علامہ تفتازانى رحمہ الله كى شرح العقائد

از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى، آكسفورڈ

علامہ سعد الدین تفتازانیؒ کی شرحِ عقائد کے تعلق سے حالیہ عرصے میں مجھ تک مسلسل اور بکثرت سوالات پہنچتے رہے ہیں، یہ سوالات مختلف علمی مجالس، تحریری مراسلت اور براہِ راست گفتگو کے دوران سامنے آئے، جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ اہلِ علم اور طلبۂ علم دونوں کے درمیان اس کتاب کے بارے میں فکری اور تعلیمی سطح پر خاصی دلچسپی اور تشویش پائی جاتی ہے۔
بعض مخلص، سنجیدہ اور خیر خواہ اہلِ علم و فضل کے مشورے کے مطابق میں نے ابتدا میں ان سوالات کے جوابات دینے کو مؤخر کرنا مناسب سمجھا، تاکہ معاملے کو جذبات سے بالا تر ہو کر، پوری سنجیدگی، تحقیق اور توازن کے ساتھ دیکھا جا سکے۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ سوالات کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا اور ان کے ساتھ اصرار اور علمی دباؤ بھی بڑھتا چلا گیا، جس کے نتیجے میں اب خاموشی اختیار کرنا مناسب معلوم نہیں ہوا۔ چنانچہ میں نے یہ ارادہ کیا کہ ان اہم سوالات کا جواب علمی دیانت، وضاحت اور اختصار کے ساتھ پیش کیا جائے۔
قاری کی سہولت اور موضوع کی بہتر تفہیم کے لیے ان تمام سوالات کو منتشر انداز میں بیان کرنے کے بجائے یکجا کر کے بنیادی طور پر تین بڑے حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے، تاکہ گفتگو منظم، مربوط اور نتیجہ خیز ہو سکے۔

  • پہلے حصے میں شرحِ عقائد کا تعارف پیش کیا جائے گا، جس میں اس کتاب کے علمی پس منظر، مصنف کی حیثیت، اور اس کے تاریخی و فکری مقام پر روشنی ڈالی جائے گی۔
  • دوسرے حصے میں ان تنقیدات کا جائزہ لیا جائے گا جو مختلف ادوار میں اہلِ علم کی جانب سے اس کتاب پر کی گئی ہیں، اور یہ واضح کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ ان اعتراضات کی نوعیت کیا ہے اور ان کی علمی حیثیت کہاں تک ہے۔
  • تیسرے اور آخری حصے میں اس سوال کا تفصیلی جواب دیا جائے گا کہ دارالعلوم ندوۃ العلماء نے کن علمی اور تعلیمی اسباب کی بنا پر اس کتاب کو اپنے نصابِ تعلیم سے خارج کیا، اور اس فیصلے کے پس منظر میں کون سے اصول اور مقاصد کارفرما تھے۔

شرحِ عقائد کا میں نے متعدد مرتبہ باقاعدہ مطالعہ بھی کیا ہے اور اسے درساً بھی پڑھایا ہے۔ ان دروس کے دوران بالخصوص میں نے اس کا تقابلی مطالعہ العقیدۃ الطحاویہ اور العقیدۃ الواسطیہ کے ساتھ کیا، تاکہ مختلف مآخذِ عقیدہ کے مناہج، اسالیب اور نتائج پوری وضاحت کے ساتھ سامنے آ سکیں۔ انہی دروس اور اس تقابلی مطالعے سے حاصل ہونے والی علمی روشنی کی بنیاد پر آئندہ سطور میں مذکورہ بالا تینوں امور پر بالترتیب اور قدرے تفصیل کے ساتھ گفتگو کی جائے گی، تاکہ قارئین کے اذہان میں موجود اشکالات رفع ہوں اور موضوع ایک متوازن، واضح اور صحیح تناظر میں سمجھ میں آ سکے۔

شرحِ عقائد کا تعارف:

علامہ تفتازانیؒ کی اس شرح کا اصل متن علامہ ابو حفص نجم الدین عمر بن محمد النسفی الحنفیؒ (461–537ھ) کی مشہور تصنیف العقائد النسفیۃ ہے۔ علامہ نسفیؒ علمِ عقیدہ اور علمِ کلام میں مسلکِ ماتریدیہ کے نمایاں نمائندہ تھے۔ بالعموم سوانح نگاروں نے ان کی علمی عظمت اور دینی خدمات کو سراہا ہے، تاہم علمِ حدیث کے باب میں ان پر تنقید بھی کی گئی ہے۔
امام سمعانیؒ (506–563ھ) علامہ نسفیؒ کے بارے میں لکھتے ہیں: "وأما مجموعاته في الحديث فطالعت منها الكثير وتصفحتها فرأيت فيها من الخطأ وتغيير الأسماء وإسقاط بعضها شيئا كثيرا، وأوهاما غير محصورة”، نیز ایک مقام پر فرماتے ہیں: "وكان ممن أحب الحديث وطلبه ولم يرزق فهمه” (التحبير في المعجم الكبير 1/235))
العقائد النسفیۃ دراصل مسلکِ ماتریدیہ کی ترجمان تصنیف ہے، اگرچہ بعد کے دور میں علامہ تفتازانیؒ اور بعض دیگر متکلمین نے ماتریدی اور اشعری مسالک کے مابین پائے جانے والے متعدد فروق کو بڑی حد تک ختم یا کم کر دیا۔
العقائد النسفیۃ پر متعدد شروح لکھی گئی ہیں، جن میں سب سے زیادہ معروف اور مؤثر شرح علامہ تفتازانیؒ کی ہے، جو اس وقت زیرِ بحث ہے۔ علامہ تفتازانیؒ کا پورا نام أبو سعد سعد الدين مسعود بن عمر التفتازاني (722–792ھ) ہے۔ ان کے کلامی مسلک کے بارے میں اہلِ علم کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے کہ آیا وہ ماتریدی تھے یا اشعری، تاہم راجح قول یہ ہے کہ وہ مسلکاً اشعری تھے۔
علامہ تفتازانیؒ نے شرحِ عقائد میں اپنے مراجع کا ذکر صراحت سے نہیں کیا ہے، تاہم تقابلی مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ ان کے بنیادی مصادر درج ذیل ہیں:

  • 1. نور الدین الصابونیؒ (متوفی 580ھ) کی تصنیف البداية من الكفاية في الهداية من أصول الدين، جس کی عبارات کو علامہ تفتازانیؒ نے کثرت کے ساتھ بلا حوالہ نقل کیا ہے۔
  • 2. ابو المعین النسفیؒ (متوفی 508ھ) کی تبصرة الأدلة في أصول الدين۔
  • 3. ابو المعین النسفیؒ ہی کی تصنیف التمهيد في أصول الدين۔
  • 4. ابو الثناء اللامشیؒ (متوفی 539ھ) کی کتاب التمهيد لقواعد التوحيد۔

علامہ تفتازانیؒ نے شرحِ عقائد کی تصنیف 768ھ میں کی۔ یہ کتاب اس عنوان سے شروع ہوتی ہے: القول في حقائق الأشياء، أسباب العلم، العالم بجميع أجزائه محدث، اور اس باب پر ختم ہوتی ہے: القول في أن المجتهد يخطيء ويصيب، ورسل البشر أفضل من رسل الملائكة ورسل الملائكة أفضل من عامة البشر وعامة البشر أفضل من عامة الملائكة۔
یہ بات پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ شرحِ عقائد کو امام ابو حنیفہؒ کے عقیدے کی نمائندہ کتاب قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ امام ابو حنیفہؒ کے عقائد کی معتبر ترجمانی امام طحاویؒ کی تصنیف العقیدۃ الطحاویۃ میں ملتی ہے۔ ان دونوں کتابوں کے مضامین، مناہجِ استدلال اور اسالیب میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ شرحِ عقائد پر علمِ کلام اور فلسفے کا رنگ غالب ہے، جبکہ العقیدۃ الطحاویۃ محدثین کے منہج پر، نصوصِ شرعیہ کی روشنی میں مرتب کی گئی ہے۔

تنقیدات:

  • (1) فلسفہ اور علمِ کلام کا غلبہ:

اس کتاب میں فلسفہ اور علمِ کلام کا باہمی اختلاط نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے۔ بالخصوص دلیلِ حدوث کی وہ صورت بیان کی گئی ہے جو متقدمین اشاعرہ سے ماخوذ ہے۔ اس دلیل کے تجزیے اور نقد پر مستقل گفتگو کی گنجائش ہے، جس پر ان شاء اللہ علیحدہ مضمون پیش کیا جائے گا۔ اس مبحث میں علامہ تفتازانیؒ نے متقدمین اشاعرہ اور ماتریدیہ کی عبارات بکثرت، اور اکثر بلا حوالہ، نقل کی ہیں، جس سے کتاب کا کلامی مزاج مزید نمایاں ہو جاتا ہے۔

  • (2) اہلِ سنت والجماعت کی اصطلاح کا اختصاص:

علامہ تفتازانیؒ نے اہلِ سنت والجماعت کی اصطلاح کو خاص طور پر اشاعرہ کے لیے مختص کر دیا ہے۔ اشاعرہ کا ذکر کرنے کے بعد وہ لکھتے ہیں: "فسموا أهل السنة والجماعة” ص 11، یہی بات علامہ تفتازانیؒ نے اپنی دیگر تصانیف میں بھی دہرائی ہے، حالانکہ یہ اصطلاح اشاعرہ کی پیدائش سے بہت پہلے، عہدِ صحابہؓ ہی سے معروف و مستعمل رہی ہے۔ بعد ازاں تابعینؒ نے بھی اس اصطلاح کو کثرت سے استعمال کیا۔ حتیٰ کہ خود امام ابو الحسن اشعریؒ نے بھی اہلِ سنت والجماعت کی تعبیر محدثین کے لیے استعمال کی ہے۔
علامہ تفتازانیؒ کی جانب سے اس اصطلاح کو ایک مخصوص کلامی مکتب تک محدود کرنے کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان کی کتاب پڑھنے والا شخص اپنے علاوہ دیگر مسلمانوں کو اہلِ سنت والجماعت کے دائرے سے خارج سمجھنے لگتا ہے، جو ایک نہایت سنگین فکری اشکال ہے۔

  • (3) عقل کو عقائد کا مستقل ماخذ قرار دینا:

علامہ تفتازانیؒ نے عقل کو عقائد کا ایک مستقل مصدر قرار دیا ہے، بلکہ عقل و نقل کے تعارض کی صورت میں عقل کو نقل پر ترجیح دینے کے قائل ہیں۔ اس کے برخلاف صحابۂ کرامؓ، تابعینؒ اور ائمۂ متقدمین کے نزدیک ایمانیات کا اثبات محض قرآن و سنت سے ہوتا ہے، جبکہ عقل کی حیثیت تابع اور خادم کی ہے، حاکم اور فیصل نہیں۔
علامہ تفتازانیؒ نے اللہ تعالیٰ کے اثبات اور صفات کے بیان میں قرآن و سنت کے نصوص سے خاطر خواہ استفادہ نہیں کیا۔ اس طرزِ عمل کے دفاع میں بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ غیر مسلموں کے لیے قرآنی دلائل مفید نہیں ہوتے، اس لیے عقلی دلائل پیش کیے گئے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ:

  • اولاً، شرحِ عقائد غیر مسلموں کے لیے نہیں لکھی گئی، بلکہ اس کا اصل رخ معتزلہ کے رد کی طرف ہے، اور معتزلہ قرآن کو مانتے ہیں۔
  • ثانیاً، یہ کہنا کہ قرآنی دلائل غیر مسلموں کے لیے مفید نہیں، ایک صریح مغالطہ ہے؛ کیونکہ قرآن خود غیر مسلموں کی ہدایت کے لیے نازل ہوا۔ تاریخ شاہد ہے کہ بے شمار لوگ قرآن کے ذریعے اسلام میں داخل ہوئے ہیں، جبکہ آج تک کسی عقائد کی کتاب کے ذریعے کسی کے مسلمان ہونے کی مثال نہیں ملتی۔
  • ثالثاً، خود قرآن مجید نے عقلی دلائل پیش کیے ہیں اور ان کو نہایت وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے، تو پھر یونانی فلسفے کی باریک اور پیچیدہ موشگافیوں کو حجت کیوں بنایا جائے؟
  • (4) كراماتِ اولیاء سے متعلق غلو:

العقیدۃ الطحاویۃ میں کراماتِ اولیاء کو برحق قرار دیا گیا ہے، اور اس پر اہلِ سنت کے درمیان اصولی اتفاق ہے، البتہ بعض جزئی کرامات میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ شرحِ عقائد میں ان مختلف فیہ کرامات کا بھی ذکر ملتا ہے، جیسے کسی ولی کا ہوا میں اڑنا (ص 57)۔
یہاں تک کہ علامہ ابن عابدینؒ نے لکھا ہے کہ شرحِ عقائد میں اس بات پر بھی جزم کیا گیا ہے کہ خانۂ کعبہ کسی ولی کی زیارت کے لیے جا سکتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: "لكن في عقائد التفتازاني جزم بالأول تبعا لمفتي الثقلين النسفي ، بل سئل عما يحكى أن الكعبة كانت تزور واحدا من الأولياء هل يجوز القول به ؟ فقال : خرق العادة على سبيل الكرامة لأهل الولاية جائز عند أهل السنة” (حاشية ابن عابدين 3/551)
یہ عبارت مجھے شرحِ عقائد کے مطبوعہ نسخوں میں نہیں ملی، ممکن ہے کہ یہ ابن عابدینؒ کے زیرِ مطالعہ نسخے میں موجود ہو، تاہم علامہ تفتازانیؒ کی دوسری کتاب شرح المقاصد میں اس کا ذکر صراحت کے ساتھ ملتا ہے۔

  • (5) عقائد میں فقہی جزئیات کا ادخال:

اس کتاب میں عقائد کے ضمن میں بعض فقہی جزئی مسائل کو بھی شامل کر لیا گیا ہے، جیسے مسح علی الخفین۔ یہ مسئلہ العقیدۃ الطحاویۃ میں بھی مذکور ہے، اور اس کی توجیہ میں نے اپنے ایک مستقل مضمون میں بیان کی ہے۔
تاہم شرحِ عقائد میں ایک اور مسئلہ بھی شامل کیا گیا ہے، وہ یہ کہ: "ولا نحرم نبيذ التمر” (ص 64)
حالانکہ جمہور فقہاء اور محدثین کے نزدیک نبیذِ تمر حرام ہے۔ اس کتاب کی رو سے ایسے ائمہ و علماء، جو نبیذِ تمر کو حرام کہتے ہیں، گویا دائرۂ عقیدہ سے خارج قرار پاتے ہیں، جو نہایت تشویش ناک بات ہے۔

دارالعلوم ندوۃ العلماء کی جانب سے شرحِ عقائد کو نصاب سے خارج کیے جانے کی وجوہات:

مندرجۂ بالا تفصیلی تنقیدات سے یہ امر بہ خوبی واضح ہو چکا ہے کہ شرحِ عقائد جیسی کتاب کو ندوۃ العلماء کے نصابِ تعلیم میں برقرار رکھنا کیوں ممکن نہ رہا۔ اس کے باوجود اختصار کے ساتھ ان بنیادی وجوہات کی طرف اشارہ مناسب معلوم ہوتا ہے جن کی بنا پر ندوہ نے اس کتاب کو اپنے نصاب سے خارج کرنے کا فیصلہ کیا۔

  • سب سے پہلی اور بنیادی وجہ یہ ہے کہ ندوۃ العلماء کی تاسیس ہی اصلاحِ بین المسلمین اور امت کے مختلف طبقات کے درمیان قربت اور اعتدال کے فروغ کے لیے عمل میں آئی تھی۔ اسی مقصد کے تقاضوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اہلِ سنت والجماعت کی اصطلاح کو وسیع، جامع اور غیر محدود رکھا جائے، نہ کہ اسے کسی ایک مخصوص کلامی مکتب تک محصور کر دیا جائے۔ ایسی صورت میں ایک ایسی کتاب کو نصاب میں شامل رکھنا کس طرح ممکن ہو سکتا ہے جو اہلِ سنت والجماعت کی تعبیر کو اشاعرہ تک محدود کر دے اور مسلمانوں کی دیگر جماعتوں—بالخصوص اہلِ حدیث اور سلفی علماء—کو عملاً اس دائرے سے خارج کر دے؟ خصوصاً جبکہ ندوہ کی تحریک پر ابتدا ہی سے اہلِ حدیث علماء کے علمی و دعوتی احسانات مسلم اور نمایاں رہے ہیں۔
  • دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ ندوۃ العلماء قرآن و سنت کی طرف رجوع کو اپنی فکری اساس اور دعوتی شعار سمجھتا ہے۔ ندوہ کے نزدیک عقل کا مقام معاون اور خادم کا ہے، نہ کہ مستقل حاکم اور فیصلہ کن مصدر کا۔ چنانچہ ایسی کتاب کو نصاب میں شامل رکھنا ندوہ کے اصول و مزاج سے ہم آہنگ نہیں ہو سکتا جس میں قرآن و سنت کی مرجعیت کو کمزور کیا گیا ہو اور عقلی و کلامی استدلال کو اس پر ترجیح دی گئی ہو۔
  • تیسری وجہ کراماتِ اولیاء سے متعلق بعض ایسے بیانات ہیں جو نصوصِ قطعیہ سے ٹکراتے محسوس ہوتے ہیں۔ اگرچہ کرامات کا حق ہونا اہلِ سنت کے نزدیک مسلم ہے، تاہم یہ تصور کہ خانۂ کعبہ اپنی جگہ چھوڑ کر کسی ولی کی زیارت کے لیے جائے، نہ صرف صریح قرآن کے خلاف ہے بلکہ سنتِ نبویؐ کے بھی منافی ہے۔ مزید برآں، جب ایسا اعزاز کسی نبی کو بھی حاصل نہیں ہوا تو کسی غیر نبی کے لیے اس کا تصور کیسے قابلِ قبول ہو سکتا ہے؟
  • چوتھی اور آخری وجہ یہ ہے کہ بعض فقہی و فروعی مسائل، جیسے نبیذِ تمر وغیرہ، کو عقائد کا جزو بنا دینا خود علمِ عقیدہ کی روح اور اس کے مزاج کے منافی ہے۔ اس طرح کے جزوی اور اختلافی مسائل پر عقیدے کی بنیاد رکھنا ایک غیر ضروری تنگ نظری اور عصبی رویے کو جنم دیتا ہے، اور یہی وہ طرزِ فکر ہے جسے ندوۃ العلماء اپنے نصاب اور فکری تربیت میں کبھی قبول نہیں کر سکتا۔

ان تمام وجوہات کی روشنی میں یہ بات پوری وضاحت کے ساتھ سامنے آ جاتی ہے کہ ندوۃ العلماء کی جانب سے شرحِ عقائد کو نصابِ تعلیم سے خارج کرنا نہ کسی تعصب کا نتیجہ تھا اور نہ کسی فردِ واحد یا مخصوص مکتبِ فکر کے خلاف اقدام، بلکہ یہ فیصلہ ندوہ کے بنیادی مقاصد، اس کے فکری منہج، اور امتِ مسلمہ کے اتحاد و اعتدال کے اعلیٰ نصب العین کے عین مطابق تھا۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔