- کتاب: اسلاموفوبیا: نفرت کا بیانیہ، حکمت کا پیغام
- مصنف: مولانا راشد امین قاسمی
- مبصر: عین الحق امینی قاسمی
- اردو منزل، خاتوپور، بیگوسرائے
- ناشر: قرطاس پبلیکیشنز
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
دینِ حق اور اس کے ماننے والوں کے خلاف باطل کی یلغار اور پروپیگنڈے کی کہانی بہت پرانی ہے۔ ہمارے قارئین کے ذہن میں یقیناً ہوگا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے توحید کی دعوت پیش کی اور بت پرستی کی مخالفت فرمائی تو قریش کے سرداروں نے لوگوں کو آپ ﷺ سے دور رکھنے کے لیے مختلف الزامات لگائے۔ کبھی آپ ﷺ کو شاعر کہا، کبھی جادوگر اور کبھی مجنون قرار دیا، تاکہ لوگ آپ کی بات سننے کے بجائے آپ سے بدظن ہو جائیں۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے ان الزامات کا ذکر فرمایا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ کا ترجمہ ہے: ’’اور وہ کہتے ہیں: کیا ہم ایک دیوانے شاعر کے لیے اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں؟‘‘ (سورۃ الصافات:34) اسی طرح سورۂ قلم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں ہیں۔ (القلم: 2)
یہ پروپیگنڈا دراصل حق کی دعوت کو بدنام کرنے کی کوشش تھی، لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کی سچائی واضح فرمائی اور قرآن کی روشنی میں ان الزامات کی تردید فرمائی۔ قرآنِ کریم نے ان حالات و واقعات کی طرف رہنمائی کرتے ہوئے ایک دوسرے مقام پر فرمایا:وَمَكَرُوا وَمَكَرَ اللّٰهُ وَاللّٰهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ۔یعنی انہوں نے خفیہ تدبیر کی، اور اللہ نے بھی تدبیر فرمائی، اور اللہ سب سے بہتر تدبیر فرمانے والا ہے۔(سورۂ آلِ عمران، آیت نمبر 54)اسی مفہوم کو ایک شاعر نے یوں ادا کیا ہے:
نورِ خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
’’اسلاموفوبیا‘‘ درحقیقت اسلام و کفر کے درمیان کشمکش کے تسلسل کی ایک نئی اصطلاح ہے، ورنہ اسلام اور مسلمانوں سے برگشتہ کرنے کا عمل زمانۂ قدیم ہی سے جاری رہا ہے۔ البتہ وقت بدلا، حالات بدلے اور زمانے کی نئی دریافتیں سامنے آئیں۔ ان تبدیلیوں نے جہاں بہت سی چیزوں کو متاثر کیا، وہیں حق کی راہ پر جمے اہلِ ایمان کو روکنے اور ٹوکنے کے وحشیانہ انداز بھی بدلے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ عہد میں اسلام اور مسلمانوں کو پسپا کرنے کے لیے نہ صرف مختلف ترکیبیں اپنائی جا رہی ہیں، بلکہ الگ الگ انداز سے خوف دلا کر انہیں کچلنے اور صفحۂ ہستی سے نیست و نابود کرنے کی مسلسل کوششیں بھی ہو رہی ہیں۔ مگر یہ اسلام اور مسلمانوں کی کرامت ہی کہیے کہ اس قدر ہلاکت خیز ظلم و زیادتی کے باوجود ہمارا نشان مٹنے کے بجائے مزید ابھرتا ہی رہا ہے۔ کسی نے درست کہا ہے:
اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے
ا تنا ہی یہ ا بھر ے گا جتنا کہ دباؤ گے
زیرِ نظر کتاب ’’اسلاموفوبیا: نفرت کا بیانیہ، حکمت کا پیغام‘‘ ایک حساس ذہن و دل کی عکاس ہے۔ اس کتاب میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہونے والے ظلم و ناانصافی کے واقعات کو دن اور تاریخ کی تعیین کے ساتھ جس تفصیل سے بیان کیا گیا ہے، اور جس سلیقے، دردمندی، فکرمندی اور کرب و اضطراب کے ساتھ ایک ایک ظلم و ناانصافی کی نشان دہی کی گئی ہے، وہ ایسا آئینہ ہے جسے دکھانے کے لیے غیر معمولی حساسیت اور دردمندی درکار ہے۔ کتاب کے مطالعے سے مولانا راشد امین قاسمی صاحب کے بے چین دل، تڑپا دینے والے مثبت جذبات کی گہرائی اور ملت سازی کے جذبے کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔
مولانا نے اپنی اس کتاب کو تیرہ ابواب میں تقسیم کرکے مطلوبہ مواد کو خوبی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ ہر باب میں گہرے تجزیے، مدلل تحقیق اور دل فگار کیفیت کی کسک رچی بسی محسوس ہوتی ہے۔ انہوں نے ٹھوس مواد اکٹھا کرنے میں جس قدر محنت کی ہے، وہ ان کے فکری رسوخ اور سماجی و نظریاتی جہت میں بلند نگاہی کی غماز ہے۔مصنفِ کتاب جناب راشد امین صاحب سے میں ذاتی طور پربہت زیادہ واقف نہیں ہوں، لیکن سوشل میڈیا کی دنیا میں وہ مجھ سے بہت پہلے سے موجود ہیں اور ایک پہچان رکھتے ہیں۔ وہ ایک زمانے میں ’’دی اوپینین ورلڈ‘‘ نامی اردو ویب سائٹ کے ایڈیٹر رہ چکے ہیں، جس پر میرے دو چار مضامین بھی شائع ہوئے تھے۔ اس پلیٹ فارم پر وہ کافی متحرک نظر آتے تھے۔ اس اعتبار سے میں انہیں بحیثیتِ ایڈیٹر جانتا ہوں۔ اس دور کی ان کی بعض تحریروں میں بھی مذکورہ عنوان کا عکس نظر آتا تھا، مگر یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ اس موضوع پر مستقل ایک دستاویزی کتاب شائع کرکے اسلاموفوبیا کی قلعی کھولنے اور حقیقت سامنے لانے کی کامیاب کوشش کریں گے۔
یوں تو کتاب میں عالمی نسل پرستی کے مختلف زاویوں پر بھی گفتگو کی گئی ہے، مگر عالمی تناظر کو چھوڑ کر اگر اپنے ملک، بھارت، کی بات کریں تو یہ کتاب ہر حساس دل کو تڑپا دینے والی ہے۔ اسلام اور مسلمانوں کے تعلق سے شرپسند عناصر کے عزائم اورسرگرمیوں کا بھی اس میں کئی جہتوں سے شاندار تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ ہندوستان جیسے ملک میں ظلم و بربریت، بدسلوکی اور سوتیلے رویّوں کو سمجھنے اور ان کی نشان دہی کرنے کے لیے ہر فردِ مسلم کو یہ کتاب اپنے پاس ضرور رکھنی چاہیے۔ مولانا راشد امین قاسمی نے لکھا ہے کہ اس موضوع پر اردو زبان میں کوئی مستقل کتاب دستیاب نہیں ہے۔ ہاں، اس سلسلے میں تھوڑی بہت چیزیں اخبارات میں آتی رہی ہیں، البتہ زیادہ تر مواد انگریزی زبان میں دستیاب ہے۔ راشد صاحب کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے غیر اردو حلقے سے مواد اکٹھا کرکے اسے اردو میں سلیقے سے پیش کیا ہے۔ زبان آسان ہے، لہجہ تند و تیزی سے پاک ہے اور اسلوب معروضی و ناقدانہ ہے۔ اس کے باوجود سطروں کے درمیان لفظوں میں ٹیس، چبھن اور درد و الم کی کیفیت محسوس کی جا سکتی ہے۔ اتنے پیچیدہ موضوع کو سنجیدگی، ٹھہراؤ، رواں قلمی اسلوب، جذبۂ صادق اور تنکوں کو جمع کرکے آشیانہ بنانے کی دھن نے کتاب کو لائقِ مطالعہ بنا دیا ہے۔ یہ کتاب اس قدر مؤثر ہے کہ اسے پڑھنے کے بعد قاری کو محسوس ہونے لگتا ہے کہ یہ اس کے اپنے ذاتی درد و تڑپ کی دل خراش داستان ہے۔
کتاب کے شروع میں بطورِ تقریظ و تحسین کئی معتبر دانش ور علمائے دین کی تحریریں شامل ہیں۔ مولانا محمد اعظم صاحب، جو خود بھی صاحبِ قلم اور بافیض استاد ہیں، اپنے شاگرد اور اس کتاب کے حوالے سے ایک مقام پر لکھتے ہیں:
’’کتاب کے ابواب اور صفحات پر نظر ڈال کر اور بڑے حصے کا مطالعہ کرکے اس نتیجے پر پہنچا کہ مصنف نے موضوع کو نہایت وسعت اور جامعیت کے ساتھ برتا ہے۔ انہوں نے اسلاموفوبیا کے مفہوم، تاریخی پس منظر اور فکری بنیادوں سے بحث کا آغاز کیا ہے، پھر انبیائے کرام علیہم السلام اور سیرتِ نبوی کی روشنی میں نفرت کے مقابلے میں حکمت، صبر اور دعوت کے اسالیب کو واضح کیا ہے۔ بعد ازاں صلیبی جنگوں، استعمار، جدید قومی ریاست، عالمی سیاست، میڈیا بیانیے، سوشل میڈیا، مصنوعی ذہانت، ہندوستانی تناظر، انسانی حقوق، بین المذاہب تعلقات اور اسلاموفوبیا کے سماجی و نفسیاتی اثرات جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔‘‘
جیسا کہ عرض کیا گیا، پوری کتاب تیرہ ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے باب میں اسلاموفوبیا کی اصطلاح اور اس کے گرد و پیش کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ دوسرے باب میں معرکۂ حق و باطل کے حوالے سے قدیم دور سے آج تک کی کشمکش کو دکھایا گیا ہے۔ تیسرے باب میں مغرب کی کارستانیوں اور اسلام کی مخالفت میں نفرت انگیزی کی پوری تاریخ پیش کی گئی ہے۔ چوتھے باب میں مغربی دنیا کے سماجی ڈھانچے، بالخصوص ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے واقعے کے بعد کی صورتِ حال کو اسلاموفوبیا کے تناظر میں بیان کیا گیا ہے۔ پانچویں باب میں اسلام اور مسلمانوں کے سلسلے میں میڈیا کے متعصبانہ رویّے کو اجاگر کیا گیا ہے۔ چھٹے باب میں برصغیرِ ہند و پاک میں مذہبی منافرت کے نتیجے میں کھڑی ہونے والی اس دیوار پر کھل کر لکھا گیا ہے جس نے حقائق کو مسخ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
اسی طرح ساتویں باب میں لو جہاد اور لینڈ جہاد جیسی اصطلاحات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ آٹھویں باب میں ووٹ بینک اور فرضی دشمنی کی سیاست کو اجاگر کیا گیا ہے۔ نویں باب میں اسلامی عقائد کو ڈیمیج کرنے کی سازشوں کا پردہ فاش کیا گیا ہے۔ دسویں باب میں اسلاموفوبیا کے سماجی و نفسیاتی اثرات اور مسلمانوں میں عدم تحفظ کے احساسات کو اجاگر کیا گیا ہے۔ گیارہواں باب خاصے کی چیز ہے اور اس نے پوری کتاب کو ایک دعوتی گائیڈ کی حیثیت بخش دی ہے۔ اس میں دعوتی حکمت اور مثبت عملی پیغام پیش کیا گیا ہے۔ بارہویں باب میں کامیاب حکمتِ عملی کی نشان دہی اور اس کے اسباب و امثال بیان کیے گئے ہیں، جب کہ تیرہویں باب میں اقوامِ متحدہ اور عالمی اداروں کی پالیسیوں کا جائزہ لینے کے ساتھ دور رس مشورے بھی پیش کیے گئے ہیں۔
اس طرح پوری کتاب شاندار طباعت، مناسب فونٹ، دیدہ زیب سائز اور عمدہ کاغذ کے ساتھ قرطاس پبلی کیشنز سے شائع ہوئی ہے۔ مولانا راشد امین قاسمی صاحب کی یہ کتاب نفرت کومٹانے اور محبت کی فضاء ہموار کرنے کی سمت میں ایک قابلِ قدر کوشش ہے۔ میری اہلِ علم، ائمہ و خطبا، اساتذہ، طلبہ، سماجی کارکنوں اور بالخصوص نوجوان نسل سے پُرخلوص گزارش ہے کہ وہ اس کتاب کا ضرورمطالعہ کریں، اسے دوسروں تک پہنچائیں اور اس کے پیغام کو مطالعے تک محدود رکھنے کے بجائے اپنی فکری و عملی زندگی کا حصہ بنائیں۔ اہلِ مدارس اور تعلیمی اداروں میں بھی اس موضوع پر سنجیدہ علمی گفتگو اور مثبت فکری بیداری کی راہیں ہموار کی جانی چاہییں۔دو سو بہتر صفحات پر مشتمل یہ کتاب بلاشبہ اس قابل ہے کہ اسے خرید کر پڑھا جائے اور مصنف کے درد و کرب کو محسوس کیا جائے، تاکہ ملکی نظام کی ابتری کو دور کرنے، بالخصوص اسلاموفوبیا سے متاثر ذہنوں کی اصلاح کرنے اور ملک کو ایک بار پھر بھائی چارے اور گنگا جمنی تہذیب کا گہوارہ بنانے کی سمت میں دیرپا کوششوں کے لیے آگے بڑھا جا سکے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مصنف کی علمی وقلمی خدمات کو قبول فرمائے اور ان کی محنت و کاوش کو خاص وعام میں قبولیت بخشے۔درج نمبر پر مصنف اور نگارشات بک اسٹور دیوبند سے براہ راست کتابیں طلب کی جاسکتی ہیں۔