ابراھیمیت صہیونیت کے فریم میں؛ از: ڈاکٹر محمد العوضی — ایک تعارف

✍️ ندیم احمد میر

ـــــــــــــــــــــــــــ

  • کتاب کا نام:ابراھیمیت-صیہونیت کے فریم میں
  • مصنف:ڈاکٹر محمد العوضی
  • اردو ترجمہ:ڈاکٹر محمد طارق ایوبی
  • صفحات:224
  • قیمت:300
  • ناشر:ھدایت پبلشرز اینڈ ڈسٹری بیوٹرس
  • کتاب حاصل کرنے کے لیے رابطہ نمبر:9891051676

ـــــــــــــــــــــــــــ

دینِ اسلام محض چند رسوم و عبادات کا نام نہیں،بلکہ زندگی کے ہر گوشے کو محیط ایک جامع ضابطۂ حیات اور مکمل دستورِ زندگی ہے۔انسان کی انفرادی زندگی ہو یا اجتماعی نظام،فکر و عمل ہو یا معاشرت و سیاست،اسلامی تعلیمات ہر شعبۂ حیات میں رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔قرآنِ کریم واضح کرتا ہے کہ حضرت نوحؑ سے لے کر خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰﷺ تک تمام انبیائے کرامؑ کی دعوت اپنی اصل و اساس میں ایک ہی رہی ہے،یعنی اللّٰہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی کامل اطاعت۔دینِ اسلام اسی ازلی و ابدی دعوت کا تسلسل ہے،یہ نہ کوئی نوخیز دین ہے اور نہ ہی منقطع دعوت،بلکہ وہی جامع پیغامِ ہدایت ہے جو ہر دور میں انسانیت کی رہنمائی کرتا رہا ہے۔اسی حقیقت کو قرآنِ کریم ان دوٹوک الفاظ میں بیان کرتا ہے:
إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ۔(آل عمران:19)
’’بے شک اللّٰہ کے نزدیک دین اسلام ہی ہے۔‘‘
جب دین اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ مکمل نظامِ حیات ہے تو پھر تاریخ میں اسے خواہشات،مفادات اور مصلحتوں کے مطابق ڈھالنے کی کوششیں کیوں ہوتی رہی ہیں؟ قرآنِ کریم بنی اسرائیل کی تاریخ کے ذریعے اس سوال کے اہم پہلوؤں کو واضح کرتا ہے۔انہیں کثرتِ انبیاء،بے شمار نعمتوں اور عظیم دینی ذمہ داریوں سے نوازا گیا،لیکن جب دینی نسبت اپنے حقیقی تقاضوں،یعنی ایمان،کردار اور اطاعت سے خالی ہونے لگی تو محض نسبت انحراف کے انجام سے نہ بچا سکی۔
یہاں اصل مسئلہ کسی قوم یا نسل سے نفرت نہیں،بلکہ مذہبی نسبت اور اس کی حقیقی روح کے درمیان پیدا ہونے والا فاصلہ ہے۔قرآنِ کریم حضرت ابراہیمؑ کے حوالے سے اسی حقیقت کو نہایت وضاحت سے بیان کرتا ہے:
مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيًّا وَلَا نَصْرَانِيًّا وَلَٰكِنْ كَانَ حَنِيفًا مُّسْلِمًا ۖ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ۔(آل عمران:67)
”ابراہیمؑ نہ یہودی تھا نہ عیسائی،بلکہ وہ تو ایک مسلم یکسو تھا اور وہ ہرگز مشرکوں میں سے نہ تھا۔“
حضرت ابراہیمؑ کی شناخت کسی بعد کی مذہبی نسبت سے نہیں،بلکہ توحید،حنیفیت اور اطاعتِ الٰہی سے متعین ہوتی ہے۔یہی قرآنی حقیقت ہمارے عہد کے ایک اہم فکری سوال سے جڑتی ہے،جہاں’’ابراہیمی‘‘نسبت کے عنوان سے مختلف مذاہب کو ایک مشترک فریم میں پیش کرنے کی کوششیں سامنے آ رہی ہیں۔
بظاہر اس تصور کے عنوانات امن،مکالمہ اور بقائے باہمی ہیں،لیکن سوال یہ ہے کہ کیا مشترک نسبت کے نام پر ادیان کے بنیادی عقائد اور امتیازات دھندلے ہونے کا اندیشہ بھی موجود ہے؟ کیا اسلام کو ایک مکمل نظامِ حیات کے بجائے محض شخصی عقائد اور چند عبادات تک محدود کرنے کی کوشش تو نہیں کی جا رہی؟ یہ سوال نہ مکالمے کی نفی ہے،نہ پُرامن بقائے باہمی کی مخالفت،بلکہ اس فکری تصور اور اس کے ممکنہ نتائج کو سمجھنے کی سنجیدہ دعوت ہے۔
یہ بحث مسئلۂ فلسطین کے تناظر میں مزید اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔فلسطین محض زمین کا تنازع نہیں،بلکہ عدل و ظلم،انسانی حرمت،قبضے اور آزادی سے وابستہ ایک بنیادی مسئلہ ہے۔’’طوفانِ اقصیٰ‘‘ نے بھی برسوں سے قائم کئی تصورات کو ہلا کر فلسطین کے مسئلے کو عالمی ضمیر کے سامنے نئے انداز میں نمایاں کیا ہے۔ایسے میں ضروری ہے کہ واقعات کو محض سیاسی اتار چڑھاؤ کے طور پر دیکھنے کے بجائے مذہب،سیاست،تہذیب اور طاقت کے باہمی تعلقات کو بھی سمجھا جائے۔بظاہر فلسطین،ابراہیمی بیانیہ،صیہونیت اور اسلام کی مذہبی شناخت سے متعلق مباحث الگ الگ دکھائی دیتے ہیں،لیکن ان کے ممکنہ فکری و سیاسی روابط سے صرفِ نظر کر کے موجودہ منظرنامے کی مکمل تفہیم ممکن نہیں۔

اسی پس منظر میں ’’ابراہیمیت صیہونیت کے فریم میں‘‘ کی اہمیت پوری طرح سامنے آتی ہے۔یہ کتاب مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ سیاسی منظرنامے اور اس خطے کے حوالے سے مغربی دنیا،بالخصوص امریکہ اور غاصب ریاست کی پالیسیوں اور منصوبہ بندی کو سمجھنے کی ایک سنجیدہ علمی کوشش ہے۔اس کے مصنف ڈاکٹر محمد العوضی عرب دنیا کے ممتاز اسکالر اور محقق ہیں۔مشرقِ وسطیٰ کی سیاست پر گہری نظر،عرب ممالک کے بدلتے حالات کا قریب سے مشاہدہ اور مختلف اہم عرب اداروں سے وابستگی نے ان کے مطالعے کو وسعت اور تجزیے کو گہرائی عطا کی ہے۔
مصنف نے ’’ابراہیمیت‘‘ کے بظاہر دلکش اور خوش نما عنوان کے پیچھے کارفرما فکری و سیاسی جہتوں کو صیہونیت کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کی ہے۔وہ ایسے بنیادی سوالات قاری کے سامنے رکھتے ہیں جن سے صرفِ نظر موجودہ دور کی ایک اہم فکری غفلت قرار پا سکتی ہے:
ابراہیمیت کا تصور کن محرکات کے تحت سامنے آیا؟ صیہونیت سے اس کا تعلق کس نوعیت کا ہے؟ اس کے پسِ پشت کون سے مذہبی اور سیاسی تصورات کارفرما ہیں؟ اور اس کے نتیجے میں اسلام اور امتِ مسلمہ کی فکری و تہذیبی شناخت پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟
یہی وجہ ہے کہ زیرِ نظر کتاب محض ایک نئی اصطلاح سے تعارف یا کسی سیاسی منصوبے کی تفہیم تک محدود نہیں رہتی،بلکہ عصرِ حاضر کے ایک اہم فکری و سیاسی رجحان کو اس کے پس منظر،مقاصد اور ممکنہ مضمرات کے ساتھ سمجھنے کی دعوت دیتی ہے۔یہ کتاب قاری کو ٹھہر کر سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ مشترک مذہبی نسبتوں کے اس خوش نما بیانیے کے پیچھے حقیقت کیا ہے،اس کے اہداف کیا ہیں اور بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں امتِ مسلمہ کو کن فکری سوالات اور چیلنجز کا سامنا ہے۔
کتاب کی اشاعت کے مرحلے میں ہدایت پبلشرز اینڈ ڈسٹری بیوٹرس کے منیجنگ ڈائریکٹر،جناب ابو الاعلیٰ سید سبحانی صاحب بھی خصوصی تحسین کے مستحق ہیں،جنہوں نے اس علمی کاوش کو طباعتی حسن سے بھی آراستہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔نفیس کاغذ،عمدہ طباعت اور نہایت سلیقہ مندانہ و دیدہ زیب پیش کش نے کتاب کے علمی وقار کو بصری حسن عطا کرتے ہوئے اس کی جاذبیت کو دوچند کر دیا ہے۔یوں کتاب کا حسن صرف اس کے مضامین تک محدود نہیں،بلکہ اس کے ظاہری قالب میں بھی پوری طرح جھلکتا ہے۔
اس کتاب کو اردو کے قالب میں ڈھالنے کی سعادت بھارت کے ممتاز علمی ادارے دار العلوم ندوۃ العلماء،لکھنؤ کے فاضل،متعدد علمی و فکری کتابوں کے مصنف،اردو و عربی زبان کے کہنہ مشق قلم کار اور صاحبِ فکر و نظر صحافی و نقّاد،جناب ڈاکٹر محمد طارق ایوبی ندوی کے حصے میں آئی ہے۔انہوں نے اپنی علمی بصیرت،لسانی مہارت اور ادبی ذوق کو بروئے کار لاتے ہوئے کتاب کا ترجمہ نہایت شستہ،سلیس اور رواں اسلوب میں کیا ہے،جس سے اصل کتاب کی معنوی گہرائی اور فکری تاثیر برقرار رہنے کے ساتھ اس کی دل نشینی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔کتاب کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے وہ رقم طراز ہیں:
”یہ کتاب دراصل ابراہیمی منصوبہ کو ہر ناحیہ سے بے نقاب کرتی ہے،اس عہد کی سب سے بڑی دجالی سازش سے پردہ اٹھاتی ہے،دینی،اعتقادی،اقتصادی،سیاسی اور فلسفیانہ زاویوں سے اس کا جائزہ لیتی ہے،اس کے مضرات و مضمرات سے واقف کراتی ہے،کہا جا سکتا ہے کہ یہ کتاب مغرب کی فکری یلغار،اس کے طرز سیاست،فکری جنگ،مشرق کی شکست خوردگی،خود سپردگی اور مغربی تسلط کے زیر سایہ جینے کے معاہدوں سے پردہ اٹھائی ہے۔“(ص 11)
فاضلِ مصنفِ کتاب اپنے مقدمے میں ایک مقام پر کتاب کی اہمیت و افادیت کو اجاگر کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
”یہ کتاب عرب دنیا کی پہلی کتاب ہے جو ذمہ داری اور وضاحت کے ساتھ معاہدہ ابراہیمی کی حقیقت سے پردہ اٹھاتی ہے،اس کے مالہ و ما علیہ کو پوری ذمہ داری کے ساتھ بیان کرتی ہے۔“(ص 26)
فاضلِ مصنف نے 224 صفحات پر مشتمل اس فکر انگیز کتاب کو دس جامع فصلوں میں اس حسنِ ترتیب اور سلیقۂ تبویب کے ساتھ تقسیم کیا ہے کہ کتاب کا مطالعہ نہ صرف سہل اور دل چسپ بن جاتا ہے،بلکہ قاری کو موضوع کی تہہ تک پہنچنے میں بھی بھرپور معاونت فراہم کرتا ہے۔

پہلا فصل”سیاسی و اقتصادی منصوبہ کے لیے دین کا استعمال! دین ابراہیمی اور صدی ڈیل“ کے عنوان سے مزیّن ہے۔اس فصل میں فاضلِ مصنف اقتصادی مقاصد کے لیے مذہب کے استعمال اور ابراہیمیت کے جدید تصور کا تجزیہ کرتے ہیں۔وہ ابراہیمی مذاہب کے تاریخی تعلقات،اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی کوششوں کو مذہبی جواز فراہم کرنے،خطے کے سیاسی و اقتصادی نقشوں کی ازسرِنو تشکیل اور ’’انسانی اخوت‘‘ کے خوش نما نعرے کے ذریعے تصورات و مفاہیم میں تبدیلی جیسے اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہیں۔مصنف واضح کرتے ہیں کہ ان کوششوں کے پسِ پشت ایسے سیاسی و نظریاتی مقاصد کارفرما ہیں،جن کے ذریعے مذہبی تصورات کو مخصوص مفادات کے تابع بنا کر امتِ مسلمہ کے جداگانہ دینی و فکری تشخص کو دھندلانے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔یوں وہ ابراہیمیت کے ظاہری خوش نما عنوان اور اس کے پسِ پردہ محرکات کے درمیان فرق واضح کرتے ہوئے قارئین کو اس کے حقیقی مقاصد پر غور کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔
دوسری فصل”ابراہیمیت ایک ہمہ گیر و جامع منصوبہ اور فکر و شعور کے خلاف یلغار“ کے عنوان سے ہے۔اس فصل میں فاضلِ مصنف جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعے انسانی تصورات و مفاہیم کی تشکیلِ نو،ذہن سازی کے مختلف حربوں اور مذہبی تصورات کو نئی تعبیرات دینے کے عمل کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔وہ واضح کرتے ہیں کہ کس طرح جدید ابلاغی وسائل،مخصوص فکری سانچوں اور منظم حکمتِ عملی کے ذریعے ابراہیمیت کے تصور کو فروغ دیا جا رہا ہے،تاکہ مختلف مذاہب کے مابین امتیازی حدود دھندلا دی جائیں۔مصنف اس پورے عمل کے پسِ منظر میں کارفرما فکری و نظریاتی محرکات کو نمایاں کرتے ہوئے یہ باور کراتے ہیں کہ یہ محض ابلاغی سرگرمی نہیں،بلکہ تصورات کی تشکیل،ذہنوں کی تسخیر اور مذہبی شناختوں کو نئی جہت دینے کی ایک منظم کوشش ہے۔
تیسری فصل”تصورات و مفاہیم سازی(انجینئرنگ)یعنی تصورات کو بدلنے کا طریقہ!“ کے عنوان سے ہے۔اس فصل میں فاضلِ مصنف تصورات و مفاہیم کی انجینئرنگ کے ذریعے ذہنوں کی فکری تشکیلِ نو اور حقائق کو مسخ کرنے کے طریقۂ کار سے پردہ اٹھاتے ہیں۔وہ واضح کرتے ہیں کہ اصطلاحات کے ساتھ کھلواڑ،الفاظ کے معانی میں تحریف اور افکار کی نئی تعبیرات کے ذریعے عقائد کو غیر مؤثر بنایا جاتا ہے،یہاں تک کہ مفاہیم اپنی اصل معنویت کھو کر غیر مستحکم صورت اختیار کر لیتے ہیں۔اس تناظر میں مصنف صہیونی منصوبے کا جائزہ لیتے ہوئے ترکی الفیصل کے بیان کی روشنی میں’’ابراہیمی معاہدے‘‘کی حقیقت واضح کرتے ہیں کہ کس طرح کلمۂ حق کے پردے میں باطل مقاصد کی تکمیل کی راہ ہموار کی جاتی ہے۔آخر میں اسلامی تصورات کو مسخ کرنے کی متعدد مثالوں کے ذریعے یہ باور کراتے ہیں کہ اصطلاحات کی ظاہری دل کشی سے مرعوب ہونے کے بجائے ان کے پس پردہ مقاصد اور حقیقی مفاہیم کو سمجھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
چوتھی فصل”عملی ساخت:ابراہیمیت زمین پر کیسے عمل کرتی ہے“ کے عنوان سے ہے۔اس فصل میں فاضلِ مصنف اس امر کی وضاحت کرتے ہیں کہ ابراہیمیت محض نظریاتی تصور نہیں،بلکہ ایک عملی منصوبہ ہے،جسے مختلف سرگرمیوں اور ثقافتی مظاہر کے ذریعے زمین پر نافذ کیا جاتا ہے۔’’عالمی امام کونسل‘‘ اور ’’ابراہیمی افطار پارٹی‘‘جیسی مثالوں کے ذریعے وہ اس منصوبے کے عملی خدوخال نمایاں کرتے ہیں۔مصنف کے نزدیک ابراہیمیت دراصل ثقافت سازی اور ثقافتی انجینئرنگ کا ایک ایسا منصوبہ ہے،جس کے ذریعے مذہبی تصورات،معاشرتی رویّوں اور فکری رجحانات کو نئی جہت دے کر ایک مخصوص نظریاتی ماحول تشکیل دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔
پانچویں فصل”روحانی سفارت کاری یعنی دین کو سیاسی مقصد کے مطابق ڈھالنے کے لیے منحرف تصوف سے کام لینا“ کے عنوان سے ہے۔اس فصل میں فاضلِ مصنف کا مرکزی مؤقف یہ ہے کہ منصوبۂ ابراہیمی کے فروغ کے لیے روحانیت اور تصوف کو ان کے اصل دینی تشخص سے ہٹا کر سیاسی مقاصد کے تابع کیا جا رہا ہے۔وہ واضح کرتے ہیں کہ ادیان سے ماورا روحانیت،اسلامی تصوف کی بعض تعبیرات،عرس کی ثقافتی تشکیل،مسیحی تصوف،قبالہ اور حسیدیت،بظاہر مذہبی ہم آہنگی کے ذرائع ہیں،لیکن مصنف کے نزدیک ان کا سیاسی استعمال مذہبی امتیازات کو مٹا کر ایک مشترکہ عالمی بیانیے کو فروغ دینے کی کوشش کا حصہ ہے۔
چھٹی فصل”تعلیم بطور ہتھیار-عربی نصاب سے مزاحمت کو نکال دینا“ کے عنوان سے ہے۔اس فصل میں فاضلِ مصنف کا مرکزی مؤقف یہ ہے کہ تعلیمی نصاب کے ذریعے نئی نسل کے شعور کو بدل کر فلسطینی مزاحمت کو نصابی تعلیم سے خارج اور غاصب ریاست کے بیانیے کو قبولیت دلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔وہ مذاکرات کی میز پر نصاب کی تشکیل،جہاد سے بقائے باہمی تک فکری تبدیلی،تاریخی تنازعے کی اصل بنیادوں کو چھپانے،قضیۂ فلسطین کو پسِ پشت ڈالنے اور زبان و اصطلاحات کے ذریعے حقائق کو مسخ کرنے جیسے پہلوؤں کو نمایاں کرتے ہیں۔مصنف کے نزدیک،یہ محض تعلیمی اصلاح نہیں،بلکہ تاریخ،شناخت اور مزاحمت کے شعور کو نئی جہت دینے کی ایک فکری و نظریاتی کاوش ہے۔

ساتویں فصل”سرکاری اسلام اور علماء کو تابع بنا کر استعمال کرنا-شبہات کی قیمت کون ادا کرے گا؟“ کے عنوان سے ہے۔اس فصل میں فاضلِ مصنف امن،جہاد اور مزاحمت کے بدلتے ہوئے مفاہیم کو موضوع بناتے ہیں۔وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا ایسا امن،جو عدل سے خالی ہو،واقعی امن کہلا سکتا ہے؟ اسی تناظر میں وہ دکھاتے ہیں کہ جہاد کو اطاعت و خودسپردگی،اور مزاحمت کو اقتدار کے لیے خطرہ قرار دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔فصل میں اسلام کی تشکیلِ نو،دین کو محض ایک Tool بنا دینے،امن کے نعروں کے پیچھے اجتماعی قتلِ عام سے چشم پوشی،اور فورم برائے فروغِ امن(FPPMS)جیسے اداروں کے کردار کا جائزہ لیا گیا ہے۔اسی طرح مومنون بلا حدود،جہاد سے عاری نرم مذہبی تعبیرات،کھوکھلی امن پسندی اور مزاحمت کو بدنام کرنے کے رجحان پر بھی مصنف گہری نظر ڈالتے ہیں۔آگے چل کر دین و سیاست کا باہمی تعلق،ابراہیمیت کا تصور،موہوم منصوبۂ امن اور اسلامی تصورِ جہاد کی نظریاتی کشمکش زیرِ بحث آتی ہے۔آخر میں وحدتِ ادیان کے تصور پر سعودی فتویٰ کی روشنی میں گفتگو کرتے ہوئے مصنف واضح کرتے ہیں کہ امن کے نام پر پیش کیا جانے والا یہ بیانیہ دراصل اسلام کے بنیادی تصوراتِ عدل،جہاد اور دینی امتیاز کو کس طرح متاثر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
آٹھویں فصل”ابراہیمیت:نیا دین یا سیاسی حربہ“ کے عنوان سے ہے۔اس فصل میں فاضلِ مصنف ابراہیمیت کی حقیقت اور اس کے پسِ پردہ سیاسی مقاصد کو موضوعِ بحث بناتے ہیں۔وہ اس سوال کا جائزہ لیتے ہیں کہ آیا ابراہیمیت محض بقائے باہمی کا پیغام ہے یا ایک نئے دینی و سیاسی بیانیے کی تشکیل کا ذریعہ،جس کے تحت دینِ ابراہیمی کو لبرل اخلاقیات کے سانچے میں ڈھالنے اور اس کی نئی تعریف متعین کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔مصنف جائز بقائے باہمی اور ایسے بقائے باہمی کے درمیان فرق بھی واضح کرتے ہیں جو مذہبی عقائد،امتیازات اور ان کی بنیادی شناخت کو مٹانے کا وسیلہ بن جائے۔یوں یہ فصل مذہبی رواداری کی حدود اور عقیدے کی حفاظت کے سوال کو ایک اہم فکری تناظر میں پیش کرتی ہے۔
نویں فصل”لبرلزم اور ابراہیمیت! دین کو قابو میں لانے کے لیے جدیدیت کا اتحاد“ کے عنوان سے ہے۔اس فصل میں فاضلِ مصنف لبرل ازم،جدیدیت اور ابراہیمیت کے باہمی تعلق کا جائزہ لیتے ہوئے یہ واضح کرتے ہیں کہ دین کو جدید لبرل تصورات کے سانچے میں ڈھالنے کی کوششیں کس طرح آگے بڑھ رہی ہیں۔وہ ابراہیمیت کی تشکیل میں مغربی لبرل فکر کے فلسفیانہ کردار اور اس کے تحت اسلام کی تعبیر کو نرم کرنے اور لبرل معیارات سے ہم آہنگ بنانے کے رجحان پر روشنی ڈالتے ہیں،نیز اسلام کے بارے میں لبرل ازم کے معاندانہ رویے کے نتائج بھی زیرِ بحث لاتے ہیں۔مصنف مزید ابراہیمی معاہدوں کو مشرقِ وسطیٰ میں لبرل تصورِ امن کی تشہیر کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے،ابراہیمی بیانیے کے فروغ میں ترقیاتی اداروں کی سرمایہ کاری کا جائزہ لیتے ہیں۔یوں یہ فصل جدیدیت،لبرل ازم اور ابراہیمیت کے اس فکری و سیاسی رشتے کو نمایاں کرتی ہے جس کے ذریعے مذہب کی نئی تعبیر متعین کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
دسویں فصل”رحم مادر کی مزاحمت-افزائش نسل بقائے امت کا ایک ہتھیار“ کے عنوان سے ہے۔اس فصل میں فاضلِ مصنف افزائشِ نسل کو بقائے امت اور آبادیاتی استقامت کے ایک اہم مظہر کے طور پر پیش کرتے ہیں۔وہ دکھاتے ہیں کہ بمباری،قتلِ عام اور تباہی کے باوجود فلسطینیوں کے ہاں نئی زندگی کی آمد،حالات کے آگے شکست تسلیم نہ کرنے اور قومی بقا کی علامت بن جاتی ہے۔اسی تناظر میں قید خانوں میں نطفے کی خفیہ منتقلی کو بھی زندگی کے تسلسل اور قید کی تنہائی توڑنے کی ایک صورت کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔فصل میں رحمِ مادر کے خلاف جنگ،آبادیاتی توازن بگاڑنے کی پالیسیاں،مقدسیوں سے رہائشیں چھیننے،کوکھ کے خلاف خاموش جنگ،حریدی افزائش اور مراعات و حمایت کے نظام جیسے موضوعات زیرِ بحث آتے ہیں۔مصنف ان پہلوؤں کے ذریعے واضح کرتے ہیں کہ فلسطین کی جدوجہد محض زمین کی نہیں،بلکہ نسلوں کے تسلسل،شناخت اور بقا کی بھی جدوجہد ہے۔
بحثیتِ مجموعی یہ کتاب ایک اہم فکری و تجزیاتی کاوش ہے،جس میں مصنف نے ابراہیمیت کے مذہبی،فکری،سیاسی اور تہذیبی پہلوؤں کا گہرائی سے جائزہ لیتے ہوئے اس کے پسِ پردہ کارفرما تصورات اور مقاصد کو نمایاں کرنے کی کوشش کی ہے۔کتاب قاری کو محض معلومات فراہم نہیں کرتی بلکہ اسے جدید عالمی بیانیوں،مذہب کی نئی تعبیرات اور مسلم اُمّت کو درپیش فکری چیلنجوں پر سنجیدگی سے غور کرنے کی دعوت بھی دیتی ہے۔موضوع کی اہمیت،مباحث کی وسعت اور استدلال کی نوعیت کے اعتبار سے یہ کتاب اہلِ علم،اربابِ فکر اور بالخصوص اسلامی تحریکات سے وابستہ افراد کے لیے قابلِ مطالعہ ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔