ہماری نسلوں کا کیا ہوگا؟

از:- شفیق فیضی

سہارنپور مسجد کے خلاف ہونے والی بلڈوزر کارروائی میں حکومت اور انتظامیہ پوری طرح ایکسپوز ہو چکے ہیں۔ عالمی میڈیا نے جب اس معاملے کا آئینہ دکھایا تو نیشنل میڈیا کے بعض اینکر بھی مگرمچھ کے آنسو بہانے پر مجبور ہو گئے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ اتنے حساس معاملے پر سیاست نے جو رخ اختیار کیا، وہ انتہائی شرمناک ہے۔

کانگریس کے ممبر آف پارلیمنٹ عمران مسعود، آشو ملک اور بیہٹ سے سماجوادی پارٹی کے ممبر اسمبلی عمر علی خان، مسجد کو بچانے کے لیے کسی عملی اقدام کے بجائے محض بیان بازیوں تک محدود رہے۔ سب جانتے ہیں کہ ایسے حالات میں کسی بھی سیاسی رہنما کو مسجد کی جگہ تک پہنچنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس کے باوجود کیرانہ سے سماجوادی پارٹی کی ممبر آف پارلیمنٹ اقرا حسن کا سہارنپور مسجد جانے کا ڈرامہ، دراصل یہی ثابت کرتا ہے کہ وہ اپنی پارٹی گائیڈ لائن سے اوپر اٹھ کر ملتِ اسلامیہ ہند کی حقیقی ترجمانی نہیں کر سکتیں۔

حالانکہ اگر حالات کا درست اندازہ کرتے ہوئے ایک انسانی زنجیر قائم کی جاتی تو شاید انتظامیہ کو اپنے ارادے پر نظرثانی کرنی پڑتی۔ لیکن جب ووٹ صرف دکھاوا کرنے سے مل جاتا ہو تو پھر کون مصیبت مول لینے کے لیے آگے آئے؟

اصل قصور صرف ان نام نہاد مسلم رہنماؤں کا نہیں ہے۔ مسجد شہید کیے جانے کے اصل مجرم شاید ہم خود بھی ہیں، کیونکہ ہماری ترجیحات ہی غلط ہو چکی ہیں۔

ہم اپنی ترقی، اپنے حقوق اور اپنے وجود کی حفاظت کے لیے ووٹ نہیں دیتے، ہم صرف بی جے پی کو ہرانے کے لیے ووٹ دیتے ہیں۔ ہم ملت اسلامیہ ہند کی تعمیر و ترقی داراہ جاتی منصوبہ بندی ہیں کرتے، ہم آج بھی انہیں ملت فروش ملی تنظیموں کے سہارے بیٹھے ہیں، جنہوں گزشتہ 80 برسوں سے صرف ملت کو لوٹنے کا کام کیا ہے۔ اس دوران ہم یہ بنیادی حقیقت بھول جاتے ہیں کہ چوٹ، چوٹ ہوتی ہے، چاہے اپنا دے یا پرایا۔ ہاں، اگر دل پتھر کا نہ ہو تو اپنوں کے دیے ہوئے زخم زیادہ گہرے اور زیادہ تکلیف دہ ہوتے ہیں۔

انصاف کا ایسا مکروہ چہرہ دیکھ کر کلیجہ منہ کو آ جاتا ہے۔ 1909 میں تعمیر ہونے والی مسجد کی ایک ایک اینٹ اس بات کی گواہی دے رہی ہےکہ مسجد سرکاری زمین پر نہیں ہے۔ خود سہارنپور کلکٹریٹ کی زمین یعقوب اور ولید خان کی ملکیت تھی، جسے ان دونوں نے حکومت کے لیے وقف کر دیا تاکہ کلکٹریٹ کی تعمیر ہو سکے۔ کچھ ماہرین کے مطابق آج بھی وہ زمین انہی کے نام پر درج بتائی جاتی ہے۔ اس کے باوجود مسجد کا شہید کیا جانا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ بھارت میں انصاف کی دیوی نے خودکشی کرلی ہے۔ اس کی عصمت کو اس کے ماننے والوں نے ہی تار تار کردیا ہے۔

سہارنپور مسجد کا شہید کیا جانا انصاف کا وہ شرمناک چہرہ ہے جہاں اپنی زمین پر کلکٹریٹ آباد کرنے والے مسلمانوں کو ہی بے گھر کر دیا گیا۔ شاید آزاد بھارت میں انصاف کا یہی معیار رہ گیا ہے، جہاں نیکی کے بدلے جوتا کھانا پڑتا ہے۔ مسلمانوں نے اپنی زمین دے کر جس کلکٹریٹ کو آباد کیا آج اسی کلکٹریٹ نے مسلمانوں کو برباد کردیا۔

مسلم تنظیمیں اور سیاسی لیڈران آج بھی ان خطرات کو اس سنجیدگی سے لینے کے لیے تیار نہیں، جس کے یہ حالات متقاضی ہیں۔ تلاشِ انصاف کے نام پر تقریباً ہر تنظیم مشوروں، اجلاسوں اور اخباری بیانات سے کام چلا رہی ہے۔

حمام میں سب ننگے ہیں، اس لیے کسی ایک تنظیم یا ادارے کا نام لینا یا نہ لینا زیادہ اہم نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اگر یہی صورتحال کچھ عرصہ مزید جاری رہی تو حالات کتنے دھماکہ خیز ہو سکتے ہیں؟

اس کا تصور کر کے بھی روح کانپ اٹھتی ہے۔

جب انصاف کا خون انصاف کی دیوی کے ہاتھوں ہونے لگے تو ایک بات طے ہو جاتی ہے کہ انصاف کی لڑائی اب صرف اینٹ، گارے اور سیمنٹ سے بنی عمارتوں کے اندر نہیں لڑی جا سکتی۔ اس کے لیے آئینی اصولوں کی روشنی میں عوام کی عدالت میں اترنا ہوگا۔

جب عدالتوں میں انصاف دم توڑنے لگے تو دنیا میں انصاف کی آخری لڑائی عوام کی عدالت ہی میں لڑی جاتی ہے۔

بات صرف مسجد، مدرسہ، مزار یا قبرستان کی نہیں ہے۔ اینٹ، گارے اور سیمنٹ سے بنی عمارتیں ہم دوبارہ بھی بنا سکتے ہیں، اور شاید پہلے سے کہیں زیادہ بہتر بنا سکتے ہیں۔

لیکن اصل سوال ہماری تاریخ کا ہے۔

مسئلہ ہماری آنے والی نسلوں کا ہے۔

اور سب سے بڑا سوال ہمارے اس وجود کا ہے، جو انہی مسجدوں اور مدرسوں کے وجود سے وابستہ ہے۔

اگر ہم انہیں بچانے میں ناکام ہو گئے تو ہماری نسلیں مزید کتنے برسوں تک توحید سے آشنا رہیں گی، یہ بتانا آسان نہیں۔

یہ بات بھی درست نہیں کہ ہمارے مٹ جانے سے توحید کے علمبردار ہمیشہ کے لیے مٹ جائیں گے۔ نہیں، توحید کے علمبردار پھر پیدا ہوں گے۔ اگر ہم اپنے فرائضِ منصبی سے منہ موڑ لیں گے تو اللہ ہماری جگہ کسی دوسری قوم کو لے آئے گا۔

لیکن سوال یہ ہے کہ پھر ہمارا کیا ہوگا؟

ہماری نسلوں کا کیا ہوگا؟

کیا ہم اپنے فرائض سے غفلت برت کر خود کو اور اپنی نسلوں کو ایسے راستے پر چھوڑ دیں گے جہاں کفر اور بت پرستی کے امکانات بڑھتے جائیں؟

اور کیا ہمیں واقعی یہ گمان ہے کہ اس ممکنہ الحاد اور ارتداد کے لیے ہم سے کوئی باز پرس نہیں ہوگی؟

ہم آخر یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ اللہ نے ہمیں توحید کا امین بنایا ہے۔ اس لیے اسلام اور توحید کے خلاف ہونے والے ہر عمل کے مقابلے میں ہماری بھی ایک ذمہ داری ہے، اور اپنے حصے کی ذمہ داری سے منہ موڑنے کا حساب بھی ہمیں ہی دینا ہوگا۔

ہم دنیا میں اپنے فرائضِ منصبی سے منہ موڑ سکتے ہیں، خاموش رہ سکتے ہیں، مصلحتوں کے پردے میں چھپ سکتے ہیں، اور حالات سے نظریں چرا سکتے ہیں۔

لیکن آخرت میں یہی منہ موڑنا، یہی خاموشی اور یہی غفلت شاید ہماری سب سے بڑی خانہ خرابی کا سبب بن جائے۔ اس لئے ابھی بھی وقت ہے ہوش کے ناخن لیں اور اپنے حصے کا فرض ادا کیجئے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔