کاش میں ندوی ہوتا!

از: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آکسفورڈ

امریکا میں جناب اختر صاحب (فرضی نام) سے ملاقات ہوئی۔ ندوی تو نہیں تھے، لیکن ندوہ کے ایسے مداح تھے کہ اگر آدمی ان کی گفتگو کچھ دیر سن لے تو اسے گمان ہونے لگے کہ موصوف نے ندوہ میں تعلیم حاصل نہ کرکے اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی کی ہے، اور اب باقی عمر اسی غلطی کا کفارہ ادا کرنے میں مصروف ہیں۔
ندوہ کا ذکر آتا تو ان کی آنکھوں میں ایسی چمک پیدا ہو جاتی، جیسے کسی عاشق کو برسوں بعد محبوب کا خط مل گیا ہو۔ ندوہ کی عمارت، ندوہ کی شخصیات، ندوہ کی تعلیم، ندوہ کا ادب، ندوہ کا علمی مزاج، سب پر فدا تھے۔ آخر ایک دن ندوہ کی تعریف کرتے کرتے بصد حسرت بولے: ’’کاش میں ندوی ہوتا!‘‘

میں نے کہا: حضرت! آپ اس تمنا میں تنہا نہیں ہیں، آپ سے پہلے بھی بہت سے لوگ یہ حسرت دل میں لیے دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ حتیٰ کہ شیخ علی طنطاویؒ نے بھی کبھی یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ کاش ان کا بچپن لوٹ آتا اور وہ ندوہ میں پڑھتے۔
میں نے یہ بھی عرض کیا کہ ندویت کوئی ایسا تمغہ نہیں جسے آدمی خواہش کی دکان سے خرید لے۔ نہ یہ کسی فارم پر خانہ پُری کرنے سے حاصل ہوتی ہے، نہ محض ندوہ کی تعریفیں یاد کر لینے سے۔ یہ ایک علمی اور فکری مزاج ہے، جس کے لیے محنت بھی چاہیے، مطالعہ بھی، وسعتِ نظر بھی، اور سب سے بڑھ کر توفیقِ الٰہی بھی۔
ایک صاحب نے پوچھا: آخر ندویوں میں ایسی کیا بات ہے کہ آپ ان کے اس قدر مداح ہیں؟
کہنے لگے: ان میں مسلکی تعصب نہیں ہوتا، فکر میں تنگی نہیں ہوتی، مطالعہ ملفوظات و مواعظ اور چند مخصوص مسلکی کتابوں تک محدود نہیں ہوتا، اور علم کے ساتھ ادب بھی ہوتا ہے۔
اختر صاحب نے کہا: بس، یہی وہ چیز ہے جس کی آج کل بڑی کمی ہے۔ علم اگر ادب سے جدا ہو جائے تو کبھی کبھی آدمی عالم کم اور حکم لگانے کی مشین زیادہ بن جاتا ہے۔ اسے کسی کی بات کا مطلب سمجھنے سے پہلے یہ معلوم کرنے کی فکر ہوتی ہے کہ اسے کس خانے میں رکھا جائے۔

ایک شخص نے کوئی بات کہی۔ یہ کس مسلک کا ہے؟ دوسرا بولا: پتہ نہیں۔ اچھا! اس کی کتابیں دیکھی ہیں؟ نہیں۔ تو پھر احتیاطاً گمراہ سمجھو!
اختر صاحب نے کہا: یہ احتیاط بھی عجیب چیز ہے۔ یہ حضرات گمراہ کہنے میں اس قدر احتیاط کرتے ہیں کہ پہلے ہی منکرِ حدیث، بدعتی، کافر اور نہ معلوم کیا کیا بنا دیتے ہیں، تاکہ بعد میں کوئی درجہ باقی نہ رہے۔
ایک اور صاحب نے حاشیہ لگایا: ادب کا فائدہ یہ ہے کہ آدمی پہلے دوسرے کی بات سمجھتا ہے، پھر اختلاف کرتا ہے۔ ورنہ بعض اوقات معاملہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی نے عبارت پڑھی، مطلب نہیں سمجھا؛ پھر مطلب خود بنایا اور اسی خود ساختہ مطلب کا رد بھی فرما دیا!
میں نے کہا: آپ نے محسوس کیا ہوگا کہ کچھ لوگ گفتگو میں ’’قصہ مختصر‘‘ یا ’’آمدم بر سرِ مطلب‘‘ نہیں کہتے۔
انہوں نے حیرت سے پوچھا: کیوں؟
میں نے کہا: شاید اس لیے کہ ان کے نزدیک قصہ مختصر کرنا بھی ایک قسم کی بدعت ہے۔
اختر صاحب میری بات سمجھ گئے اور ہنس کر بولے: قصہ مختصر، ندوی غیر مہذب نہیں ہوتا۔
میں نے کہا: آپ کی یہ بات بہت سے مولوی حضرات کو پسند نہیں آئے گی۔
کہنے لگے: مجھے معلوم ہے۔ اصل شکایت مولویت سے نہیں، بدتہذیبی سے ہے؛ فتویٰ سے نہیں، فتویٰ بازی سے ہے؛ اختلاف سے نہیں، اختلاف کو دشمنی بنا دینے سے ہے۔

آخر ہماری مسجدیں بھی عجیب بن گئی ہیں۔ اللہ کا گھر ہیں، مگر کبھی کبھی معلوم ہوتا ہے کہ یہاں داخل ہونے سے پہلے آدمی کو اپنا مسلک بتانا پڑے گا۔ دو مسلمان ایک صف میں کھڑے ہوں تو نماز تو ایک ساتھ پڑھ لیتے ہیں، لیکن سلام پھیرتے ہی ایک دوسرے کی نماز کے بارے میں تحقیق شروع ہو جاتی ہے۔
ایک صاحب نے دوسرے کو دیکھا اور پوچھا: آپ کس کے مقلد ہیں؟
دوسرے نے کہا: مسلمان ہوں۔
پہلے صاحب کچھ دیر خاموش رہے۔ شاید یہ جواب ان کے سوال کے دائرۂ کار سے باہر تھا۔ اصل المیہ یہ ہے کہ ہم نے دین کو اتنا مشکل بنا دیا ہے کہ آدمی مسلمان ہونے کے بعد بھی اپنا تعارف مکمل نہیں کر پاتا!

اختر صاحب کچھ دیر خاموش رہے۔ پھر ایک سرد آہ بھر کر بولے: ’’کاش دنیا میں مسلمان ہوتے، انسان ہوتے، اور مفتی نہ ہوتے!‘‘

میں بھی خاموش ہو گیا۔ شاید مسئلہ مفتیوں کی تعداد کا نہیں؛ مسئلہ یہ ہے کہ علم کے ساتھ حلم، اختلاف کے ساتھ ادب، اور دینداری کے ساتھ انسانیت کتنی باقی رہ گئی ہے۔

ندوہ کی اصل خوبی شاید یہی ہے کہ وہاں علم کو ادب سے، عربی کو فکر سے، اور دین کو زندگی سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔ اس لیے ندوی ہونا صرف یہ نہیں کہ آدمی نے ندوہ میں پڑھا ہو؛ اصل ندویت تو شاید یہ ہے کہ آدمی وسیع النظر ہو، خوش اخلاق ہو، اختلاف کو برداشت کر سکے، اور دوسرے مسلمان کو مسلمان سمجھنے میں زیادہ وقت نہ لگائے۔

چنانچہ اختر صاحب کی زبان سے نکلا ہوا جملہ: ’’کاش میں ندوی ہوتا!‘‘ میرے ذہن میں ذرا بدل کر آیا: کاش ہم ندویت کو صرف ایک نسبت نہ سمجھتے، ایک مزاج سمجھتے!

باقی رہی ’’مفتی نہ ہونے‘‘ کی خواہش، تو اس پر کچھ کہنا مناسب نہیں۔ کہیں کوئی فتویٰ نہ لگ جائے!
اے بسا آرزو کہ خاک شدہ!

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔