مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی: ایک ہمہ جہت علمی و ملی شخصیت

✍️مفتی محمد آصف اقبال قاسمی

( امام و خطیب جامع مسجد ذکرکیا کالونی مظفرپور)

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی عصرِ حاضر کی اُن ممتاز اور ہمہ جہت علمی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جن کی شناخت کسی ایک تعارف یا منصب کی محتاج نہیں۔ ان کی ذات علم و عمل، فکر و نظر اور تحقیق و خدمت کا ایسا جامع پیکر ہے جس کے مختلف پہلو یکساں طور پر اپنی اہمیت کے حامل ہیں۔ وہ ایک جید عالمِ دین اور صاحبِ فتویٰ ہیں، تو دوسری طرف صاحبِ طرز ادیب، کہنہ مشق صحافی، بلند پایہ مصنف اور باوقار ملی راہنما بھی ہیں۔ ان کی شخصیت میں فقاہت کی گہرائی، ادب کی لطافت، تحقیق کی سنجیدگی، صحافت کی بصیرت اور قیادت کا وقار اس خوش اسلوبی سے یکجا ہو گیا ہے کہ کسی ایک عنوان کے ذریعے ان کا تعارف مکمل نہیں ہو سکتا۔

ان کی پوری زندگی علم کی اشاعت، تحقیق و تصنیف، دعوت و اصلاح، خدمتِ ملت اور دینی و ملی اداروں کی تعمیر و استحکام سے عبارت ہے۔ انہوں نے ہمیشہ علمی روایت کی پاسداری کو اپنی ذمہ داری سمجھا، لیکن روایت کے حصار میں مقید ہونے کے بجائے عصرِ حاضر کے فکری، سماجی اور تہذیبی مسائل پر بھی گہری نظر رکھی۔ اس لئے ان کی تحریروں، تقاریر اور عملی خدمات میں ایک طرف اکابر کی علمی روایت کی خوشبو محسوس ہوتی ہے تو دوسری طرف زمانے کی نبض پر ہاتھ رکھنے والے صاحبِ بصیرت عالم کی فکر بھی نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ ان کی شخصیت اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ جب علم اخلاص سے ہم آہنگ ہو، قلم دیانت کا امین ہو اور خدمتِ خلق مقصدِ حیات بن جائے تو ایک فرد اپنے عہد میں ایک زندہ علمی روایت کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔

برصغیر کی دینی تاریخ میں ہمیشہ ایسے رجالِ کار پیدا ہوتے رہے ہیں جنہوں نے علم کو محض درسگاہوں کی چار دیواری تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے معاشرے کی فکری اور اخلاقی تعمیر کا ذریعہ بنایا۔ مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی اسی زریں روایت کے ایک معتبر نمائندے ہیں۔ ان کی زندگی اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہے کہ جب علم اخلاص سے وابستہ ہو، قلم دیانت کا امین ہو اور خدمتِ خلق مقصدِ حیات بن جائے تو ایک فرد اپنے عہد کی معتبر آواز بن جاتا ہے۔

بہار کے ایک علمی اور دین دار خانوادے میں آنکھ کھولنے والے مفتی صاحب کو ابتدا ہی سے ایسا ماحول میسر آیا جس میں علم، تہذیب اور دینی شعور سانسوں کی طرح رواں تھے۔ والد محترم کی علمی وابستگی، گھر کے پاکیزہ ماحول اور ابتدائی تربیت نے ان کی شخصیت کی بنیادیں مضبوط کیں۔ بچپن ہی سے مطالعے کا ذوق، نظم و ضبط کی عادت اور دینی اقدار سے وابستگی ان کے مزاج کا حصہ بن گئیں۔ یہی ابتدائی تربیت بعد کی پوری زندگی میں ان کے کردار اور علمی سفر کی رہنما ثابت ہوئی۔

قرآنِ کریم سے ان کا تعلق کم عمری ہی میں استوار ہوگیا تھا۔ حفظِ قرآن، تجوید اور قراءت کی تعلیم کے مراحل طے کرتے ہوئے انہوں نے علومِ دینیہ کی طرف قدم بڑھایا اور پھر دارالعلوم مئو اور دارالعلوم دیوبند جیسے عظیم علمی مراکز سے فیض حاصل کیا۔ دارالعلوم دیوبند میں انہوں نے نہ صرف فقہ، حدیث، تفسیر اور دیگر علوم میں مہارت حاصل کی بلکہ اکابرِ دیوبند کے علمی مزاج، تحقیقی منہج اور اعتدالِ فکر کو بھی اپنے اندر جذب کیا۔ ان کی شخصیت کا ایک نمایاں وصف یہ ہے کہ فراغت کے بعد بھی انہوں نے خود کو طالبِ علم ہی سمجھا۔ مطالعہ، تحقیق اور علم کی جستجو ان کی زندگی کا مستقل عنوان بنی رہی۔

ان کی علمی زندگی کا سب سے درخشاں پہلو مطالعے سے غیر معمولی شغف ہے۔ کتاب ان کی دیرینہ رفیق اور مطالعہ ان کا محبوب مشغلہ رہا ہے۔ انہوں نے علوم کو زبانوں اور دائروں میں تقسیم نہیں کیا بلکہ ہر اس علمی سرمایہ سے استفادہ کیا جو فکر میں وسعت اور نظر میں گہرائی پیدا کر سکتا تھا۔ یہی وسیع مطالعہ ان کی تحریروں کی فکری پختگی، علمی سنجیدگی اور اعتدال کا سرچشمہ بنا۔

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی کی قلمی زندگی نصف صدی سے زائد عرصے پر محیط ایک ایسی مسلسل علمی ریاضت کا نام ہے جس میں اخلاص، مقصدیت اور فکری دیانت ہر مرحلے پر نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے قلم کو کبھی شہرت، ناموری یا اظہارِ ذات کا وسیلہ نہیں بنایا، بلکہ اسے دعوتِ دین، اصلاحِ معاشرہ، فکری رہنمائی اور امت کی علمی امانت کی حفاظت کا مؤثر ذریعہ سمجھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریروں میں وقتی جذبات یا خطیبانہ جوش کے بجائے تحقیق کی پختگی، استدلال کی مضبوطی، اعتدالِ فکر اور خیر خواہی کا جذبہ نمایاں نظر آتا ہے۔

ان کے قلم کی جولانیاں فقہ، حدیث، تفسیر، سیرتِ نبوی، اسلامی تاریخ، معاصر فقہی و سماجی مسائل، صحافت، ادب، شخصیات، ملی و تعلیمی موضوعات اور تہذیبی مباحث تک پھیلی ہوئی ہیں۔ ہر موضوع پر ان کی نگاہ محقق کی، انداز ایک صاحبِ قلم ادیب کا اور اسلوب ایک ذمہ دار عالمِ دین کا ہوتا ہے۔ وہ کسی مسئلے پر اظہارِ خیال سے قبل اس کے تاریخی پس منظر، علمی بنیادوں اور مختلف آراء کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں، پھر نہایت متوازن، مدلل اور شائستہ انداز میں اپنی رائے پیش کرتے ہیں۔ اسی تحقیقی دیانت اور فکری توازن نے ان کی تحریروں کو وقتی مضامین کے بجائے مستقل علمی مراجع کا درجہ عطا کیا ہے۔

ان کی نثر کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں علمی وقار اور ادبی لطافت باہم شیر و شکر دکھائی دیتے ہیں۔ عبارت میں نہ تصنع کی گرانی ہے اور نہ لفظی نمائش کی کوشش؛ بلکہ سلاست، شگفتگی اور معنوی گہرائی اس کا امتیاز ہے۔ ان کی تحریریں قاری کے فکر کو جلا بخشتی، اس کے ذوق کو سنوارتی اور اسے سنجیدہ غور و فکر کی دعوت دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تصنیفات اور مقالات علمی حلقوں، دینی اداروں اور اہلِ قلم کے درمیان ہمیشہ قدر و اعتماد کی نگاہ سے دیکھے گئے ہیں اور انہیں عصرِ حاضر کی علمی و ادبی روایت کا ایک معتبر سرمایہ تصور کیا جاتا ہے۔
ان کے اسلوبِ نگارش کی سب سے بڑی خصوصیت سادگی اور وقار ہے۔ وہ مشکل سے مشکل موضوع کو بھی ایسی شگفتگی اور وضاحت کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ عام قاری بھی استفادہ کرتا ہے اور اہلِ علم بھی ان کی علمی بصیرت کے معترف نظر آتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں جذباتیت کے بجائے استدلال، شور کے بجائے شعور اور تعصب کے بجائے اعتدال ملتا ہے۔ اختلافی مسائل میں بھی ان کا طرزِ بیان نہایت مہذب، منصفانہ اور عالمانہ ہوتا ہے۔

صحافت کے میدان میں بھی ان کی خدمات نمایاں ہیں۔ انہوں نے صحافت کو محض خبر رسانی کا ذریعہ نہیں سمجھا بلکہ اسے ملت کی فکری رہنمائی اور سماجی اصلاح کا مؤثر وسیلہ بنایا۔ ان کے اداریے اور تجزیاتی مضامین حالاتِ حاضرہ پر گہری نظر اور متوازن فکر کی ترجمانی کرتے ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ نوجوان قلم کاروں کی حوصلہ افزائی کی اور علمی و ادبی ذوق کی آبیاری میں اہم کردار ادا کیا۔

علمی اور قلمی خدمات کے ساتھ ساتھ ان کی تنظیمی اور ملی زندگی بھی نہایت تابناک ہے۔ امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ جیسے عظیم ادارے میں نائب ناظم کی حیثیت سے انہوں نے جو خدمات انجام دی ہیں وہ ان کی انتظامی صلاحیت، فکری بصیرت اور ملی درد مندی کی روشن مثال ہیں۔ ان کے نزدیک قیادت منصب کا نام نہیں بلکہ خدمت اور امانت کا دوسرا عنوان ہے۔ اسی احساسِ ذمہ داری نے انہیں عوام اور خواص دونوں حلقوں میں عزت و اعتماد کا مقام عطا کیا۔

وفاق المدارس الاسلامیہ اور دیگر دینی و تعلیمی اداروں سے ان کی وابستگی بھی ان کے وسیع تر تعلیمی وژن کی غماز ہے۔ وہ ہمیشہ اس بات کے داعی رہے ہیں کہ دینی مدارس اپنی علمی روایت کو محفوظ رکھتے ہوئے زمانے کے بدلتے ہوئے تقاضوں سے بھی آگاہ رہیں۔ روایت اور تجدید کے درمیان توازن ان کی فکر کا بنیادی وصف ہے، جس کی جھلک ان کی تحریروں، تقاریر اور عملی زندگی میں یکساں طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔

ان کی شخصیت کا ایک اور دل آویز پہلو انکسار، خوش اخلاقی اور انسان دوستی ہے۔ علمی شہرت اور اہم ذمہ داریوں کے باوجود ان کے مزاج میں عاجزی، شفقت اور خلوص نمایاں ہے۔ وہ نوجوانوں کی رہنمائی، اہلِ قلم کی حوصلہ افزائی اور عام لوگوں کے مسائل کے حل میں ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں۔ یہی اخلاقی حسن ان کی علمی عظمت کو مزید وقار بخشتا ہے۔

ان کی گراں قدر علمی، ادبی اور صحافتی خدمات کا اعتراف مختلف علمی و ادبی حلقوں نے کیا ہے۔ اسی سلسلے میں الکریم یونیورسٹی، کٹیہار (بہار) نے اردو زبان و ادب کی غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں انہیں اعزازی ڈاکٹریٹ سے سرفراز کیا، جو ان کی علمی و قلمی جدوجہد کا ایک اہم اعتراف ہے۔

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی کی زندگی کا ایک نہایت درخشاں اور قابلِ رشک پہلو ان کا تواضع، اخلاص اور خدمتِ دین کا وہ جذبہ ہے جو ہر مرحلے پر نمایاں نظر آتا ہے۔ بسا اوقات علم و فضل، شہرت اور بلند مناصب انسان کے مزاج میں تکلف اور فاصلے پیدا کر دیتے ہیں، لیکن مفتی صاحب کی شخصیت اس اعتبار سے اکابرِ سلف کی یاد تازہ کرتی ہے کہ علمی رفعت کے ساتھ انکسار، اور منصب کے ساتھ بے نفسی ان کا مستقل شعار ہے۔ ان کے نزدیک دین کی دعوت، وعظ و نصیحت اور اصلاحِ عوام کسی منصب کا تقاضا نہیں بلکہ ایک دینی فریضہ اور انبیائے کرام علیہم السلام کی وراثت ہے، اسی لیے وہ اس خدمت کو ہمیشہ سعادت سمجھ کر انجام دیتے ہیں۔

راقم کو متعدد مواقع پر ان کے اس وصف کا قریب سے مشاہدہ کرنے کا شرف حاصل ہوا ہے۔ چونکہ وہ اکثر ہماری مسجد میں جمعہ کی نماز ادا فرماتے ہیں اور اسی محلے میں ان کی رہائش بھی ہے، اس لیے جب کبھی ان سے جمعہ کے موقع پر خطاب کی درخواست کی گئی، انہوں نے کبھی عذر، تردد یا مصروفیت کا سہارا نہیں لیا، بلکہ نہایت خندہ پیشانی، تواضع اور اخلاص کے ساتھ اسے قبول فرمایا۔ موضوع خواہ عقائد و عبادات سے متعلق ہو، سیرتِ نبوی ﷺ کا ہو، تزکیۂ نفس کا ہو یا معاشرتی اصلاح کا، وہ ہر عنوان پر قرآن و سنت کی روشنی میں نہایت مؤثر، مدلل اور دل نشیں انداز میں خطاب فرماتے ہیں۔ ان کی گفتگو میں علم کی پختگی کے ساتھ دل کی سوز بھی شامل ہوتی ہے، اس لیے ان کے کلمات صرف ذہنوں کو مخاطب نہیں کرتے بلکہ دلوں پر بھی اثر چھوڑتے ہیں اور سامعین کے اندر عمل کی ایک نئی امنگ بیدار کر دیتے ہیں۔

حضرت مولانا و مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی دامت برکاتہم کی شفقتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انہوں نے میری علمی و قلمی کاوشوں کی ہمیشہ حوصلہ افزائی فرمائی۔ جب میں نے اپنی کتابوں "ایمان کے شعبے” اور "پیارے نبی کی پیاری باتیں” پر تقریظ لکھنے کی درخواست کی تو اپنی بے شمار علمی، تصنیفی اور تنظیمی مصروفیات کے باوجود نہایت محبت اور خندہ پیشانی سے اسے قبول فرمایا۔ ان کی لکھی ہوئی تقریظیں رسمی کلمات نہیں بلکہ گہرے مطالعے، علمی بصیرت اور منصفانہ تجزیے کا آئینہ دار ہیں۔ ان سے نہ صرف میری تصانیف کی علمی قدر و قیمت میں اضافہ ہوا بلکہ ایک طالبِ علم اور اہلِ قلم کی حیثیت سے مجھے مزید محنت، احتیاط اور اخلاص کے ساتھ علمی خدمت کا حوصلہ بھی ملا۔ یہ ان کی شفقت، وسعتِ ظرف اور اہلِ قلم کی حوصلہ افزائی کا روشن ثبوت ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ طرزِ عمل ان کی علمی عظمت سے بڑھ کر ان کے اخلاص اور للّٰہیت کی روشن علامت ہے۔ انہوں نے کبھی دعوت و ارشاد کو شہرت یا منصب سے وابستہ نہیں کیا، بلکہ جہاں بھی دین کی بات کہنے اور لوگوں کو خیر کی طرف بلانے کا موقع ملا، اسے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ امانت سمجھ کر قبول کیا۔ یہی وہ اوصاف ہیں جو کسی عالمِ ربانی کو عوام کے دلوں میں محبوب بناتے ہیں اور اس کے علم میں قبولیت کی برکت پیدا کرتے ہیں۔

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی کی زندگی دراصل علم کے وقار، قلم کی دیانت، فکر کے اعتدال اور خدمت کے اخلاص کی ایک روشن داستان ہے۔ انہوں نے اپنے علم سے اذہان کو جلا بخشی، اپنے قلم سے افکار کو مہمیز دی اور اپنی خدمات سے دینی و ملی روایت کو استحکام عطا کیا۔ بلاشبہ ان کی شخصیت موجودہ نسل کے لیے سرمایۂ افتخار اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔