از:- محمد فہیم الدین بجنوری
مکہ معاہدہ خالص کاغذی نہیں تھا، ملکوں کی سطح پر کیے گئے اقدامات سنجیدہ ہوتے ہیں، ایسے معاہدے جگ ہنسائی کے لیے نہیں کیے جاتے، یہ معاہدہ ذمے دار ممالک نے کیا ہے، عسکری سطح پر بھی ان کی اہمیت ہے اور دنیا کے ایک بڑے خطے میں وہ غیر معمولی اثر کے لیے جانے جاتے ہیں، عالمی گونج رکھنے والا وہ اتحاد وقت گزاری نہیں تھا۔
سعودی عرب پر حوثی حملوں کے دوران اس ایگریمنٹ کی فعالیت خاص اس لیے زیر بحث آئی کہ اس وقت ایسی ہی شق کو شہ سرخی بنایا گیا تھا، یعنی ایک ملک پر حملہ تینوں ملکوں پر حملہ مانا جائے گا، اس سنسنی خیز دفعہ نے توجہ مبذول کی اور کتنے ہی ملک شمولیت کے خواہاں ہوے، حتى کہ بنگلہ دیش بھی پر تول رہا تھا۔
ترکی اور پاکستان کی طرف سے فوجی مداخلت نہ ہونے کی وجہ سے یہ معاہدہ موضوع گفتگو ہے، حامی گروپ تاویلیں کر رہا ہے، زیادہ اشاعت اس توجیہ کو ملی کہ معاہدہ دفاعی نوعیت رکھتا ہے، یہ مضحکہ خیز بات ہے، آپ نے اپنے ہی حلیف کو حملہ آور کہہ دیا، دوسرے لفظوں میں ظالم اور باطل بھی، ثانیا یہ منطق درست نہیں، بے شک ایک وقت سعودی کی طرف سے پہل ہوئی تھی؛ مگر تازہ تناظر میں حوثی حملہ آور ہیں اور سعودی دفاعی پوزیشن میں ہے۔
اپنی تشریح کے مطابق جنگ میں کودو اور سعودی دفاع کو مضبوط کرو؛ لیکن ایسا نہیں ہوگا، ایک رائے یہ ہے کہ اندر خانہ تعاون دیا جارہا ہے؛ لیکن یہ تاویل بھی خانہ پری ہے؛ کیوں کہ وہ تعاون کافی نہیں، جغرافیائی دوری کی وجہ سے پاکستان اور ترکی انٹیلیجنس میں کار آمد ہیں نہ ٹریس اور ٹریک میں، ان دونوں کی افادیت نشانہ بازی میں تھی جس کے لیے وہ متذبذب ہیں۔
درست بات یہ ہے کہ معاہدہ تازہ ہے، اس نے سر منڈایا ہی تھا کہ اولے پڑ گئے، اوپر سے وہ اولے سنگین بھی ہیں، معاہدہ ایک آغاز تھا، جسے نشو و نما کے لیے وقت نہیں ملا، اس نے تصور کا مرحلہ عبور کیا ہی تھا کہ تصدیق کا تقاضا آ کھڑا ہوا، انقلابی قدم عملی دشواری میں گھر گیا، عسکری خاکہ برق رفتار فوجی تعیناتی کے مہیب چیلنج کا شکار ہوگیا، معاہدے کے جمود کی جو بھی وجہ درست قرار پائے اتنا طے ہے کہ حوثیوں نے اس کی عزت لوٹ لی۔