از:- سید سرفراز احمد
ظُلم صرف وہ نہیں ہوتا جو کسی کمزور انسان پر ہاتھ اٹھا کر کیا جائے۔ ظلم یہ بھی ہے کہ کسی کے بنیادی حقوق سلب ہوتے دیکھے جائیں، اس کی عبادت گاہ منہدم کردی جائے، اس کی آواز دبائی جائے اور پھر وہ لوگ بھی خاموش رہیں جن سے مظلوم کو آوازِ حق کی توقع ہوتی ہے۔ ہندوستان کی موجودہ سیاسی صورتِ حال میں یہ سوال پہلے سے کہیں زیادہ شدت کے ساتھ سامنے آ رہا ہے کہ جب ایک طبقے کو بار بار نشانہ بنایا جائے تو اس کے نمائندے کب تک مصلحت، مفاہمت اور خاموشی کے پردے میں پناہ لیتے رہیں گے؟
وزیر اعظم نریندر مودی کے دورِ حکومت میں مسلمانوں کے بارے میں سیاسی، سماجی اور انتظامی سطح پر پیدا ہونے والی بے چینی کوئی نئی بات نہیں۔ کبھی شہریت کے قانون پر احتجاج، کبھی حجاب کا تنازع، کبھی بلڈوزر کارروائیاں، کبھی عبادت گاہوں سے متعلق تنازعات اور کبھی مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات، ان واقعات نے ایک ایسے ماحول کو جنم دیا ہے جس میں ہندوستانی مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ خود کو مسلسل دفاعی پوزیشن میں محسوس کرتا ہے۔ لیکن اصل المیہ صرف یہ نہیں کہ طاقت کے مراکز سے کیا ہورہا ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کی سیاسی و سماجی قیادت اس صورتِ حال کا جواب کس قوت، حکمت اور مستقل مزاجی کے ساتھ دے رہی ہے؟
تازہ واقعہ سہارنپور کا ہے، جہاں ضلع کلکٹریٹ کے احاطے میں موجود ایک مسجد کو 5 ستمبر 2026 کو انتظامیہ نے منہدم کردیا۔ سرکاری موقف یہ ہے کہ مسجد سرکاری زمین پر غیر مجاز تعمیر تھی اور ضلعی عدالت کی جانب سے اپیل مسترد کیے جانے کے بعد کارروائی کی گئی۔ دوسری طرف مسجد انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کارروائی میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ عدالت نے 2 ستمبر کو اپیل مسترد کی تھی، جبکہ انتظامیہ نے اس سے قبل مسجد کو غیر مجاز قرار دیتے ہوئے زمین خالی کرنے کا حکم دیا تھا۔
یہاں ایک بنیادی اصول واضح رہنا چاہیے۔ اگر کوئی تعمیر واقعی غیر قانونی ہے تو قانون کا اطلاق ہونا چاہیے، لیکن قانون کی آڑ میں کسی مذہبی عبادت گاہ کے معاملے کو محض انتظامی کارروائی سمجھ کر ختم نہیں کیا جاسکتا۔ عبادت گاہ سے متعلق کارروائی شفاف، غیر جانب دار، مکمل قانونی تقاضوں کے مطابق اور عوام کے اعتماد کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہونی چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ سہارنپور کا واقعہ محض ایک عمارت کے انہدام کا مسئلہ نہیں بلکہ قانون، مذہبی آزادی، انتظامی شفافیت اور اقلیتوں کے اعتماد کا سوال بن گیا ہے۔ اس کارروائی کے دوران بھاری پولیس فورس تعینات رہی اور سماج وادی پارٹی کی رکن پارلیمنٹ اقراء حسن نے خود کو حراستِ نظر میں رکھے جانے کا دعویٰ کیا۔
لیکن اسی دوران ایک اور واقعہ نے ہندوستانی مسلمانوں کے لیے ایک انتہائی سنجیدہ سوال پیدا کردیا ہے۔ دہلی میں دو مسلم خواتین صحافیوں، شاہین خان اور نفیسہ خان، نے الزام لگایا کہ انہیں ساکیت میں ایک پروگرام کی کوریج کے دوران حراست میں لے کر پولیس اسٹیشن میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان کی مذہبی شناخت دریافت کرنے کے بعد رویہ مزید سخت ہوگیا۔ دہلی پولیس نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ دونوں خواتین نے وی وی آئی پی روٹ میں رکاوٹ پیدا کی تھی اور پولیس نے انہیں اسی تناظر میں تھانے منتقل کیا۔ متعدد صحافتی تنظیموں نے تاہم واقعے کی آزادانہ اور منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
یہاں بھی انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ الزام اور ثابت شدہ حقیقت میں فرق رکھا جائے۔ لیکن اگر پولیس پر یہ الزام لگایا جائے کہ دو صحافیوں کے ساتھ ان کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر بدسلوکی ہوئی، تو یہ معمولی شکایت نہیں۔ یہ صرف دو خواتین کا مسئلہ نہیں بلکہ آزادیٔ صحافت، خواتین کے وقار، پولیس کی جواب دہی اور آئینی مساوات کا مسئلہ ہے۔ اگر الزام غلط ہے تو آزادانہ تحقیقات اسے غلط ثابت کردیں۔ اور اگر درست ہے تو ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ خاموشی کسی بھی صورت میں حل نہیں۔
یہیں سے مسلم قیادت کا کردار زیرِ بحث آتا ہے۔
مسلمانوں کی قیادت کا مطلب صرف انتخابات کے وقت ووٹ مانگنا، عید کے موقع پر مبارک باد دینا یا کسی بڑے سانحے کے بعد رسمی بیان جاری کرنا نہیں۔ قیادت کا اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب حالات ناموافق ہوں، جب مظلوم تنہا ہو، جب طاقتور کے سامنے کھڑا ہونا سیاسی نقصان کا سبب بن سکتا ہو۔ اگر قیادت ہر موقع پر یہ سوچنے لگے کہ حکومت ناراض نہ ہوجائے، اتحادی جماعتیں دور نہ ہوجائیں، ووٹ بینک متاثر نہ ہو یا ذاتی مفادات کو نقصان نہ پہنچے تو پھر قیادت اور مصلحت پسندی میں فرق باقی نہیں رہتا۔
مصلحت سیاست کا حصہ ہوسکتی ہے، لیکن مصلحت اگر اصول کو نگل جائے تو وہ حکمت نہیں رہتی، کمزوری بن جاتی ہے۔ مسلمانوں کو جذباتی نعروں سے زیادہ ایک ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو آئینی زبان میں، قانونی راستوں سے اور جمہوری قوت کے ساتھ اپنے حقوق کی حفاظت کرے۔ ہر مسئلے پر سڑکوں پر نکل آنا حل نہیں، لیکن ہر مسئلے پر خاموش رہنا بھی کوئی حکمت نہیں۔ پارلیمنٹ میں سوال اٹھانا، عدالتوں سے رجوع کرنا، قومی انسانی حقوق کمیشن اور دیگر آئینی اداروں کو متحرک کرنا، صحافتی آزادی کے لیے سول سوسائٹی کے ساتھ کھڑا ہونا اور متاثرین کو قانونی مدد فراہم کرنا یہ سب قیادت کے بنیادی فرائض میں شامل ہونا چاہیے۔
افسوس یہ ہے کہ مسلم قیادت اکثر ردِعمل کی سیاست تک محدود ہوجاتی ہے۔ کوئی واقعہ پیش آتا ہے، بیان جاری ہوتا ہے، پریس کانفرنس ہوتی ہے، چند دن شور رہتا ہے اور پھر اگلے واقعے کا انتظار شروع ہوجاتا ہے۔ اس طرزِ عمل سے نہ پالیسی بدلتی ہے، نہ ادارہ جاتی اصلاح ہوتی ہے اور نہ مظلوم کو مستقل تحفظ ملتا ہے۔ مسلمانوں کو ایسی قیادت چاہیے جو حکومت کی دشمن نہ ہو مگر حکومت سے مرعوب بھی نہ ہو۔ جو اپوزیشن کا حصہ بن سکتی ہو مگر اپنی آواز کسی سیاسی جماعت کے حوالے نہ کرے۔ جو مسلمانوں کے حقوق کی بات کرے مگر اسے آئین، قانون اور انسانی حقوق کی زبان میں کرے۔ اور جو صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ ہر مظلوم کے لیے کھڑی ہو۔ کیونکہ انصاف کی سب سے مضبوط آواز وہی ہوتی ہے جو مذہب، ذات اور جماعت سے بالاتر ہو۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ مسلم قیادت کو اپنی داخلی کمزوریوں کا احتساب کرنا ہوگا۔ مسلمانوں کے اندر سیاسی انتشار، باہمی الزام تراشی، شخصیات پرستی، تنظیمی تقسیم اور محدود مفادات نے اجتماعی قوت کو کمزور کیا ہے۔ مختلف جماعتیں اور تنظیمیں ایک دوسرے کو حریف سمجھتی رہیں تو مخالف سیاسی ماحول میں مسلمانوں کی اجتماعی آواز مزید کمزور ہوگی۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم قیادت میں کون سب بڑا لیڈر ہے؟ اس سوال سے نکل کر مسلمانوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت کیسے ہوگی؟ کے سوال پر آئے۔ مسجد کا مسئلہ ہو تو قانونی ماہرین کی ٹیم تیار ہو، صحافیوں پر حملہ ہو تو صحافتی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے ساتھ مل کر آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ ہو، کسی نوجوان کی گرفتاری ہو تو فوری قانونی امداد پہنچے، کسی علاقے میں فرقہ وارانہ کشیدگی ہو تو مقامی سطح پر امن کمیٹیاں فعال ہوں۔
خاموشی کبھی کبھی حکمت ہوتی ہے، لیکن مسلسل خاموشی ظلم کو خاموش اجازت میں تبدیل کرسکتی ہے۔ اور یہ سوال صرف مسلم قیادت سے نہیں، عام مسلمانوں سے بھی ہے۔ کیا ہم ہر واقعے کے بعد چند جذباتی پوسٹیں لکھ کر، ویڈیوز شیئر کرکے اور ایک دوسرے کو الزام دے کر اپنا فرض پورا سمجھ سکتے ہیں؟ کیا ظلم کے مقابلے میں ہماری ذمہ داری صرف احتجاجی نعرہ ہے؟ نہیں، جمہوریت میں شہری کی طاقت اس کے شعور، ووٹ، قانونی جدوجہد، تنظیم، صحافت اور پرامن اجتماعی آواز میں ہوتی ہے۔سہارنپور کی مسجد کا انہدام ہو یا دہلی میں دو خواتین صحافیوں کے ساتھ مبینہ پولیس تشدد دونوں واقعات اپنے اپنے دائرے میں سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں۔ ایک عبادت گاہ کے بارے میں قانونی حیثیت اور انتظامی طریقۂ کار کا سوال ہے۔ دوسرا پولیس، صحافت اور مذہبی شناخت کے حوالے سے سنگین الزامات کا معاملہ ہے۔ دونوں میں تحقیقات، شفافیت اور جواب دہی ضروری ہے۔
لیکن سب سے بڑا سوال پھر بھی وہی ہے کہ مسلم قیادت کب تک تماشائی بنی رہے گی؟ قیادت کا مطلب یہ نہیں کہ ہر وقت تصادم کیا جائے۔ قیادت کا مطلب یہ ہے کہ ظلم کے سامنے دلیل ہو، عدالت میں مقدمہ ہو، پارلیمنٹ میں آواز ہو، صحافت میں سچ ہو، عوام میں شعور ہو اور ضرورت پڑے تو پرامن مگر مضبوط مزاحمت بھی ہو۔ آج اگر مسجد گرتی ہے اور ہم خاموش رہتے ہیں، کل اگر صحافی کی آواز دبائی جاتی ہے اور ہم خاموش رہتے ہیں، پرسوں اگر کسی شہری کے آئینی حق پر ضرب پڑتی ہے اور ہم پھر مصلحت کا نام لے کر خاموش ہوجاتے ہیں، تو مسئلہ صرف ظالم کا نہیں رہتا پھر ہماری خاموشی بھی تاریخ کے سوالات میں شامل ہوجاتی ہے۔ ظلم کرنے والا ایک دن جواب دے سکتا ہے، مگر ظلم دیکھ کر خاموش رہنے والوں سے تاریخ ہمیشہ سوال کرتی ہے۔
مسلمانوں کو اشتعال نہیں، شعور چاہیے۔ تصادم نہیں، تنظیم چاہیے۔ نعروں سے زیادہ حکمتِ عملی چاہیے۔ اور سب سے بڑھ کر ایسی قیادت چاہیے جو اقتدار کے ایوانوں سے اپنے تعلق کو نہیں بلکہ اپنے اصولوں کو اپنی طاقت سمجھے۔ کیوں کہ زندہ قومیں ظلم کا تماشہ نہیں دیکھتیں بلکہ آئین، قانون، اخلاق اور جمہوری جدوجہد کے ذریعے ظلم کے خلاف کھڑی ہوتی ہیں۔ اور نہ ہی مسلمانوں کو نا امید بھی نہیں ہونا ہے۔ اور نہ مایوسی کے گھٹا توپ اندھیرے میں جانا ہے۔ بلکہ عزم اور حوصلے کے ساتھ اٹھ کھڑے ہونا شرط ہے۔ کیوں کہ آپ کے ساتھ دیگر اقلیتی طبقہ بھی کھڑا ہونا چاہتا ہے۔ گودی میڈیا کو چھوڑ کر آزادنہ میڈیا انڈسٹری کی ایک بڑی تعداد ظلم کے خلاف آج بھی کھڑی نظر آتی ہے۔ حالیہ جین زی کو بھی ہم نے دیکھا ہے کہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ظلم و نا انصافی کے خلاف آواز اٹھانے کی بڑی طاقت رکھتی ہے۔ ان سب میں مسلمان خود کو اگر دیکھتا ہے تو ہم کہیں بھی نظر نہیں آتے۔ ضرورت ہے ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی۔ اپنے حق کی لڑائی لڑنے کی۔ ورنہ غفلت میں پڑے رہنے سے خدا کی نصرت بھی نہیں آۓ گی۔