از:- اورنگزیب
دارالہدیٰ اسلامی یونیورسٹی، کیرالا
میرا یہ پیغام عالمِ اسلام اور خاص طور پر ہندوستانی مسلمانوں کے نام ہے۔ میری بات شاید کچھ لوگوں کو کڑوی محسوس ہو، لیکن اگر اس کڑوی بات میں ہماری اصلاح کا کوئی راستہ نکل سکتا ہے تو ہمیں اسے سننے اور سمجھنے کی کوشش ضرور کرنی چاہیے۔ بات دراصل یہ ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں محبت کے نام پر بہت سی مسلمان بچیاں دین، خاندان اور اپنی تہذیبی اقدار سے دور ہوتی نظر آ رہی ہیں۔ ہماری نوجوان لڑکیاں غیر مسلم نوجوانوں کی محبت کے جال میں پھنس رہی ہیں اور بعض اوقات یہ معاملہ اتنا آگے بڑھ جاتا ہے کہ وہ اپنے گھر والوں سے دور ہو جاتی ہیں۔
لیکن ہمیں صرف لڑکیوں کو موردِ الزام ٹھہرا کر اپنی ذمہ داری سے بری نہیں ہو جانا چاہیے۔ ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ آخر وہ حالات کیوں پیدا ہوئے جن میں ہماری بچیاں باہر کے لوگوں کو اپنا رازدار اور دوست سمجھنے لگیں؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
ہم نے اپنی بچیوں کو تعلیم کے نام پر گھر سے باہر نکالا، جو اپنی جگہ ایک اچھی اور ضروری بات ہے، لیکن ہم نے انہیں یہ سکھانے کی کوشش کم کی کہ باہر کی دنیا میں لوگوں کے ساتھ کس طرح کا برتاؤ کرنا ہے، دوستی اور تعلقات کی حدود کیا ہیں، اور کون سا راستہ انہیں فائدہ پہنچا سکتا ہے اور کون سا راستہ نقصان کی طرف لے جا سکتا ہے۔ تعلیم صرف کتاب پڑھنے کا نام نہیں، بلکہ زندگی کو سمجھنے کا نام بھی ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ بچیوں کو تعلیم کے لیے گھر سے باہر نہ نکالا جائے۔ ہرگز نہیں۔ علم حاصل کرنا ہر انسان کی ضرورت ہے۔ لیکن جب ہم اپنی بچیوں کو تعلیم، ملازمت یا دوسرے مشاغل کے لیے گھر سے باہر بھیجتے ہیں تو ہماری ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے۔ ہمیں انہیں اعتماد، سمجھ داری، اخلاق، دینی شعور اور زمانے کے حالات سے واقفیت دینی ہوگی۔
اگر ہم ایک بھائی، باپ یا سرپرست ہیں تو ہمیں اپنی بچیوں کے ساتھ صرف حکم دینے والا تعلق نہیں رکھنا چاہیے۔ ہمیں ان کے ساتھ ایسا تعلق قائم کرنا چاہیے کہ وہ اپنی خوشی، پریشانی، خوف، سوالات اور مشکلات ہمارے ساتھ بلا جھجھک بیان کر سکیں۔ ایک بیٹی اگر اپنے والد سے بات کرنے میں خوف محسوس کرے گی تو ممکن ہے وہ اپنی بات کسی باہر کے شخص سے کہنے لگے۔ اگر بھائی بہن کے ساتھ ہر وقت سختی کرے گا تو ممکن ہے کہ بہن اپنے مسائل کے لیے کسی ایسے شخص کی طرف متوجہ ہو جائے جو اسے نرمی سے سننے والا معلوم ہو۔اسی لیے ضروری ہے کہ گھر میں محبت بھی ہو اور تربیت بھی، آزادی بھی ہو اور ذمہ داری بھی، اعتماد بھی ہو اور نگرانی بھی۔
ہمیں اپنی بچیوں سے وقت نکال کر بات کرنی ہوگی۔ ان سے پوچھنا ہوگا کہ ان کے دوست کون ہیں؟ ان کی پڑھائی کیسی چل رہی ہے؟ انہیں کوئی پریشانی تو نہیں؟ ان کے دل میں کوئی ایسی بات تو نہیں جسے وہ کسی سے کہنے سے ڈر رہی ہوں؟ والدین کا کام صرف یہ نہیں کہ وہ بچی کے لیے فیس ادا کریں، کتابیں خریدیں اور کھانا فراہم کریں۔ والدین کا اصل کام اس کی شخصیت بنانا بھی ہے۔
آج کے زمانے میں گھر سے باہر نکلنا ہی ضروری نہیں کہ کسی اجنبی سے تعلق قائم ہو۔ موبائل فون اور سوشل میڈیا نے پوری دنیا کو انسان کے کمرے تک پہنچا دیا ہے۔ ایک شخص گھر میں بیٹھ کر بھی ایسے لوگوں سے رابطہ قائم کر سکتا ہے جنہیں اس نے کبھی حقیقت میں دیکھا تک نہیں۔ فیس بک، انسٹاگرام، واٹس ایپ اور دوسری سوشل میڈیا ایپس نے رابطے آسان کر دیے ہیں۔ ان کے بہت سے فائدے ہیں، لیکن اگر ان کا استعمال سمجھ داری کے بغیر کیا جائے تو یہ نقصان کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔ اس لیے والدین کو صرف یہ کہہ کر مطمئن نہیں ہونا چاہیے کہ ہماری بچی گھر میں بیٹھی ہے، لہٰذا وہ محفوظ ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ وہ موبائل پر کیا دیکھ رہی ہے، کس سے بات کر رہی ہے اور کس قسم کے لوگوں سے تعلق قائم کر رہی ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہر وقت جاسوسی کی جائے۔ بہتر راستہ اعتماد اور تربیت ہے۔ بچی کو اتنا سمجھدار بنایا جائے کہ وہ خود غلط اور صحیح میں فرق کر سکے۔
نوجوانی میں انسان کو کسی ایسے شخص کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جس سے وہ اپنی باتیں شیئر کر سکے۔ اگر گھر میں یہ جگہ والدین اور بہن بھائی فراہم نہیں کریں گے تو نوجوان باہر کسی کو اپنا رازدار بنا سکتے ہیں۔ یہاں ہمیں ایک اہم بات سمجھنی ہوگی کہ صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ "کسی سے دوستی مت کرو”۔ ہمیں یہ بھی بتانا ہوگا کہ اچھی صحبت کیا ہوتی ہے، بری صحبت کیا ہوتی ہے، اور کسی تعلق میں حدود کیوں ضروری ہیں۔ ہمیں اپنی بچیوں کو یہ سمجھانا ہوگا کہ ہر نرم لہجے میں بات کرنے والا شخص مخلص نہیں ہوتا، ہر تعریف کرنے والا دوست نہیں ہوتا اور ہر محبت کا دعویٰ حقیقی محبت نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی انسان کو وہی شخص سب سے اچھا لگنے لگتا ہے جو اس کی کمزوریوں کو سمجھ کر اسے اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اس لیے نوجوانوں کو جذبات کے ساتھ ساتھ عقل سے فیصلہ کرنا بھی سکھانا ہوگا۔
اس مسئلے کا ایک پہلو ہم اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری بچیاں محفوظ رہیں تو ہمیں اپنے لڑکوں کی تربیت بھی کرنی ہوگی۔ ہر لڑکے کو یہ سکھانا ہوگا کہ کسی لڑکی کے جذبات کے ساتھ کھیلنا، جھوٹے وعدے کرنا، جذباتی دباؤ ڈالنا یا کسی کی کمزوری سے فائدہ اٹھانا انتہائی غلط ہے۔معاشرہ صرف لڑکیوں کی نگرانی سے محفوظ نہیں ہوسکتا۔ لڑکوں کی اخلاقی تربیت بھی اتنی ہی ضروری ہے۔
ہم اپنی بچیوں کو صرف یہ نہ بتائیں کہ "یہ کام حرام ہے” بلکہ انہیں یہ بھی سمجھائیں کہ اسلام انسان کو کن مشکلات سے بچانا چاہتا ہے۔دین صرف چند پابندیوں کا نام نہیں۔ دین انسان کو عزت، پاکیزگی، ذمہ داری، حیا، صبر اور صحیح فیصلہ کرنے کا شعور دیتا ہے۔اگر بچپن سے بچیوں کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت، رسولِ اکرم ﷺ کی محبت، قرآن سے تعلق اور اچھے اخلاق پیدا کیے جائیں تو وہ زندگی کے مختلف مراحل میں بہتر فیصلے کرنے کے قابل ہوں گی۔ دینی تعلیم کے ساتھ دنیاوی تعلیم بھی ضروری ہے، کیونکہ ہمیں ایسی نسل چاہیے جو دین کو سمجھنے کے ساتھ دنیا کے حالات کو بھی سمجھ سکے۔ یہاں ایک انتہائی اہم بات ہے جسے ہمیں اپنے معاشرے میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔
اگر ہماری کوئی بیٹی غلط فیصلہ کر بیٹھے، کسی غلط تعلق میں مبتلا ہو جائے یا گھر والوں سے کوئی ایسی بات چھپا لے جس کے نتائج بعد میں سامنے آئیں، تو ہمیں صرف غصہ نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اب اسے بچانے کا راستہ کیا ہے۔ غلطی کرنے والے انسان کو ہمیشہ کے لیے دھتکار دینا مسئلے کا حل نہیں ہے۔
اگر ایک بچی اپنے گھر واپس آنا چاہتی ہے تو اسے یہ احساس ہونا چاہیے کہ اس کے لیے گھر کے دروازے بند نہیں ہوئے۔ اسے اصلاح کا موقع ملنا چاہیے۔ اسے سمجھایا جائے، اس کی مدد کی جائے اور اس کے مستقبل کو بہتر بنانے کی کوشش کی جائے۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ انسان غلطی کر سکتا ہے، لیکن توبہ اور اصلاح کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔
گھر واپسی کو شکست نہ سمجھیں
بعض خاندان یہ سوچتے ہیں کہ اگر ہماری بیٹی کسی غلط راستے سے واپس آ گئی تو لوگ کیا کہیں گے؟ میں پوچھنا چاہتا ہوں: لوگ زیادہ اہم ہیں یا ہماری بیٹی کی زندگی؟ اگر ایک انسان غلط راستے سے واپس آ جائے تو یہ شکست نہیں، بلکہ ایک بڑی کامیابی ہے۔ ہمیں اپنی بچیوں کو یہ یقین دینا چاہیے کہ اگر کبھی ان سے غلطی ہو بھی جائے تو وہ اپنے گھر والوں کے پاس واپس آ سکتی ہیں۔ گھر وہ جگہ ہونی چاہیے جہاں انسان اپنی سب سے بڑی پریشانی بھی لے کر جا سکے۔اگر ہم گھر کے دروازے بند کر دیں گے تو پھر وہ کہاں جائے گی؟
ہمیں اپنی بیٹی کو آئینہ بنانا چاہیے، بوجھ نہیں
اگر کوئی بچی غلطی سے واپس آتی ہے تو ہمیں اسے ساری زندگی طعنے نہیں دینے چاہئیں۔ اس کی غلطی کو سمجھ کر اسے اپنی زندگی سنوارنے کا موقع دینا چاہیے۔ ہاں، اسے اس غلطی کے نتائج اور اس کے اسباب سے ضرور آگاہ کیا جائے، تاکہ وہ دوبارہ اسی راستے پر نہ جائے۔ لیکن اسے معاشرے کے سامنے ذلیل کرنا، ہر وقت اس کے ماضی کو یاد دلانا اور اسے محبت سے محروم کر دینا کسی اصلاح کا ذریعہ نہیں۔
ہمیں ایسی بچیوں کو آئینہ بنانا چاہیے کہ آنے والی نسلیں ان کے تجربات سے سبق حاصل کریں۔ جب کوئی انسان اپنی داستان خود بیان کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے یہ غلطی کی، اس کا یہ نقصان ہوا اور میں اس راستے سے واپس آئی، تو شاید بہت سی دوسری بچیاں اس تجربے سے سبق لے سکیں۔
والدین کو وقت دینا ہوگا
آج ہمارے بہت سے والدین اپنی اولاد کی ضروریات پوری کرنے میں مصروف ہیں، لیکن ان کے دل کی ضروریات سے غافل ہیں۔ بچی کے پاس اچھا لباس ہے، اچھا موبائل ہے، اچھی تعلیم ہے، لیکن کیا اس کے پاس کوئی ایسا شخص بھی ہے جس سے وہ اپنے دل کی بات کر سکے؟ والدین کو روزانہ کچھ وقت اپنی اولاد کے لیے ضرور نکالنا چاہیے۔ کبھی ساتھ بیٹھ کر کھانا کھائیں، کبھی ان کے ساتھ چہل قدمی کریں، کبھی ان کی بات خاموشی سے سنیں۔
ہر بات کا جواب ڈانٹ نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی انسان کو صرف یہ چاہیے ہوتا ہے کہ کوئی اسے سن لے۔ بچیوں کی تربیت میں دو انتہاؤں سے بچنا ہوگا۔ ایک طرف وہ والدین ہیں جو اولاد کو بالکل آزاد چھوڑ دیتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ بچی خود سب سمجھ جائے گی۔
دوسری طرف وہ والدین ہیں جو ہر قدم پر سختی کرتے ہیں، ہر بات پر شک کرتے ہیں اور ہر سوال کا جواب ڈانٹ سے دیتے ہیں۔ دونوں طریقے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ والدین محبت کے ساتھ حدود مقرر کریں، اعتماد کے ساتھ نگرانی کریں اور نگرانی کے ساتھ آزادیِ ذمہ داری بھی دیں۔
میرے عزیز دوستو!
ہمیں اپنی بچیوں کو بچانا ہے، گنوانا نہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری بچیاں دین سے جڑی رہیں، اپنی عزت و وقار کو سمجھیں اور زندگی میں کامیاب ہوں تو ہمیں صرف ان پر پابندیاں لگانے سے کام نہیں چلے گا۔ ہمیں ان کے دلوں تک پہنچنا ہوگا۔
ہمیں ان کے دوست بننا ہوگا۔ ہمیں ان کی بات سننی ہوگی۔ ہمیں انہیں دین سمجھانا ہوگا۔ ہمیں انہیں دنیا کے فتنوں سے آگاہ کرنا ہوگا۔ ہمیں سوشل میڈیا کے صحیح استعمال کی تربیت دینی ہوگی۔ ہمیں ان کے تعلیمی ماحول سے واقف رہنا ہوگا۔ اور سب سے بڑھ کر ہمیں ایسا گھر بنانا ہوگا جہاں بیٹی کو یہ یقین ہو کہ دنیا چاہے اسے چھوڑ دے، اس کا گھر اسے نہیں چھوڑے گا۔
اور اگر کبھی کوئی بچی غلط راستے پر چلی بھی جائے تو ہمارا کام اسے ہمیشہ کے لیے ختم کرنا نہیں، بلکہ اسے واپس لانا ہونا چاہیے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اگر ہاتھ پر گندگی لگ جائے تو ہاتھ نہیں کاٹا جاتا، بلکہ گندگی کو صاف کیا جاتا ہے۔ اسی طرح اگر ہماری کسی بچی سے کوئی غلطی ہو جائے تو ہمیں اپنی بچی کو ہی ختم نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اس غلطی کو دور کرنے کی تدبیر کرنی چاہیے۔
ہمیں اپنی بچیوں کے دامن پر لگی گرد کو صاف کرنا ہے، ان کے دامن کو ہی نہیں پھاڑ دینا۔ ہمیں انہیں سزا سے زیادہ اصلاح کا راستہ دکھانا ہے، نفرت سے زیادہ محبت دینی ہے اور طعنوں سے زیادہ حوصلہ دینا ہے۔ کیونکہ بچی صرف ایک فرد نہیں ہوتی، وہ ایک آنے والی نسل کی ماں بھی ہوتی ہے۔ آج ہم اگر اپنی بچیوں کی صحیح تربیت کریں گے تو کل ایک بہتر خاندان وجود میں آئے گا، ایک بہتر معاشرہ تشکیل پائے گا اور ایک بہتر نسل ہمارے سامنے ہوگی۔ اس لیے میری تمام والدین سے، بھائیوں سے، اساتذہ سے اور معاشرے کے ذمہ دار افراد سے گزارش ہے:
اپنی بچیوں کو صرف گھر کی عزت نہ سمجھیں، انہیں گھر کی ذمہ داری بھی سمجھیں۔ انہیں صرف روکیں نہیں، سمجھائیں۔ صرف ڈانٹیں نہیں، سنیں۔ صرف نگرانی نہ کریں، اعتماد بھی دیں۔ اور اگر کبھی وہ گر جائیں تو انہیں چھوڑیں نہیں، ہاتھ پکڑ کر اٹھائیں۔ کیونکہ ہمارا مقصد یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہماری بچیاں کبھی غلطی نہ کریں؛ ہمارا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ اگر وہ کبھی غلطی کریں تو انہیں واپس آنے کا راستہ ضرور معلوم ہو۔
بچیوں کو بچانا ہے، گنوانا نہیں!