دو نشستوں پر مشتمل ورکشاپ میں 230 سے زائد کارکنان کی شرکت، 35 مثالی مساجد، 75 منظم مکاتب، 34 رفقاء اور 15 جدید اکائیوں کے قیام و استحکام کا عزم
پورنیہ، 31 اگست: جمعیۃ علماء ضلع پورنیہ (مشرقی زون) کے زیرِ اہتمام مرکزی جامع مسجد شیشہ باڑی، کربلا ہاٹ، بلاک بیسہ (پورنیہ) میں پیر کے روز ایک عظیم الشان یک روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا، جس میں ضلع کے مشرقی زون سے وابستہ 230 سے زائد فعال کارکنان، مختلف اکائیوں کے صدور و نظماء اور ذمہ داران نے بھرپور شرکت کی۔ دو نشستوں پر مشتمل اس اہم تربیتی پروگرام کا مقصد جمعیۃ علماء کے تنظیمی نظام کو مزید مضبوط بنانا، کارکنان کی فکری و عملی تربیت کرنا اور تعمیری پروگراموں کو زمینی سطح پر مؤثر انداز میں نافذ کرنا تھا۔
ورکشاپ کی قیادت جمعیۃ علماء ضلع پورنیہ مشرقی زون کے جنرل سکریٹری حضرت مولانا ابوصالح صاحب نے فرمائی، جبکہ جمعیۃ علماء ہند کے ناظم عمومی حضرت مولانا محمد حکیم الدین صاحب قاسمی مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوئے۔ پہلی نشست کی صدارت جمعیۃ علماء بہار کے صدر حضرت مولانا مفتی محمد جاوید اقبال صاحب قاسمی نے کی۔
پروگرام کا باقاعدہ آغاز صبح 9 بجے جمعیۃ علماء کی پرچم کشائی، ترانۂ جمعیۃ، تلاوتِ کلام پاک اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سے ہوا۔ افتتاحی نشست میں جمعیۃ علماء ہند کے افکار و نظریات، اس کی جدوجہد، ملک و ملت کے لیے انجام دی جانے والی خدمات اور اکابر کی قربانیوں پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ مقررین نے کارکنان پر زور دیا کہ وہ تنظیمی نظم و ضبط، اخلاص، باہمی تعاون اور مسلسل محنت کو اپنا شعار بناتے ہوئے جمعیۃ کے تعمیری منصوبوں کو عوام تک پہنچانے میں مؤثر کردار ادا کریں۔
دوسری نشست کی صدارت جمعیۃ علماء ضلع پورنیہ مشرقی زون کے صدر حضرت مولانا محمد امتیاز صاحب نے فرمائی۔ اس نشست میں جمعیۃ علماء کے مختلف تعمیری پروگراموں کا تفصیلی تعارف اور آئندہ کے عملی لائحۂ عمل پر گفتگو ہوئی۔ مولانا محمد شمس تبریز رحمانی، ناظم تنظیم جمعیۃ علماء بہار، اور مولانا سلمان قاسمی، ناظم شعبہ جات جمعیۃ علماء بہار، نے پریزنٹیشن کے ذریعے دینی تعلیمی بورڈ، مثالی مسجد، شعبۂ رفیق اور منظم مکتب کے مقاصد، طریقۂ کار اور افادیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
ورکشاپ میں آئندہ مرحلے کے لیے 35 مثالی مساجد، 75 منظم مکاتب، 34 رفقاء اور 15 جدید اکائیوں کے قیام اور موجودہ نظام کو مزید مستحکم کرنے کا عزم کیا گیا۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ محض اعلانات تک محدود رہنے کے بجائے ان منصوبوں کو عملی شکل دینے کے لیے منظم، مسلسل اور باہمی تعاون پر مبنی جدوجہد کی جائے گی۔
مہمانِ خصوصی حضرت مولانا محمد حکیم الدین صاحب قاسمی نے اپنے بصیرت افروز اور پرمغز خطاب میں نئی نسل کی دینی و اخلاقی تربیت، تعمیری پروگراموں کے مؤثر نفاذ اور جمعیۃ علماء کے بنیادی مقاصد پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے کارکنان کو وقت کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے خدمتِ دین و ملت کے میدان میں مزید سرگرم اور منظم کردار ادا کرنے کی ترغیب دی۔
کارکنان اور منتظمین کی خدمات قابلِ تحسین
اس کامیاب تربیتی ورکشاپ کو منظم انداز میں منعقد کرنے اور اسے کامیابی سے ہم کنار کرنے میں مقامی ذمہ داران اور کارکنان کی شب و روز کی محنتیں نمایاں رہیں۔ بالخصوص حضرت مولانا عارف ندوی صاحب، مولانا قیصر صاحب، مفتی عبدالغنی صاحب، مولانا حسن صاحب، مولانا حماد کیفی صاحب، مولانا صدام حسین صاحب، مولانا توقیر عابدی صاحب،مولانا شمس قمر قاسمی، مولانا ناظر حسن صاحب، مولانا سعود صاحب، مفتی دانش صاحب، ضلع پریشد شمشاد عالم، مکھیا افتخار صاحب، سرپنچ امام اختر صاحب اور مفتی زبیر صاحب نے پروگرام کی تیاری، انتظامات، کارکنان کی شرکت یقینی بنانے اور مختلف مراحل کو منظم کرنے میں نہایت فعال اور قابلِ قدر کردار ادا کیا۔
ان ذمہ داران کے ساتھ بڑی تعداد میں مقامی کارکنان نے بھی خاموشی، اخلاص اور جذبۂ خدمت کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دیں۔ ورکشاپ کی کامیابی دراصل اسی اجتماعی محنت، باہمی تعاون اور تنظیمی وابستگی کا نتیجہ قرار دی گئی۔ شرکاء نے منتظمین اور کارکنان کی خدمات کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہی جذبہ آئندہ تعمیری منصوبوں کو عملی کامیابی سے ہم کنار کرنے میں بھی برقرار رہے گا۔
ورکشاپ کے اختتامی مرحلے میں طے شدہ اہداف کو عملی جامہ پہنانے اور زمینی سطح پر کام کو مزید مہمیز دینے کے لیے 54 افراد پر مشتمل ایک خصوصی جماعت تشکیل دی گئی۔ اس جماعت کے ارکان کی آئندہ [ ایک روزہ تربیتی نشست ] 16 ستمبر 2026 کو ٹھیکری باڑی، اتر دیناج پور بنگال میں منعقد کی جائے گی، جہاں انہیں عملی میدان میں ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے مزید تربیت فراہم کی جائے گی۔
اس طرح یہ تربیتی ورکشاپ محض ایک روزہ اجتماع ثابت ہونے کے بجائے جمعیۃ علماء ضلع پورنیہ (مشرقی زون) کے تنظیمی استحکام، کارکنان کی تربیت اور تعمیری پروگراموں کو زمینی سطح پر وسعت دینے کی سمت ایک اہم اور عملی پیش رفت ثابت ہوئی۔ اجلاس کا اختتام دوسری نشست کے صدر حضرت مولانا محمد امتیاز صاحب کی رقت آمیز دعا پر ہوا۔