتاب الصوم أن الحقنة إنما تجوز عند الضرورة ، وإذا لم یکن ثمة ضرورة ولکن فیھا منفعة ظاھرة بأن یتقوی بسببھا علی الجماع لا یحل عندنا………کذا فی الذخیرة (الفتاوی الھندیة (۵: ۳۳۰، ط:المطبعة الکبری الأمیریة، بولاق، مصر)
دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند جواب نمبر: 171218
جدید فقہی مسائل 160/5
دارالعلوم کراچی فتویٰ نمبر:136
دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144003200474
كتبه العبد محمد زبير الندوي
دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا
مورخہ 6/2/1443
بعض علماء کرام اور ارباب افتاء خود شوہر کے مادئہ منویہ کو بھی اگر ڈاکٹروں کے ذریعہ اس کی بیوی کے رحم میں رکھوایا جائے تو اس صورت کو بھی ناجائز اور ممنوع قرار دیتے ہیں ۔ چنانچہ مفتی محمد احمد خانپوری لکھتے ہیں:
غیر شوہر کا مادئہ منویہ لے کر اپنی بیوی کی بچہ دانی میں ڈاکٹروں سے رکھوانا حرام اور ناجائز ہے ، زنا کو شریعت نے اسی لیے حرام ٹھہرایا کہ اس میں اختلاط اور اشتباہ نسب موجود ہے، جو صورت مذکورہ میں پایا جاتا ہے، بلکہ خود شوہر کا مادئہ منویہ بھی اگر ڈاکٹروں کے ذریعہ اس کی بیوی کے رحم میں رکھوایا جائے تو یہ بھی حرام اور ناجائز ہے ، اس لئے کہ ستر عورت فرض ہے،عورت کی شرم گاہ عورت غلیظہ ہے، شرم گاہ کے بالائی حصہ کو بلا وجہ شرعی دوسرے کے لئے دیکھنا جائز نہیں ہے، تو اندونی حصہ کو دیکھنا اور شرم گاہ کو چھونا کس طرح جائز ہوسکتا ہے؟ میاں بیوی سخت گنہگار ہوں گے اور شوہر از روئے حدیث دیوث بنے گا اور جنت کی خوشبو سے محروم رہے گا ۔(مشکوة 2/ 318)
(محمود الفتاویٰ 4/ 723)
جاری