بھاگلپور/بہار: جمعیتہ علماء بہار کی مجلس منتظمہ کا اجلاس بھاگلپور ضلع کے نوگچھیا کے مدرسہ امدادیہ میں منعقد ہوا. اس صوبائی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی فدائے ملت جمعیتہ علماء ہند کے صدر حضرت مولانا محمد محمود اسعد مدنی صاحب مدظلہ عالی نے کہا کہ جمعیتہ کو صرف نام کی تنظیم بنائے رکھنے کے بجائے اسے عملی طور پر مضبوط اور فعال تنظیم بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ملت کی دینی، تعلیمی، سماجی اور اصلاحی ضروریات کے مختلف میدانوں میں جمعیتہ نے طویل عرصے سے نمایاں خدمات انجام دی ہیں، لیکن بدلتے حالات میں کام کا دائرہ مزید وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت اساتذہ، مزدوروں، طلبہ اور خواتین سمیت مختلف طبقات کے لیے الگ الگ تنظیمیں موجود ہیں، لیکن جمعیتہ کو ملت کے مجموعی مسائل کی ذمہ داری اٹھانی پڑ رہی ہے۔ مکاتب، مدارس، بچوں اور بچیوں کی دینی تعلیم، سماجی اصلاح، منشیات کے خلاف جدوجہد اور دیگر شعبوں میں بھی مؤثر کام کرنا ہوگا۔
جناب مولانا محمود مدنی نے کہا کہ جمعیتہ کو مضبوط بنانے کے لیے گاؤں، محلہ اور ضلع کی سطح پر تنظیمی یونٹ قائم کرنا اور انہیں مسلسل فعال رکھنا ضروری ہے۔ باہر کے اضلاع کے کارکن ہر روز کسی دور دراز گاؤں میں جا کر کام نہیں کرسکتے، اس لیے مقامی سطح پر افراد تیار کرنا ہوں گے جو روزانہ کچھ وقت نکال کر تنظیمی اور اصلاحی سرگرمیاں انجام دیں۔
انہوں نے جمعیتہ کے اجلاسوں میں سادگی اختیار کرنے پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سال میں چند مرتبہ کارکنان کا اجتماع ہو تو غیر ضروری اخراجات کے بجائے سادگی کو ترجیح دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کارکن اپنی استطاعت کے مطابق اجتماع میں شریک ہوں اور اپنی ذمہ داری کو محض دعوت یا ضیافت کے طور پر نہ دیکھیں بلکہ اسے ملت کی خدمت اور قربانی کا ذریعہ سمجھیں۔
مکاتب کے قیام پر خصوصی زور
جناب مدنی نے کہا کہ ہر مسلمان بچے اور بچی تک بنیادی دینی تعلیم پہنچانا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے مدارس کے ذمہ داران سے اپیل کی کہ وہ صرف اپنے مدرسے کے طلبہ تک محدود نہ رہیں بلکہ آس پاس کے دیہی علاقوں میں مکاتب کے قیام اور انہیں منظم کرنے پر بھی توجہ دیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ مدرسے میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کو دینی تعلیم دینا ایک اہم ذمہ داری ہے، لیکن ہر مسلمان بچے اور بچی تک اتنی دینی تعلیم پہنچانے کا انتظام کرنا بھی ضروری ہے جتنی ان پر فرض ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر مدارس اپنے موجودہ وسائل کے ساتھ مکاتب کا نظام قائم کریں تو اس سے دینی تعلیم کا دائرہ وسیع ہوگا اور مدرسوں کی خدمت کا اثر بھی کئی گنا بڑھ سکتا ہے۔
نئی نسل کے ایمان کی حفاظت وقت کی اہم ضرورت
صدر محترم نے کہا کہ موجودہ دور میں نئی نسل کے ایمان اور دینی شناخت کے تحفظ پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد ڈاکٹر بننے والے ایک نوجوان نے بھی قرآن اور نماز کی بنیادی تعلیم حاصل کرنے کی ضرورت کا اظہار کیا، جو موجودہ تعلیمی نظام کے ساتھ دینی تربیت کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صرف اپنی عبادات کی فکر کافی نہیں بلکہ معاشرے کے دوسرے مسلمانوں کے ایمان، دینی تعلیم اور اخلاقی تربیت کی فکر بھی ضروری ہے۔
منشیات کے بڑھتے رجحان پر تشویش
خطاب میں مولانا محمود مدنی نے منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا ۔ جناب صدر نے کہا کہ منشیات کا مسئلہ اب صرف شہروں تک محدود نہیں رہا بلکہ دیہات تک بھی پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے نوجوان نسل کو اس لعنت سے بچانے کے لیے منظم اور مسلسل جدوجہد کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر نوجوانوں کو منشیات سے بچانے کے لیے بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو اس کے انتہائی سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے جمعیتہ کے کارکنان سے اپیل کی کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں اس مسئلے کے خلاف عملی مہم چلائیں۔
بہار کی ذمہ داری پورے ملک کے تناظر میں اہم
مولانا محمود مدنی نے بہار کے لوگوں کے دور اندیشی اور ہمت و جوانمردی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بہار کے حالات اور یہاں کے کارکنان کی صلاحیتیں ملک کے لیے اہم ہیں۔ اگر بہار کے کسی ایک ضلع یا ریاست کی جمعیتہ کمزور ہوتی ہے تو اس کا نقصان صرف اسی علاقے تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات پورے ملک پر پڑ سکتے ہیں۔
انہوں نے کارکنان کو احساس کمتری سے بچنے اور مشکل حالات میں بھی کام کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ جہاں حالات سازگار ہوں وہاں کام کرنا آسان ہے، اصل امتحان وہاں ہے جہاں حالات مشکل ہوں۔ بہار کے کارکنان کو حالات کے رخ کے خلاف کھڑے ہو کر مثبت تبدیلی پیدا کرنے کی صلاحیت پیدا کرنی ہوگی۔
ہر ضلع اپنی چھ ماہ کی کارکردگی پیش کرے
صدر محترم نے تجویز پیش کی کہ جمعیت کے آئندہ اجلاسوں میں ہر ضلع کو مختصر وقت دیا جائے تاکہ وہ اپنی گزشتہ چھ ماہ کی کارکردگی پیش کرے۔ ہر ضلع بتائے کہ اس دوران کتنے مکاتب قائم کیے گئے، کتنی مساجد اور علاقوں میں دینی و اصلاحی سرگرمیاں انجام دی گئیں اور آئندہ چھ ماہ کے لیے کیا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صرف تقاریر سننے اور واپس چلے جانے کے بجائے اجلاس کو مشاورت، احتساب، منصوبہ بندی اور عملی فیصلوں کا ذریعہ بنانا چاہیے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ بڑے نتائج کے لیے قربانی، محنت اور مستقل مزاجی ضروری ہے۔ جس طرح ایک چھوٹا سا بیج مٹی کی تاریکی میں دفن ہو کر ایک بڑا درخت بنتا ہے، اسی طرح کارکنوں کو بھی اپنی ذات اور آرام کی قربانی دے کر ملت کی خدمت کے لیے مسلسل کام کرنا ہوگا۔
اس اجلاس کی صدارت بہار جمیعتہ علماء کے صدر حضرت مولانا مفتی جاوید اقبال قاسمی نے کی جبکہ نظامت کے فرائض بہار جمعیتہ علماء کے ناظم اعلی حضرت مولانا محمد ناظم قاسمی صاحب نے انجام دئے. اجلاس میں سہرسہ ضلع کی کارکردگی حضرت مولانا محمد ضیاء الدین ندوی صاحب نے پیش کیا جبکہ دیگر ضلعوں کے ذمہ داران نے اپنے اپنے ضلع کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل پر روشنی ڈالی. اجلاس میں مختلف تجاویز پیش کی گئی اور ان تجاویز کی تائید کی. آخر میں ناظم عمومی جمعیتہ علماء ہند حضرت مولانا محمد حکیم الدین قاسمی صاحب کے دعا پر پروگرام اختتام کو پہنچا۔