جھوٹی اور ضعیف روایات سے اللہ کے نبی کی سیرت کو داغ دار نہ کیجیے!

از:- عبدالغفارصدیقی

ربیع الاول کا مہینہ آتے ہی دلوں میں ایک خاص کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ نبی کریمؐ کی یاد تازہ ہوتی ہے، سیرت کے جلسے ہوتے ہیں، درود و سلام کی محفلیں سجتی ہیں اور رسول اللہؐ سے محبت کے جذبات اپنے عروج پر پہنچ جاتے ہیں۔ یہ محبت ایمان کا حصہ ہے۔ مسلمان کے لیے رسول اللہؐ سے بڑھ کر کوئی محبوب نہیں ہوسکتا۔ لیکن اسی محبت کے ماحول میں ایک سوال بھی ہمارے سامنے کھڑا ہوتا ہے: کیا ہم اپنے محبوب رسولؐ کی طرف وہی بات منسوب کرتے ہیں جو حقیقت میں آپؐ نے فرمائی یا آپؐ کی سیرت سے ثابت ہے؟

یہ سوال کسی کی محبت پر اعتراض نہیں، بلکہ محبت ہی کا تقاضا ہے۔ جس ہستی سے ہمیں سب سے زیادہ محبت ہے، اس کے بارے میں بات کرتے ہوئے ہمیں سب سے زیادہ محتاط بھی ہونا چاہیے۔ رسول اللہؐ نے اپنی طرف جھوٹی بات منسوب کرنے سے سختی کے ساتھ منع فرمایا: ”جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا، وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔“)متفق علیہ(
آج ہمارے معاشرے میں رسول اللہؐ کے فضائل اور سیرت کے حوالے سے بہت سی باتیں ایسی مشہور ہیں جو یا تو ضعیف روایات سے منقول ہیں، یا جن کی کوئی معتبر بنیاد نہیں، یا پھر کسی روایت کے مفہوم کو بڑھا چڑھا کر ایسا بنا دیا گیا ہے کہ وہ اصل روایت سے بالکل مختلف نظر آنے لگتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان باتوں کو جذبات کے بجائے تحقیق کی نگاہ سے دیکھیں۔

سب سے پہلے یہ جملہ ملاحظہ کیجیے: ”اگرمحمدؐ نہ ہوتے تو کچھ بھی نہ ہوتا۔“ یہ جملہ محبت اور عقیدت کے جذبات سے کہا جاتا ہے، لیکن اسے قرآن یا صحیح حدیث کے طور پر پیش کرنا درست نہیں۔ کائنات کا خالق اللہ تعالیٰ ہے، وہی مالک ہے، وہی رازق ہے اور وہی تمام اختیارات کا حقیقی مالک ہے۔ رسول اللہؐ اللہ کے برگزیدہ بندے اور آخری رسول ہیں۔ آپؐ کا مقام بے مثال ہے، لیکن آپؐ اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں۔ قرآن نے آپؐ کی عظمت بیان کرتے ہوئے اسی عبدیت کو بھی نمایاں کیا ہے۔ ہمیں اپنے نبیؐ کی عظمت بیان کرنے کے لیے ایسی بات کی ضرورت نہیں جو قرآن و سنت سے ثابت نہ ہو۔حضور اکرم ؐ کی تخلیق اللہ کے عین منصوبے کے مطابق تھی۔اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کی روح کو پہلے پیدا کررکھا ہے۔کسے کب زمین پر آنا ہے وہی جانتا ہے۔اول تو اس طرح کی کوئی بات قرآن میں نہیں ہے اور نہ حضور ؐ نے ہی بیان فرمائی ہے۔اس جملہ سے دیر رسولوں کی توہین سی ہوتی ہے۔ایسا لگتا ہے کہ باقی تمام انبیاء کرام (نعوذ باللہ) حضور ؐ کے استقبال کے لیے یا ان کے لیے دری بچھانے کے واسطے پیدا ہوئے تھے۔سوال یہ بھی ہے کہ آپ ؐ کیوں نہ ہوتے؟جب کہ وہ اللہ تعالیٰ کے منصوبہ کا حصہ تھے۔یوں تو آپ کسی بھی نبی کے بارے میں کہہ سکتے ہیں۔آپ کہہ سکتے ہیں ”آدم ؑ نہ ہوتے تو کچھ بھی ہوتا“۔”حضرت نوح نہ ہوتے تو کچھ بھی نہ ہوتا“وغیرہ
اسی طرح ایک واقعہ بہت مشہور ہے کہ حضرت آدمؑ نے محمدؐ کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی اور ان کی توبہ قبول ہوگئی۔ اس سلسلے میں بعض روایات نقل کی جاتی ہیں، لیکن ان کی صحت کے بارے میں محدثین نے کلام کیا ہے۔ اس لیے اسے قطعی اور یقینی واقعہ کے طور پر بیان کرنا مناسب نہیں۔ حضرت آدمؑ کی توبہ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی مغفرت قرآن مجید میں بالکل واضح طور پر موجود ہے۔ قرآن کہتا ہے: ”پھر آدم نے اپنے رب سے چند کلمات سیکھ لیے، تو اللہ نے ان کی توبہ قبول کرلی، بے شک وہ بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔“ (سورۃ البقرۃ: 37) جب قرآن نے واقعہ اس وضاحت کے ساتھ بیان کردیا تو ہمیں غیر ثابت روایت کی ضرورت ہی کیا ہے؟

ایک اور بات بہت مشہور ہے کہ رسول اللہؐ کا سایہ نہیں تھا۔ بعض لوگ اسے آپؐ کی خصوصیت اور معجزہ قرار دیتے ہیں۔ لیکن اس بارے میں کوئی ایسی صحیح اور صریح روایت موجود نہیں جس کی بنیاد پر ہم اسے یقینی حقیقت کے طور پر بیان کریں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ رسول اللہؐ کے معجزات بے شمار اور صحیح احادیث سے ثابت ہیں۔ اس لیے آپؐ کی عظمت ثابت کرنے کے لیے ہر مشہور بات کو معجزہ بنا دینا نہ علمی دیانت ہے اور نہ محبت کا تقاضا۔

اسی طرح یہ کہنا کہ رسول اللہؐ بشر نہیں تھے بلکہ محض نور تھے، ایک ایسا جملہ ہے جس میں الفاظ کے استعمال سے بہت بڑا فرق پیدا ہوجاتا ہے۔ قرآن مجید رسول اللہؐ کی زبان سے کہلواتا ہے: ”کہہ دیجیے: میں تو تم ہی جیسا ایک بشر ہوں، میری طرف وحی کی جاتی ہے۔“ (سورۃ الکہف: 110) غور کیجیے!اس آیت کے مطابق آپؐ بشر ہیں، لیکن عام بشر نہیں۔آپؐ اللہ کے آخری نبی، اس کے رسول اور وحی کے امین ہیں۔ آپؐ کی نبوت آپؐ کو تمام انسانوں سے بلند مقام عطا کرتی ہے، مگر اس سے آپؐ کی بشریت ختم نہیں ہوجاتی۔ قرآن نے ایک ہی آیت میں بشریت اور وحی دونوں کو بیان کرکے حقیقت واضح کردی۔

بعض مجالس میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ رسول اللہؐ ”مختارِ کل“ ہیں، یعنی کائنات میں ہر قسم کا اختیار آپؐ کو حاصل ہے۔ یہاں بھی ہمیں محبت اور عقیدے کے درمیان توازن قائم رکھنا ہوگا۔ اختیارِ مطلق اللہ تعالیٰ کا ہے۔ قرآن کہتا ہے: ”قُلْ لَّا أَمْلِکُ لِنَفْسِی ضَرًّا وَّلَا نَفْعًا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّہُ وَلَوْ کُنتُ أَعْلَمُ الْغَیْبَ لَاسْتَکْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ وَمَا مَسَّنِیَ السُّوءُ إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِیرٌ وَّبَشِیرٌ لِّقَوْمٍ یُؤْمِنُونَ(سورۃ یونس: 49)”کہہ دیجیے: میں خود اپنے لیے بھی کسی نفع اور نقصان کا اختیار نہیں رکھتا، مگر جو اللہ چاہے۔ اور اگر میں غیب جانتا ہوتا تو بہت سی بھلائی حاصل کرلیتا اور مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچتی۔ میں تو صرف ان لوگوں کے لیے ڈرانے والا اور خوش خبری دینے والا ہوں جو ایمان لاتے ہیں۔“ قرآن کے یہ واضح بیان ”مختار کل“ کی حقیقت بیان کرنے کے لیے کافی ہے۔ رسول اکرم ؐاللہ کے حکم سے شفاعت فرمائیں گے، دعا کریں گے، امت کی رہنمائی کریں گے،لیکن مستقل اور ذاتی اختیار اللہ تعالیٰ ہی کا ہے۔ یہی توحید کا بنیادی سبق ہے۔

اسی سے ملتی جلتی ایک تعبیر بعض جگہ سنائی دیتی ہے: ”اللہ دیتا ہے اور محمدؐ تقسیم کرتے ہیں۔“ اگر اس جملے سے مراد یہ ہو کہ رسول اکرمؐ اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے دین، علم اور ہدایت کو امت تک پہنچاتے ہیں تو بات کا ایک درست مفہوم ہوسکتا ہے، لیکن اگر اسے اس معنی میں لیا جائے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا حضرت محمد ؐ مستقل طور پر عطا کرنے اور رزق یا نفع و ضرر کے اختیار کے مالک ہیں تو یہ درست عقیدہ نہیں۔ قرآن ہمیں بار بار یاد دلاتا ہے کہ حقیقی عطا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔
رسول اللہؐ کی شفاعت ایک مسلم حقیقت ہے۔ صحیح احادیث میں قیامت کے دن آپؐ کی شفاعت کا تفصیلی ذکر ملتا ہے۔ لیکن شفاعت کو بھی اللہ تعالیٰ کے اختیار سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ قرآن کہتا ہے: ”کون ہے جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرسکے؟“ (سورۃ البقرۃ: 255) لہٰذا یہ کہنا درست ہے کہ رسول اللہؐ کو اللہ تعالیٰ نے عظیم شفاعت عطا فرمائی ہے، لیکن یہ کہنا کہ آپؐ جسے چاہیں گے لازماً بخشوا دیں گے، اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر ہر شخص کی مغفرت آپؐ کے اختیار میں ہے، قرآن کے بیان سے ہم آہنگ نہیں۔ہم گناہ گار امید ہی نہیں بلکہ یہ یقین کر بیٹھے ہیں کہ حضور اکرم ؐ ہماری ضرور اور غیر مشروط شفاعت فرمائیں اور حضور ؐ اپنی بیٹی اور پھوپھی سے کیا فرمارہے ہیں ملاحظہ کیجیے:یَا فَاطِمَۃُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ، یَا صَفِیَّۃُ عَمَّۃَ رَسُولِ اللَّہِ، یَا بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، لَا أُغْنِی عَنْکُمْ مِنَ اللَّہِ شَیْءًا، سَلُونِی مِنْ مَالِی مَا شِءْتُمْ (متفق علیہ)”اے محمدؐ کی بیٹی فاطمہ! اے رسول اللہؐ کی پھوپھی صفیہ! اے بنی عبدالمطلب! میں اللہ کے مقابلے میں تمہارے کچھ کام نہیں آسکتا۔ میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے مانگ لو۔“

ایک اور اہم مسئلہ علمِ غیب کا ہے۔ رسول اللہؐ نے بہت سی ایسی خبریں دی ہیں جو انسانی علم کے دائرے سے باہر تھیں۔ آپؐ نے اللہ تعالیٰ کی وحی کے ذریعے ماضی اور مستقبل کے بہت سے واقعات امت کو بتائے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا علمِ غیب ذاتی، کامل اور غیر محدود ہے، جبکہ رسولوں کو غیب میں سے اتنا ہی علم دیا جاتا ہے جتنا اللہ تعالیٰ چاہتا ہے۔ قرآن کہتا ہے: ”وہ غیب کا جاننے والا ہے اور اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا، سوائے اس رسول کے جسے وہ پسند فرمالے۔“ (سورۃ الجن: 26-27) اور۔ وَلَوْ کُنتُ أَعْلَمُ الْغَیْبَ لَاسْتَکْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ وَمَا مَسَّنِیَ السُّوءُ۔ اور اگر میں غیب جانتا ہوتا تو بہت سی بھلائی حاصل کرلیتا اور مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچتی۔(سورۃ یونس: 49)۔ اس لیے نہ تو رسول اللہؐ کے عطا کردہ غیبی علم کا انکار درست ہے اور نہ یہ کہنا درست ہے کہ آپؐ کو اللہ تعالیٰ کی طرح ہر غیب کا ذاتی اور غیر محدود علم حاصل تھا۔

شمع رسالت کے پروانو!رسول اللہؐ کی عظمت کے لیے ہمیں من گھڑت واقعات، بے اصل قصے اور غیر مستند روایات کی ضرورت نہیں۔ قرآن نے آپؐ کو ”رحمۃ للعالمین“ قرار دیا۔ قرآن نے آپؐ کو ”اسوہئ حسنہ“ قرار دیا۔ قرآن نے آپؐ کو ”خاتم النبیین“کہا۔ آپؐ کے اخلاق کی گواہی خود اللہ تعالیٰ نے دی: ”اور بے شک آپ عظیم اخلاق پر ہیں۔“ (سورۃ القلم: 4)ہمارے لیے یہی کافی ہے۔
آپؐ وہ ہیں جنہوں نے انسانوں کو اللہ سے جوڑا، شرک کی تاریکی سے نکالا، ظلم کے مقابل عدل کا راستہ دکھایا، عورتوں، بچوں، غلاموں، یتیموں، مسکینوں اور کمزوروں کے حقوق کی حفاظت کی، دشمنوں کے ساتھ بھی اخلاق کا مظاہرہ کیا اور اپنی امت کے لیے بے مثال شفقت کا نمونہ پیش کیا۔ آپؐ کی سیرت کا ہر باب ہمارے لیے روشنی ہے۔

پھر کیوں نہ ہم اسی سچی اور روشن سیرت کو لوگوں کے سامنے پیش کریں؟ کیوں نہ ہم بچوں کو وہ رسولؐ دکھائیں جو راتوں کو اپنی امت کے لیے دعا کرتے تھے؟ کیوں نہ ہم نوجوانوں کو وہ نبیؐ بتائیں جنہوں نے علم، عدل، امانت اور حسنِ اخلاق کو زندگی کا مقصد بنایا؟ کیوں نہ ہم دنیا کو اس پیغمبر ؐسے واقف کرائیں جنہوں نے فتح کے دن اپنے بدترین دشمنوں کو بھی معاف کردیا؟

محبتِ رسولؐ کا مطلب یہ نہیں کہ ہم آپؐ کے بارے میں ہر مشہور بات کو بغیر تحقیق کے قبول کرلیں۔ محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ہماری زبان بھی آپؐ کی سنت کی پابند ہو۔ اگر ہم واقعی رسول اللہؐ سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں آپؐ کی طرف وہی بات منسوب کرنی چاہیے جو آپؐ نے فرمائی، اور وہی واقعہ بیان کرنا چاہیے جو معتبر ذرائع سے ثابت ہو۔

ربیع الاول ہمیں صرف جشن یا محفل کا موقع نہ دے، بلکہ اپنے نبیؐ کو صحیح طور پر جاننے کا موقع بھی دے۔ ہم اپنی گفتگو، اپنے گھر، اپنے کاروبار، اپنے معاملات، اپنے اخلاق اور اپنی معاشرت میں سنتِ رسولؐ کو زندہ کریں۔ ہم درود بھی پڑھیں، سیرت بھی پڑھیں، محبت بھی کریں اور تحقیق بھی کریں۔

یاد رکھیے! رسول اللہؐ کی شان بیان کرنے کے لیے مبالغے کی ضرورت نہیں۔ آپؐ کی حقیقی شان قرآن و سنت میں اتنی بلند ہے کہ دنیا کی کوئی زبان اس کا احاطہ نہیں کرسکتی۔ ہمیں اپنے نبیؐ کی محبت میں کمی نہیں کرنی، لیکن محبت کے نام پر وہ بات بھی آپؐ کی طرف منسوب نہیں کرنی چاہیے جو آپؐ نے نہیں فرمائی۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔