کانوڑ یاتریوں پر متنازع تبصرہ، ساجد رشیدی کے خلاف مظفرنگر میں ایف آئی آر؟

نئی دہلی: مولانا ساجد رشیدی ایک بار پھر کانوڑ یاترا سے متعلق اپنے متنازع بیان کے باعث خبروں میں ہیں۔ سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ کانوڑ یاتریوں کو مبینہ طور پر ’’دہشت گرد‘‘ قرار دینے والے بیان کے سلسلے میں اتر پردیش کے مظفرنگر میں ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

ساجد رشیدی اس سے قبل بھی کانوڑ یاترا کے معاملے پر اپنے بیانات کے باعث تنازع میں رہ چکے ہیں۔ 2025 میں کانوڑ یاترا کے دوران گوشت کی دکانیں بند رکھنے کے سرکاری احکامات پر انہوں نے اعتراض کرتے ہوئے اسے آئین اور لوگوں کی روزی روٹی کے خلاف قرار دیا تھا۔

اسی دوران ان کا ایک اور بیان بھی سامنے آیا تھا، جس میں انہوں نے کانوڑ یاتریوں کے لیے ’’بھگوا دہشت گرد‘‘ کی اصطلاح استعمال کی تھی۔ اس بیان کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا اور نیوز چینلز پر شدید ردعمل دیکھنے کو ملا تھا اور ساجد رشیدی کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اب سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ گردش کر رہا ہے کہ اسی بیان کے معاملے میں مظفرنگر میں ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ تاہم اس ایف آئی آر کی فی الحال کسی معتبر اور تازہ ذریعے سے آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ اس لیے ایف آئی آر درج ہونے کے دعوے کو فی الوقت حتمی خبر کے طور پر پیش کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

ساجد رشیدی اس سے قبل بھی اپنے بعض متنازع بیانات کے باعث قانونی کارروائی کا سامنا کر چکے ہیں۔ 2025 میں سماج وادی پارٹی کی رکن پارلیمنٹ ڈمپل یادو کے بارے میں مبینہ قابل اعتراض تبصرے کے معاملے میں بھی ان کے خلاف ایف آئی آر درج کیے جانے کی خبر سامنے آئی تھی۔

کانوڑ یاترا سے متعلق تازہ دعوے کے تناظر میں اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ مظفرنگر پولیس کی جانب سے ایف آئی آر کے حوالے سے کوئی باضابطہ تصدیق یا وضاحت سامنے آتی ہے یا نہیں۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔