غم گسار:- ابو فوزان تنوير ذکی مدنی
جناب عبد الجلیل مستان صاحب اب ہمارے درمیان نہیں رہے۔ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔
آن کے انتقال سے ایک عہد کا خاتمہ ہوگیا
اللہ تعالیٰ انہیں غریقِ رحمت فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
گزشتہ شب دلی ایمس میں ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کی، اور آئندہ کل یعنی 14 ستمبر کو ان کے آبائی گاؤں سرسی میں ان کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی. اور وہیں تدفین بھی ہوگی ان شاء اللہ.
آج امور اسمبلی حلقہ سوگوار ہے اور امور کا مشرقی کا حلقہ خود کو سیاسی طور پر یتیم محسوس کرنے لگا ہے. وہ ایک لوک نیتا تھے ، لائم لائٹ سے دور رہتے تھے، وہ زیادہ اشتہار بازی کے قائل نہیں تھے، ایک پرانا گھر، ٹین کا بنا ہوا ایک مہمان خانہ اور سرایہ کی طرح بناہوا ایک عام دربار، جس میں کرسیاں نہیں چٹائی بچھی ہوتی تھی اور اسی سارے لوگ اور خود وہ بھی بیٹھ جاتے تھے،
ان کی سادگی اس قدر نمایاں تھی کہ پہلی ملاقات کرنے والا بھی حیران رہ جاتا۔ وہ اپنے گھر میں عموماً چٹائی پر بیٹھتے تھے، اور اپنے حلقے کے لوگوں کے درمیان بھی اسی انداز سے بیٹھتے۔ ہم لوگ جب کبھی کسی کو ان سے ملانے لے جاتے تو ان کی بے ساختہ سادگی دیکھ کر خود جھجک اور سبکی محسوس ہونے لگتی مگر یہی سادگی ان کی اصلی سیاسی طاقت تھی.
وہ اس قدر محتاط رہے کہ 6 بار ایم ایل اے اور اس میں ایک بار منتری رہنے کے باوجود کوئی دشمن بھی ان پر انگلی نہیں اٹھا سکا. نہ کمیشن ، نہ ہفتہ، نہ چندہ، نہ رشوت، نہ رنگ داری نہ جھوٹ و فریب، وہ ایک کھلی کتاب کی طرح جیتے رہے.
وہ واقعی ایک لوک نیتا تھے۔ لوگوں سے ملنے کے لیے کھیتوں تک اتر جاتے، سبزہ زار اور کھلی زمین پر بھی بلا تکلف بیٹھ جاتے۔ شاید یہی سادگی تھی جس نے انہیں برسوں تک لوگوں کے دلوں کا حکمران بنائے رکھا۔
عموماً میں کسی سیاسی رہنما کے بارے میں نہیں لکھتا، حتیٰ کہ ان کی وفات پر بھی نہیں۔ اس لیے نہیں کہ سیاست کوئی شجرِ ممنوعہ ہے۔ یقیناً سیاست ایک انسانی اور معاشرتی ضرورت ہے، اور اسلام بھی اس ضرورت کی تکمیل کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ لیکن آج کی سیاست ایک ایسی دلدل بن چکی ہے جس میں قدم رکھنے والا اکثر اپنا دامن بچا نہیں پاتا، اسی لیے اس موضوع پر قلم اٹھانے سے گریز کرتا ہوں۔
لیکن آج ان کی وفات پر چند سطریں لکھنا میرے لیے ناگزیر محسوس ہوا؛ اس امید کے ساتھ کہ شاید سیاست سے وابستہ لوگوں کو اس میں نصیحت کا کوئی پہلو مل جائے۔
حیاتِ مستعار کی کل 67 بہاریں انہوں نے دیکھیں۔ اس دوران ان کی زندگی میں بہت سے نشیب و فراز آئے، مگر وہ آخری دم تک اپنے مشن پر قائم رہے۔
انہوں نے پہلی مرتبہ ضلع پورنیہ کے امور اسمبلی حلقے سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے سیاست میں قدم رکھا، الیکشن لڑا اور کامیاب ہو کر ایم ایل اے منتخب ہوئے۔ کامیابی کے فوراً بعد انہوں نے نیشنل کانگریس کا دامن تھاما، اور پھر آخری سانس تک اس رفاقت کو نہیں چھوڑا۔
وہ مجموعی طور پر چھ مرتبہ ایم ایل اے منتخب ہوئے، اور ایک مرتبہ بہار کی مہاگٹھ بندھن حکومت میں وزیر بھی رہے۔
امور حلقے کے لوگوں کی یہ ایک غیر معمولی بدنصیبی رہی کہ جب بہار میں کانگریس پر خزاں کا موسم آ چکا تھا، تب جا کر امور میں کانگریس کا گل کھلا۔ یعنی امور میں کانگریس آئی ، بہار سے کانگریس کا تقریباً صفایا ہوچکا تھا ،یہاں مستان صاحب تو پٹنہ میں کبھی لالو یادو جی کی حکومت رہی اور کبھی نتیش بابو جی کی۔ نتیجہ ظاہر تھا کہ ترقیاتی کاموں کی رفتار محدود رہے گی، لیکن اس کے باوجود آج اس علاقے میں جو کچھ بنیادی سہولیات موجود ہیں وہ انہی کی کوششوں کا مرہونِ منت ہے، ورنہ شاید یہاں کی حالت اس سے بھی زیادہ خستہ ہوتی۔
جب وہ بہار حکومت میں وزیر بنے تو توحید ایجوکیشن ٹرسٹ اور موجودہ امام بخاری یونیورسٹی، کشن گنج کے چیئرمین فضیلۃ الشیخ مطیع الرحمن عبدالمتین مدنی حفظہ اللہ مجھے ساتھ لے کر ان کی رہائش گاہ پر گئے۔ میں پہلے ہی انہیں اطلاع دے چکا تھا۔
ہم پہنچے تو وہ بڑی محبت سے ملے۔ وہاں لوگوں کا ہجوم تھا، مگر سب چٹائی پر بیٹھے تھے۔ انہوں نے ہمارے لیے خود کرسی رکھی، پھر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
اس کے بعد وہ خود گھر کے اندر گئے، دسترخوان، پلیٹیں، جگ اور گلاس اپنے ہاتھ سے اٹھا کر لائے۔ میں نے آگے بڑھ کر لینے کی کوشش کی تو مسکرا کر کہا: "میں خود لے جاؤں گا، آج اتنا بڑا مہمان میرے گھر آیا ہے۔”
ان کا اشارہ شیخ مطیع الرحمن صاحب کی طرف تھا۔
انہوں نے اپنے ہاتھ سے ناشتہ سجا کر پیش کیا اور ہمارے ساتھ بیٹھ کر خود بھی ناشتہ کیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ہم نے بھی وہ ناشتہ چٹائی پر بیٹھ کر کیا، البتہ انہوں نے چٹائی پر اپنے ہاتھ سے ایک نئی چادر بچھا دی تھی۔ یہ سرجاپوری تہذیب کے اس قدیم اندازِ میزبانی کی خوبصورت مثال تھی جس میں مہمان کی عزت کو عملی طور پر نبھایا جاتا ہے۔ اس ملاقات میں میرے گاؤں کے کئی معزز ذمہ داران ہمارے ساتھ موجود تھے.
پھر وقت نے کروٹ لی۔
2020 سے میرے اور ان کے درمیان سیاسی اختلاف شروع ہوا، جو 2025 کے الیکشن میں شدت اختیار کر گیا۔ میں نے کھل کر مستان صاحب کی سیاست کی مخالفت کی اور جناب اخترالایمان صاحب کی حمایت کی۔ میرے والد محترم سے ان کے گہرے مراسم تھے، اختلاف کے با وجود وہ میرے غریب خانے پر تشریف لاتے رہے اور میرے والد محترم سے مسلسل ملاقات کرتے رہے، اور میرے بارے میں پوچھتے رہے. اور میں ملنے سے کتراتا رہا. کئی مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ میں اپنے گھر کے اندر یا چھت پر اخترالایمان صاحب کے ساتھ انتخابی میٹنگ میں مصروف ہوتا، اور وہ باہر مجھے تلاش کر کے خاموشی سے واپس چلے جاتے۔
الیکشن ہوا اور وہ ہار گئے، اخترالایمان صاحب جیت گئے. اور سب کچھ رفتہ رفتہ اپنے معمول پر آگیا.
الیکش کے بعد حسب عادت میں پھر سیاست سے دور اپنی چھوٹی سی تعلیمی اور دعوتی دنیا میں واپس آگیا لیکن اگلے پانچ برسوں تک میں ان سے ملنے سے کتراتا رہا، حالانہ کہ الیکشن کے بعد جیتے ہوئے لیڈر سے بھی میری قربت ہمیشہ ہی بہت کم رہتی ہے. پھر پانچ سال بیت گیے ، پھر 2025 کے الیکشن کا دور آیا، اس دوران ایک دن تقریباً سہ پہر تین بجے میں اپنے اسکول میں موجود تھا کہ گیٹ پر ایک گاڑی آ کر رکی۔ بچوں نے بتایا کہ مستان صاحب آئے ہیں۔
میں استقبال کے لیے آگے بڑھا۔ انہوں نے میرے کندھوں پر ہاتھ رکھا اور ساتھ ساتھ نشست گاہ تک آئے۔ رسمی خیریت کے بعد انہوں نے جو بات کہی، اس نے مجھے اندر تک ہلا دیا۔
کہنے لگے: "گزشتہ پانچ برسوں میں نہ جانے کتنی بار میں اس راستے سے گزرا۔ ہر بار آپ کے اسکول کے گیٹ پر گاڑی روکی، چند منٹ رکا، پھر یہ سوچ کر واپس چلا گیا کہ آپ جوان ہیں، معلوم نہیں مجھے اندر آنے کی اجازت دیں گے یا نہیں۔”
میں نے کہا یہ کہکر آپ مجھے شرمندہ کر رہے ہیں. ایسا نہ کہیں. میں آپ عزیز ہوں ،آپ ہی کے ہاتھوں سے اس ادارہ کا افتتاح ہوا ہے، یہ ادارہ آپ کا ہے، آپ جب چاہیں بلا اجازت تشریف لائیں.
انہوں نے مزید کہا کہ "صرف گزشتہ ایک مہینے میں بھی میں پانچ مرتبہ اسی گیٹ پر رکا، مگر پھر خاموشی سے آگے بڑھ گیا۔”
سچ کہوں، ان کا یہ جملہ میرے دل کو موم کر گیا۔ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے گفتگو ہوئی۔ میں نے ان کی انتخابی حکمتِ عملی پر کھل کر سوالات کیے۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں کو جواب دینے کا اشارہ کیا، مگر ان کے جوابات مجھے مطمئن نہ کر سکے۔
میں نے بے تکلف کہا: "آپ کو اندھیرے میں رکھا جا رہا ہے۔ آپ کی رن نیتی بہت کمزور ہے، خاص طور پر مغربی علاقے میں تو تقریباً صفر ہے۔”
انہوں نے تحمل سے جواب دیا: "اس پر غور کریں گے۔ ابھی میری خواہش صرف یہ ہے کہ میں ہاروں یا جیتوں، یہ اپنی جگہ؛ لیکن میں آپ کا ساتھ چاہتا ہوں۔ میری اس ضعیف العمری کا ضرور لحاظ رکھیے۔”
میں نے کہا کہ مجھ جیسے زرہ ء ناچیز سے سیاست میں آپ کو کیا فائدہ ملے گا، میں کیا اور مری بساط کیا، لیکن چلیے آپ یہی چاہتے ہیں تو میں اس الیکشن میں آپ کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہوں.
واپسی کے وقت انہوں نے مجھ ناچیز کے ساتھ ایک تصویر لینے کی خواہش ظاہر کی۔ میں انکار نہ کر سکا۔ تصویر لینے کے بعد میں نے ان سے عرض کیا: "آپ یہ تصویر ابھی شیئر نہیں کریں گے، جب تک میں آپ کی انتخابی حکمتِ عملی سے مطمئن نہ ہو جاؤں۔”
انہوں نے فوراً بات قبول کر لی۔
نتیجہ کچھ بھی رہا ہو، لیکن میں آج بھی اس بات پر حیران ہوں کہ انہوں نے واقعی وہ تصویر شیئر نہیں کی۔ حالانکہ میں کوئی ایسا بڑا سیاسی چہرہ نہیں تھا کہ اس تصویر سے انہیں کوئی خاص فائدہ پہنچتا۔ میں تو ایک عام سا ووٹر تھا۔ مگر ان کی زبان کی پاسداری اور ایفائے عہد نے مجھے ان کی شخصیت کا ایک ایسا پہلو دکھایا جو شاید سیاست میں کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔
اس ملاقات میں ان کے سیاسی نمائندہ جناب ماموں عامر سہیل صاحب ساتھ تھے.
حج سے واپسی کے بعد ان سے ملنے گیا تو انہوں نے کہا کہ میں آپ کو مکہ اور مدینہ میں کئی بار یاد کیا اور نظریں آپ کو تلاش کرتی رہیں. سوچا کہ شاید ملاقات ہوجائے گی مگر نہیں ہوسکی. خیر کوئی بات نہیں. مجھے حج میں کسی نے ترجمہ والا قرآن مجید کا ایک نسخہ دیا ہے اب میں اکثر قرآن پڑھتا ہوں اور کافی دیر تک ترجمہ وہ تفسیر جو اس میں ہے اس کو پڑھتا رہتا ہوں.
ان سے ملاقاتیں اور یادیں بہت ہیں…. مگر ابھی بس اتنا ہی. اور وہ اس نیت کے ساتھ میں نے لکھا ، تاکہ سیاست سے دلچسپی رکھنے والوں کو کچھ روشنی ملے. کہ سیاست میں رہ کر آج بھی آپ اپنا دامن بچا کر جیا جاسکتا ہے. اور سادگی میں بھی دلوں پر حکمرانی ہوسکتی. ایم، ایل اور منسٹر ہونے کے باوجود قرآن مجید کا دلچسپی سے مطالعہ ہوسکتا ہے.
اللہ تعالیٰ عبدالجلیل مستان صاحب کی مغفرت فرمائے،ان کی بشری لغزشوں کو درگزر کرے. ان کی نیکیوں کو قبول فرمائے، ان کی اچھائیوں کو ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے۔ آمین۔
سابق ممبر آف پارلیمنٹ معروف عالم دین جناب مولانا اسرار الحق قاسمی رحمۃاللہ علیہ کے بعد میری نظر میں یہ دوسرے سیاسی لیڈر ہیں جن کے انتقال کے بعد پرانی آبائی چیزوں کے علاوہ مزید کوئی سامان اور کوئی اثاثہ ان کے گھر میں بطور میراث ان کے وارثین کو نہیں ملے گا. ان شاء اللہ .
کل جنازہ ہے، ان شاء اللہ شرکت ضرور ہوگی.