از:- محمد علم اللہ، لندن
صبح (6 ستمبر 2026) کے اخبار میں سہارن پور کلکٹریٹ کی اس قدیم مسجد کے منہدم کیے جانے کی خبر محض تین سطروں میں چھپی ہے۔ ایک ایسی خبر جسے پڑھ کر نظریں خود بخود اگلے صفحے پر چلی جاتی ہیں، جہاں سیاست کے روزمرہ کھیل اور بازار کے اتار چڑھاؤ کی تفصیلات درج ہیں۔ لیکن میں اس مختصر سی خبر پر جا کر اٹک گیا اور گھنٹوں اپنے کمرے کی کھڑکی سے باہر پھیلے سناٹے کو تکتا رہا۔ مجھ جیسے طالب علم کے لیے، جس نے زندگی کا بڑا حصہ تاریخ کی پرانی کتابوں، دستاویزات اور تہذیبی آثار کی کھوج میں گزارا ہے، یہ صرف اینٹ اور گارے سے بنی ایک پرانی عمارت کے گرنے کا حادثہ نہیں تھا، بلکہ یہ اس بات کا اشاریہ تھا کہ ہمارے ارد گرد کا ماحول کتنی خاموشی سے بدل چکا ہے اور ہم خود کتنے بے حس ہو چکے ہیں۔ سہارن پور کی کئی سو سال پرانی مسجد جسے نوآبادیاتی حکومت نے اپنا کلکٹریٹ بناتے وقت چھوا تک نہیں تھا کیونکہ اس کے سامنے کانپور کی مسجد پر مسلمانوں کا رد عمل تھا، اور سہارنپور کی مسجد اس لیے شہید کردی گئی کیونکہ حکومت وقت کے سامنے بابری مسجد سے شروع ہونے والی اور سنہ 2026 تک مسلسل شدید سے شدید تر ہوتی ہوئی ہماری غفلت اور بزدلی کی تاریخ موجود ہے۔ سہارنپور کی یہ مسجد شاید کسی عظیم الشان شاہی معمار کا شاہکار نہ ہو، لیکن وہ ایک پورے زمانے کی تاریخ کی گواہ تھی۔ ایک ایسا زمانہ جب طاقت کی سیاست اور عوامی وجود کے درمیان ایک نادیدہ توازن اور احترام کا رشتہ ہوا کرتا تھا۔
جب میں نے اس انہدام کے بعد وہاں کے لوگوں سے بات کرنے کی کوشش کی تو مجھے نہ تو کوئی احتجاج ملا اور نہ ہی کوئی برہمی؛ صرف سہمے ہوئے دل کی ایک گہری خاموشی اور ہر ایک کو اپنے کام سے کام رکھنے کی جلدی تھی۔ اس عالم میں اضطراب اور دکھی دل کے ساتھ میں سوچ رہا تھا کہ یہ وہی ضلع سہارن پور ہے جہاں دین کے تحفظ اور مسلمانوں کے تشخص کی فکر نے کبھی علماء کو شاملی میں مزاحمت پر ابھارا تھا تو کبھی دیوبند میں ایک مدرسے کی بنیاد رکھ کر مدارس کا ایک جال پھیلا دیا گیا تھا اور یہ وہی برصغیر ہے جہاں کبھی کسی مسجد کا ایک پتھر بھی ہلتا تھا تو لوگوں کی نیندیں اڑ جاتی تھیں، مگر آج ایک پوری عمارت رات کی تاریکی میں مٹا دی جاتی ہے اور صبح کا سورج معمول کے مطابق طلوع ہوتا ہے اور زندگی بغیر کسی تشویش کے آگے بڑھ جاتی ہے۔
میں اپنے مطالعے کے کمرے میں بے چینی سے ٹہلتے ہوئے سوچتا ہوں، تو یادوں اور تاریخ کے اوراق خود بخود کھلنے لگتے ہیں۔ مجھے اٹھارھویں اور انیسویں صدی کے وہ واقعات یاد آتے ہیں جب مسجد ایک عبادت گاہ ہی نہیں بلکہ ایک پوری قوم کی شناخت، اس کے شرف اور اس کے اجتماعی وجود کا نام ہوتی تھی۔ بالکل ویسے ہی جیسے مدینہ کی مسجد نبویؐ یا قرطبہ اور دہلی کے شاندار آثار مسلم معاشرت کے روح اور مرکز ہوا کرتے تھے ۔ 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد جب انگریزوں نے شاہ جہاں آباد پر قبضہ کیا اور جامع مسجد دہلی کو اپنے فوجی دستوں کی بیرک اور اصطبل میں تبدیل کر دیا، تو اس وقت کے مسلمانوں کے لیے وہ کوئی قانونی یا جائیداد کا مسئلہ نہیں، بلکہ ان کی روح پر لگا ایک گہرا چرکا تھا۔ صرف جامع مسجد ہی نہیں، بلکہ شاہجہان کی بیگم کی بنوائی ہوئی عظیم الشان اکبر آبادی مسجد کو انگریزوں نے انتقاماً یکسر مسمار کر کے زمین بوس کر دیا، اورنگزیب عالمگیر کی بیٹی کی زینت المساجد کے محراب و منبر کی حرمت پامال کرتے ہوئے اسے فوجی بیکری میں بدل دیا گیا، جبکہ بادشاہی مسجد لاہور کو گھوڑوں کا اصطبل اور جامع مسجد آگرہ کو راشن کا گودام بنا کر رکھ دیا گیا۔
اس دور کے خطوط، ڈائریوں اور شہر آشوب کو پڑھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ لوگ جامع مسجد اور اپنے تاریخی آثار کی واپسی کے لیے کس طرح تڑپتے تھے۔ بزرگ راتوں کو رو کر دعائیں مانگتے تھے، لوگ مسجد کی دیواروں کو دیکھ کر یوں سسکیاں بھرتے تھے جیسے کوئی اپنی ماں کے لٹے ہوئے آنچل کو دیکھ کر روتا ہے، اور مولانا سرفراز علی و مفتی صدر الدین آزردہ جیسے علماء نے سامراجی اقتدار کے سامنے جھکنے سے صاف انکار کر دیا تھا کیونکہ ان کے نزدیک جامع مسجد پر قبضہ ان کے اجتماعی حافظے کو مٹانے کی کوشش تھی۔ پھر جب ہم 1913ء میں کانپور کی مچھلی بازار مسجد کے وضو خانے کو سڑک کی کشادگی کے نام پر شہید کیے جانے کے واقعے کو دیکھتے ہیں، تو انگریزوں کے ظلم کے سامنے پوری ملت ایک لوہے کی دیوار بن گئی تھی اور درجنوں مسلمانوں نے وضو خانے کی حرمت پر اپنی جانیں قربان کر دیں۔ اسی سلسلے میں 1930ء کے پشاور معرکے میں مساجد کے صحن خون سے سرخ ہوئے، اور لاہور کی مسجد شہید گنج کا تنازع کھڑا ہوا، تو بیسویں صدی کے ان تمام معرکوں میں بھی پوری ملت کا دل ایک ساتھ دھڑکتا نظر آتا ہے۔
پنجاب کے دیہاتوں سے لے کر بمبئی اور کلکتے کی گلیوں تک، لوگ اپنے تمام مسلکی اور سیاسی اختلافات بھول کر اس ایک مسندِ سجدہ کے تحفظ کے لیے کھڑے ہو گئے تھے اور علامہ اقبال، حسرت موہانی،مولانا آزاد سبحانی ، محمدعلی جوہر ، مولانا فیض الحسن گنگوہی ، مولانا عبد الباری فرنگی محلی، مولانا شوکت علی، مولانا عبید اللہ سندھی، علامہ شبلی اور مولانا ظفر علی خان سمیت ملت کے تمام علماء و مسٹر بے چین ہوگئے تھے اور پر زور احتجاج کیا تھا۔صرف شبلی نے اس حادثے سے دل گرفتہ ہوکر بارہ نظمیں لکھی تھیں، مولانا محمد علی جو ہر سید وزیر حسن کے ہمراہ ولایت روانہ ہوگئے تھے تاکہ مسلمانان ہند میں اس کے بعد جو عام بیزاری اور ناراضی پھیل چکی تھی، اس سے برطانوی حکومت کے ارباب اقتدار کو باخبر کیا جا سکے۔ مولانا محمد علی جوہر نے اس سلسلے میں برطانوی مدبروں سے ملاقاتیں کیں۔ برطانیہ کے بااثر لوگوں سے ملے اور عام جلسوں میں تقریر کر کے مسلمانوں کے جذبات کی ترجمانی کی۔ وہاں صرف جذبات کا طوفان نہیں تھا، بلکہ ایک گہرا تہذیبی شعور تھا کہ اگر ہم نے اپنے تاریخی آثار کو بے دلی سے مٹنے دیا تو کل کو ہمارا اپنا وجود بھی ایک افسانہ بن کر رہ جائے گا۔
درد کا یہی احساس ہمیں خلافت تحریک کے ایام میں بھی نظر آتا ہے۔ ذرا ان دنوں کو یاد کیجیے، جب برصغیر کا مسلمان خود انگریز کی غلامی کی سخت زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا، اس کے اپنے گھر میں فاقے اور سیاسی محکومی تھی، لیکن جب اس نے دیکھا کہ مسجد اقصیٰ اور دیگر مقدسات پر ناپاک استعماری ہاتھ بڑھ رہے ہیں، تو اس کا درد سرحدوں کو عبور کر گیا۔
وہ کون سا احساس تھا جس نے مولانا محمد علی جوہر کی راتوں کی نیندیں حرام کر دی تھیں؟ وہ کون سا فکری جذبہ تھا جس کے تحت مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنے الہلال کے صفحات میں تاریخ، سیاست اور دینی غیرت کو ایک ابلتا ہوا دریا بنا دیا تھا؟ یہی کہ مسجد اور اس کے ساتھ جڑے ہوئے اوقاف محض زمین کے قطعات نہیں ہیں بلکہ یہ وہ روحانی اور اجتماعی بنیادیں ہیں جن پر ایک قوم کا اخلاقی وقار قائم رہتا ہے۔ ہمارے اکابر، چاہے وہ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی ہوں، شاہ اسماعیل شہید ہوں، دارالعلوم دیوبند کے بانیان ہوں یا مولانا محمود حسن، انہوں نے نوآبادیاتی دور میں اوقاف اور مساجد کے تحفظ کے لیے جو قانونی اور سیاسی معرکے سر کیے، ان کا مقصد صرف اینٹوں کی حفاظت نہیں تھا بلکہ اس تاریخی تسلسل کو بچانا تھا جو نسل کو دوسری نسل سے جوڑتا ہے۔ وہ جانتے تھے کہ جب کسی قوم کے آثار مٹتے ہیں، تو اس کا حافظہ مٹتا ہے، اور جب حافظہ مٹ جاتا ہے تو قومیں محض اکائیوں اور ہجوم میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔
لیکن پھر جب میں تاریخ کے اس درخشاں باب سے نکل کر اپنے آج پر نظر ڈالتا ہوں، تو ایک عجیب سی ویرانی اور گونگا پن مجھے اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ 6 دسمبر 1992ء کو بابری مسجد کی شہادت آزاد ہندوستان کی تاریخ کا وہ موڑ تھا جس نے اس ملک کی اقلیتی نفسیات پر ایک گہرا اور الم ناک اثر چھوڑا۔ اس وقت بھی، تمام تر صدمے کے باوجود، قوم کے اندر ایک زبردست بے چینی، ایک گہرا درد اور اپنے حق کے لیے قانونی اور اخلاقی لڑائی لڑنے کا عزم موجود تھا۔ لوگ راتوں کو جاگ جاگ کر خبریں سنتے تھے اور ان کی آنکھوں میں اپنے ماضی کے لٹنے کا غم صاف دکھائی دیتا تھا۔ لیکن اس واقعے کے بعد کے تین عشروں میں جو کچھ ہوا، اس نے صرف عمارتوں کو نقصان نہیں پہنچایا بلکہ ہمارے اندر کی اس تڑپ کو بھی آہستہ آہستہ خاموش کر دیا ہے۔
چنانچہ آج سہارن پور کی مسجد کا واقعہ ہو یا ملک کے کسی اور کونے میں سڑک کی کشادگی، ناجائز تجاوزات، یا تاریخ کی ازسرِ نو تعبیر کے نام پر مسمار کی جانے والی مساجد اور خانقاہیں—ہر جگہ ایک ہی قسم کا ردعمل دیکھنے کو ملتا ہے: چند سطروں کی خبریں، سوشل میڈیا پر چند گھنٹوں کا رسمی افسوس، اور پھر ایک مستقل، بھیانک خاموشی۔
آج کا سامراج انیسویں صدی کا ننگا اور عریاں فرنگی جبر نہیں ہے جو بندوقوں کے زور پر مسجدوں پر قبضے کرتا تھا؛ بلکہ اجارہ دار طاقتوں نے اب ایک نیا طریقہ دریافت کر لیا ہے۔ وہ تاریخ کے آثار اور قدامت کی محرابوں کو ”غیر قانونی تجاوزات“، شہر کی کشادگی، اور ترقیاتی منصوبوں کی کاغذی اصطلاحات میں لپیٹ کر مٹاتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ اس قانونی اور اداریاتی دھوکے کو ہم اتنی آسانی سے سچ مان لیتے ہیں کہ ہمارے اندر کا احتجاجی جذبہ قانون کا احترام کرنے کی معصومیت میں دم توڑ دیتا ہے۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ جو عمارتیں اور اوقاف صدیوں سے قائم ہیں، وہ جدید ریاست کے چند کاغذی قوانین سے غیر قانونی نہیں ہو جاتیں۔ جبر جب قانون کا لباس پہن کر آئے تو وہ اور زیادہ خطرناک ہو جاتا ہے، اور ہم اسی کاغذی جال میں الجھ کر اپنی تاریخ کا سودا کر رہے ہیں۔
ماضی اور حال کے اس موازنے میں جب میں قوم کے اداروں، اوقاف بورڈز اور قیادت کے طرزِ عمل کو دیکھتا ہوں، تو ایک گہرا المیہ سامنے آتا ہے۔ ہمارے اکابر کے دور میں مسجد کا تحفظ صرف وکیلوں کے دلائل یا عدالتوں کے اسٹامپ پیپرز کا محتاج نہیں تھا، بلکہ اس کے پیچھے عوامی بیداری اور دینی و تہذیبی غیرت کی ایک لہر موجود ہوتی تھی۔ لیکن آج ہماری قیادت اور متولیان کی ترجیحات بدل چکی ہیں۔ مساجد اور اوقاف جو قوم کی اجتماعی ملکیت اور روحانی امانت تھے، وہ اب محض قانونی مقدمے بازی، انتظامی کمیٹیوں کی سیاست اور کاغذی کارروائیوں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ اداروں نے اینٹوں کو بچانے کے لیے عدالتوں کے چکر تو کاٹے، لیکن عوام کے دلوں میں ان آثار کی حرمت اور ان سے گہرے تعلق کا رشتہ بیدار رکھنے کی کوئی فکری کوشش نہیں کی۔ نتیجے کے طور پر، جب کوئی محراب گرتی ہے تو قوم اسے محض ایک قانونی ہار سمجھ کر آگے بڑھ جاتی ہے، جبکہ حقیقت میں وہ ان کے وجود اور شناختی زوال کی ہار ہوتی ہے۔
آخر ہماری اجتماعی نفسیات میں یہ تبدیلی کیسے اور کب آئی؟ وہ کون سا موڑ تھا جہاں پہنچ کر ہم نے اپنے آثار کی بے حرمتی کو اپنے نصیب کا حصہ مان لیا؟ کیا یہ صرف خوف ہے؟ یقیناً خوف ایک بڑی حقیقت ہے۔ جدید ریاست کا بے پناہ جبر، بلڈوزر کی بھیانک علامت، معاشی تباہی کا ڈر اور آئینی تحفظات کا مسلسل کمزور ہونا ایک ایسا ماحول بنا چکا ہے جہاں ہر شخص کو اپنی اور اپنے بچوں کی بقا کی فکر پہلے ہے۔
لیکن کیا یہ خاموشی صرف خوف کی وجہ سے ہے، یا اس کے پیچھے ہماری وہ تاریخی بے چینی بھی ختم ہو چکی ہے جو کبھی قوموں کو زندہ رکھتی تھی؟ تاریخی بے چینی محض کسی نقصان کا غم نہیں ہوتی، بلکہ یہ اس خوف کا نام ہے کہ اگر آج ہم نے اپنے ماضی کی علامتوں کو چپ چاپ مٹتے دیکھ لیا، تو آنے والا کل ہماری پہچان، ہمارے تشخص اور ہمارے وجود کو بھی مٹا دے گا۔ جب یہ تاریخی بے چینی کسی قوم کے دل سے نکل جاتی ہے، تو وہ قوم اپنے آثارِ قدیمہ اور تاریخی ورثے کو محض ”پرانی اینٹیں“ سمجھنے لگتی ہے، اور یہی وہ گہرا تہذیبی نسیان ہے جو ہمیں اپنی ہی تاریخ سے بیگانہ کر رہا ہے۔ جب میں اپنے ارد گرد کی نئی نسل کو دیکھتا ہوں، جو صارفیت، معاشی دوڑ اور تکنیکی دنیا کی تیز رفتار زندگی میں الجھی ہوئی ہے، تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے شاید اپنے بچوں کو یہ سکھایا ہی نہیں کہ ان اینٹوں اور محرابوں میں ان کے آبا و اجداد کی کتنی تہذیبی محنت اور روحانی سرمایہ چھپا ہوا تھا۔ ہم نے عمارتوں کو بچانے کی لڑائی تو لڑی، مگر ان بنیادوں کو مضبوط کرنا بھول گئے جو دلوں میں ان عمارتوں کی حرمت قائم رکھتی ہیں۔
تاریخ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے میں یہ جانتا ہوں کہ جب کسی قوم کا اجتماعی حافظہ زوال پذیر ہوتا ہے، تو اس کا سب سے پہلا نشانہ اس کے تاریخی آثار بنتے ہیں۔ اور جب آثار مٹتے ہیں تو قوم کو محسوس بھی نہیں ہوتا کہ اس سے کیا چھن گیا ہے۔ اصل المیہ سہارن پور کی اس قدیم مسجد کا گرنا نہیں ہے۔ عمارتیں تو بنتی اور ٹوٹتی رہتی ہیں۔ اصل المیہ وہ ذہنی اور روحانی کیفیت ہے جس نے اس انہدام کو ایک معمولی حادثہ بنا کر قبول کر لیا ہے۔ ہم نے اپنے احساسِ زیاں کو کھو دیا ہے—جس احساسِ زیاں کی نشاندہی مولانا آزاد نے ”غبارِ خاطر“ میں کی تھی۔ ہم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ چپ رہنے میں ہی عافیت ہے، اور شاید یہی وہ خاموش زہر ہے جو کسی بھی قوم کے وجود کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ میں کوئی سیاسی لیڈر نہیں ہوں جو کسی نعرے یا تحریک کی دعوت دوں، اور نہ ہی میں ماضی کے سنہرے اوراق کی رومانیت میں گم رہنے کا قائل ہوں؛ میں تو صرف ایک فکر مند شہری اور اپنے عہد کا ایک تنہا مشاہدہ کرنے والا شخص ہوں، جو رات کے اندھیرے میں اپنے دل کی اس الجھن کو کاغذ پر اتار رہا ہے۔
جب میں اس تحریر کو تمام کر رہا ہوں، تو میرے سامنے وہی صبح کا اخبار پڑا ہے اور سہارن پور کی اس تین سطروں کی خبر پر میری نظر دوبارہ پڑتی ہے۔ ہوا چل رہی ہے اور باہر درختوں کے پتے ہل رہے ہیں، جیسے کچھ بھی نہیں ہوا ہو۔ لیکن میرے ذہن میں ایک سوال مسلسل گونج رہا ہے، اور میں یہی سوال ہر اس شخص کے سامنے چھوڑنا چاہتا ہوں جو اپنی تاریخ اور اپنے وجود سے ذرا سا بھی تعلق رکھتا ہے: اگر ہم اپنے ہی ہاتھوں اپنے ماضی کی ان گواہیوں کو یوں ہی خاموشی سے مٹتے دیکھتے رہے، اور اپنی حفاظت کے نام پر اپنے تہذیبی شعور اور اخلاقی جرأت کا سودا کرتے رہے، تو کل جب تمہاری آنے والی نسلیں ہم سے پوچھیں گی کہ جب تمہاری تاریخ، تمہاری شناخت اور تمہاری مساجد ایک ایک کر کے مٹائی جا رہی تھیں تو تم کس خوف یا کس غفلت کی نیند میں سو رہے تھے، تو اس وقت ہمارے پاس اپنے دفاع میں کہنے کے لیے کون سا لفظ باقی بچے گا؟