امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف طلبہ سراپا احتجاج، مطالبات تسلیم ہونے تک تحریک جاری رکھنے کا اعلان
رانچی: جھارکھنڈ میں JPSC اور JSSC کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف طلبہ کا احتجاج مسلسل جاری ہے۔ حکومت اور احتجاج کرنے والے طلبہ کے نمائندوں کے درمیان ہونے والی بات چیت کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی، جس کے بعد طلبہ نے احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
طلبہ کا الزام ہے کہ ریاست میں سرکاری ملازمتوں کے لیے ہونے والے مسابقتی امتحانات کے انعقاد میں شفافیت کا فقدان ہے اور کئی امتحانات میں بے ضابطگیوں کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ طلبہ خاص طور پر 14ویں جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن (JPSC) کے پریلمینری امتحان کو منسوخ کرنے اور پورے معاملے کی مرکزی تفتیشی بیورو (CBI) سے تحقیقات کرانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
احتجاج کرنے والے طلبہ کا کہنا ہے کہ صرف یقین دہانیوں سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ حکومت کو ان کے مطالبات پر عملی کارروائی کرنی ہوگی اور امتحانی نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنا ہوگا۔ طلبہ نے واضح کیا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات پر ٹھوس فیصلہ نہیں ہوتا، احتجاج ختم نہیں کیا جائے گا۔
حکومت کی جانب سے طلبہ سے بات چیت کے لیے نمائندوں کو مدعو کیا گیا تھا۔ مذاکرات میں طلبہ نے اپنے مطالبات حکومت کے سامنے رکھے، تاہم کسی حتمی اتفاق رائے پر پہنچنے میں کامیابی نہیں مل سکی۔
طلبہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے لیے ریاستی سطح پر کی جانے والی کارروائیوں سے انہیں اطمینان نہیں ہے۔ وہ پورے معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کے لیے CBI سے جانچ کرانے پر زور دے رہے ہیں۔
دوسری جانب ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ طلبہ کے مسائل سننے اور ان کے حل کے لیے بات چیت کے لیے تیار ہے۔ حکومت کی جانب سے طلبہ کو یقین دلایا گیا ہے کہ ان کی شکایات پر غور کیا جائے گا۔
ادھر اپوزیشن جماعتوں نے بھی طلبہ کے احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے حکومت پر دباؤ بڑھایا ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ امتحانات میں شفافیت اور نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق معاملے میں حکومت کو سنجیدگی سے کارروائی کرنی چاہیے۔
مذاکرات بے نتیجہ رہنے کے بعد رانچی میں طلبہ کا احتجاج بدستور جاری ہے۔ حکومت اور طلبہ کے درمیان تعطل ختم کرنے کے لیے مزید بات چیت کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔