موازنہ کی نفسیات اوراس کے اثرات

از:- محمد جاوید قاسمی

حق ایجوکیشن اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن کانپور

کائناتِ خداوندی انتہائی سحر انگیز، حسین اور دل کش ہے۔اس کی خوبصورتی کا ایک بڑا راز اس میں پائے جانے والے اختلاف و تنوع میں مضمر ہے۔کائنات کا ہر وجود دوسرے سے کسی نہ کسی اعتبار سے مختلف ہے، یک رنگی و یکسانیت اس کی فطرت کے خلاف ہے۔ یہی صورتِ حال اس کائنات کے اہم ترین اور اشرف وجود،یعنی انسان کی بھی ہے۔

ہرانسان دوسرے انسان سےجسمانی ساخت،قد وقامت، رنگ وروپ ، طبیعت و مزاج ،احساسات و جذبات، مال و دولت اور صلاحیت و استعداد اور ذہنی ساخت کے اعتبار سے مختلف ہے ۔ کوئی کالا ہے ،کوئی گورا اور کوئی سانولا، کوئی حسین ہے تو کسی کو اس کے مقابلے میں کم حسن عطا ہوا ہے۔ کسی کا جسم دبلا ہے تو کوئی فربہ ہے ،کوئی دراز قامت ہے تو کوئی پستہ قد۔ اسی طرح ذہنی صلاحیتوں میں بھی یکسانیت نہیں، کوئی اعلیٰ ذہن رکھتا ہے، کوئی متوسط اور کوئی نسبتاً کم ذہنی صلاحیتوں کا حامل ہے۔ طبیعت و مزاج میں بھی نمایاں تفاوت پایا جاتا ہے ، کوئی نرم مزاج ہےتو کوئی سخت طبیعت، کسی کو جلد غصہ آتا ہے تو کسی کو دیر سے۔ کسی کی پسند و ناپسند دوسروں سے مختلف ہوتی ہے، کوئی آرام پسند ہےتو کوئی محنت اور مجاہدے کو ترجیح دیتا ہے۔

یہ تمام اختلافات انسانی معاشرے کا فطری حصہ ہیں، خالق کائنات نےاپنی حکمت اور مصلحت کے تحت ہر انسان کو ایک خاص صورت،مزاج اور صلاحیت عطا کی ہے۔ اسی حقیقت کوقرآن یوں واضح کرتا ہے :”وہی ہے جو ماؤں کے پیٹ میں جس طرح چاہتاہے تمہاری صورت بناتا ہے ۔”(آل عمران:6) اور ” جس صورت میں چاہا، اس نے تجھے جوڑ کر تیار کیا۔”(انفطار:8)
ایک جگہ یوں ارشاد فرمایا : ” ہم نے انسان کو بہترین سانچے میں ڈھال کر پیدا کیا ہے۔”(التین :4)۔

انسانوں کے درمیان فرق محض شکل و صورت تک محدود نہیں، بلکہ صلاحیتوں اور استعداد میں بھی نمایا ں تفاوت پایا جاتا ہے۔کسی کے اندر مؤثر خطاب کرنے کی صلاحیت ہوتی ہےتو کوئی قلم کا شہسوار ہوتا ہے،کسی میں قائدانہ صلاحیتیں ہوتی ہیں،کسی کے اندر تدریسی استعداد اور کوئی انتظامی امور میں غیر معمولی مہارت رکھتا ہے، کوئی جسمانی کام میں ممتاز ہوتا ہے تو کوئی ذہنی کام میں،کسی کو بات جلد سمجھ میں آجاتی ہے تو کسی کو سمجھنے میں کچھ وقت لگتا ہے۔کوئی خلوت پسند ہوتا ہے تو کوئی لوگوں میں گھلنے ملنے کو پسند کرتا ہے۔ کوئی غیر معمولی قوت حافظہ کا مالک ہوتا ہے،کسی میں تجزیاتی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے اور کسی میں تخلیقی صلاحیت نمایاں ہوتی ہے۔

اسی طرح مال و دولت کے اعتبار سے بھی اللّٰہ تعالی نے انسانوں کے درمیان تفاوت رکھا ہے ، سب کی معاشی حالت یکساں نہیں ، کسی کے پاس زیادہ دولت ہے تو کسی کے پاس کم۔ ارشادِ خداوندی ہے : "دنیوی زندگی میں ان کی روزی کے ذرائع بھی ہم نے تقسیم کر رکھے ہیں اور ہم نے ہی ان میں سے ایک کو دوسرے پر درجات میں فوقیت دی ہے تاکہ وہ ایک دوسرے سے کام لے سکیں ۔”(زخرف 32)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے معاشی تفاوت ذکر کرنے کے ساتھ اس کی ایک حکمت بھی بیان فرمائی ہے کہ انسان ایک دوسرے کے کام آسکیں۔اگر سب کی مالی حالت یکساں ہوتی تو باہمی تعاون اور تقسیمِ کارکی وہ بنیاد باقی نہ رہتی جس کے ذریعے انسانی معاشرہ اپنا نظام چلاتا ہے۔

معلوم ہوا کہ انسانوں میں تفاوت اوراختلاف اللّٰہ رب العالمین کی حکمت کا حصہ ہے،مخلتف شکل و صورت عطا کرنا، الگ الگ صلاحیتوں سے نوازنا اور مال و دولت میں ایک کو دوسرے پر فوقیت دینا، سب امورِ الٰہی ہے۔ اسی لیے اس میں کسی بھی قسم کی تبدیلی ممکن نہیں اور اگر کوئی ناکام کوشش کرتا بھی ہے تو اسے فطرت سے بغاوت کے نتائج کا سامنا ضرور کرنا ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ روزگارِ کائنات کو رواں دواں رکھنے کے لیےدنیا میں مختلف صلاحیتوں اور کرداروں کا وجود نا گزیر ہے،اگر تمام انسان یکساں ہوجائیں تو کاروبارِ دنیا جمودو تعطل کا شکار ہوجائےگا۔

اسی تناظر میں اگر موازنہ کی نفسیات کا جائزہ لیاجائے تو ان چیزوں میں موازنہ کرنا جس میں انسان کو کسی قسم کا اختیار نہیں دیا گیا ہے، بے سود نظر آتا ہے۔اس لیے اگر کوئی شخص اپنی شکل وصورت اور جسمانی ساخت کا موازنہ کسی دوسرے سے کرتا ہے اور اپنے خد و خال سے ہمہ وقت پریشان رہتا ہے تو یہ رویہ اس کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتاہے۔ایسی کوشش سے کوئی حقیقی فائدہ حاصل نہیں ہوتا؛ اس کے نتیجے میں حسرت، یاس، ناشکری اور احساسِ کمتری پیدا ہوسکتا ہے، جو انسانی سکون کے دشمن ہیں۔

اسی طرح اگر کوئی شخص اپنی فطری صلاحیتوں کا موازنہ دوسروں سے کرتا ہےاور ایسی استعداد حاصل کرنے کی کوشش کرے جس میں اس کاکوئی اختیار ہی نہیں تو یہ خواہش بھی پریشانی کا باعث بن سکتی ہے۔ مثال کے طور پر کوئی عورت یہ خواہش کرے کہ کاش وہ مرد ہوتی تاکہ مردوں کے بعض مخصوص کام انجام دے سکتی۔ تو ایسی خواہش فطرت کے خلاف ہے قرآن کریم نے بھی ایسی تمنا کرنے سے منع کیا یے جس میں انسان کواختیار حاصل نہیں۔چنانچہ جب دور نبوی ﷺ میں بعض صحابیات نے یہ تمنا کی کہ اگر وہ مرد ہوتیں تو وہ بھی جہاد میں حصہ لے کر مزید اجر حاصل کر لیتیں تو اس پر اللہ نے وحی نازل فرماکر متنبہ فرمایا :”اور جن چیزوں میں ہم نے تم کو ایک دوسرے پر فوقیت دی ہے ،ان کی تمنا نہ کرو، مرد جو کچھ کمائی کریں گے، ان کو اس میں سے حصہ ملے گا ،اور عورتیں جو کچھ کمائی کریں گی،ان کو ان میں سے حصہ ملے گا۔اور اللہ سے اس کا فضل مانگا کرو، بیشک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والے ہیں۔”(النسا ء: 32)

اس آیت کریمہ کا حکم صرف ان صحابیات تک ہی محدود نہیں بلکہ قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لیے راہنمائی فراہم کرتاہے۔ انسان کو چاہیے کہ ان امور میں اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر راضی رہے جن میں اس کا اپنا کوئی اختیار نہیں۔اللہ تعالیٰ نے کسی شخص کو ایک اعتبار سے فضیلت دی ہے تو کسی دوسرے کو کسی اور اعتبار سے۔ اس لیے ایسی چیزوں کی تمنا کرتے رہنا جنہیں انسان بدل نہیں سکتا، اکثر بے فائدہ حسرت اور ذہنی پریشانی ہی کا سبب بنتا ہے۔ البتہ جن چیزوں کے حصول میں انسان کو اختیار دیا گیا ہے،ان میں وہ بھرپور جدوجہد کرسکتا ہے، بلکہ اسے کرنی چاہیے۔ دوسروں کے اچھے اخلاق دیکھ کر اپنے اندر وہ اخلاق پیدا کرنے کی کوشش کرنا، کسی کو زیادہ علم والا دیکھ کرخود علم حاصل کرنے کی محنت کرنا،اور کسی کی عبادت و نیکی سے متاثر ہوکر اپنی اصلاح اور ترقی کی کوشش کرنا مثبت موازنے کی مثالیں ہیں۔

مالی تفاوت کے معاملے میں بھی انسان کو اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی رہنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ نے جو مال و دولت عطا فرمائی ہے، اس پر شکر ادا کرتے ہوئے حلال ذرائع سے مزید جدوجہد کرتے رہنا چاہیے۔کسی دوسرے سے اپنی دولت کا موازنہ کرتے رہنا مناسب نہیں، کیونکہ ایسا موازنہ انسان کو اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کی ناقدری اور ناشکری کی طرف لے جاسکتا ہے اور حسد جیسی مہلک بیماری میں مبتلا کرسکتا ہے۔

اگر کبھی انسانی فطرت کے تقاضے کے تحت دوسروں کا مال و دولت یا ظاہری حالت دیکھ کر دل میں محرومی کا احساس پیدا ہوجائے تو رسول اللہ ﷺ نے اس کا ایک مؤثر علاج بتایا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "جب تم میں سے کوئی شخص کسی ایسے آدمی کو دیکھے جو مال اور شکل و صورت میں اس سے بڑھ کر ہے تو اسے ایسے شخص کا دھیان کرنا چاہئے جو اس سے کم درجہ کا ہے ۔”(بخاری)

اس تعلیم کا فائدہ یہ ہے کہ انسان اپنی نعمتوں کو حقیر نہیں سمجھتا ہے بلکہ اللہ تعالی کا شکر ادا کرتا ہے اور حسد جیسی مہلک بیماری سے محفوظ رہنے کی کوشش کرتا ہے۔

اسی حقیقت سے ناواقفیت کی وجہ سے انسان موازنہ کا شکار ہوجاتا ہے اور ان چیزوں میں بھی دوسروں سے اپنا موازنہ کرنے لگتا ہے جن میں اس کا کوئی اختیار نہیں،مثلاً شکل و صورت،حسن و جمال،پیدائشی ذہنی وجسمانی صلاحیتیں اور بعض معاشی حالات۔ نتیجتاً وہ ذہنی پریشانی، احساسِ کمتری اور بے اطمینانی کا شکار ہوجاتا ہے۔

اس سلسلے میں بچوں کے ساتھ بھی بڑی ناانصافی کی جاتی ہے، بعض والدین معمولی معمولی باتوں پر اپنے بچوں کا موازنہ دوسرے بچوں سے کرتے ہیں جس سے بچے کے اندر احساسِ کمتری جیسا نفسیاتی عارضہ جنم لے لیتا ہے جو اس کی ذہنی، فکری اور شخصی نشوونما کے لیے نقصان دہ ہے۔یہ رجحان عام ہے کہ تعلیم کے معاملے میں بعض اوقات بچے کے فطری رجحان اور صلاحیت کو سمجھے بغیر محض دوسرے بچوں سے موازنہ کرکے انہیں وہ سبجیکٹ پڑھنے پر مجبور کیا جاتا ہےجس میں انہیں کوئی دلچسپی نہیں ۔ بعض مرتبہ والدین کی طرف سے ایسا دباؤ ہوتا ہے کہ بچہ خود کشی کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے ۔

بہرکیف، ان امور میں موازنہ کرنا جن میں انسان کو کوئی اختیار حاصل نہیں، بے سود ہے اور اسے ناقدری، ناشکری، حسرت اور احساسِ کمتری میں مبتلا کرسکتا ہے۔ اس کے برعکس مثبت موازنہ جیسے علم میں آگے بڑھنا، اخلاق کوبہتر بنانا، عبادت میں سبقت کرنا،صدقہ و خیرات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا اور خدمتِ خلق میں ایک دوسرے سے آگےنکلنے کی کوشش کرنا، نہ صرف جائز ہے بلکہ قابلِ تحسین بھی ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔