فطوبی للغرباء

از قلم: محمد فہیم الدین بجنوری

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: "اسلام کسمپرسی کے عالم میں رونما ہوا، پھر ایک وقت کس نمی پرسد کی کیفیت میں ہوگا، اس وقت اسلام کی ذمے داری قبول کرنے والے قابلِ مبارک باد ہیں”، فی زمانہ مشرق وسطی میں اسلام دو طرفہ حصار کا شکار ہے، ایک جانب ایران حملہ آور ہے اور دوسری طرف اسرائیل دائمی خطرہ ہے، خطے میں اسلام کے دونوں دشمن غیر معمولی طور پر طاقت ور ہیں اور ناتواں مسلمان آسان شکار کی حیثیت میں ہیں۔

"ویل للعرب” میں عربوں کی تخصیص کے معنی یہ ہیں کہ غیر عرب مسلمانوں میں کچھ دم خم موجود ہوگا، خاص عرب پورے طور پر غیر محفوظ خانے میں ہوں گے، چناں چہ ایک سے زائد غیر عرب مسلم ریاستیں "حربی سدِ راہ” کا درجہ رکھتی ہیں؛ مگر عربوں کے لیے یہ شان ایک خوابِ خرگوش ہے، وہ ایران کے سامنے بے دست وپا ہیں، یہی وجہ ہے کہ انھوں نے غیر عرب مسلم قوتوں کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا، مشہور مکہ معاہدہ بلا تاویل ان دو میں سے صرف ایک خطرے کے لیے وجود میں آیا ہے۔

بے شک مکہ معاہدہ صرف ایرانی خطرے کی پیش بندی ہے، سعودی عرب کو اسرائیل کی طرف سے سو فی صد اطمینان ہے، اس کا ضمانتی بھی بڑا ہے، ایران کی کوئی ضمانت نہیں، یہ سکے کا ایک پہلو ہے، یعنی جس طرح سعودی عرب کا معاہدہ ایران سے بچاؤ پر مرکوز ہے، اسی طرح ایران کے تمام تر میزائل اور جنگی اسباب "سعودی قبلہ” ہیں، اگر کسی کو شک ہے تو وہ یمن کی تازہ مشتعل جنگ میں عارضی فتوحات کی ویڈیوز دیکھ لے، سارے حوثی مکہ مدینہ فتح کرنا چاہتے ہیں، وہ مدینہ فتح کرنے کے لیے کیوں بے تاب ہیں یہ ان کی اساسی کتابوں میں لکھا ہے کہ ابو بکر وعمر رضی اللہ عنہما کو نعوذ باللہ روضۂ مبارک سے نکال کر سولی پر لٹکائیں گے۔

یہ وہ زمانہ ہے جب شیعہ لٹریچر کا مطالعہ ترجیح بن گیا ہے، اسلام کی آزمائش میں شیعہ سر فہرست رہے ہیں؛ لیکن نیا منظر الگ ہے، اس میں وہ ایک عالمی طاقت ہیں، ماضی میں اسلام کو اس درجہ بچاؤ کی ضرورت نہیں تھی، اس بار خطرہ بڑا اور سنجیدہ ہے، ایران یورش سیاسی ہاتھوں میں نہیں ہے، پوری جنگ شیعہ نظریہ لڑ رہا ہے، ہر پیش قدمی پر شیعہ جشن برپا ہے، اگر عربوں کا یہ امتحان متجاوز ہوتا ہے تو اسلام کی تاریخ میں یہ اب تک کا سب سے نازک وقت کہلائے گا، یہ وہاں تک جانے پر مصر اور بضد ہوں گے جہاں کے عہد و پیمان زبانی اور تحریری طور پر اٹھائے ہوے ہیں۔

جن احباب کو ایران کا یہ جھوٹ متاثر کرتا ہے کہ حوثی خود مختار ہیں، ایران کے آلۂ کار نہیں، ان کی آنکھیں کھل سکتی ہیں اگر سعودی عرب حوثیوں پر بڑا حملہ کردے؛ کیوں کہ ایسی صورت میں ایران چلمن سے باہر آکر فعال ہوگا اور حوثیوں کی مدد اس سے کہیں زیادہ کرے گا جو امریکہ اسرائیل کی کرتا رہا ہے، یہ تعبیر ہی غلط ہے کہ حوثیوں نے سعودی اقتصاد کی شہ رگ پائپ لائن کو نشانہ بنایا ہے؛ کیوں کہ یہ خالصتا ایرانی حملہ تھا، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ زمین عراق کی استعمال ہوئی یا یمن کی۔

اسلام کے خلاف ایران کی نئی جارحیت نے اسرائیل کے دونوں ہاتھوں میں لڈو رکھ دیے ہیں، میں یہ تسلیم کرنے کے لیے تیار ہوں کہ مملکت اور اسرائیل کے درمیان پسِ پردہ معاہدہ ہے؛ تاہم معاہدہ وہیں ممکن ہے، جہاں اسبابِ اختلاف موجود ہوں، یعنی مشرق وسطی میں باہمی عداوت ایک مثلث ہے، ایران، اسرائیل اور خلیجی ریاستیں یا زیادہ منقح طور پر سعودی عرب، یہ تینوں مشرق وسطی کے مدعی ہیں، اسلامی محاذ تن آسان واقع ہوا اور امریکی تکیے پر مکتفی رہا، اس دوران دونوں فریق قیامت کی چال چل گئے، صورت حال یہ ہے کہ اگر مملکت "فل فلیگ موڈ” اختیار کرتی ہے تو ایران دبوچ لے گا، سعودی عرب کے دفاع میں اسرائیل آگے آیا تو مسلم رائے عامہ بھی ایران کی طرف جھک جائے گی۔

اسرائیل ممکنہ تصادم میں سعودی عرب کی مدد کے لیے پا بہ رکاب ہے، دونوں صورتوں میں اس کا ایک دشمن کم ہوتا ہے، دنگل بے نتیجہ رہا تو دشمنوں کا ہلکان ہونا بھی عظیم کامیابی ہے، ایسی کسی بھی لڑائی میں اسرائیل ہر طرح کی سرمایہ کاری کرے گا، موجودہ نقشہ ویل للعرب کو دیوار پر لکھا ہوا دکھا رہا ہے، ارض حرم کے سر پر طوفان منڈلا رہا ہے، ہمارے انتظار کے لیے ہنگامی حالات ہی درکار ہیں، بعید نہیں کہ افراتفری کی صورت ایرانی حرکتوں سے پیدا ہو اور پھر شر سے خیر کی نمود کا قرآنی دستور تاریخی مثال درج کرے، ایران سب سے بڑا شر ہے، بہت ممکن ہے کہ سب سے بڑی خیر اس کی فتوحات کے شکم سے پیدا ہو، مسلمانوں کے لیے سخت وقت جھانک رہا ہے، جب اسلام کی ذمے داری لینا آسان نہیں ہوگا؛ لیکن اس وقت کے اصحابِ لبیک ہی فطوبی للغرباء کے مصداق ہیں، یہی خوش بخت حضرت مہدی کے خیر مقدم میں منتخب ہوں گے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔