پورنیہ/بائسی: اسمبلی انتخابات 2025 کے دوران کانگریس اور اے آئی ایم آئی ایم کارکنوں کے درمیان پیش آنے والی جھڑپ کے بعد دونوں فریقوں کی جانب سے ایف آئی آر درج کرائی گئی تھی، جس کے بعد معاملہ عدالت تک پہنچ گیا تھا۔ تاہم باہمی مفاہمت اور صلح کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں بالآخر یہ تنازع خوش اسلوبی سے ختم ہوگیا۔
مقدمے کے خاتمے میں ڈاکٹر محمد پرویز عالم اور ماسٹر کونین انجم نے اہم اور قابلِ ذکر کردار ادا کیا۔ دونوں نے فریقین کے درمیان پیدا ہونے والی تلخی کو ختم کرنے اور باہمی گفت و شنید کے ذریعے معاملہ حل کرنے کے لیے پہل کی۔ ان کی کوششوں سے دونوں جانب کے افراد کے درمیان بات چیت کا سلسلہ شروع ہوا اور فریقین کو باہمی رضامندی اور صلح پر آمادہ کیا گیا۔
ان مفاہمتی کوششوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج بائسی سی جے ایم کورٹ میں منعقدہ لوک عدالت کے ذریعے دونوں فریقوں نے باہمی رضامندی سے مقدمہ ختم کرنے پر اتفاق کیا اور معاملہ رَفع دفع ہوگیا۔
مقدمہ ختم ہونے کے بعد دونوں فریقوں کے افراد ایک ساتھ کھڑے نظر آئے۔ یہ منظر سیاسی اختلافات کے باوجود باہمی بھائی چارے، محبت اور سماجی ہم آہنگی کی ایک خوبصورت مثال بن گیا۔ اس موقع پر یہ پیغام بھی سامنے آیا کہ سیاست میں اختلافِ رائے فطری ہے، لیکن سیاسی اختلاف کو ذاتی دشمنی اور نفرت میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ رشتے، بھائی چارہ، محبت اور انسانیت ہر سیاسی اختلاف سے بالاتر ہیں۔
واضح رہے کہ مذکورہ معاملہ بائسی بلاک کے تحت کھپرہ پنچایت کے پٹوگاؤں میں اسمبلی انتخابات کے دوران پیش آیا تھا، جہاں کانگریس اور مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) سے وابستہ افراد کے درمیان جھڑپ ہوگئی تھی۔ واقعے کے بعد دونوں فریقوں کی جانب سے مقدمات درج کرائے گئے تھے، جو بعد ازاں عدالت تک پہنچے۔ باہمی مفاہمت کی کوششوں کے نتیجے میں فریقین نے صلح پر رضامندی ظاہر کی اور لوک عدالت کے ذریعے معاملہ ختم ہوگیا۔
اس یادگار موقع پر وارڈ ممبر کے نمائندے غلام ربانی بھی موجود رہے۔ فریقین کے درمیان صلح اور مقدمے کے خوش اسلوبی سے خاتمے کو علاقے میں مفاہمت اور بھائی چارے کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔