مجلسِ شعر و ادب کشن گنج کی ماہانہ نشست میں ’’اشکِ وفا‘‘ کا اجرا

پوٹھیا بلاک کے پہلے شعری مجموعے کی اشاعت کو ادبی حلقوں نے اہم پیش رفت قرار دیا

کشن گنج، 6 ستمبر /سیل رواں: مجلسِ شعر و ادب، کشن گنج کے زیرِ اہتمام کولتھا پنچایت بھون، پوٹھیا میں ماہانہ شعری و ادبی نشست کا انعقاد عمل میں آیا، جس میں نوجوان شاعر آفتاب اظہر صدیقی کے پہلے شعری مجموعۂ کلام ’’اشکِ وفا‘‘ کی رسمِ اجرا بھی انجام دی گئی۔ اردو ڈائریکٹوریٹ، حکومتِ بہار کے مالی تعاون سے شائع ہونے والی اس کتاب کو پوٹھیا بلاک کا پہلا شعری مجموعۂ کلام قرار دیا گیا، جسے اہلِ ادب نے علاقے کی شعری و ادبی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔

تقریب کی صدارت معروف ادیب، افسانہ نگار و شاعر احسان الاسلام احسان قاسمی (پورنیہ) نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر طیب فرقانی نے انجام دیے۔ مہمانِ خصوصی ڈاکٹر پرمود بھارتیہ، پرنسپل جی ایل ایم کالج، بن منکھی، پورنیہ تھے۔ تقریب میں علاقے کے ممتاز شعراء و ادباء، اساتذہ، سماجی و تعلیمی شخصیات اور معززین نے شرکت کی۔ بعد ازاں منعقدہ شعری نشست میں متعدد شعراء نے اپنا کلام پیش کیا، جسے سامعین نے سراہا۔

صدارتی خطاب میں احسان الاسلام احسان قاسمی نے کہا کہ کسی بھی علاقے کی تہذیبی اور فکری شناخت میں شعر و ادب بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ آفتاب اظہر صدیقی کا مجموعۂ کلام ’’اشکِ وفا‘‘ منظرِ عام پر آنا بالخصوص اس لیے خوش آئند ہے کہ یہ پوٹھیا بلاک کا پہلا شعری مجموعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کتاب کی اشاعت محض ایک شاعر کی کامیابی نہیں بلکہ پورے علاقے کے لیے باعثِ فخر ہے۔ نئی نسل کو مطالعے، ادب اور تخلیقی سرگرمیوں سے جوڑنے کے لیے ایسی ادبی نشستوں کا تسلسل ضروری ہے۔

مہمانِ خصوصی ڈاکٹر پرمود بھارتیہ نے کہا کہ شعر و ادب انسانی جذبات و احساسات کے ساتھ ساتھ معاشرتی شعور کی بھی ترجمانی کرتا ہے۔ ’’اشکِ وفا‘‘ کی اشاعت اس بات کی غماز ہے کہ سیمانچل کے دور افتادہ علاقوں میں بھی ادبی صلاحیتوں کی کمی نہیں، ضرورت صرف انہیں مناسب پلیٹ فارم فراہم کرنے کی ہے۔ انہوں نے آفتاب اظہر صدیقی کو مبارک باد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ کتاب نوجوانوں کو ادب سے قریب کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔

کشن گنج کے ایم ایل اے قمر الہدیٰ نے آفتاب اظہر صدیقی کو کتاب کی اشاعت پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ کشن گنج اور پورے سیمانچل میں علمی و ادبی صلاحیتوں کی کمی نہیں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور نوجوان قلم کاروں کو آگے آنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ شعر و ادب معاشرے میں مثبت فکر، تہذیبی شعور اور انسان دوستی کے فروغ کا مؤثر ذریعہ ہے۔

معروف اسلامی اسکالر مولانا نعیم الدین قاسمی نے کہا کہ اردو ادب ہماری تہذیبی اور فکری میراث کا اہم حصہ ہے۔ ’’اشکِ وفا‘‘ میں شاعر کے ذاتی احساسات کے ساتھ معاشرتی اور انسانی جذبات کی ترجمانی بھی نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قلم ایک بڑی ذمہ داری ہے اور شاعر و ادیب کو چاہیے کہ وہ اپنے فن کے ذریعے خیر، محبت، اخلاق اور مثبت فکر کو فروغ دے۔ انہوں نے ’’اشکِ وفا‘‘ کو علاقے کے ادبی سرمائے میں قابلِ ذکر اضافہ قرار دیتے ہوئے صاحبِ کتاب کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

صاحبِ کتاب آفتاب اظہر صدیقی نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ’’اشکِ وفا‘‘ کی اشاعت ان کے لیے خوشی اور اعزاز کا لمحہ ہے، تاہم کتاب کی صورت میں اپنے خیالات و احساسات قارئین کے سامنے پیش کرنا ایک بڑی ذمہ داری بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پوٹھیا بلاک کی ادبی تاریخ میں ایک نئی شروعات ہے۔ انہوں نے تقریب میں شریک تمام شعراء، ادباء، اساتذہ، مہمانان اور اہلِ علاقہ کا شکریہ ادا کیا۔

شعری نشست میں ڈاکٹر قسیم اختر، صدر شعبۂ اردو، مارواڑی کالج، کشن گنج، ممتاز نیر، ٹھاکر گنج، ڈاکٹر طیب فرقانی، کانکی، شہباز مظلوم پردیسی، اسلام پور، عمران علیمی شاہد، کشن گنج، آرزو صابر، کشن گنج، سعید الرحمٰن، ٹھاکر گنج، محسن نواز محسن، دیناجپور، رونق مرشد آبادی، کشن گنج اور سید جعفر امام، کشن گنج نے اپنا کلام پیش کیا۔

تقریب میں ایچ رحمن، دیو آنند، عیدو حسن، لعل محمد، مکھیا عبدالتواب کولتھا، سفیر الدین راہی، ڈائریکٹر اوریکل انٹرنیشنل اسکول، چکلہ، کشن گنج، ماسٹر زاہد الرحمٰن پدم پور، ابو سالک شہید ندوی، اقصیٰ انٹر ایڈورٹائزنگ، کشن گنج، ماسٹر عارفین نور، ماہرِ تعلیم، کشن گنج، مشتاق گوہر، گورنمنٹ ٹیچر، ٹھاکر گنج، ثاقب احمد، ڈائریکٹر سیمانچل لائبریری، کشن گنج، ماسٹر وصی احمد، چھترگاچھ، ماسٹر فضل رحیم انور چودھری، چھترگاچھ، ماسٹر مقصود عالم، چھترگاچھ، مولانا زین العابدین سنابلی، جنرل سکریٹری ضلعی جمعیت اہلِ حدیث کشن گنج، مولانا عبدالواحد بخاری، مولانا عبدالمنتقم فرقانی، ماسٹر قیصر عالم، انجینئر عبدالسبحان، مولانا نسیم اختر محمدی، مولانا وکیل احمد قاسمی، مولانا آصف قاسمی، مولانا ساجد حسین قاسمی، مولانا مرغوب الرحمٰن، مفتی نوازش علی، مولانا عبدالرقیب بخاری، مولانا یاسین محمدی سمیت دیگر معززین نے شرکت کی۔

اس موقع پر ڈاکٹر قسیم اختر اور مولانا ابو سالک ندوی نے صاحبِ کتاب آفتاب اظہر صدیقی کو عمدہ اور خوب صورت سپاس نامے پیش کیے، جنہیں شرکائے نشست نے سراہا۔

تقریب کے اختتام پر ’’اشکِ وفا‘‘ کی رسمِ اجرا انجام دی گئی۔ اس موقع پر ادبی و علمی شخصیات نے صاحبِ کتاب کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ شرکائے تقریب نے امید ظاہر کی کہ پوٹھیا بلاک سے شعری مجموعے کی اس پہلی اشاعت کے بعد علاقے میں ادبی سرگرمیوں کو مزید فروغ ملے گا اور نئی نسل کے شعراء و قلم کاروں کو اپنی تخلیقات منظرِ عام پر لانے کے مزید مواقع حاصل ہوں گے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔