سفر ہمیشہ سے وسیلہ ظفر رہا ہے، سفر سے مشاہدات و تجربات میں اضافہ ہوتا ہے، سفر سے قوموں کے عروج و زوال کی تاریخ معلوم ہوتی ہے، اس لیے اللہ رب العالمین نے قرآن پاک میں سفر کا حکم فرمایا تا کہ سیر و سیاحت کرنے والے کو موعظت اور عبرت حاصل ہو سکے۔ یہی وہ ذریعہ ہے جس سے عظمت رفتہ کی جستجو اور اس کی باز یافت کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ان خیالات کا اظہار اقلیتی ہاسٹل پوکھریا بیگو سرائے کے سپر ٹنڈنٹ مولانا مفتی محمد خالد حسین نیموی قاسمی صدر جمعیۃ علماءبیگوسرائے نے پوکھریا کے اقلیتی ہاسٹل میں اپنے صدارتی خطاب میں کیا جہاں علماءو دانشور حضرات کے ہاتھوں مفتی عین الحق امینی قاسمی کے سفر نامہ "عظمت رفتہ کی جستجو” کا شانداررسم اجرا عمل میں آیا۔
صدرمجلس مفتی محمدخالد حسین نیموی قاسمی نے مزید کہا کہ اگر سفر مقامات مقدسہ یا تاریخی مقامات کا ہو تو نور علی نور، ایسے ہی ایک سفر کی داستان عظمت رفتہ کی جستجو کے نام سے میرے ہمدست ہے۔یہ تحریر تاریخ نویسی اور سفری روداد کا نمونہ ہے۔
صاحب تحریر عزیز محترم مفتی عین الحق امینی قاسمی نائب صدر جمعیةعلماءبیگو سرائے نے اپنے افکار و خیالات کو بڑی درستگی کے ساتھ الفاظ کے قالب میں ڈھالا ہے۔ جس کا نتیجہ ہے کہ ان خطوں کی تاریخ اور ان خطوں سے وابستہ اکابر و مشائخ کی تاریخ دوبارہ فکر و شعور کے کینوس پر مرتعش ہونے لگی اور دل و دماغ میں تقریبا پانچ صدیوں کی روشن تاریخ کا نچوڑ سامنے آگیا۔ مولانا محمد صابر نظامی قاسمی جنرل سکریٹری جمعیةعلماءبیگو سرائے نے کہا کہ لکھنے اور یادوں کو محفوظ کرنے کی روایت ہمیں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے ملتی ہے،سب سے پہلے قرآن کریم کے جمع وترتیب کاسلسلہ شروع ہوا اور وہیں سے احادیث رسول کی کتابت اور سیر وصحابہ وتابعین کے حالات وواقعات کو محفوظ کرنے کی روایت پروان چڑھی جو آج تک بدستور مختلف شکلوں میں قائم ہے۔
ڈاکٹر فاروق اعظم قاسمی اسسٹنٹ پروفیسر جی ڈی کالج بیگو سرائے نے کہا کہ یہ کتاب جناب امینی قاسمی کے سفر کے اپنے مشاہدات و تجربات کا قلمی نمونہ ہے۔ در اصل یہ گیلانی ، دیسنہ،استھانواں اور بہار شریف کے سفر کی روداد ہے، یہ چاروں مقامات بڑے تاریخی ہیں اور یہاں علم و کمال کے ایک سے بڑھ کر ایک آفتاب ومہتاب پیدا ہوئے اور اپنے علم و معرفت کے ذریعے ایک جہاں کو روشن کیا۔ انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ اس سفرنامے میں علم بھی،معلومات بھی اور مشاہدات و تجربات بھی ہے، ساتھ ہی سفرنامہ نگار کے دودھیہ قلم کی خوشبو بھی موجود ہے۔مفتی شبیر انور قاسمی ناظم تعلیمات مدرسہ بدرالاسلام بیگوسرائے نے بحیثیت مہمان خصوصی اپنے قیمتی تآثرات کا اظہارکیا، جس میں اُنہوں نے سفر اور سفر نامے کی اہمیت وضرورت اور مصنف کتاب مفتی عین الحق امینی قاسمی کی قلمی صلاحیتوں کا بھرپور اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل بھی مصنف کی متعدد کتابیں چھپ کر منظر عام پر آچکی ہیں۔مولانا سید محتشم اللہ ہاشمی ندوی سانہہ نے اپنے بھیجے ہوئے پیغام میں کہا کہ کتاب ظاہری وباطنی سطح پر خوب صورت شائع ہوئی ہے،جس کے لئے مصنف کتاب قابل مبار ک باد ہیں۔
اس موقع پرمفتی لقمان عثمانی قاسمی نے نعت النبی پڑھ کرخوبصورت سماں باندھا جس سے مجلس پرکیف ہوگئی۔ڈاکٹر فاروق اعظم قاسمی صاحب کی میزبانی میں رسم اجرا کی یہ تقریب بخیر وخوبی اپنے اختتام کو پہنچی۔موقع پر سامعین کی بڑی تعداد موجود تھی جن میں ایڈووکیٹ ریحان خورشید ،ڈاکٹر محمد معراج، عبد الجبار،حافظ محمد ذاکر حسین، خادم قوم وملت، اسٹوڈنٹ لیڈرانجینئر محمدمحبوب، محمد معروف، محمدعارف ،محمدسہبوب وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔اخیر میں مولانا محمد صابر نظامی قاسمی صاحب دامت برکاتہم کی دعا پر مجلس اپنے اختتام کو پہنچی، وہیں سامعین نے ملنے والی اِس نئی کتاب پر مصنف اور صدر مجلس کا آٹو گراف بھی لیا جو اس راہ میں پہلی مرتبہ دیکھنے کو ملا۔