از:- محمد علاءالدین ندوی
ندوۃ العلماء، لکھنؤ
مولانا کی شخصیت کی اٹھان، ان کے مزاج ومنہاج کی تشکیل اور ان کے جامع دینی تخیل کی پرواز میں متنوع اسباب وعوامل کا حصہ رہا ہے ۔
اس میں ان کے دینی گھرانے کا توحید خالص کا ماحول اور مزاج بھی ہے ، ان کے بڑے بزرگوں اور مربیوں کی مومنانہ تربیت اور پدرانہ شفقت کی تاثیر بھی ہے، حکمت ولی اللہی اور سوز علم اللہی کی سرچشمۂ انوار کا فیض بھی ہے ، بزرگان قریۃ الصالحین ( دائرہ شاہ علم اللہ تکیہ کلاں ) کی نوائے سحری اور سید احمد شہیدؒ کے جذبۂ جہاد کا گہرا اثر بھی ہے ، صاحب نزہۃ الخواطر کی تبحر علمی اور علامہ سید سلیمان ندوی ؒ کی بالغ نظری بھی ہے ، قرآنی تعلیمات کی پاکیزہ روح ، اسکا جلال وجمال بھی ہے ، سیرت طیبہ کی دلآویزی اور اس کی اثر آفرینی بھی ہے ، اہل دل کا جذب وانجذاب بھی ہے ، اپنے ماحول کا منظر اور پس منظر بھی ہے ، انگریزوں کی غلامی سے نفرت بھی ہے ، سقوط خلافت کا زخم بھی ہے ، عالمی استعماری استبدادیت سے غیظ وغضب کا لاوا بھی ہے ، جامع شریعت اور سندان عشق کا دو آتشہ بھی ہے اور محفل شعرو سخن کا فطرت آگیں لطیف ذوق بھی۔
پھر ان کی شریفانہ خو ہے ، ان کی طبیعت کی نرمی ، ان کے اخلاق کی رفعت ، ان کا تواضع اور وضع داری ہے ، ان کا ذوق نظر اور سوز دروں ہے ، علم کی گہرائی اور شخصیت کی دلآویزی ہے اور بے ہمہ وبا ہمہ ذات کا حسن کردار ہے ، ان کا سکون بھی ہے اور اضطراب بھی ، ہنگامۂ زمانہ کی گرمی بھی ہے ، اور تحقیق وجستجو کا پرسکون ماحول بھی ، اسی متنوع زندگی کے صدہا رنگ آپ کے اسلوب نگارش میں جمع ہو گئے ہیں۔
یقینا سر سید مقالاتی اسلوب کے بانی ہیں ، ان کے یہاں بڑی سلاست ہے ، حالی کے بیان میں بھی سلاست ہے مگر ماتم و عزا غالب ہے ، ابو الکلام آزاد کی سلاست میں دریاؤں کا خروش ، پہاڑوں کا شکوہ ، شعلوں کی لپٹ اور جذبات کا طوفان ہے ، شبلی و سلیمان ندوی کی سلاست میں رنگینی ، رعنائی اور ہلکا رومان ہے ، مودودی کی سلاست لطافت سے عبارت ہے ، مگر مولانا کی سلاست میں عربی زبان کا شکوہ اور جزالت کا اثر ہے ، اس کی فصاحت و بلاغت کی جھلک اور اس کی جرأت و حرارت کی چھب ہے ، وہ حجازی لَے میں نغمۂ ہندی ہیں۔
مولانا آزاد کی زبان و قلم حرکت میں آجائے تو صور اسرافیل بن جاتا ہے اور الفاظ و معانی اور زبان و ادب کی ہفت اقلیم اس شہنشاہ جذبات اور عبقریٔ دوراں کے جیب و دامن میں ہوتا ہے ، مولانا مودودی کی ابتدائی تحریروں میں بڑی گرما گرمی اور للکار ہے، جب کہ بعد کے اسلوب میں زوردار پکار ہے ، یہ للکار وپکار فکر وذہن کے راستے قلب میں اپنی جگہ بناتی ہے ، جبکہ مولانا کے یہاں بصیرت مندانہ حرارت نظر آتی ہے جو دھیرے دھیرے احساسات ووجدان کی انگیٹھی کو براہ راست آگ پہنچاتی ہے۔
مولانا آزاد کے یہاں بسا اوقات ایسا تیز اُبال آتا ہے کہ اچھال کی صورت اپنا لیتا ہے اور الائو تک کو متاثر کردیتا ہے ،مولانا مودودی کے یہاں اُبال میں وہ شدت تو نہیں ہے تاہم اُبال کا اثر چھینٹوں کی شکل میں نمودار تو ہو ہی جاتا ہے ، مگر مولانا کے یہاں اُبال اور الائو دونوں ہی میں ایک مخصوص توازن قائم رہتا ہے ، یا یوں کہئے کہ آپ کا اسلوب مولانا آزاد اور مولانا مودودی کی راست کی ایک شکل ہے۔
مولانا آزاد کی فکری بلندی اور جادو بیانی پل صراط تک لے جاتی ہے مگر پار نہیں کراتی ، مولانا مودودی ہمیں تیز وتند کوہستانی نالوں اور کبھی وسیع دریائوں میں شناوری کراتے ہیں ، نتیجہ میں ابھرنے اور ڈوبنے کا عمل جاری رہتا ہے ، مولانا ندوی کی فکری اپج ہمیں مکمل رفاقت عطا کرتی ہے ، اور آخری منزل تک ساتھ نہیں چھوڑتی۔
پروفیسر محسن عثمانی رقم طراز ہیں:
’’ مولانا کا اسلوب تحریر عالمانہ بھی ہے اور مؤرخانہ بھی ، داعیانہ بھی ہے اور مصلحانہ بھی ، ان کے اسلوب کے اجزائے ترکیبی میں گل رعنا کی رعنائی ، بالا کوٹ کا لہو ترنگ، اساطین ندوۃ العلماء کا مؤرخانہ رنگ ، معاصر مولانا مودودی کے بعض افکار کا توارد اور مولانا الیاس کے دل کی دردمندی ، اہل تصوف کا سوز دروں اور اقبال کی ضرب کلیمی شامل ہے ، پھر ان اجزاء پر گلہائے سیرت کے عطر اور چشمۂ قرآن کے پانی کا چھڑکائو کیا گیا ہے اور اس مجموعہ نے نام پایا ہے مولانا موصوف ابو الحسن علی کی تصنیفات اور نگارشات کا‘‘۔