تعزیتی اجلاس میں اکابر کی تعلیمات پر عمل اور نئی نسل کی تعلیم و تربیت کے مشن کو آگے بڑھانے پر زور
امور، پورنیہ [۱۹ اکتوبر ۲۰۲۶]: سابق مہتمم دارالعلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ، حضرت مولانا سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کی علمی، دعوتی، اصلاحی اور تربیتی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے پیر کے روز مدرسہ اشاعت العلوم، امور، ضلع پورنیہ میں ایک تعزیتی اجلاس منعقد ہوا۔ علما و اہلِ علم نے حضرت کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کے علمی مقام، بلند اخلاق، پابندیٔ وقت، اداروں سے وابستگی اور ہزاروں علما و ائمہ کی تربیت میں ان کے کردار کو یاد کیا۔ مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اکابر کی تعلیمات سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے ان کے علمی و اصلاحی مشن کو آگے بڑھانا ہی حقیقی خراجِ عقیدت ہے۔
اجلاس کی صدارت مولانا فیاض عالم فیضی، سابق پرنسپل مدرسہ محمودیہ، بشن پور، ڈگروا نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض مولانا سید عالم ندوی، ڈائریکٹر گرامر پبلک اسکول، بھاسہ باڑی نے انجام دیے۔ تلاوتِ کلام اللہ اور نعتِ نبویؐ کے بعد مولانا شمیم اختر ندوی، ڈائریکٹر مریم گرلس انٹرنیشنل اسکول، روٹا نے تمہیدی کلمات پیش کیے۔
مولانا شارق الاسلام ندوی استاذ دارالعلوم ضیاء الاسلام بوجگاؤں نے حضرت کی علمی و دینی خدمات اور اوصاف و کمالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اہلِ علم کی عظمت علم کے ساتھ ان کے کردار، اخلاص اور دوسروں کی زندگیوں پر مرتب ہونے والے مثبت اثرات سے بھی نمایاں ہوتی ہے۔
مولانا انتخاب عالم ندوی، جامعہ صفیہ للبنات، پورنیہ نے عربی زبان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے حضرت کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا اور ان کی زندگی کو نمونۂ عمل قرار دیا۔
مولانا اسعد احمد ندوی نے پابندیٔ وقت کو حضرت کی کامیابی کا اہم راز بتاتے ہوئے کہا کہ ان کے نزدیک وقت ایک انمول تحفہ تھا، جس کی حفاظت اور درست استعمال ہر شخص کے لیے ضروری ہے۔
مولانا محمد معروف راہی، ڈائریکٹر دار ارقم انسٹیٹیوٹ، مہیشبتھنہ نے حضرت کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے مشن کو آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے نئی نسل کی تعلیم و تربیت کے لیے مولانا مرحوم کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہمیں بھی اپنی نسل کی تعلیم و تربیت اسی فکر، اخلاص اور حکمت کے ساتھ کرنی چاہیے۔
مولانا عارف حسین ندوی، ناظم تنظیم و ترقی، جمعیت علماء ضلع پورنیہ نے ندوۃ العلماء کے امتیازی شعار ’’شعارنا الوحید: إلى الإسلام من جديد‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ محض ایک جملہ نہیں، بلکہ ادارے کی فکری شناخت اور دعوتی ذمہ داری کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس دور میں مصری صدر جمال عبد الناصر کی سرپرستی میں اشتراکیت کو فروغ دیا جا رہا تھا اور عرب قومیت کے نظریے پر مبنی رسائل شائع ہو رہے تھے، اس وقت رسالہ ’’البعث الاسلامی‘‘ نے اسلام کی ترجمانی کرتے ہوئے اشتراکیت کے فکری نظریات کو چیلنج کیا۔ اس کے اداریے ملت کی آواز تھے اور اس کی فکری و دعوتی خدمات کا اثر بین الاقوامی سطح تک پہنچا۔ مولانا مرحوم نے اپنی زندگی بھر اس علمی و فکری روایت کو برقرار رکھا۔
مولانا ہمایوں اقبال ندوی، مدرسہ اسلامیہ یتیم خانہ، ارریہ نے حضرت کی نمایاں خصوصیات میں وقت کی پابندی، اسلام کی صحیح ترجمانی، امت کی مؤثر نمائندگی اور نئی نسل کی صالح تربیت کو شمار کیا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت کی زندگی کے روشن پہلوؤں کو نئی نسل تک پہنچانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مولانا شاہد عادل قاسمی، پرنسپل مدرسہ اسلامیہ یتیم خانہ، ارریہ نے حضرت کے اعلیٰ اخلاق، خلوص اور تعلیمی اداروں سے گہری وابستگی کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اپنے ادارے کو ندوۃ العلماء سے منسلک کرنے کی کوشش کے دوران حضرت نے جس محبت اور دلچسپی کے ساتھ رہنمائی فرمائی، وہ ان کے لیے قیمتی سرمایہ ہے۔ آج ادارے کا ندوۃ العلماء سے منسلک ہونا حضرت کی ادارہ جاتی رہنمائی اور تعلیمی ترقی کے لیے ان کی فکر کا روشن نمونہ ہے۔
مولانا رضوان احمد ندوی ہری پوری نے حضرت کو بلند پایہ ادیب اور ہزاروں علما و ائمہ کا مربی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے تربیت یافتہ افراد نے علم و ادب کے مختلف میدانوں میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ ان کا علمی و تربیتی فیض ان کے شاگردوں کے ذریعے آئندہ بھی مختلف حلقوں تک پہنچتا رہے گا۔
اجلاس میں مفتی شمس توحید مظاہری، ناظم دارالعلوم امور، مفتی دانش انور قاسمی، ناظم جامعہ تحسین القرآن، گسترہ، مولانا توقیر عالم ندوی ناظم مدرسہ تعلیم القرآن رانی سہالو اور دیگر اہلِ علم نے بھی اظہارِ خیال کیا۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ اکابر کی یادوں کو محفوظ کرنا، ان کی تعلیمات کو عام کرنا اور ان کے علمی ورثے سے استفادہ جاری رکھنا اہلِ علم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
صدرِ اجلاس مولانا فیاض عالم فیضی نے اپنے صدارتی خطاب میں حضرت مولانا سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کی زندگی کے مختلف گوشوں کو تحریری شکل میں پیش کیا اور ان کی علمی و تربیتی جدوجہد کو یاد کیا۔
اجلاس میں مولانا قیصر احمد قاسمی، بانی جامعہ ملیہ اسلامیہ، شیشہ باڑی؛ مولانا حماد احمد کیفی، نندنیاں؛ مفتی عبدالغنی قاسمی، صفات العلوم، اورا؛ قاری نجم السحر اعظمی، جامعہ سیدنا عمر فاروق، اورا نندنیاں؛ مولانا شمیم احمد، دارالعلوم حسینیہ قاسمیہ، اچھے پور بولان؛ مولانا سعود احمد مظاہری، ملی اسکول، روٹا؛ انجینئر منصور علیگ، امپیٹس اکیڈمی، کشن گنج؛ تنزیل صدیقی، کشن گنج؛ مولانا مجاہد الاسلام قاسمی، بارا عیدگاہ؛ مولانا عاقل اختر ندوی، مدرسہ مجیبیہ، محصیل؛ مولانا اشفاق احمد ندوی، مدرسہ فیض رحمانی، بھونکری؛ مولانا تنویر ذکی مدنی ندوی، الحیاۃ انٹرنیشنل اسکول، شہریا؛ قاری شمشاد احمد، مدرسہ سراج العلوم، رنگاماٹی؛ مولانا اخلاق حسین ندوی، مدرسہ جمہوریہ، مجگواں؛ مولانا مرشد احمد ندوی؛ مولانا راشد حسین ندوی، دارالعلوم ضیاء الاسلام، بوجگاؤں؛ مولانا توقیر احمد ندوی، مدرسہ تعلیم القرآن، رانی سہالو؛ مولانا قربان احمد قاسمی، مدرسہ محمودیہ، بشن پور؛ مفتی شبیر احمد قاسمی، جامعہ خلیلیہ جابر عیدگاہ؛ حافظ شہزاد عالم، جامعہ عائشہ صدیقہ للبنات، دھرمباڑی؛ حافظ محمد شاکر، سلتا؛ اور مولانا ذاکر حسین ندوی، مدرسہ سراج العلوم، رنگاماٹی سمیت علاقے کے متعدد علما، ائمہ، اساتذہ اور اہلِ علم نے شرکت کی۔
آخر میں مولانا عمران احمد ندوی پرنسپل مدرسہ اشاعت العلوم امور نے کلماتِ تشکر پیش کیے۔ اجلاس میں حضرت مولانا سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کی مغفرت، بلندیٔ درجات اور علمی و دینی خدمات کی قبولیت کے لیے دعا کی گئی۔ مولانا تفضل حسین ندوی کی دعا پر اجلاس اختتام پذیر ہوا۔