از:- ڈاکٹر محمد اعظم ندوی
ملک کے نوجوانوں نے کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے بینر تلے سڑکوں پر اتر کر جس احتجاجی تحریک کا آغاز کیا، اس نے سیاسی جماعتوں کی سوچ میں ایک خاص قسم کی الجھن پیدا کردی ہے، اور ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ الجھن زیادہ نمایاں ہوتی جارہی ہے، حکومت نے اگرچہ مظاہرین کے اہم مطالبات تسلیم کرکے وقتی طور پر اپنی جان بچالی، لیکن دوسری تنظیمیں اب بھی اس نئے ابھرتے ہوئے رجحان Phenomenon کو سمجھنے اور اس کے مضمرات کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں۔
اسی پس منظر میں جمعرات کو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ RSS کے سربراہ موہن بھاگوت کا یہ بیان خاص اہمیت رکھتا ہے کہ Generation Z کو ملک دشمن Anti-national نہیں سمجھنا چاہیے، انہوں نے اس نسل کو سابقہ نسلوں کے مقابلے میں زیادہ دیانت دار اور مخلص قرار دیا، بھاگوت ایک ایسی تنظیم کے سربراہ ہیں جس کے فکری ڈھانچے میں ہندوتوا کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اور جسے وسیع پیمانے پر بی جے پی کا نظریاتی سرچشمہ Ideological Fountainhead سمجھا جاتا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ احتجاج کرنے والے نوجوان "ہمارے اپنے لوگ اور ہماری اگلی نسل ہیں”؛ ان کے اندر حب الوطنی اور خدمت کا حقیقی جذبہ موجود ہے، لہٰذا ان کے ساتھ گرمجوشی کے ساتھ دوستانہ ماحول میں مکالمہ ہونا چاہیے۔
حقیقت یہ ہے کہ حق احتجاج ایک بنیادی حق ہے جو ملک کا آئین شہریوں کو فراہم کرتا ہے، اور جم,ہوری حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ احتجاج کرنے والوں سے گرمجوشی اور دوستانہ انداز میں بات کرے، مظاہرین نے جن مسائل کی نشان دہی کی ہے، حکومت کا فرض ہے کہ ان کا جائزہ لے اور ایسے طریقے سے ان کا حل تلاش کرے جو حتی الامکان ان کے لیے قابل قبول ہو، اگر ان مسائل کے حل کے لیے انتظامی تبدیلی درکار ہے تو اسے شروع کرنا بھی حکومت ہی کی ذمہ داری ہے، ایسا کرکے حکومت مظاہرین پر کوئی احسان نہیں کرتی۔
ان نوجوانوں نے بالکل واضح کردیا ہے کہ سرپرستانہ اور تحقیر آمیز رویہ Condescending Attitude اور انہیں کمتر سمجھ کر نصیحتیں کرنا یا اوپر سے بات کرنا Talking Down ان کے ساتھ کارگر نہیں ہوسکتا، وہ صاف، دوٹوک اور دیانت دارانہ مکالمہ چاہتے ہیں۔
موہن بھاگوت کا یہ موقف دائیں بازو کی سیاست Right-wing Politics کے پیروکاروں اور میڈیا کے ایک حلقے میں نوجوان مظاہرین کے متعلق پائی جانے والی الجھن کو کسی حد تک دور کرنے میں مدد دے سکتا ہے، ان حلقوں نے پہلے ہی یہ نظریات گھڑ کر پھیلانے شروع کردیے تھے کہ CJP کے مظاہرین ملک دشمن Anti-nationals اور غدار Traitors ہیں؛ انہوں نے ملک کو کمزور اور غیر مستحکم کرنے کے لیے غیر ملکی فنڈنگ ایجنسیوں اور ملک دشمن عناصر سے پیسے لیے ہیں؛ نہ ان کے اندر حب الوطنی ہے اور نہ قومی خدمت کا کوئی جذبہ۔
آر ایس ایس کا مصلحت پرستانہ ہی سہی نسبتاً متوازن موقف شاید ایسے لوگوں کو معقولیت سے کام لینے پر آمادہ کرے اور وہ پورے واقعے کو محض دائیں بازو کے زاویۂ نگاہ سے دیکھنے کے بجائے درست تناظر میں دیکھنے کی کوشش کریں۔
تاہم موہن بھاگوت کی یہ وضاحتیں Gen Z اور Gen Alpha کے لیے شاید بہت زیادہ معنی نہیں رکھتیں، حالاں کہ ان کا خطاب انہی نسلوں سے تھا، یہ ایسی نسلیں ہیں جنہیں "غدار” اور ’”ملک دشمن” جیسے الفاظ اچھال کر نہ خوف زدہ کیا جاسکتا ہے اور نہ مرعوب، ممکن ہے اس طرح کے الزامات ان سابقہ نسلوں کے معاملے میں مؤثر رہے ہوں جو آج ملک کی سیاست اور سیاسی نظام کی سمت متعین کررہی ہیں، لیکن نئی نسل کا مزاج اس سے مختلف ہے۔
جو لوگ قانون اور آئین کے دائرے میں رہ کر کام کرتے ہیں اور ان مسائل کے لیے آواز اٹھاتے ہیں جنہیں حکومت حل کرنے میں ناکام رہی ہے، ان کا مطالبہ یہ ہے کہ ان مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ، مخلصانہ اور دیانت دارانہ کوششیں کی جائیں، لامتناہی سیاسی بحثوں، الزام و جوابِ الزام اور دلائل و جوابی دلائل Arguments and Counter-arguments میں الجھے رہنا اس نسل کا مزاج نہیں۔
اس لیے بہتر ہوگا کہ حکومت اور اسے فکری سمت فراہم کرنے والی آر ایس ایس، Gen Z کے اس بنیادی مزاج کو اچھی طرح سمجھیں؛ چوں کہ اسی نسل کو وہ خود "ملک کا مستقبل” قرار دیتے ہیں، اور مسلمان صرف تماشائی بننے کے بجائے مایوسی اور خوف سے باہر آنے کی کوشش کریں اور سوچ سمجھ کر نئی منصوبہ بندی کریں، لعل الله يحدث بعد ذلك أمرا.