از:- محمد قمر الزماں ندوی
دگھی گڈا جھارکھنڈ
یہ حقیقت ہے کہ زندگی ہمیشہ ہموار راستے، سازگار حالات اور فراواں وسائل کا نام نہیں یے۔ اس کے دامن میں کہیں آسائش ہے تو کہیں آزمائش، کہیں فراخی ہے تو کہیں تنگی، کہیں کامیابی کے دروازے کھلے ہوئے ہیں تو کہیں مشکلات کی دیواریں راستہ روکے کھڑی ہیں۔ یہی زندگی کا اصل مزاج ہے۔ انسان کی دانش مندی اس میں نہیں کہ وہ مشکلات سے ہمیشہ محفوظ رہے، بلکہ اصل حکمت اور دانائی یہ ہے کہ مشکل حالات میں بھی امکانات تلاش کرے، عسر کے اندر یُسر دریافت کرے اور بند راستوں کے درمیان گزرنے کی کوئی نئی راہ نکال لے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اسی حقیقت کو نہایت مؤثر اور امید افزا انداز میں فرمایا:
﴿فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا﴾
یعنی بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے، یقیناً مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔
قرآن کا یہ اعلان محض تسلی کا جملہ نہیں، زندگی کا ایک ابدی اصول ہے۔ مشکل اپنے اندر آسانی کے امکانات بھی رکھتی ہے، شرط یہ ہے کہ انسان مشکل کو دیکھ کر ٹوٹ نہ جائے، حوصلے نہ ہارے،حالات سے مرعوب نہ ہو اور اپنے ہاتھ پاؤں باندھ کر بیٹھ نہ جائے۔
فراوانی کبھی کبھی انسان کو کمزور بھی کر دیتی ہے:
یہ ایک عجیب مگر قابلِ غور حقیقت ہے کہ اسباب و وسائل کی کثرت ہمیشہ کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتی۔ بعض اوقات ضرورت سے زیادہ سہولت انسان کو بے فکر، بے عمل اور بے مقصد بنا دیتی ہے۔ جب ہر ضرورت بغیر محنت پوری ہونے لگے تو جدوجہد کی تڑپ کم ہوجاتی ہے، اور جب زندگی میں ہر طرف آسانیاں میسر ہوں تو انسان بسا اوقات اس مقصدِ حیات سے بھی غافل ہوجاتا ہے جس کے لیے اسے دنیا میں بھیجا گیا ہے۔
فراوانی اگر شکر، اعتدال اور ذمہ داری پیدا کرے تو نعمت ہے؛ لیکن اگر غفلت، اسراف اور آخرت فراموشی کا سبب بن جائے تو یہی فراوانی آزمائش بن جاتی ہے۔ کتنے لوگ ہیں جنہیں وسائل کی کمی نے نہیں، بلکہ وسائل کی کثرت نے کمزور کیا۔ مال آیا تو مقصدِ زندگی نگاہوں سے اوجھل ہوگیا، آسائش بڑھی تو محنت گھٹ گئی، فرصت ملی تو فکر و تدبر کی جگہ تفریح نے لے لی۔
اس کے برعکس تنگی انسان کو جگاتی ہے، بیدار کرتی ہے، مہمیز لگاتی ہے۔ ضرورت اسے سوچنے پر مجبور کرتی ہے، محرومی اسے راستہ تلاش کرنے پر آمادہ کرتی ہے اور مشکلات اس کے اندر وہ صلاحیتیں پیدا کردیتی ہیں جن کا اسے خود بھی اندازہ نہیں ہوتا۔ اسی لیے کبھی کبھی قلت، کثرت سے زیادہ تربیت کرتی ہے؛ محرومی، آسائش سے زیادہ زندگی کا شعور دیتی ہے۔
وسائل کی کمی، عزم کی کثرت
ہماری علمی زندگی بھی اس حقیقت کی گواہ ہے۔ ایک زمانہ تھا جب بہت سے اہلِ علم محدود وسائل میں مدارس کی تدریس سے وابستہ رہتے، مطالعہ کرتے، قلم اٹھاتے، تصنیف و تالیف کرتے، ترجمے کرتے اور اپنی علمی و فکری کاوشوں سے ایک پوری نسل کو متاثر کرتے تھے۔ نہ سہولتوں کی فراوانی تھی، نہ جدید ذرائع کی کثرت؛ مگر وقت کی قدر تھی، مقصد کا شعور تھا اور قلم میں زندگی تھی۔
پھر بعض حضرات کو بہتر مناصب، سرکاری ملازمتیں، انتظامی ذمہ داریاں اور وسیع تر سہولتیں میسر آئیں۔ توقع تھی کہ وسائل بڑھنے کے ساتھ علمی کام بھی بڑھے گا، مگر بعض صورتوں میں اس کے برعکس ہوا۔ منصب بڑھا تو مطالعہ کم ہوگیا، سہولت بڑھی تو تصنیف و تالیف کی رفتار ماند پڑگئی، مصروفیات میں اضافہ ہوا تو وہ گہرائی اور گیرائی کم ہوتی گئی، جو کبھی ان کے قلم کا امتیاز تھی۔
یہ کسی فرد کی تحقیر نہیں، ایک عمومی انسانی حقیقت کی طرف اشارہ ہے: انسان کبھی کبھی ضرورت میں زیادہ بیدار اور فراوانی میں زیادہ غافل ہوجاتا ہے۔
اسی لیے وسائل کی فراوانی کو کامیابی کا مترادف سمجھنا درست نہیں۔ اصل کامیابی اس شخص کی ہے جو وسائل کو مقصد کا خادم بنائے، مقصد کو وسائل کا غلام نہ بننے دے۔
مشکل کو مسئلہ سمجھیں، مصیبت نہیں
زندگی میں مالی دشواریاں آئیں، کاروبار میں نقصان ہوا، ملازمت کا مسئلہ پیدا ہوا، تعلیمی راستے میں رکاوٹ آئی، کوئی منصوبہ ناکام ہوگیا یا حالات اچانک خلافِ توقع ہوگئے تو عام طور پر انسان سب سے پہلے گھبرا جاتا ہے۔ وہ خطرے کو خطرہ، مشکل کو مصیبت اور رکاوٹ کو انجام سمجھ لیتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں رویہ بدلنے کی ضرورت ہے۔
مشکل کو یہ سمجھ کر دیکھنے کی ضرورت ہے کہ یہ ایک مسئلہ ہے، اور ہر مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔ مسئلے کو سمجھا جائے، اس کے اسباب کا جائزہ لیا جائے، ممکنہ راستے تلاش کیے جائیں، اہلِ تجربہ سے مشورہ کیا جائے، اپنی کوتاہیوں کا احتساب کیا جائے اور پھر مسلسل جدوجہد کے ساتھ آگے بڑھا جائے۔
زندگی میں بہت سے دروازے بند ہوتے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا کے تمام راستے بند ہوگئے۔ کبھی ایک راستہ بند ہوتا ہے تاکہ انسان دوسرے راستے کی تلاش کرے۔ کبھی ایک منصوبہ ناکام ہوتا ہے تاکہ اس سے بہتر منصوبہ سامنے آئے۔ کبھی انسان کو ایک مقام سے ہٹایا جاتا ہے تاکہ اسے کسی دوسرے میدان میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع ملے۔
یہی عسر میں یسر دریافت کرنے کا فن ہے۔
تاریخِ اسلام: مشکل سے منزل تک
اسلام کی ابتدائی تاریخ اس حقیقت کی سب سے روشن مثال ہے۔ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے جاں نثار صحابہؓ نے ایسے حالات دیکھے جن کا تصور بھی آج کے آرام پسند انسان کے لیے دشوار ہے۔ مخالفت، تمسخر، ظلم، معاشرتی بائیکاٹ، ہجرت، جنگیں، مالی تنگی اور طرح طرح کی آزمائشیں سامنے آئیں؛ مگر نہ رسول اللہ ﷺ کی دعوت رکی اور نہ صحابۂ کرامؓ کے قدم ڈگمگائے۔
مکہ کی تنگ گلیوں سے مدینہ کی اسلامی ریاست تک کا سفر ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔ آج اگر زمین تنگ ہے تو کل افق وسیع ہوسکتا ہے۔ آج اگر مشکلات کا ہجوم ہے تو کل اسی جدوجہد کے نتیجے میں کامیابی کے دروازے کھل سکتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں یہ امید، یہ حوصلہ اور یہ عملیت قدم قدم پر نظر آتی ہے۔ آپ ﷺ نے مشکلات سے فرار کا راستہ نہیں اختیار کیا، بلکہ مشکلات کے اندر سے راستہ نکالا۔ اسی لیے ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک پہاڑی راستے کو لوگوں نے الضَّيِّقَة، یعنی تنگ اور مشکل راستہ، کا نام دے رکھا تھا، تو نبی کریم ﷺ نے اس کے لیے الْيُسْرَىٰ یعنی آسانی والا نام پسند فرمایا۔ نام بدلنے کی اس ہدایت میں بھی ایک گہری تربیت پوشیدہ ہے: مشکل راستہ دیکھ کر حوصلہ نہ ہارو؛ اسے آسان بنانے کی کوشش کرو۔
عسر، انسان کے اندر چھپی ہوئی قوت کو بیدار کرتا ہے
یہ دنیا اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے اسباب و علل کے نظام پر قائم ہے۔ مشکلات آتی ہیں تو انسان کے اندر چھپی ہوئی قوتیں بیدار ہوتی ہیں۔ جو شخص آسان زندگی میں شاید کبھی فیصلہ نہ کرسکتا تھا، مشکل میں فیصلہ کرنا سیکھ لیتا ہے۔ جو کبھی وقت کی قدر نہیں کرتا تھا، ضرورت اسے وقت کا پابند بنادیتی ہے۔ جو کبھی مطالعہ اور محنت سے جی چراتا تھا، حالات اسے محنت کا عادی بنا دیتے ہیں۔
اسی لیے مشکل کو ہمیشہ ناموافق حالت سمجھنا درست نہیں۔ بعض مشکلات تربیت گاہ ہوتی ہیں، بعض محرومیاں شخصیت سازی کا ذریعہ بنتی ہیں اور بعض رکاوٹیں انسان کو اس منزل تک پہنچاتی ہیں جس کا تصور بھی اس نے پہلے نہیں کیا ہوتا۔
زندگی کا کامیاب انسان وہ نہیں جس کی راہ میں کبھی کانٹے نہ آئے ہوں؛ کامیاب وہ ہے جس نے کانٹوں کے درمیان چلنا سیکھ لیا ہو۔
دوسروں کی مشکلات کو بھی نظر میں رکھنا چاہیے
مشکل حالات میں انسان کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنی پریشانی کو پوری دنیا کی سب سے بڑی پریشانی سمجھنے لگتا ہے۔ اسے محسوس ہوتا ہے کہ شاید مصیبت صرف اسی کے گھر میں آئی ہے، مشکلات صرف اسی کے حصے میں لکھی گئی ہیں اور حالات صرف اسی کے خلاف ہیں۔
یہ سوچ انسان کو مزید کمزور کرتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں بے شمار لوگ مختلف نوعیت کے مسائل سے دوچار ہیں۔ کسی کے پاس مال ہے مگر سکون نہیں، کسی کے پاس علم ہے مگر مواقع نہیں، کسی کے پاس صلاحیت ہے مگر وسائل نہیں، کسی کے پاس وسائل ہیں مگر مقصد نہیں۔ زندگی کسی کے لیے مکمل طور پر بے مسئلہ نہیں۔
اس احساس سے انسان کو اپنی مشکلات کی شدت سے نکلنے میں مدد ملتی ہے۔ وہ اپنی حالت کو آخری انجام نہیں بلکہ ایک مرحلہ سمجھنے لگتا ہے۔
منزل انہی کو ملتی ہے جو چلتے رہتے ہیں
کامیابی کا بنیادی اصول بہت سادہ ہے: رکنا نہیں ہے۔
گر پڑو تو اٹھو، راستہ بند ہو تو دوسرا راستہ تلاش کرو، رفتار کم ہوجائے تو رفتار بڑھانے کی کوشش کرو، وسائل کم ہوں تو تدبیر بڑھاؤ، ساتھی کم ہوں تو عزم کو ساتھی بناؤ اور اگر حالات ساتھ نہ دیں تو اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے اپنی جدوجہد جاری رکھو۔
علامہ اقبال نے اسی عزم و ہمت کو یوں بیان کیا ہے:
عزمِ محکم ہو تو ہوتی ہیں بلائیں پسپا
کتنے طوفان کو الٹ دیتا ہے ساحل تنہا
اور منزل کی جستجو میں مسلسل سفر کی تلقین کرتے ہوئے کہتے ہیں:
مل جائے گی کبھی منزلِ لیلیٰ، اقبالؔ
کچھ دنوں اور ابھی بادیہ پیمائی کر
یہ چند مصرعے دراصل زندگی کا پورا فلسفہ اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔ منزل کا خواب کافی نہیں، بادیہ پیمائی بھی ضروری ہے۔ خواہش کافی نہیں، کوشش ضروری ہے۔ دعا کے ساتھ تدبیر، امید کے ساتھ عمل اور توکل کے ساتھ جدوجہد بھی لازم ہے۔
اسی لیے زندگی کا ایک خوب صورت دستور یہ ہونا چاہیے:
گر پڑے، گر کر اٹھے، پھر چل پڑے۔
گرنا شکست نہیں؛ گر کر پڑے رہنا شکست ہے۔ راستے میں تھک جانا انسانی بات ہے؛ سفر چھوڑ دینا اصل ناکامی ہے۔ مشکلات کا آنا ہمارے اختیار میں نہیں، لیکن مشکلات کے سامنے ہمارا رویہ ہمارے اختیار میں ضرور ہے۔
عسر کو یسر میں بدلنے کا ہنر
آج جب معاشی دباؤ، تعلیمی مسابقت، روزگار کے مسائل، سماجی انتشار اور مختلف نوعیت کی فکری و عملی مشکلات ہمارے سامنے ہیں، ایسے وقت میں سب سے زیادہ ضرورت شکایت کی نہیں، بصیرت کی ہے؛ مایوسی کی نہیں، تدبیر کی ہے؛ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنے کی نہیں، حرکت و عمل کی ہے۔
ہمیں اپنے نوجوانوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ وسائل کم ہوں تو ہنر بڑھاؤ، مواقع کم ہوں تو صلاحیت پیدا کرو، راستے بند ہوں تو نئی راہیں تلاش کرو، مشکلات بڑھیں تو حوصلہ بلند کرو۔ حالات کو برا بھلا کہنے سے حالات نہیں بدلتے؛ انسان کی سوچ، حکمتِ عملی اور مسلسل جدوجہد حالات کا رخ ضرور بدل سکتی ہے۔
عسر میں یسر دریافت کرنا دراصل امید کا نام ہے، مگر ایسی امید نہیں جو انسان کو خوابوں میں مبتلا کرکے عمل سے دور کردے؛ بلکہ ایسی امید جو انسان کو اٹھائے، چلائے، محنت کرائے اور منزل تک پہنچنے کا حوصلہ دے۔
زندگی ہمیں ہر روز یہی دعوت دیتی ہے کہ جو کچھ میسر نہیں، اس کا ماتم کرنے کے بجائے جو کچھ میسر ہے، اسے کام میں لایا جائے۔ جو دروازہ بند ہے، اس کے سامنے بیٹھنے کے بجائے کھلے دروازے کی تلاش کی جائے۔ جو سہولت نہیں ملی، اس کے شکوے کے بجائے اپنی صلاحیت کو سہارا بنایا جائے۔
آخرکار تاریخ بھی انہی لوگوں کو یاد رکھتی ہے جنہوں نے مشکل وقت میں آسانی کا امکان دیکھا، اندھیرے میں روشنی تلاش کی، شکست کے اندر فتح کا راستہ دریافت کیا اور طوفان کے سامنے کھڑے ہوکر سفر جاری رکھا۔
عسر زندگی کا خاتمہ نہیں، ایک نیا آغاز بھی ہوسکتا ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ انسان مشکل کو دیکھ کر مایوس نہ ہو، بلکہ اس کے اندر چھپی ہوئی یسر کو دریافت کرے۔
اسی بصیرت کا نام دانش مندی ہے، اسی کا نام عزیمت ہے اور اسی کا نام زندہ رہنے کا سلیقہ۔
ہم نے اس طرح سے گزاری زندگی
گر پڑے، گر کر اٹھے، پھر چل پڑے۔