اصحاب الجنة کا واقعہ اور اس سے عبرت

از:- محمد قمر الزماں ندوی

مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپ گڑھ

اس دنیا میں آدمی جو کچھ کماتا ہے وہ بظاہر کھیت باغ و باغیچہ سے یا اور کسی چیز سے ملتا ہوا نظر آتا ہے ۔ مگر حقیقتاً وہ اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا ہوتا ہے ۔ جو شخص اس کو خدا کا عطیہ سمجھے اور اس میں دوسرے بندگان خدا کا حصہ نکالے اس کی کمائی میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے گا اور جو شخص اپنی کمائی کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھے اور دوسروں کا حق انہیں دینے پر راضی نہ ہو اس کی کمائی اس کو فائدہ نہ دے سکے گی ۔ یہ خدا کا حتمی فیصلہ اور اٹل قانون ہے، جس میں شک و شبہ کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں۔ کبھی وہ کسی کے لئے دنیا میں بھی ظاہر ہو جاتا ہے اور آخرت میں تو لازما وہ ہر ایک کے حق میں ظاہر ہوگا ۔(تذکیر القرآن)

قرآن مجید میں سورہ قلم میں اصحاب الجنة کا جو واقعہ بیان کیا گیا ہے یہ اس کی ایک واضح مثال ہے اور جو عبرت و نصیحت کے لئے کافی ہے ، ارشاد خداوندی ہے: انا بلونھم کما بلونآ اصحاب الجنتة اذ اقسموا لیصرمنھا مصبحین الخ ”
ہم نے ان کو آزمائش میں ڈالا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمائش میں ڈالا تھا ۔جب کہ انہوں نے قسم کھائی کہ وہ صبح سویرے ضرور اس پھل کو توڑیں گے اور انہوں نے انشاء اللہ نہیں کہا ۔ پس اس باغ پر تیرے رب کی طرف سے ایک پھرنے والا پھر گیا اور وہ سو رہے تھے ۔ پھر صبح کو وہ ایسا رہ گیا ،جیسے کٹی ہوئی فصل ۔ پس صبح کو انہوں نے ایک دوسرے کو پکارا کہ اپنے کھیت پر سویرے چلو اگر تم کو پھل توڑنا ہے ۔ پھر وہ چل پڑے اور آپس میں چپکے چپکے کہہ رہے تھے کہ آج کوئی محتاج و ضرورت مند تمہارے پاس باغ میں نہ آنے پائے اور وہ اپنے کو نہ دینے پر قادر سمجھ کر چلے ۔ پھر جب باغ کو دیکھا تو کہا کہ ہم راستہ بھول گئے ، بلکہ محروم کر دئیے گئے ۔ ان میں جو بہتر تھا اس نے کہا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم لوگ تسبیح کیوں نہیں کرتے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا رب پاک ہے ۔ بے شک ہم ظالم تھے ، پھر آپس میں ایک دوسرے کو الزام دینے لگے ۔ انہوں نے کہا افسوس ہے ہم پر بے شک ہم حد سے نکلنے والے لوگ تھے شاید ہمارا رب ہم کو اس سے اچھا باغ اس کے بدلے میں دے دے ، ہم اسی کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ اسی طرح آتا ہے عذاب اور آخرت کا عذاب اس سے بڑا ہے ، کاش یہ لوگ جانتے ۔(سورہ القلم 17/ 33)

ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایک واقعہ کی طرف اشارہ کیا ہے ، تفسیر کی کتابوں میں مختصر طور پر اس کا ذکر آیا ہے ، یمن میں صنعاء سے چھ میل کے فاصلہ پر زروان یا زوران نام کی ایک آبادی تھی ، یہاں ایک نیک آدمی کی کھیتی تھی ، وہ غریبوں کا بڑا خیال رکھتا تھا ، جو لوگ آتے تھے ، ان کو اپنی پیداوار میں سے کھلاتا تھا ، جب اس کا انتقال ہوگیا اور یہ باغ اس کے تین بچوں کے ہاتھ میں آگیا تو ان کو خیال آیا کہ ہمارا بہت سارا مال غریبوں کو چلا جاتا ہے ؛ اس لئے ہم بالکل صبح صبح جب کہ رات کا دھندلکا باقی ہو ، آکر اپنے پھل توڑلیں کہ اس وقت غرباء نہیں آسکیں گے اور پوری پیداوار ہم لوگ اپنے گھر لے جائیں گے ؛ چنانچہ یہ صبح اُٹھے اورچپکے چپکے اپنے باغ کی طرف چلے ، اب جو دیکھا تو باغ کچھ اس طرح اُجڑ چکا تھا کہ اولاً تو انھیں خیال ہوا کہ شاید ہم غلط جگہ پر پہنچ گئے ہیں ؛ لیکن جب غور سے دیکھا تو انھیں اندازہ ہوا کہ ہم پہنچے تو ہیں صحیح جگہ پر ؛ لیکن اللہ کی طرف سے ان کے پھل ضائع کر دیئے گئے اور انھیں محروم کردیا گیا ، بہر حال اب ان میں جو بھائی نسبتاً بہتر تھے ، انھوں نے کہا کہ میں نے کہا تھا کہ تم لوگ اللہ کی تسبیح بیان کرو ، یعنی انشاء اللہ کہو ، اللہ سے توبہ کرو اور جو منصوبہ بناچکے ہو ، اس سے باز آجاؤ ؛ چنانچہ سب کو تنبیہ ہوئی اور سب نے اقرار کیا کہ ہم سے واقعی زیادتی ہوئی ہے ، پھر ایک دوسرے کو بھی بُرا بھلا کہنے لگے کہ تمہارے ہی مشورہ کی وجہ سے ایسا ہوا ہے ، آخر وہ اپنے جرم کا اعتراف کرتے اور اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرتے ہوئے کہنے لگے کہ ہوسکتا ہے کہ ہم اپنے والد کی طرح کام کریں ، تو پہلے باغ میں جو پھل لگے ہوئے تھے ، اللہ تعالیٰ اس سے بھی بہتر پھل دے دیں ، قرآن مجید میں تو واقعہ کا بیان یہیں تک ہے ؛ لیکن تفسیر کی کتابوں میں حضرت عبد اللہ بن مسعود وغیرہ سے روایت ہے کہ اِس رات تو باغ اُجڑ گیا تھا ؛ لیکن توبہ کرنے کے بعد اگلی رات پھر باغ پہلے سے بھی زیادہ لہلہا اُٹھا ، ( تفسیر قرطبی : ۱۸؍ ۲۴۵ ، ۲۴۴ ، مفاتیح الغیب : ۱۵؍۶۴۷ ، ۶۴۶) — اہل مکہ کے لئے اس میں عبرت ہے کہ جیسے لوگ پھل توڑنے کے لئے گئے اور محروم واپس آئے ، ایسا ہی حشر تمہارا ہونے والا ہے کہ تم مسلمانوں کو شکست دینے کے لئے نکلو گے اور خود شکست کھاکر آؤگے۔

آیت مذکورہ میں ان کو اصحاب الجنة یعنی باغ والوں کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے، مگر مضمون آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے پاس صرف باغ ہی نہیں بلکہ کاشت کی زمین بھی تھیں ۔ ہوسکتا ہے کہ باغ کے ساتھ مزروعہ زمین بھی ہو ، مگر باغوں کی شہرت کے سبب باغ والے کہہ دیا گیا۔

ان میں سے جو درمیانہ آدمی تھا یعنی باپ کی طرح نیک صالح اللہ کی راہ میں خرچ پر خوش ہونے والا دوسرے بھائیوں کی طرح بخیل اور سخت دل نہ تھا اس نے بھائیوں کو کہا تم اللہ کی تسبیح کیوں بیان نہیں کرتے ، تسبیح کے لفظی معنی تو پاکی بیان کرنے کے ہیں ، لیکن یہاں مطلب ہے کہ فقراء مساکین سے اپنا مال بچا لینے کی تدبیر کا منشا یہ ہے کہ آپ یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تم کو اس کے بجائے اور نہ دے گا حالانکہ اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے وہ خرچ کرنے والوں کو اپنے پاس سے اور زیادہ دیتا ہے ۔ بھائیوں نے اس وقت تو نہیں لیکن بعد میں سب نے اقرار جرم اور اعتراف قصور کیا ۔
یہاں اس نکتہ پر بھی ذہن رہے کہ درمیانہ آدمی جس نے صحیح بات کہی تھی اور وہ دوسروں سے یقینا بہتر تھا ، مگر بہر حال انہیں کیساتھ ہو لیا اور انہیں ہی کی غلط رائے پر عمل کے لیے تیار ہوگیا تھا ،اس لیے حشر اس کا بھی انہیں کے ساتھ ہوا ، اس سے معلوم ہوا کہ جو آدمی کسی گناہ سے لوگوں کو روکے مگر وہ نہ رکیں ، پھر خود بھی انہیں کے ساتھ لگا رہے اور گناہ میں شریک رہے تو یہ بھی انہیں کے حکم میں ہوتا ہے، اس کو چاہیے کہ وہ نہیں رکے تو خود اپنے آپ کو اس گناہ سے بچائے ۔ ایک نکتہ کی جانب اور بھی توجہ کی ضرورت ہے کہ آج کل بہت سے معاملات میں یہ ابتلاء عام ہے کہ بہت سی جماعتوں کے مجموعی عمل کی وجہ سے کوئی ناکامی یا مصیبت پیش آ جائے تو اس وقت ایک دوسرا عذاب ان پر یہ ہوتا ہے کہ اس کا الزام ایک دوسرے پر ڈالنے میں اپنا وقت ضائع کرتے ہیں، قرآن مجید میں اسی کمزوری کو یون بیان کیا گیا ہے،۔ ،فاقبل بعضھم علی بعض یتلاومون ،،(مستفاد از معارف القرآن)
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب اصحاب الجنة کی جگہ کے حوالے سے یمن کے سفر نامہ میں لکھتے ہیں:
،، صنعاء سے تقریباً دس میل کے فاصلے پر ایک جگہ ضروان کے نام سے موسوم ہے ۔ روایات سے پتہ چلتا ہے کہ قرآن کریم نے سورہ القلم میں ،، اصحاب الجنة،، کا جو واقعہ ذکر کیا ہے، وہ ضروان میں پیش آیا تھا ۔ واقعہ مختصراً یہ ہے کہ ایک نیک اور خدا ترس شخص نے انواع و اقسام کے پھل دار درختوں پر مشتمل ایک وسیع و عریض باغ لگایا تھا، اس کا معمول یہ تھا کہ جب بھی پھل کی کٹائی کا وقت آتا تو وہ سب سے پہلے علاقے کے غرباء میں اپنے باغ کی پیداوار تقسیم کیا کرتا تھا ۔ اور اس طرح باغ کی پیداوار کا ایک بڑا حصہ ضرورت مندوں پر خرچ ہو جاتا تھا، جب اس شخص کا انتقال ہوا اور باغ اس کی ناخلف اولاد کی طرف منتقل ہوا تو اولاد نے کہا کہ ہمارا باپ (معاذ اللہ) بے وقوف تھا کہ باغ کی دولت کا بڑا حصہ دوسروں میں تقسیم کر دیا کرتا تھا ۔ ہم اس احمقانہ معمول کو جاری نہیں رکھیں گے ۔ چنانچہ جب کٹائی کا وقت آیا تو انہوں نے ایسا انتظام کیا کہ کوئی غریب آدمی باغ کے پاس بھی نہ جاسکے ۔ یہ انتظام کرکے وہ رات کو سوئے ، صبح کو دولت کے نشے میں یہ سوچ کر باغ کی طرف روانہ ہوئے کہ آج ہم بلا شرکتِ غیرے باغ کی پیداوار سے فائدہ اٹھائیں گے ۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی بدنیتی کی بنا پر انہیں یہ سزا دی کہ رات رات میں پورا باغ تباہ ہوگیا ۔ جب یہ لوگ صبح کو باغ میں پہنچے تو وہاں کچھ باقی نہ تھا ۔ قرآن کریم نے یہ واقعہ عبرت کے لئے بیان فرمایا ہے ، لیکن یہ صراحت نہیں فرمائی کہ یہ کہاں پیش آیا تھا ۔ اگر چہ بعض حضرات نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ یہ حبشہ کی کسی جگہ کا واقعہ ہے ۔ لیکن زیادہ تر مفسرین کا کہنا ہے کہ یہ یمن میں پیش آیا تھا ۔ حافظ ابن کثیر رح نے مشہور تابعی حضرت سعید بن جبیر رح سے نقل فرمایا ہے کہ،، کانوا من قریة یقال لھا ضروان علی ستة امیال من صنعاء ،،

یہ لوگ ایک گاؤں کے باشندے تھے ،جس کا نام ضروان ہے ، جو صنعاء سے چھ میل دور واقع ہے ۔ ضروان نامی بستی آج بھی صنعاء سے کچھ فاصلے پر موجود ہے البتہ اب اسے ض کے بجائے ذال سے ذروان لکھنے لگے ہیں ، اور یہاں علماء نے بتایا کہ یمن میں یہ بات تقریباً تواتر سے مشہور ہے کہ یہی وہ بستی ہے جہاں کا واقعہ قرآن کریم نے سورہ القلم میں بیان فرمایا ہے،، ۔(بحوالہ/ دنیا میرے آگے )

قرآن مجید کے اندر اصحاب الجنة کے اس واقعہ کو پڑھنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ اس میں دو قسم کے انسانوں کی نفسیات ،فطرت، مزاج و عادت اور اخلاق و کردار کی سچی تصویر کشی کی گئی ہے اور عبرت انگیز و موثر واقعہ بیان کیا گیا ہے، ان میں سے ایک گروہ ،الفت و محبت تعاون و ہمدردی اور ایثار و قربانی و مواسات کو حیات انسانی کا حقیقی حسن و جمال تصور کرتا ہے اور دوسرے کی طبیعت میں خود غرضی مفاد پرستی بخل ، حرص و ہوس کی جھلکیاں نظر آتی ہیں ۔ پہلا عشق و محبت کو سرچشمئہ حیات انسانی سمجھتا ہے تو دوسرے کے نزدیک عیاری مکاری دھوکہ اور فراڈ ایک فن اور کلا ہے ، اورفریب دہی ایک کمال ہے ،ذاتی منفعت کا حصول اور خود غرضی و مفاد پرستی ایک پسندیدہ شغل، وہ اپنی ناجائز خواہشات کی تکمیل کی خاطر انسانی سماج اور انسانی معاشرہ کی بلی تک چڑھا سکتا ہے ۔ قرآن مجید اپنے پر تاثیر اور مخصوص طرز بیان کے ساتھ کہانی اور واقعہ کے پیرائہ بیان میں ان دونوں گروہوں کے نفسیات ،مزاج و طبائع اور افکار و نظریات کی نہایت حسین انداز اور خوبصورت انداز میں تصویر کشی کرتا ہے اس سے اس کا مقصد یہ ہے کہ جماعت اولیٰ کا واقعہ بیان کرکے ایک مومن مخلص کے لیے عبرت و نصیحت اور وعظ و پند کا سامان فراہم کرے تاکہ اس قرآنی کردار میں محاسن اور خیر کے جو پہلو ہیں ان سے استفادہ کرسکے ۔ اور جماعت ثانیہ سے قلبی نفرت اور بیزاری پیدا ہو ۔ اس کی عادات رذیلہ و رجحانات سئیہ سے بچنے کی سعی و کوشش کی جائے ۔ قصہ گرچہ مختصر ہے، لیکن جاذبیت دلکشی اور اثر انگیزی میں اپنی مثال آپ ہے، مقصدیت کے اعتبار سے بالکل واضح و جلی ،انداز گفتگو میں جدت اور نتائج و عواقب، دروس و عبرت کے بے مثال نمونے اپنے دامن ترتیب سے سجائے ہوئے ہے ۔ قصہ کے کردار اور اس کے پلاٹ کا تذکرہ اس لئے نہیں کہ کہ اس کا مقصود عبرت و نصیحت اور ہدایت و سعادت ابدی کا حصول ہے ۔اسی لئے قرآن مجید محاکات کے پرائیہ بیان میں انسانی طبائع و رجحانات کی عکاسی پر اکتفا کرتا ہے اور نفسیاتی تحلیل و تجزیہ سے کام لیتا ہے اور محسوسات کو مشاہدات کے قالب میں ڈھالنا چاہتا ہے، بھلا اللہ تعالیٰ سے جو خلاق عالم ہے زیادہ انسانی طبیعت اور اس کے مزاج و طبائع سے کون زیادہ واقف ہوسکتا ہے؟

انسانی فطرت و جبلت کی عکاسی اس سے زیادہ بہتر انداز اور اسلوب میں کون کرسکتا ہے؟ قرآن کا یہ بے مثال اور پر اثر و پر تاثیر قصہ زمان و مکان کی حدبندیوں سے آزاد ہے ،وہ تاریخ انسانی کے کسی خاص دور یا کسی خاص طبقہ کی ترجمانی نہیں کرنا چاہتا بلکہ قیامت تک آنے والی انسان کے لئے ان دونوں جماعتوں اور گروہوں کو بحیثیت نمونہ کے پیش کرنا چاہتا ہے ۔ اس کا مقصود یہ بتلانا ہے کہ اس طبیعت اور فطرت کے لوگ اور اس مزاج کے انسان ہر زمانے میں اور ہر قوم میں ہوئے ہیں ، اب بھی ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے ۔ ان کے انجام خیر و بد سے انسانیت کو عبرت و نصیحت اور سبق حاصل کرنا چاہیے اور ان مزاج و طبائع اور ذوق و رجحان کے اعتبار سے دعوت و تبلیغ اور وعظ و نصیحت کی پالیسیاں متعین کی جانی چاہئیں ، قرآنی قصوں کا یہی وہ امتیاز و شناخت اور خصوصیت ہے کہ وہ زمان و مکان کی حدود سے بلند ہوکر زندگی کے ساکن و صامت سمندر میں تموج و ارتعاش پیدا کرتے ہیں، حیات نو کا مژدہ سناتے ہیں ۔

(مستفاد از سہ ماہی کاروان ادب جولائی تا دسمبر 2012ء مضمون نگار خالد باندوی ندوی)

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔