اسلام میں آمد اور سناتن دھرم میں واپسی کے دعوے کی تاریخی و سماجی حیثیت پر اظہارِ خیال
نازیہ الٰہی خان کی جانب سے سناتن دھرم میں واپسی کے اعلان پر مولانا عبدالحمید نعمانی نے سوال اٹھایا ہے کہ آخر وہ اسلام میں کب داخل ہوئی تھیں اور کب مسلمان بنی تھیں کہ اب سناتن دھرم میں واپسی کا اعلان کر رہی ہیں؟ ان کا کہنا ہے کہ سید، شیخ، مغل اور خان پٹھان جیسی شناخت رکھنے والے تمام مسلمان لازماً ہندو سماج سے اسلام میں داخل نہیں ہوئے، اس لیے تمام مسلمانوں کو سابقہ ہندو قرار دے کر ان کی واپسی کا دعویٰ کرنا تاریخی اعتبار سے درست نہیں۔
مولانا عبدالحمید نعمانی نے اپنے بیان میں کہا کہ بعض افراد یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ تمام مسلمان پہلے ہندو اور سناتنی تھے، جب کہ یہ بات جہالت اور تاریخی حقائق سے ناواقفیت پر مبنی ہے۔ البتہ مسلمانوں کی بڑی تعداد، بلکہ اکثریت، ہندوستانی نژاد ہے۔ ان کے مطابق کسی شخص کا اپنا سابقہ سماجی و مذہبی ماحول چھوڑ کر اسلام قبول کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اس نے اسلام کی تعلیمات اور خصوصیات میں کشش محسوس کی؛ کیونکہ اپنے مانوس سماجی ماحول کو ترک کرنا کوئی آسان فیصلہ نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستانی نژاد مسلمان ہوں یا بیرونِ ہند سے آکر یہاں آباد ہونے والے مسلمان، سبھی آئینی اور تاریخی بنیادوں پر ہندوستانی شہری ہیں۔ ان کی شہریت پر سوال اٹھانا تعصب اور فرقہ وارانہ ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔
مولانا عبدالحمید نعمانی کے مطابق اسلام قبول کرنے والے افراد عموماً اس کی تعلیمات اور خوبیوں سے واقف ہونے کے بعد یہ فیصلہ کرتے ہیں، جب کہ اسلام ترک کرکے کسی دوسرے مذہب کو اختیار کرنے والے افراد کی جانب سے اس تبدیلی کی وجوہات اور نئے مذہب کی خصوصیات کے بارے میں اطمینان بخش وضاحت کم ہی سامنے آتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تاریخ میں اسلام ترک کرنے والوں کے معاملات کا جائزہ لیتے ہوئے ان کے فیصلوں اور اسباب کو سنجیدگی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔