یادوں کے چراغ
حضرت مولانا سید سلمان الحسینی ندوی
از:- مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
نائب ناظم امارت شرعیہ بہار، اڑیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال پھلواری شریف، پٹنہ
عالمی شہرت یافتہ نامور مؤقر عالم دین، دارالعلوم ندوۃ العلماء کے سابق استاذ، بلکہ استاذ الاساتذہ، بہترین معلم و داعی، اچھے مفسر قرآن، شارح حدیث، جامعہ سید احمد شہید کٹولی کے بانی، کل ہند جمعیت شباب اسلام کے بانی صدر، مختلف علوم وفنون پر عربی اور اردو میں درجنوں کتابوں کے مصنف، بانگ درا و بانگِ حرا کے سابق مدیر مکرم، عربی اردو کے بے مثال، شعلہ بار خطیب، جرأت وشجاعت کے پیکر، ماہر تعلیم اور ملت کی سربلندی کے لیے ہمہ دم فکر مند رہنے والی عظیم شخصیت حضرت مولانا سید سلمان الحسینی ندوی کا ٢٩؍جون ٢٠٢٦ء مطابق ۱۳؍محرم الحرام ۱۴۴۸ھ بروز سوموار بوقت صبح صادق بعد نمازِ تہجد، فجر کی نماز سے قبل انتقال ہو گیا، چند ماہ قبل عارضۂ قلب کی وجہ سے ان کو بیس میکر لگایا گیا تھا، اچھے خاصے تھے، لیکن تہجد کی نماز کے بعد فجر کی نماز کے مرحلۂ انتظار میں اس بیماریِ دل نے آخر کام تمام کر دیا، جنازہ اسی دن بعد نمازِ عصر ان کے قائم کردہ مدرسہ کی مسجد کی دکھن جانب ان کے بڑے صاحب زادہ مولانا محمد یوسف حسینی ندوی نے پڑھائی اور مسجد کی جانب شمال تدفین عمل میں آئی، لوگوں کے جمِ غفیر نے نم آنکھوں کے ساتھ انہیں الوداع کہا اور علم و قلم کا یہ آفتاب سورج ڈوبنے کے قبل ہی منوں مٹی کے نیچے غروب ہو گیا، پس ماندگان میں اہلیہ، پانچ بیٹے، تین بیٹیاں اور ہزاروں شاگردوں کے ساتھ بے شمار عقیدت مندوں کو چھوڑا، سدا رہے نام اللہ کا۔
مولانا سید سلمان الحسینی ندوی بن مولانا سید محمد طاہر حسینی کی ولادت ۱۹۵۴ء میں لکھنؤ میں ہوئی، مظفر نگر کا ایک گاؤں منصور پور ان کا آبائی وطن تھا، قاری محمد عثمان صاحبؒ کے واسطے سے مولانا سید ارشد مدنی اور خانوادۂ مدنی سے ان کی رشتہ داری تھی، ابتدائی تعلیم گھر اور محلّے کے مکتب سے حاصل کرنے کے بعد دارالعلوم ندوۃ العلماء میں داخل ہوئے اور حفظِ قرآن کی تکمیل کے بعد ۱۹۷۴ء میں عالمیت اور ۱۹۷۶ء میں فضیلت کی سند حاصل کی، اعلیٰ تعلیم کے لیے سعودی عرب کی مشہور یونیورسٹی جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ میں داخلہ لیا، ۱۹۸۰ء میں حدیث میں ایم اے کیا، تحقیقی مقالہ مشہور ومعروف محدث شیخ عبد الفتاح ابو غدہ کی نگرانی میں لکھا، شیخ عبد الفتاح ابو غدہ پر تحقیق کے زمانے میں ان کی صلاحیت کے جوہر کھلے، شیخ الحدیث ان کے بڑے قدرداں تھے اور بے پناہ محبت کرتے تھے، وہاں سے لوٹنے کے بعد وہ حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ کے دورِ نظامت میں دارالعلوم ندوۃ العلماء میں خدمتِ تدریس پر مامور ہوئے اور کم وبیش چالیس سال تک وہ احادیث، اصولِ حدیث کا درس دیتے رہے، کئی سال وہ وہاں کے کلیۃ الشریعۃ والا علام کے معتمد رہے، مختلف موقعوں سے مولانا نے مفکر اسلام حضرت مولانا علی میاںؒ کے ساتھ، یا ان کے نمائندہ کے طور پر عرب ممالک کا سفر کیا اور ندوۃ العلماء کی ترجمانی کے فرائض انجام دیے، حضرت مولانا علی میاں کی تربیت کا ان پر گہرا اثر رہا، اس لیے وہ حسن البنا شہید، علامہ یوسف قرضاوی، سید قطب شہید رحمہم اللہ سے فکری موافقت کی وجہ سے ان کے قریب ہوئے اور جب علامہ یوسف قرضاوی اور ڈاکٹر محی الدین قرہ داغی نے لجنۃ اتحاد علماء المسلمین قائم کیا تو مولانا اس کے سرگرم معاون بنے اور تاحیات اس کے اہم رکن رہے، تشکیلی اجلاس میں مولانا کے ساتھ ہندوستان کے بڑے علماء، مولانا سید ارشد مدنی، قاری محمد عثمان صاحبؒ، مولانا بدر الحسن قاسمی، مولانا نور عالم خلیل امینی جمیعت اہل حدیث، جماعت اسلامی ہند اور دوسری کئی تنظیموں کے ذمہ دار کے ساتھ یہ حقیر (محمد ثناء الہدیٰ قاسمی) بھی مدعو تھا اور یقینی طور پر یہ مولانا کی محبت کے صدقہ وطفیل میں مجھ تک پہونچا تھا، بدقسمتی سے اجلاس کے دوسرے دن ہی میری والدہ کا انتقال ہوا اور مجھے ہندوستان لوٹ آنا پڑا، تنظیم کی ہندوستانی شاخ کی پہلی میٹنگ جماعت اسلامی ہند کے دفتر میں مولانا جلال الدین انصر عمری کی صدارت میں ہوئی تھی، احقر اس میں بھی شریک تھا۔
۱۹۷۴ء میں مولانا نے تحریک شہیدین کو حقیقی رنگ دینے کے لیے جمعیت شباب اسلام کی بنیاد رکھی، نوجوانوں کی دینی، اخلاقی اور سماجی تربیت کے لیے ملک کے مختلف حصوں میں تربیتی کیمپ کا انعقاد کیا، لیکن بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم کے سفر کی وجہ سے یہ کام آگے نہیں بڑھ سکا، سعودی عرب سے لوٹنے کے بعد اس تحریک میں انہوں نے پھر سے جان ڈالی، ١٩٨٤ء میں مدرسہ احمدیہ ابا بکر پور ویشالی میں مدرس ہو گیا تھا، کسی نے مولانا کو میرا پتہ دیدیا، انہوں نے خط لکھا، میں نے جمعیت شباب اسلام کے اہداف دیکھے اور ان سے اتفاق کیا، پہلے ویشالی ضلع میں اس کی شاخ قائم کیا، کئی پروگرام کا انعقاد ہوا، آغاز ۱۹۹۱ء شاہ میاں رہوا میں سہ روزہ تاریخی اور مثالی پروگرام تھا، جسے لوگ آج تک نہیں بھول پائے، تربیتی کیمپ مدرسہ فردوس العلوم لعل گنج اور سنگی مسجد حاجی پور میں لگایا، مولانا کا کئی سفر اس حوالہ سے ہوا اور بار بار ہوا، ضلعی کمیٹی نے جمعیت شباب اسلام کے پیغام کو عام کرنے کے لیے کئی سالوں تک ’اصلاحی جنتری‘ نکالا، مختلف مساجد میں درسِ قرآن کا سلسلہ شروع ہوا، کئی بار حضرت مولانا سید محمد شمس الحق صاحب اس وقت کے شیخ الحدیث جامعہ رحمانی مونگیر نے بھی شرکت کی، ویشالی جمعیت شباب اسلام نے ’طلوعِ فکر‘ کے نام سے ایک رسالہ بھی چھپوانا شروع کیا، جس کی سرپرستی راقم الحروف کے ذمہ تھی اور ایڈیٹر مولانا عبد المالک قاسمی تھے۔
میری ہی تحریک پر مولانا نے جمعیت شباب اسلام کے بہار ریاستی شاخ کی منظوری دی، مولانا شکیل احمد قاسمی صدر اور میں جنرل سکریٹری کے طور پر کام کرنے لگا، انجمن اسلامیہ ہال میں جمعیت شباب اسلام کا کل ہند اجلاس ہوا، جس میں حضرت مولانا علی میاںؒ کے ساتھ ملک کے بڑے قدآور علماء شریک ہوئے، جمعیت شباب اسلام نے رابطہ ادب اسلامی کے سیمینار کا بھی انعقاد کیا، مولانا کے صرفہ سے کئی مسجدوں کی تعمیر ہوئی، معہد العلوم الاسلامیہ چک چمیلی کی بنیاد بھی مولانا نے رکھی تھی، ابتدا میں یہ جمعیت شباب اسلام کے تحت ہی چل رہا تھا، مولانا نے بنیاد جس زمین پر رکھی تھی اس وقت وہاں بھینس کا باڑہ تھا، فرمایا: یہاں کیسے مدرسہ چلے گا، میں نے کہا مجھے یہی زمین دستیاب ہوئی ہے، جس کے لیے کھولا ہے وہ اسے چلوائے گا، الحمد للہ یہ مدرسہ اب بھی قائم ہے اور دن بدن ترقی کر رہا ہے۔
جمعیت شباب اسلام کی فکر کو عملی تجسیم دینے کی غرض سے انہوں نے کٹولی ملیح آباد میں جامعہ سید احمد شہید کی بنیاد حضرت مولانا علی میاں ندوی کے ہاتھوں ڈلوائی اور تحریک شہیدین کو زمین پر اتارنے کے لیے نئے نصابِ تعلیم اور نئی غیر تدریسی سرگرمیوں کے ساتھ کام شروع کیا، جلد ہی یہ ادارہ برگ وبار لے آیا، سوا ایکڑ زمین پر جب کچھ نہیں تھا، صرف گرد و غبار کے گولے اڑتے تھے، تب سے میرا آنا جانا وہاں رہا، میرے کئی عزیزوں نے وہاں سے تعلیم حاصل کی، اس ادارے کی نگرانی میں پچاس سے زائد مکاتب، لڑکیوں کے لیے کلیۃ حفصہ للبنات حراء اسکولز اور ڈاکٹر عبد العلی یونانی میڈیکل و ہسپتال سمیت کئی تعلیمی ورفاہی ادارے کام کر رہے ہیں۔
مولانا کی ہمہ جہت سرگرمیوں کی وجہ سے انہیں مسلم پرسنل لا بورڈ کا ممبر بنایا گیا، وہ اس کی عاملہ کے رکن رہے، مسلم پرسنل لا بورڈ کے اجلاسِ عام میں ان کی تقریر لازماً ہوا کرتی تھی، لیکن بابری مسجد کے قضیے میں بعض ہندو رہنماؤں سے ملاقات اور ذیل کا ان پر الزام لگا، حیدرآباد اجلاس میں مسلم پرسنل لا بورڈ سے ان کی علیحدگی عمل میں آگئی، حضرت مولانا محمد رابع حسنی ندویؒ ان دنوں مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر اور مولانا محمد ولی رحمانی امیر شریعت سابق جنرل سکریٹری تھے۔
مولانا دین کے بڑے داعی تھے، وہ بے مثال خطیب اور شعلہ بار مقرر تھے، انہوں نے اس کام کے لیے پورے ہندوستان کا دورہ کیا اور اپنی علم وآگہی سے لوگوں کے قلوب کو مسخر کیا، ان کی تقریر میں بلا کی روانی اور جوش ہوا کرتا تھا، وہ اپنی باتوں کو مدلل کرنے کے لیے قرآن واحادیث سے دلائل لاتے، آیات و احادیث کا اس قدر استحضار تھا کہ جب اپنی مخصوص لے میں وہ تلاوت کرتے تو معلوم ہوتا کہ یہ آیت اسی موقع کے لیے اتری ہے، امارت شرعیہ کے مختلف اجلاس میں ان کی شرکت ہوئی، ممبئی کے المالطیفی ہال میں ان کی تقریر نے عجب سماں باندھ دیا تھا، بعض بزرگوں کے احترام میں کیمرہ پر وہاں پابندی لگا دی گئی تھی، مولانا نے ”وَاَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ“ کی آیت پڑھی اور بتایا کہ دشمن جس طرح حملہ آور ہو اس کا مقابلہ اسی سطح سے کرنا چاہیے، آج میڈیا اسلام اور مسلمانوں کے خلاف حملہ آور ہے اور آپ ایک بند کمرے میں اپنی بات رکھ رہے ہیں اور میڈیا کو اس سے دور رکھا گیا ہے، بند کمرے کی یہ آواز کہاں سنی جائے گی اور اس کا کیا فائدہ ہوگا، شام کے اجلاس عام، جھولا میدان میں انہوں نے ”وَعِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ يَمْشُوْنَ“ والی پوری رکوع اور ”وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ“ کی تلاوت کی اور بتایا کہ یہ آیت قیامت تک کے لیے ہے، اس لیے آپ کو تکلیف دہ باتیں سننی پڑیں گی اور اس کے حل کا وہی طریقہ معتبر ہوگا جو قرآن کریم نے بتایا ہے۔
اردو کی طرح مولانا کی عربی تقریر بھی مثالی ہوتی تھی، عرب اتنی سرعت اور مہارت سے نہیں عربی بولتے تھے جتنی طاقت لسانی مولانا کو اللہ رب العزت نے عطا فرمائی تھی، ان کا قلم عربی اردو دونوں میں بہت رواں تھا، ابھی حال میں مکتبہ شباب نے مولانا کی کتابوں کی تفصیلات انقلاب میں شائع کرائی تھی، کوئی ایک سو پچیس کتابیں عربی اردو میں اس فہرست میں درج تھیں، بعضوں نے تصنیفات کی تعداد دوسو چالیس لکھی ہے، مولانا نسبی طور پر حسینی تھے، جرأت وبے باکی ان کے خون کا حصہ تھا، ذہانت ان کے گھر کی لونڈی تھی، وہ بڑی سے بڑی شخصیت سے مرعوب ہونا نہیں جانتے تھے، جو کہتے تھے برملا کہتے تھے، ایک جلسہ میں جو لکھنؤ کی بارہ دری میں حضرت مولانا علی میاں کی صدارت میں منعقد ہوا تھا، اس میں انہوں نے رام ولاس پاسوان اور ملائم سنگھ کی موجودگی میں یہ بات کہی تھی کہ اگر یہ دونوں بھی حق کا ساتھ نہیں دیں گے تو ایسے ایسے رام ولاس اور ملائم سنگھ کو میں اپنی جوتیوں کی نوک پر رکھوں گا، میڈیا اس جملے کو لے اڑا، بعد میں حضرت مولانا کے حکم پر مولانا سلمان الحسینی نے اس کی وضاحت کی۔
اسی طرح جب دارالعلوم ندوۃ العلماء پر حملہ ہوا اور اس کی عمارت کو جزوی نقصان پہونچا تو ان حالات پر غور کرنے کے لیے دہلی میں ایک میٹنگ بلائی گئی، اس میٹنگ میں حضرت مولانا علی میاں کی رائے تھی کہ ’اسے مہم کا حصہ نہ بنایا جائے، ندوہ خود ہی اس سے حکمت عملی کے ساتھ نمٹ لے گا‘، مولانا نے اس مجلس میں برملا مخالفت کی اور کہا کہ ندوہ کے پاس وسائل ہیں، اثرات ہیں تو وہ خود سے نمٹ لے گا، جن دوسرے مدارس کی یہ پوزیشن نہیں ہے، اس کو تو برباد کر دیا جائے گا اور ہم کچھ نہیں کر سکیں گے، چنانچہ ایک کمیٹی کی تشکیل عمل میں آئی، جس میں دارالعلوم دیوبند اور مظاہر علوم کی بھی شرکت تھی، مولانا خود بھی اس کمیٹی کے رکن منتخب ہوئے، بعد میں کیا ہوا، اس کی کارکردگی کا علم مجھے نہیں ہے، موقع جمعیت شباب اسلام کے تربیتی کیمپ کا تھا جو جامعہ سید احمد شہید کٹولی میں منعقد ہوا تھا، سعودی عرب میں نیا امریکی فوجی بیس بنا تھا، اس پر کسی نے پرچی بڑھا دی، فرمایا کہ میں امریکہ سے زیادہ سعودی عرب کو مجرم گردانتا ہوں کہ اس نے اپنی زمین فوجی بیس کے لیے دی ہی کیوں؟ اس نے حجاز مقدس میں اللہ، رسول کے دشمنوں کی آمد و رفت کا مضبوط دروازہ کھول دیا، ان کے اس قسم کے جرأت مندانہ بیان، عرب ممالک اور عرب لیگ کو نشانہ بنانے کی وجہ سے عرب دنیا سے وہ کٹ کر رہ گئے تھے، کئی ملکوں نے ان کے داخلہ پر پابندی لگا رکھی تھی، اس پابندی کی وجہ صرف ان کی حق گوئی و بے باکی تھی۔
وہ واقعتاً مفکر تھے، مولانا کی فکر مندی کا دائرہ عرب و عجم اور ہندوستان میں ملت اسلامیہ کی ترقی، بقا اور تحفظ تک وسیع تھا، اتنی ہمہ جہت شخصیت مجھ جیسے کم علم اور کور چشم کے نزدیک دوسرا کوئی نہیں ہے، کوئی فقیہ ہے تو کوئی محدث، کوئی عربی پر عبور رکھتا ہے تو کوئی اردو پر، کسی کا دائرہ انتظام وانصرام میں سمٹا ہوا ہے، کوئی انگریزی پر قدرت رکھتا ہے، کسی کی ملکی حالت پر نظر ہے، یقیناً مختلف علوم وفنون کے ماہرین ملک میں پائے جاتے ہیں، لیکن کوئی ایسا شخص نہیں دکھتا، جس کا میدان عمل ایک ساتھ فقہ، تفسیر، حدیث، دعوت و تبلیغ، تحریر و تصنیف، تقریر و خطبات، ملکی حالات، سیاست کی نیرنگیاں سب کچھ ہو اور وہ مجموعی طور پر تمام میدانوں میں یکتا اور بے مثل بھی ہو۔
چند سال قبل ان کے بعض بیانات اور علمی تحقیقات ایسی سامنے آئیں، جن میں عظمت صحابہ اور ان کے لیے خدائی مژدہ رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ پر حرف آتا تھا اور جو اہل سنت والجماعت کے متفق علیہ عقیدہ کے خلاف تھا، وہ ندوہ کے دستور کے مطابق سبکدوشی کی عمر کو پہونچ چکے تھے، اس لیے مرشد امت حضرت مولانا سید محمد رابع حسنیؒ کے دور میں وہ ندوہ کی تدریسی سرگرمیوں سے سبکدوش کر دیے گئے، اس کے بعد اس قدر ہیجان ہوا کہ اس ہمہ ہمی میں عزتِ سادات بھی داؤ پر لگ گئی، پورے ملک میں ان کے خلاف آواز اٹھی اور ان پر طعن و تشنیع کی بارش ہوئی، میں نے بھی ایک تفصیلی مضمون ”مقامِ صحابہ“ پر لکھا، جو ملک کے مختلف اخبارات اور نقیب میں چھپا۔
اب مولانا اللہ کے دربار میں حاضر ہیں، ہمارے کچھ لکھنے، بولنے سے اللہ کے فیصلے پر کوئی فرق پڑنے والا نہیں ہے، اس لیے ہمیں تو اب قرآن کریم کی دو آیتوں کو حرزِ جاں بنا لینا چاہیے (۱) ”یٰأَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِینَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَیْنِ وَالْأَقْرَبِینَ“ یعنی اے ایمان والو! انصاف قائم کرنے والے بنو، اللہ کی خاطر گواہی دینے والے، چاہے وہ گواہی تمہارے اپنے خلاف پڑتی ہو، یا والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف (النساء: ۱۳۵) دوسری آیت ”یٰأَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِینَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلَا یَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قومٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ“ یعنی اے ایمان والو! ایسے بن جاؤ کہ اللہ (کے حکم کی پابندی) کے لیے ہر وقت تیار ہو (اور) انصاف کی گواہی دینے والے ہو، اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم نا انصافی کرو، انصاف سے کام لو، یہی طریقہ تقویٰ سے قریب تر ہے (المائدہ: ۸)
ہمیں اللہ تعالیٰ کے اس اصول کو بھی یاد رکھنا چاہیے جو قرآن میں مذکور ہے:”إِنَّ الْحَسَنَاتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّئَاتِ“ ملک کے بڑے علما، ادارے، تنظیمیں ان کے لیے تعزیتی مجالس کا انعقاد کر رہے ہیں، ان کی خدمات اور حسنات کا بیان ہو رہا ہے، اللہ رب العزت ان کے حسنات کو قبول فرمائے، سیات سے درگزر فرمائے اور ان کی خدمات کے اعتبار سے مقام عطا فرمائے، آمین یا رب العلمین وصلی اللہ علیہ النبی الکریم وعلی الہ وصحبہ اجمعین