گداگری ملت کی پیشانی پر ایک بدنما داغ

اسلام میں بھیک مانگنے کا کوئی تصور نہیں

از:- عبدالغفارصدیقی

اسلام نے انسان کو عزت اور وقار کے ساتھ جینے کا درس دیا ہے۔ اس نے انسان کے ہاتھ میں کشکول نہیں بلکہ عمل کا ہتھیار دیا ہے، اس کے قدموں کو گلی کوچوں میں سوال کے لیے نہیں بلکہ رزقِ حلال کی تلاش میں چلنے کا حکم دیا ہے۔ اسلام کا تصورِ انسان یہ ہے کہ وہ اپنے رب کے سوا کسی کے سامنے نہ جھکے، اپنی ضروریات کے لیے حتی الامکان دوسروں کا محتاج نہ بنے اور اپنی محنت و جدوجہد سے زندگی کی گاڑی آگے بڑھائے۔

قرآن مجید کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین میں بسانے کے ساتھ اسے رزق کی تلاش اور معاشی سرگرمیوں کا حکم بھی دیا ہے۔ انبیائے کرام علیہم السلام کی زندگیاں اس حقیقت کی روشن دلیل ہیں کہ دین اور دنیا، عبادت اور معاش، روحانیت اور محنت ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل ہیں۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر خاتم النبیین محمد ﷺ تک انبیائے کرام نے محنت کی، کسبِ معاش کے ذرائع اختیار کیے اور اپنی امتوں کو بھی یہی تعلیم دی۔قرآن مجید میں بہت سے انبیاء کے ہنر اور کام کا تذکرہ ملتا ہے،حضرت داؤد علیہ السلام کو زرہ بنانے کاہنر سکھایا گیا،حضرت نوح ؑ کو کشتی سازی کا فن دیا گیا،حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت شعیب ؑ کے یہاں اجرت پر کام کیا،حضرت یوسف ؑ نے تو شاہ مصر سے وزارت خزانہ کا چارج ان کے سپرد کرنے کی تجویز دی۔قَالَ اجْعَلْنِی عَلَی خَزَاءِنِ الْأَرْضِ إِنِّی حَفِیظٌ عَلِیمٌ (یوسف:55)”یوسف نے کہا: مجھے ملک کے خزانوں پر مقرر کر دیجیے، بے شک میں حفاظت کرنے والا اور علم رکھنے والا ہوں۔“

رسول اللہ ﷺ نے تجارت کی، بکریاں چرائیں، سفر کیے اور زندگی کے عملی تقاضوں کو پورا کیا۔ حضرت ابوبکر ؓ، حضرت عثمان، حضرت زبیرؓ اور حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے تجارت کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ بہت سے صحابہ کرام ؓ کھیتی باڑی کرتے تھے، باغات میں محنت کرتے تھے، کنوؤں سے پانی نکالتے تھے اور مزدوری کرکے اپنے اہل و عیال کی کفالت کرتے تھے۔ اسلامی تاریخ میں ہمیں کوئی ایسا طبقہ نظر نہیں آتا جس نے مانگنے کو پیشہ اور گداگری کو ذریعہ معاش بنایا ہو۔

اسلامی تعلیمات کے مطابق روزی تلاش کرنا،اس کے لیے جد وجہد کرنا،معروف ذرائع اختیار کرنا صرف ضرروری ہی نہیں بلکہ عین عبادت ہے۔نماز سے فارغ ہونے کے بعد رزق حلال تلاش کرنے کا حکم خود اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔
فَإِذَا قُضِیَتِ الصَّلَاۃُ فَانتَشِرُوا فِی الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِن فَضْلِ اللّٰہِ وَاذْکُرُوا اللّٰہَ کَثِیرًا لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ (الجمعۃ:10)
”پھر جب نماز پوری ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل (روزی) تلاش کرو، اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتے رہو تاکہ تم فلاح پاؤ۔“

اللہ تعالیٰ نے زمین کو روزی کے حصول کا ذریعہ بنایا:ہُوَ الَّذِی جَعَلَ لَکُمُ الْأَرْضَ ذَلُولًا فَامْشُوا فِی مَنَاکِبِہَا وَکُلُوا مِن رِّزْقِہِ وَإِلَیْہِ النُّشُورُ (الملک:15)

”وہی ہے جس نے زمین کو تمہارے لیے نرم اور مسخر بنا دیا، پس اس کے راستوں میں چلو پھرو اور اس کے رزق میں سے کھاؤ، اور اسی کی طرف دوبارہ اٹھ کر جانا ہے۔“

تہجد کی نماز رسول اکرم ﷺ پر فرض تھی،آپ کے ساتھ کچھ صحابہ بھی یہ نماز پڑھتے تھے۔حضور کبھی کبھی کافی طویل نماز پڑھتے،بعض صحابہ کو اس سے دشواری ہوتی۔اس کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ہدایت فرمائی۔

”بے شک آپ کا رب جانتا ہے کہ آپ اور آپ کے ساتھ ایک جماعت کبھی رات کے دو تہائی کے قریب، کبھی نصف رات اور کبھی ایک تہائی رات قیام کرتے ہیں۔ اللہ ہی رات اور دن کا اندازہ رکھتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ تم اس کی پوری پابندی نہ کر سکو گے، اس لیے اس نے تم پر مہربانی فرمائی۔ پس جتنا قرآن آسانی سے پڑھ سکو پڑھ لیا کرو۔ اسے معلوم ہے کہ تم میں کچھ بیمار ہوں گے، اور کچھ دوسرے لوگ زمین میں سفر کریں گے اور اللہ کا فضل (روزی) تلاش کریں گے، اور کچھ دوسرے اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے۔ لہٰذا جتنا قرآن آسانی سے پڑھ سکو پڑھ لیا کرو، نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ کو اچھا قرض دو۔ اور جو بھلائی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے اسے اللہ کے پاس موجود پاؤ گے، وہ بہتر بھی ہوگی اور اجر کے اعتبار سے زیادہ عظیم بھی۔ اور اللہ سے مغفرت مانگتے رہو، بے شک اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم فرمانے والا ہے۔“

یہاں تک کہ حج جیسی عظیم عبادت کے موقع پر بھی تلاش رزق یعنی کاروبار کرنے کی اجازت دی گئی:۔لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ أَن تَبْتَغُوا فَضْلًا مِن رَّبِّکُمْ (البقرۃ:198)”تم پر کوئی گناہ نہیں کہ اپنے رب کا فضل (تجارت اور روزی) تلاش کرو۔“

اللہ تعالیٰ نے دن بنایا ہی اس لیے کہ انسان اس میں اپنے لیے حلال رزق کمائے۔وَجَعَلْنَا النَّہَارَ مَعَاشًا (النبأ:11)”اور ہم نے دن کو معاش (روزی کمانے اور زندگی کی سرگرمیوں) کا وقت بنایا۔“

اسلام کی نظر میں محنت صرف معاشی ضرورت نہیں بلکہ ایک اخلاقی قدر ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”کسی شخص نے اپنے ہاتھ کی کمائی سے بہتر کھانا کبھی نہیں کھایا۔”(صحیح البخاری)

ایک اور حدیث میں امانت دار تاجر کو انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ شمار کیا گیا ہے۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ اسلام محنت، دیانت اور کسبِ حلال کو کس قدر بلند مقام عطا کرتا ہے۔

اس کے برخلاف بلا ضرورت سوال کرنا اور لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانا اسلام کی نگاہ میں پسندیدہ عمل نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ”آدمی مسلسل لوگوں سے مانگتا رہتا ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت کا ایک ٹکڑا بھی نہ ہوگا۔“(متفق علیہ) ایک موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ”اگر کوئی شخص جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر اپنی پیٹھ پر لاد کر فروخت کرے تو یہ اس سے کہیں بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے سوال کے لیے ہاتھ پھیلائے۔“(بخاری)

یہی وجہ ہے کہ جب ایک محتاج شخص آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے اسے مستقل طور پر مانگنے کا عادی بنانے کے بجائے اس کے لیے کلہاڑی کا انتظام فرمایا اور محنت کرکے کمانے کی راہ دکھائی۔
بدقسمتی سے آج برصغیر کے بعض علاقوں میں گداگری ایک منظم پیشہ بن چکی ہے۔ بازاروں، چوراہوں، ٹرینوں اور بس اڈوں پر پیشہ ور بھکاریوں کے گروہ نظر آتے ہیں۔ بعض لوگ مذہب کا نام استعمال کرکے اور بعض لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے لوگوں کے جذبات سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔کچھ ایسے بھی ہیں جو مسجد،مدرسہ کے نام پر فرضی رسید بک چھپوالیتے ہیں،کچھ پیر مو مرشد بن کر نذر و نیاز کے عنوان سے بھیک قبول کرتے ہیں،بہر حال بھیک مانگنے کی صورت خواہ کتنی ہی مہذب ہو، اسلام کے مزاج سے مطابقت نہیں رکھتی بلکہ اسلام کی روشن تعلیمات پر ایک بدنما داغ ہے۔

اس سے بھی زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ بعض لوگ اپنے آپ کو ”فقیر برادری” سے منسوب کرکے مانگنے کو اپنا آبائی حق سمجھتے ہیں۔کہیں یہ لوگ اپنے نام کے ساتھ”علوی“لکھتے ہیں اور کہیں ”شاہ“۔ اسلام میں نہ کوئی ایسی برادری ہے اور نہ کسی خاندان کو سوال کرنے کا پیدائشی حق حاصل ہے۔ اسلام میں شرف و فضیلت کا معیار تقویٰ، کردار اور عمل ہے۔اس کا ایک نقصان تو یہ ہے کہ مسلمانوں میں ایک بڑا طبقہ مانگنے کو اپنا پیدائشی حق سمجھ بیٹھا،دوسرا نقصان یہ ہوا کہ ایک بڑے طبقے کے اندرخود کو فقیر سمجھنے کی بنا پر احساس کمتری پیدا گیا،تیسرا نقصان یہ ہوا کہ عام مسلمان ان سے قربت کو ناپسند کرنے لگے،اور سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ اسلام کی تصویر مسخ ہوکر رہ گئی۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض جاہل اور غیر متوازن صوفیانہ رجحانات نے فقر کے صحیح مفہوم کو مسخ کرکے گداگری کو روحانیت کا لبادہ پہنانے کی کوشش کی، حالانکہ اکابر صوفیہ کی زندگیاں محنت، خودداری اور خدمتِ خلق سے عبارت ہیں۔ اسلامی فقر کا مطلب لوگوں کا محتاج بننا نہیں بلکہ دنیا کی حرص سے آزاد ہوکر اللہ پر اعتماد کرنا ہے۔

فقیر کون ہے؟اس کو کیسے پہچانا جاسکتا ہے؟ان سوالوں کے جوابات بھی قرآن میں دیے گئے اور فقراء کی تعریف (Definition)بیان کی گئی ہے۔
لِلْفُقَرَاءِ الَّذِینَ أُحْصِرُوا فِی سَبِیلِ اللّٰہِ لَا یَسْتَطِیعُونَ ضَرْبًا فِی الْأَرْضِ، یَحْسَبُہُمُ الْجَاہِلُ أَغْنِیَاءَ مِنَ التَّعَفُّفِ،تَعْرِفُہُم بِسِیمَاہُمْ، لَا یَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا، وَمَا تُنفِقُوا مِنْ خَیْرٍ فَإِنَّ اللّٰہَ بِہِ عَلِیمٌ (البقرۃ:273)

”یہ صدقات ان فقراء کے لیے ہیں جو اللہ کی راہ میں ایسے گھر گئے ہیں کہ زمین میں چل پھر کر (روزی) حاصل نہیں کر سکتے۔ ان کی خودداری کی وجہ سے ناواقف شخص انہیں مالدار سمجھتا ہے۔ تم انہیں ان کی علامت سے پہچان سکتے ہو۔ وہ لوگوں سے لپٹ کر سوال نہیں کرتے۔ اور تم جو بھی مال خرچ کرو گے، یقیناً اللہ اسے خوب جانتا ہے۔“

اس آیت میں بتایا گیا کہ فقیر وہ معذورین ہیں جویا تو بستی یا ملک کے حالات کی بنا پر اپنا کام نہیں کرسکتے،مثال کے طور پر فساد کے بعد کرفیو کا لگ جانا،کرونا جیسی کسی وبا کا آجانا،مسلسل میدان جنگ میں ہونے کی وجہ سے اپنے اہل و عیال کے لیے روزی نہ کماپانا،یا کسی حادثہ میں ہاتھ پاؤں کھو بیٹھناوغیرہ۔دوسری بات یہ کہی گئی کہ وہ خودداری کی وجہ سے کسی کے سامنے دست سوال دراز نہیں کرتے،اور ان کے رکھ رکھاؤ کی وجہ سے لوگ انھیں مال دار سمجھتے ہیں،پھر وہ کسی سے لپٹتے نہیں،جیسا کہ آج کل پیشہ ور بھکاری پیچھے ہی پڑجاتے ہیں۔ایسے لوگوں کی مدد کرناباعث اجر ہے۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ہر اس شخص کو جو اللہ کے نام پر مدد مانگ رہا ہے اسے کچھ نہ کچھ دے دو،دے نہیں سکتے تو اس سے معذرت کرلو،لیکن جھڑکو نہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ اسی خیال نے گداگری کو بڑھاوا دیا ہے۔اسلام جہا ں کسی کی مدد کرنے کا حکم دیتا ہے وہیں وہ اس بات کی بھی تعلیم دیتا ہے کہ مستحق کو دیا جائے۔اس کا مطلب ہے کہ اگر کوئی شخص ہٹا کٹا ہے،کماسکتا ہے،لیکن اپنے نکمے پن،سستی،کاہلی کی وجہ سے ہاتھ پاؤں مارنا نہیں چاہتا،اس کو بھیک مانگنا ہی آسان لگتا ہے،اوپر سے اگر وہ برادری سے بھی فقیر ہے تو مانگنے کو اپنا پیدائشی حق سمجھتا ہے تو ایسے لوگوں کو سمجھانا چاہئے،گداگری کی حوصلہ شکنی کرنا چاہئے،اگر مانگنے والا ڈھٹائی اور بدتمیزی پر اتر آئے تو اس کے ساتھ سختی بھی کی جانی چاہئے۔سورہ ضحیٰ کی آیت واماالسائل فلاتنھر(سوال کرنے والے کو نہ جھڑکو) میں سائل سے مراد دین کے مسئلہ مسائل معلوم کرنے والا ہے نہ کہ بھیک مانگنے والا(بعض مفسرین نے دونوں مراد لیے ہیں)،اس لیے کہ یہ آیت ووجدک ضالا فھدیٰ کے جواب میں آئی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو اپنی نعمتیں یاد دلاتے ہوئے بتایاہے کہ تم یتیم تھے،تمہیں ٹھکانہ دیا گیا،تم سیدھے راستے تھے واقف نہ تھے تو تمہیں ہدایت دی گئی،تم تنگ دست تھے تو تمہیں مال عطا کیا گیا۔ان نعمتوں کے بعد بالترتیب حکم دیا گیا،پس یتیم پر سختی نہ کرو،سوال کرنے والے کونہ جھڑکو،اور اپنے رب کی نعمت(مال و دولت)کا خوب ذکر کرو۔اگر بھیک مانگنا پسندیدہ یا مباح عمل ہوتا تو نبی اکرم ﷺ یہ نہ فرماتے کہ”آدمی مسلسل لوگوں سے مانگتا رہتا ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت کا ایک ٹکڑا بھی نہ ہوگا۔“(متفق علیہ) ”اگر کوئی شخص جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر اپنی پیٹھ پر لاد کر فروخت کرے تو یہ اس سے کہیں بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے سوال کے لیے ہاتھ پھیلائے۔“(بخاری)

اسی کے ساتھ اسلام نے مال داروں، اہلِ ثروت اور حکومتوں پر بھی ذمہ داری عائد کی ہے کہ وہ معاشرے کے محروم اور مستحق افراد کی خبر گیری کریں۔ زکوٰۃ، صدقات اور دیگر مالی وسائل کا مقصد ہی یہ ہے کہ کوئی شخص بھوک، افلاس اور بے بسی کی وجہ سے ذلت آمیز زندگی گزارنے پر مجبور نہ ہو۔ معاشرے کو چاہیے کہ وہ مستحقین کی تلاش کرے، انہیں ہنر سکھائے، روزگار فراہم کرے اور خود کفیل بنائے۔ آج امتِ مسلمہ کو ازسرِ نو اس نبوی تعلیم کو زندہ کرنے کی ضرورت ہے کہ عزت محنت میں ہے، شرف خودداری میں ہے اور برکت کسبِ حلال میں ہے۔ جب تک ہم اپنی نئی نسل کو محنت، ہنر، تجارت اور خود انحصاری کا سبق نہیں دیں گے، اس وقت تک گداگری کا یہ ناسور ختم نہیں ہوگا۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔